پشاور کا المناک سانحہ: غفلت کب تک معصوم جانیں نگلتی رہے گی؟- اسلم اعوان

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں اسکول کی عمارت منہدم ہونے کا سانحہ ایک بار پھر کئی قیمتی جانیں لے گیا۔ اطلاعات کے مطابق، اس حادثے میں 21 طلبہ اور ایک استاد جاں بحق، جبکہ 47 افراد زخمی ہوئے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ عمارتوں کی حفاظت، انتظامی نگرانی،متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور گورننس کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، رواں سال 12 اکتوبر تک ہونے والی بارشیں گزشتہ دس برسوں کی اوسط کے مقابلے میں تین گنا زیادہ رہی ہیں۔ ماہرین نے اس غیرمعمولی بارشوں کے زراعت اور ماحولیات پر ممکنہ مثبت اثرات کا ذکر کیا تھا لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ اور مقامی حکومت کے متعلقہ تعمیراتی اداروں نے بارشوں کی شدت کے پیشِ نظر عمارتوں کی مضبوطی اور حفاظت کا بروقت جائزہ کیوں نہیں لیا؟

پیسکو، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL)، مقامی حکومت اور محکمۂ ایکسائز سمیت مختلف ادارے رہائشی عمارتوں میں جاری تجارتی سرگرمیوں سے محصولات وصول کرتے ہیں۔ لیکن کیا ان اداروں نے یہ یقینی بنانے کے لیے کبھی مؤثر اقدامات کیے کہ ایسی عمارتیں انسانی جانوں کے لیے خطرہ نہ بنیں؟ محصولات وصول کرنا اپنی جگہ درست مگر عوام کی جان و مال کا تحفظ بھی متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داریوں میں اولین ترجیح ہونا چاہئے۔

اب وقت آگیا ہے کہ متعلقہ حکام تمام نجی اسکولوں، مدارس اور رہائشی عمارتوں میں قائم تجارتی اداروں کا ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کریں۔ بالخصوص پرانی عمارتوں، جن میں بعض برطانوی دور کی تعمیرات بھی شامل ہیں، کی ساختی مضبوطی کا جائزہ لے کر ان کے محفوظ استعمال کی تصدیق کی جائے۔

گیس، بجلی اور انٹرنیٹ جیسی سہولتوں کی فراہمی کو بھی عمارت کے باقاعدہ حفاظتی معائنے اور سالانہ سرٹیفکیٹ سے مشروط کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، تاکہ غیرمحفوظ عمارتوں میں تعلیمی اور تجارتی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن بروقت منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے ان کے تباہ کن اثرات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو بہت سے ایسے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔

معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع محض تعزیتی بیانات سے پورا نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذمہ داری کا تعین کیا جائے، غفلت کے مرتکب افراد کا سخت احتساب ہو اور ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں کہ کوئی اور خاندان اپنے بچوں کو اس طرح نہ کھوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں