موت ایک نعمت ہے/ محمد یاسین

تصور کریں کہ ایک شخص نفسیاتی مرض میں مبتلا ہے یا جسمانی اذیت کا شکار ہے، غربت کی چکی میں پس رہا ہے اور اگر اسے یہ خبر دے دی جائے کہ یہ مرض ، غربت یا زہنی اذیت اس دنیا میں تمہارے ساتھ ہمیشہ رہے گی اور تمہیں ہمیشہ اس دنیا میں زندہ رہنا ہے تو؟ یہ تجربہ میرے ساتھ بھی ہوچکا ہے۔ جب 2016 میں میری والدہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھی اور میو ہسپتال لاہور کے کینسر وارڈ میں، میں اکیلا سوچ رہا تھا کہ یا تو اللہ پاک میری والدہ کو جلد صحت یاب کردے یا ان کو اپنے پاس بلا لے۔ کیونکہ مجھ سے والدہ کی اذیت دیکھ کر برداشت نہیں ہو پاتا تھا۔ اور یہی ہوا جو اللہ کو منظور تھا۔ اسی سال والدہ وفات پاگئی۔ والدہ کی وفات پر میں شدید غم زدہ تھا کیونکہ پہلے تین ماہ میو ہسپتال گزارے اور پھر والدہ کی وفات دونوں نے مجھے ایک لحاظ سے زہنی طور پر مفلوج کردیا تھا۔ تاہم وقت گزرتا گیا اور غم آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ لیکن 2021 میں مجھے معاش کی فکر لاحق ہونے لگی۔ اور مستقبل کے بارے میں ڈپریشن کا شکار رہا۔ لیکن ایک چیز تھی جو مجھے تسلی دی رکھتی تھی وہ یہی بات تھی کہ ایک دن مجھ کو موت آنی ہے اور تمام پریشانیاں و تکلیفیں ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں گی۔ میں گھر سے باہر نکلتا تو سفید داڑھی والے بزرگ حضرات کو دیکھتا تو شکر کرتا کہ ان لوگوں نے زندگی گزار لی ہے تو دل چاہتا تھا کہ مجھ پر بھی یہی وقت جلد آئے اور میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔ اس سے میری ڈپریشن کم ہو جاتی تھی۔ میں جب قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ دنیا عارضی ہے۔ اور تمہیں ایک دن لوٹ کر جانا ہے۔ تو یہ بات میری لئے خوشی کا باعث بنتی ہے۔ میں کیونکہ فلسفہ، مزہب سے دلچسپی رکھتا ہوں۔ تو میں سوچتا ہوں کہ الحاد کا تو اپنا کوئی فکر ہے ہی نہیں اور مزہب ہمیں دنیا میں رہن سہن کے طریقے، کائنات کی حقیقت اور انسان کی حدود بتاتا ہے۔ تو یہ سب چیزیں مجھے دلی سکون دیتی ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کائنات کے پروردگار نے ہمارے لئے جنت کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔ جہاں کوئی تکلیف یا پریشانی نہیں ہوگی اور ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ ایک وقت تھا جب الحاد اور مزہب کے درمیان میں ایک فکری الجھن کا شکار رہا۔ میں سوچتا تھا کہ اگر یہ کائنات کسی شخصی خدا جس کا تعارف مزہب کرواتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ رحمان و رحیم ہے تو اس دنیا میں اذیت، بیماری، ظلمت، جنگیں، طوفان ، زلزلے اور پیدائشی بیماریاں کیوں ہیں؟ اس کا جواب بھی مجھے قرآن مجید سے ملا کہ اللہ پاک نے یہ کائنات ابتلا کے قانون کے مطابق بنائی ہے۔ مطلب اللہ نے خود اس کائنات میں نقائص رکھے ہیں تاکہ آزمایا جائے۔ اور اگر یہ کائنات کامل ہوتی تو آزمائش ممکن نہ تھی۔ گویا قرآن مجید میں اللہ نے جو اسکیم اس کائنات بارے بتائی ٹھیک بتائی۔ 22 اپریل 2026 کو میری ملاقات جب جاوید احمد غامدی کی فکر سے وابستہ شخصیت معز امجد سے ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اگر مزہب اور خدا کے وجود کو انسانی زندگی سے نکال دیا جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ کیونکہ وہ علم نفسیات سے بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ تو انہوں نے بتایا کہ خالص علم نفسیات بھی انسان کی روح کو غذا نہیں پہنچا سکتا جب تک خدا کے وجود کو اپنی زندگی میں داخل نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہی انسانی فطرت ہے۔ انسان اپنے آپ کو مخلوق مانتا ہے اور یہاں سے ہی خالق کا تصور پیدا ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں