احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ حکومت سے اختلاف ہو، کسی فیصلے پر اعتراض ہو یا اپنے مطالبات منوانے ہوں، تو آواز اٹھانے میں کوئی برائی نہیں۔ لیکن ایک سوال ضرور سوچنے کا ہے: کیا اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے ہم دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتے ہیں؟
ہمارے ہاں سیاسی احتجاج کے دوران اکثر سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور لوگ گھنٹوں راستوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کے اپنے مطالبات ہوتے ہیں، لیکن اس دوران کسی مزدور کی دیہاڑی ضائع ہو جاتی ہے، کسی دکاندار کی کمائی متاثر ہوتی ہے اور کسی مریض کو ہسپتال پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے۔ آخر ان لوگوں کا قصور کیا ہے؟ وہ تو صرف اپنے کام پر جانے اور اپنے گھر والوں کے لیے روزی کمانے نکلے ہوتے ہیں۔
کسی باپ نے بچے کو سکول چھوڑنا ہے، کسی طالب علم نے امتحان دینے جانا ہے اور کسی مریض کو علاج کے لیے ہسپتال پہنچنا ہے۔ اگر راستے بند ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے تو ان کی پریشانی کون سمجھے گا؟ سیاسی مطالبات اپنی جگہ، لیکن عام شہریوں کی مشکلات کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔
ہر احتجاج غلط نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر احتجاج کو قومی مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ احتجاج کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے اور اس میں عام لوگوں کے مسائل کو کتنی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگر آواز مہنگائی، روزگار، تعلیم، علاج اور انصاف جیسے مسائل کے لیے اٹھائی جائے تو اس کا تعلق بڑی تعداد میں لوگوں سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر سارا معاملہ کسی ایک رہنما کی حمایت یا مخالفت تک محدود ہو جائے تو اسے پوری قوم کی آواز کہنا مناسب نہیں۔
سیاسی جماعت سے وابستگی ہر شخص کا حق ہے۔ کسی رہنما کو پسند کرنا یا اس کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنا جمہوریت کا حصہ ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل جائے اور بات دلیل سے نکل کر دھمکیوں تک پہنچ جائے۔ اپنی بات منوانے کے لیے دوسروں کو خوف زدہ کرنا کسی بھی صورت درست نہیں۔ اختلاف ضرور کریں، مگر برداشت اور ذمہ داری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
پاکستان دہشت گردی اور بدامنی کے کئی مشکل دور دیکھ چکا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے امن قائم رکھنے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ پولیس کی وردی میں کھڑا شخص بھی کسی کا بیٹا، بھائی یا باپ ہوتا ہے۔ اس کی کسی کارروائی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے اور غلطی پر جواب بھی مانگا جا سکتا ہے، لیکن اسے دشمن سمجھ لینا مناسب نہیں۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں سے قانون کے مطابق پیش آئیں اور شہریوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔
پرامن احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے۔ حکومت پر تنقید ہونی چاہیے اور عوام کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا پورا حق ملنا چاہیے۔ لیکن جب احتجاج کے دوران راستے بند ہوں، دھمکیاں دی جائیں یا حالات تصادم کی طرف بڑھنے لگیں تو نقصان صرف حکومت یا کسی سیاسی جماعت کا نہیں ہوتا، عام شہری بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہو سکتی ہے، مگر اس دوران تحمل اور شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
پاکستان کی اہمیت صرف اس کی اندرونی سیاست تک محدود نہیں۔ دنیا اسے اس کے دفاع، جغرافیائی محلِ وقوع اور خطے میں کردار کی وجہ سے بھی دیکھتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور دوسرے ممالک سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔ ملک کے اندر سیاسی استحکام اور امن بھی اسی لیے اہم ہیں کہ ان کا اثر پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ پر پڑ سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی دفاعی پالیسی اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ 2025ء میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا، جبکہ 2026ء میں مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کی خبریں سامنے آئیں۔ یہ معاملات پاکستان کی علاقائی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے میں ملک کے اندرونی حالات کا اثر اس کی بیرونی ساکھ پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حکومتیں اور سیاسی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آج کوئی جماعت اقتدار میں ہے تو کل کوئی دوسری جماعت آ سکتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں، لیکن ملک ہم سب کا ہے۔ اس لیے کسی بھی رہنما کی حمایت میں اپنے ہی ملک کے لوگوں کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
میرا مقصد احتجاج کی مخالفت کرنا نہیں، بلکہ اس کے طریقۂ کار پر بات کرنا ہے۔ کسی فیصلے سے اختلاف ہے تو حکومت سے سوال کریں، اپنے مطالبات پیش کریں اور پرامن احتجاج کے ذریعے اپنی آواز حکام تک پہنچائیں۔ لیکن یہ بھی دیکھیں کہ ہماری جدوجہد سے کسی دوسرے شہری کا حق تو متاثر نہیں ہو رہا۔ اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا اچھی بات ہے، مگر دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
آخرکار سوال یہ ہے کہ ہماری سیاست کا مقصد عوام کے مسائل حل کرنا ہے یا صرف اپنے پسندیدہ رہنما کو درست ثابت کرنا؟ اگر سیاسی بحث میں روزگار، تعلیم، علاج اور انصاف جیسے بنیادی مسائل پیچھے رہ جائیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
قومی احتجاج وہ ہوتا ہے جس میں عوام کے مسائل، ان کے حقوق اور ان کے بہتر مستقبل کی بات ہو۔ اس کے برعکس اگر ساری جدوجہد کسی ایک شخصیت یا جماعت کے گرد گھومنے لگے اور عام آدمی کے مسائل نظر انداز ہو جائیں تو اسے پوری قوم کی آواز قرار دینے سے پہلے سوچنا چاہیے۔
یہ ملک ہم سب کا ہے۔ سیاسی اختلاف بھی رہیں گے اور حکومتوں پر تنقید بھی ہوتی رہے گی، لیکن ان سب کے درمیان عوام کے مسائل اور ملک کے مفاد کو ترجیح ملنی چاہیے۔ احتجاج ضرور کریں، اپنی آواز بھی بلند کریں، مگر اس طرح کہ آپ کے حق کی آواز کسی دوسرے کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے۔
قومی احتجاج یا شخصی احتجاج؟ فرق سمجھنا ہوگا۔


