آنکھیں ہمارے جسم کے اعضاء میں سب سے ذیادہ قابل رشک عضو ہیں۔ یہ ہمیں آنکھیں دکھائیں یا ہم سے آنکھیں پھیر لیں، ہمیں الٹا ان پر رشک آتا ہے۔ اگر اس رشک کی ر (رے) کو شروع سے ہٹا کر اخر میں لگا دیں تو شکر بنتا ہے۔ اس لئے آنکھوں کی موجودگی واجب الشکر ہے۔ شکر و احسان اس رب العالمین کا بنتا ہے جس نے ہمیں دو آنکھوں کی نعمت کے ساتھ بینا پیدا کیا ہے۔ تاکہ اس دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔ ہم آنکھوں کے کردار کی ستائش کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اللہ نہ کرے ہم کور چشم ہوتے تو۔۔۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو زندگی تاریک ہوتی اور ہم اندھیر نگری میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے۔ وجود رکھتے تمام قابل دید مقامات اور دیدہ زیب اشیاء سیاہ لباس پہنے نوحہ کناں ہوتیں۔ حسن و جمال یا بد صورتی دونوں کی ہیئت نا معلوم ہوتیں۔ خود اپنا وجود، اپنی پوشاک اور اپنا روپ، سب مہمل لگتے۔ راستے لوگوں کی طرح بے دید ہوتے تو ہم مہیب تاریکی میں بھٹک رہے ہوتے۔ مانا کہ بن آنکھوں کا کرب نا قابل برداشت ہوتا ہے۔ دنیا کی چمک دمک کرتی روشنیوں سے خیرہ ہوتی آنکھوں کی پلکوں پر جھلمل کرتے مسرتوں کے آبدار موتی تصور و گمان کے جہان سے اتنی دور ہوتے جہاں تک نظر نہ پہنچتی۔ جو بد قسمت آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے وہ کتنی تکلیف میں ہوتے ہیں اس کا تخیل نہیں کی جاسکتا۔ اس کے باوجود ان پراللہ رب العزّت کی مہربانیوں کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ جس نے کھانوں کو دیکھے بغیر محض خوشبو اور ذائقے کی بدولت پہچان دی کہ بریانی کیا ہوتی ہے، پلاؤ، کھیر اور حلوہ کسے کہتے ہیں۔ حواس خمسہ کی نعمت نے انہیں اجالوں میں رہنے والی دیکھتی آنکھوں سے بڑھ کر پہچان کا بڑا جہان دل و دماغ میں بسا رکھا ہے۔ وہ عام لوگوں کی طرح دیکھ کر کچھ لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ وہ تعداد میں اقل ہوتے ہیں مگر اللہ کے فضل سے صاحب شعور و عقل ہوتے ہیں۔ باری تعالیٰ کا احسان ہے کہ قرآن کو حفظ کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم رکھتے ہیں۔ وہ بریل کی تعلیم اور انگلیوں کے لمس سے تعلیم یافتہ اور ہنرمند بن جاتے ہیں۔ اس خاتون پر دنیا عش عش کر رہی ہے، جنہوں نے سی ایس ایس کا امتحان دیا اور امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ فارن سروس گروپ کو جوائن کیا اور اب وہ دنیا کے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن میں مایہ ناز انداز میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔
قابل فخر ہیں بینائی سے محروم یہ لوگ جن کا ذوق علم و ہنر اور جذبہ خدمت فزوں تر ہے۔ آنکھوں والوں کے رویوں سے البتہ انہیں قدرے شکائت رہتی ہے کہ کوئی اپنے ہوں یا پراۓ، اس سے پہلے کہ انکا خون سفید ہو جاۓ، وہ ہاتھوں میں سفید چھڑی پکڑا دیتے ہیں۔ وہ فقط سڑک پار کرا دینے سےاپنے فرض سےسبکدوش ہو جاتے ہیں۔
آنکھوں والے بشروں کی روشن زندگیوں کے کیا کہنے۔ وہ خوبصورت قدرتی مناظر کو دیکھ کر لطف اٹھاتے ہیں۔ اپنے قیمتی لباس پہن کر، مہنگی گاڑیوں میں بیٹھ کر، جھیلوں، پہاڑوں اور دریاؤں کی دید کو دوڑے چلے جآتے ہیں۔ وہ عالیشان زندگی بسر کرتے ہیں۔ مگر وہ کھلی آنکھوں کے ہوتے ہوۓ بھی بے بصر دکھتے ہیں۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں اڑتے جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ مگر اپنے سے نیچے رہنے والوں کے لئے نظریں خم نہیں کرتے۔ نظروں کو جھکا کر نہیں چلتے۔ نظروں کو چرا کر گزر جاتے ہیں۔ ظرف سے محروم رہتے ہیں وہ۔ یہ جو دو نین ہیں، اللہ کی دین ہیں۔ ان کی قدر واجب ہے۔ ہمیں دی گئی آنکھوں کا ہم پہ قرض ہے، ان کا صحیح استعمال ہمارا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کریں۔ ضروری ہے کہ آنکھوں کو کھلا رکھیں۔ پاکستان کو کوئی دشمن میلی آنکھ سے دیکھ لے تو خیر سے ہم اس کو آنکھیں ہی نہیں دکھاتے بلکہ اس کی آنکھیں پھوڑنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ غصے میں آنکھیں ماتھے پہ رکھ کر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہمیں اپنی آنکھ کا شہتیر نظر آۓ نہ آ ۓ، عقل کے اندھے دشمن کی آنکھ کا بال ضرور دیکھ لیتے ہیں۔ پھر سرعت کے ساتھ اس کی آنکھیں نکالنے کو اس کا پیچھا ضرور کرتے ہیں۔ آنکھوں کا ہر دیکھے ان دیکھے معاملے میں، اپنا کردار ہوتا ہے۔ جہاں آنکھوں میں مروت اور لحاظ کے نگینے دمکتے ہیں وہاں بے ایمانی کر نے کا خیال آجائے تو ہم آنکھ بچا کر، اپنے ہی پاکستانی بھائیوں کو کم ناپ تول میں کمی کرکے نتائج کی پرواہ کئے بغیر، دھوکہ دینے لگتے ہیں ، کیونکہ کسی کی مجال نہیں، کوئی اہل اختیار آنکھ اٹھا کر ان کی طرف دیکھے۔ ہم جمہوری لوگ ہیں، اپنے قول و فعل میں آزاد ہیں۔ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ملاوث والی چیزیں اور جعلی دوائیں بیچتے رہیں، یہ ہماری مرضی ہے۔ یہ ہمارا جمہوری ملک ہے (یہ نہیں سوچتے کہ یہ ملک جمہوری ہی نہیں اسلامی جمہوریہ بھی ہے)، اور ہم اس کے باشندے ہیں۔ لیکن نہ تو جمہوریت سے واقف ہیں اور نہ ہی اس پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسروں کو جمہوری حق نہیں دیتے مگر خود کو اپنے جمہوری حق دینے کی بات کرتے ہیں۔ یہ ہماری اپنی کھلی آنکھوں کا قصور ہے ، ہم آنکھوں کے سامنے واقع ہوتے ان کریہہ کرداروں کو نظر انداز کرکے غلطیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس طرح خطا کاروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
باالفرض کوئی اتفاق سے یہ سب کچھ دیکھ کر ہمیں روکنے ٹوکنے کی کوشش کرے بھی تو وہ ہماری آنکھ میں بری طرح کھٹکتے لگتا ہے۔
ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر کام دیدہ دلیری سے کرتے ہیں۔ وہ کسی غلط بات پر چشم پوشی نہیں کرتے۔ چاہے انکی طرف سے اعتراض اٹھانے پر ان کو آنکھیں ہی کیوں نہ دکھائی جائیں۔ ہم اور ہمارے پاکستانی بھائی چشم دید گواہ ہیں کہ ہمارے بہت سارے ہم وطن نرم دل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی وہ کسی ستم رسیدہ کو دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ مجال ہے کوئی ہماری بیبیوں کو دیدے پھاڑ پھاڑ کے دیکھے، کوئی ایسی ویسی غلطی کر بیٹھے تو اس کی ایسی درگت بنتی ہے کہ اسے اشکبار آنکھوں کے ساتھ معافی مانگنا پڑتی ہے۔ کچھ کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم لڑنے مرنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے کوئی ہماری بات سنے نہ سنے ہم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے لڑتے ہیں اور اس کی طبیعت صاف کر دیتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں میں سے بیشتر پیدائشی پاکستانی ہیں لیکن بیرونی ممالک سے آنے والوں کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہیں۔ ہم اپنے ملک کی ترقی کے لئے کام نہیں کرتے لیکن اپنے آپ کو ترقی پسند کہلانے کے لئے تقریروں اور تحریروں کا سہارا ضرور لیتے ہیں۔ ہم جب یورپ یا مشرق وسطیٰ جاتے ہیں تو وہاں کی ترقی کودیکھ کر ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ ہماری آنکھیں قدرت کا عطیہ ہوتی ہیں، اس لئے ان کی بڑی قدر بھی کرتے ہیں۔ خوب صورت دکھنے کو سرمہ کاجل لگا کر گھومتے پھرتے ہیں۔ ہنسنے والے بھلے کہتے پھریں کہ لگتا ہے آج کہیں سرمے کا ٹرک الٹ گیا ہے۔ البتہ جو ہماری کجرار انکھیوں کو دیکھ کر تعریف کرتے ہیں ہم انہیں پلکوں پہ بٹھاتے ہیں۔
ہم اس وقت اپنی آنکھوں پہ پٹیاں باندھ لیتے ہیں جب ہم خود کوئی غلط کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری عقل اور آنکھوں پہ اس وقت پردہ پڑ جاتا جب ہمارا کوئی ساتھی ملک کے مفاد کے خلاف کام کرتا ہے۔ ہم سیاسی لوگ ہیں، اور کہتے ہیں کہ سیاست میں سب چلتا ہے۔ ہمارے پاس دولت آرہی ہو تو ہم سو نہیں پاتے، ہماری آنکھیں ہر وقت کھلی رہتی ہیں، لٹنے کے ڈر سے ہر وقت پہرا دیتی رہتی ہیں۔ ہم یہ تک نہیں سوچتے کہ آنکھ بند ہونے کی دیر ہوتی ہے اور سب کچھ یہیں دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ البتہ جو لوگ تہی دست ہوتے ہیں، ان کی انکھیں دوسروں کی دولت کے انبار دیکھ کر کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ ہم جھوٹ اس لئے بولتے ہیں کیونکہ جھوٹ ہماری گھٹی میں پڑا ہے۔ اس لئے جھوٹ بولنے پر ہماری آنکھ نہیں شرماتی۔
دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم اپنے بزرگوں سے بحث و تکرار کرتے ہیں، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ دقیانوسی دنیا میں رہتے ہیں اور ہم نئی دنیا کی پیداوار ہیں، اور دور جدید میں ہی رہتے ہیں۔ مگر ان آنکھوں کا کیا کریں جو نہ جدید ہوتی ہیں نہ قدیم ۔ ان کا کام دیکھنا ہوتا ہے اور بس۔ کہتے ہیں کہ وہ زمانہ گیا، جب بزرگ لوگ ہماری سرزنش کرتے تھے اور ہم یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ مگر اب یہ وقت آ گیا ہے کہ بیگم کچھ سخت سست کہنے لگیں تو ہم ان کے احترام میں آنکھیں نیچی کرلیتے ہیں۔ اسی کو اعلیٰ ظرفی کہا جاتا ہے۔ ہمارے مجرمان دوسروں کے بچوں کو تاوان کے لئے اٹھا لیتے ہیں، انہیں مارتے پیٹتے ہیں مگر کھلا تضاد یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی آنکھ کا تارہ سمجھتے ہیں۔ وہ آنکھ مچولی کھیلیں یا غل مچا کر آسمان سر پر اٹھا لیں، ہم انہیں کچھ نہیں کہتے۔ بہت ہوا تو کبھی کبھی خشمگیں نگاہوں سے دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں۔
کہنے کو ہر انسان دو آنکھیں رکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے کسی کو پہچاننے کے لئے ذیادہ آنکھوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ دیکھتے نہیں کہ جب آنکھیں چار ہو جائیں تو دو سہیلیاں کیا کہہ اٹھتی ہیں، ” ارے سلمہ تم؟”، “ہاں, ہاں میں! تم جویریہ ہو ؟ بلکل پہچانی نہیں جا رہی ہو” ۔ چار یا دو آنکھوں کے علاوہ کبھی کبھی ایک آنکھ سے بھی کام چل جاتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم کبھی کسی میں تفریق نہیں کرتے، بلکہ سب کو ‘ایک آنکھ’ سے دیکھتے ہیں، عجب بات ہے کہ ہماری دونوں آنکھیں کھلی ہوتی ہیں۔ پھر بھی ایک آنکھ سے کیسے دیکھ لیتے ہیں؟ یہ ایک اور کھلا تضاد ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کوئی شخص کتنا بھی عزت دار اور قابل احترام کیوں نہ ہو، اس کی گفتگو تہذیب کے دائرے سے باہر ہو تو وہ سب کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ بھی اچھی گفتگو کرتے رہا کریں۔ آپ میں یہ وصف پیدا ہو جائے تو آنکھوں سے گرنے سے بچ کر، کسی کے دل میں بس سکتے ہیں۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر مروت دل میں ہو تو سب کے دل میں محبت کے دیئے جلتے ہیں۔ لیکن جن کے دلوں میں محبت نہ ہو، وہ عادتآ دوسروں سے یوں نظر پھیر لیتے ہیں، جیسے وہ طوطا چشم ہوں۔ دوستوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ آ نکھوں کے سامنے رہتے ہیں، انکی دوستی برقرار رہتی ہے لیکن جب وہ بچھڑ جاتے ہیں تو ایک دوسرے کو ہوں بھول جاتے ہیں جیسے آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔
ایک محاورہ ہے کہ” اندھا کیا چاہے دو آنکھیں”. لیکن ایک آنکھ سے محروم کو دوسری آنکھ تب ملتی ہے جب کسی نے مرتے دم اسے اپنی آنکھ کے عطیے کی وصیت نہ کی ہو۔ اسطرح اندھے کو دو آنکھیں پانے کے لئے کسی کو مرنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ باتیں، جس کی پردہ داری ہوتی ہے، وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ دی جاتی ہیں۔ سمجھنے والوں کے لئے آنکھوں کا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ جو نہیں سمجھ پاتے ان کو عقل کے اندھے کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ خوبصورت غزالی آنکھیں کیوں نہ رکھتے ہوں۔ آنکھوں کی بابت ہم یہی کہیں گے کہ اس دنیا میں آنکھوں کے سوا رکھا کیا ہے۔ ویسے فقراء کی یہ آوازیں حقیقت پہ مبنی ہوتی ہیں کہ اکھیوں والو آنکھیاں بڑی نعمت ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ اس نعمت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ کبھی کسی پردہ نشین کو کن انکھیوں سے دیکھتے ہیں اور کبھی بے پردہ لڑکیوں کو گھور گھور کر دیکھتے ہیں۔ یہ کام کرتے ہوئے انکی انکھ نہیں لجاتی۔ البتہ جو عزت دار لوگ ہوتے ہیں، ان کے نزدیک ایسے بگڑے نوجوانوں کی خیر نہیں ہوتی۔ وہ جیسے ہی آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو ان کی حرکتیں دیکھ کر بزرگوں کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ ہم نے کچھ بچوں کو بھی آنکھوں سے کام لیتے دیکھا ہے۔ آپ نے شائد دیکھا ہو کہ بعض بچوں کی آنکھوں سے رات کے وقت شرارت ٹپکتی ہے۔ انہیں جلد سونے کے لئے کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ سوئیں تو کیسے، ان کی آنکھ ہی نہیں لگتی۔ مگر بچوں کی ان معصومانہ باتیں سن کر انہیں کچھ لوگوں کی نظر ضرور لگ جاتی ہے۔ البتہ جو جہاندیدہ لوگ ہوتے ہیں وہ بچوں کو دیکھ کر ناصرف ما شاء اللہ کہتے ہیں بلکہ انہیں لگتا ہے کہ ان سے مل کر انکی آنکھیں روشن اور انکا دل شاد ہوجاتا ہے۔ یہاں یہ کہنا بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ہر ضد کو بسر و چشم پورا کرتے ہیں۔ خواہ مستقبل میں انکی خود سری کا انہیں سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یقینا سرد و گرم چشیدہ بزرگ اس داد و تحسین کے مستحق ہیں کہ وہ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود بصیرت اور بصارت دونوں رکھتے ہیں۔ وہ نسل نو کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ اللہ ہمارے سروں پر انکا سایہ برقرار رکھے جنہیں دیکھ کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے۔


