اگر آگے بڑھنا ہے، تو پڑھنا ہے/ سید عمران علی شاہ

خالقِ کائنات نے اپنے حبیب، ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب پہلی وحی نازل فرمائی تو اس کا آغاز ایک ایسے لفظ سے ہوا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا:

*اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ*

*”پڑھیے اپنے پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا۔”*

یہ محض ایک آیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے کہ علم اور انسان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اسلام کی آخری کتاب کا آغاز ہی “اقرأ” یعنی “پڑھ” سے ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسانی ترقی کا بنیادی راستہ علم سے ہو کر گزرتا ہے۔ جہالت کے اندھیروں سے نکلنے کا سب سے مؤثر ذریعہ علم ہی ہے۔ آج دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ترقی کی رفتار کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے ساتھ ساتھ ہر روز اپنے ہی گزشتہ مقام سے *ہے جستجو کہ خوب سے خوب تر کہاں* کے مصداق آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن دوسری طرف ہمارے ہاں تعلیم کے حوالے سے ایک عجیب سی سوچ بھی جنم لے رہی ہے۔ جب ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ اگر ڈگری سے نوکری نہیں ملتی تو پھر اتنی تعلیم کا فائدہ کیا؟ کیوں نہ بچوں کو مختصر مدت کے ہنر سکھا کر جلد روزگار کے قابل بنا دیا جائے؟

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ہنر، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کی اشد ضرورت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ رسمی تعلیم اپنی اہمیت کھو چکی

تعلیم اور ہنر ایک دوسرے کے متبادل نہیں، ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

ہنر انسان کو کوئی کام کرنا سکھاتا ہے، جبکہ تعلیم اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ کام بہتر کیسے کیا جائے، نئے حالات میں خود کو کیسے بدلا جائے اور آنے والے وقت کے نئے تقاضوں کو کیسے سمجھا جائے۔

آج جو ہنر ہمارے لیے قیمتی ہے، ممکن ہے چند برس بعد ٹیکنالوجی اسے بدل دے۔ مصنوعی ذہانت اور automation پہلے ہی دنیا کے روزگار کے انداز تبدیل کر رہے ہیں۔ ایسے میں سب سے قیمتی صلاحیت صرف ایک ہنر نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے کی صلاحیت ہوگی، اور یہ صلاحیت مضبوط تعلیم ہی پیدا کرتی ہے۔

پاکستان کے موجودہ تعلیمی حالات ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں شرحِ خواندگی تقریباً 63 فیصد ہے، جبکہ اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں۔

یہ صرف اعداد نہیں، یہ ہمارے مستقبل کی تصویر ہے۔

ہم اکثر نوجوان آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں، حالانکہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان آبادی کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ ہماری آبادی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے انسانی سرمائے کو کس حد تک تعلیم اور ہنر سے آراستہ کر پا رہے ہیں۔

سکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر صرف کتابیں پڑھنے اور امتحانات پاس کرنے کا نام نہیں۔ یہ شخصیت سازی کا ایک طویل عمل ہے۔ اسی سفر میں انسان مختلف لوگوں سے ملتا ہے، مختلف خیالات سنتا ہے، سوال کرنا سیکھتا ہے، اختلاف کو برداشت کرنا سیکھتا ہے اور اپنے محدود ماحول سے نکل کر دنیا کو وسیع تناظر میں دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔

یہ وہ تربیت ہے جسے چند ماہ کے کسی مختصر کورس سے مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ہاں، ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ایسی تعلیم جو نوجوان کو صرف ڈگری دے مگر روزگار، تحقیق، کاروبار، ٹیکنالوجی اور عملی زندگی کے لیے تیار نہ کرے، اس میں اصلاح ضروری ہے۔ ہمیں کتاب کے ساتھ ہنر، ڈگری کے ساتھ عملی تربیت اور تعلیم کے ساتھ کردار سازی بھی دینی ہوگی۔

لیکن حل یہ نہیں کہ ہم تعلیم کو کم کر دیں؛ حل یہ ہے کہ ہم تعلیم کو بہتر کر دیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ “کیا پڑھنا ہے”، بلکہ یہ بھی سکھانا ہے کہ کیسے سوچنا ہے، کیسے سیکھنا ہے اور کیسے بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو بدلنا ہے۔دنیا کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ تعلیم صرف انسان کے علم میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس کی معاشی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں غربت، بے روزگاری اور کم پیداواری صلاحیت بڑے چیلنجز ہیں، تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل مستقبل کی معیشت پر سرمایہ کاری ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کو ابھی تک وہ قومی ترجیح نہیں مل سکی جس کی اسے ضرورت ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تعلیم پر قومی سطح کے اخراجات GDP کے ایک فیصد سے بھی کم رہے ہیں۔ یہ صورتحال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں کی تعلیم کو ترجیح نہیں دیں گے تو پھر ترقی کی بنیاد کہاں سے آئے گی؟

ہم سڑکیں بنائیں، پل بنائیں، صنعتی منصوبے لگائیں، ٹیکنالوجی لائیں، یہ سب ضروری ہے، لیکن ان تمام منصوبوں کو کامیاب بنانے والے انسان ہی ہوتے ہیں۔

انفراسٹرکچر ملک کو سہولت دیتا ہے، لیکن انسانی سرمایہ ملک کو آگے لے جاتا ہے۔

اگر ہمیں غربت کم کرنی ہے تو تعلیم چاہیے۔

اگر نوجوانوں کو بہتر روزگار دینا ہے تو تعلیم چاہیے۔

اگر صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کو ترقی دینی ہے تو تعلیم چاہیے۔

اگر معاشرے میں شعور، برداشت اور ذمہ داری پیدا کرنی ہے تو تعلیم چاہیے۔

اور اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ، باوقار اور خودمختار ملک بنانا ہے تو بھی تعلیم چاہیے۔

تعلیم کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا نہیں۔ تعلیم انسان کو زندگی سمجھنے، فیصلے کرنے، مسائل حل کرنے، نئے مواقع پیدا کرنے اور بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔

اسی لیے والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کی تعلیم پر خرچ محض خرچ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں میں سرمایہ کاری ہے، اور ریاست کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم پر خرچ قومی خزانے پر بوجھ نہیں بلکہ قومی مستقبل کی تعمیر ہے۔

فرد کو بھی، خاندان کو بھی، معاشرے کو بھی اور پوری قوم کو بھی۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف ڈگری نہیں دینی، انہیں علم دینا ہے؛ صرف ہنر نہیں دینا، انہیں سوچنے کی صلاحیت دینی ہے؛ صرف روزگار نہیں دینا، انہیں روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ترقی کے بہت سے راستے ہو سکتے ہیں، لیکن ان تمام راستوں پر چلنے کی صلاحیت پیدا کرنے والی بنیادی قوت تعلیم ہے۔

چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، معیشت کتنے ہی بحرانوں سے کیوں نہ گزر رہی ہو اور دنیا کتنی ہی تیزی سے کیوں نہ بدل رہی ہو، ایک فیصلہ ہمیں ہر حال میں کرنا ہوگا:

اپنے بچوں کو پڑھانا ہے۔

کیونکہ جس قوم نے اپنے بچوں کو علم دے دیا، اس نے اپنے بچوں کو صرف آج نہیں دیا، اس نے انہیں مستقبل دے دیا

اور اگر پاکستان نے حقیقی معنوں میں ترقی کرنی ہے تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ تعلیم ہی ترقی کا واحد نہیں تو سب سے مؤثر، پائیدار اور ہمہ گیر ذریعہ ضرور ہے۔ بے شک اگر آگے بڑھنا ہے، تو پڑھنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں