اللہ ہمارے تمام عمر رسیدہ مرد و خواتین کو سلامت رکھے۔ ہماری حکومتیں اپنی مدت پوری کریں نہ کریں مگر ہمارے بزرگ مقدر میں لکھی اپنی عمر ضرور پوری کریں۔ کیوں کہ ہمیں قدم قدم پر اموات کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی پے۔ کبھی حادثات، کبھی فتنے اور کبھی اچانک درپیش جان لیوا امراض مثل عقاب زندگی پر جھپٹتے ہیں اور بندے متاع حیات چھن جانے پر چپ چاپ ابدی نیند سو جاتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں ہمارے وہ بزرگ جن کی زندگی ان سے وفا کرتی ہے اور ہم ان کے سایہ شفقت میں جیون کی آسانیاں سمیٹتے پیں۔ ہمیں ہر وقت انکے پند و نصائح اور تجربے و مشاہدے پر مبنی ہدایات کی سخت ضرورت رہتی ہے۔ وہ ہمارے لئے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جیتے رہیں تاکہ اپنے پوتوں نواسوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے رہیں کہ “جیتے رہو”۔
خیر سے پرانے وقتوں کی خالص غذاؤں اور اکل حلال نے انہیں ایسا دم دار بنایا ہوتا ہے کہ ساٹھ سال کی کٹھن ملازمت کا دریا عبور کرکے بھی قوی و توانا رہتے تھے۔ وہ طویل جیون میں بھی بوڑھے نہیں ہوتے تھے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے والدین اور نانا، دادا اسی، نوے کی عمر کو پہنچیں، ہم بھی دعائیں کیا کرتے ہیں کہ وہ سو سال کو پہنچیں۔ ہمیں اپنے بچپن کا وہ کھیل یاد آنے لگتا ہے جس میں گلی کوچوں میں کھیلتے ہوۓ کہتے پھرتے تھے کہ “اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورے سو”. ماضی کا یہ کھیل یاد کرتے ہوۓ ہماری یہ دعا ہوتی ہے کہ ہمارے بڑے اسی، نوے پورے سو کی عمر پائیں بلکہ وہ جیئیں ہزاروں سال اور ہر سال کے دن ہوں ہزار۔. مسئلہ مگر یہ ہے کہ اس دور میں یہ نوے اور سو کی عمر کو بمشکل پہنچ پاتے ہیں۔ اللہ بخشے ہمارے والد چوالیس سال کی عمر میں ہی داغ مفارقت دے گئے تھے۔ اب تو دیکھنے میں آتا ہے ذیادہ تر ستر، اسی، اور پھر ہر سال برسی۔
ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے والے لوگوں کے جذبات مختلف ہوتے ہیں۔ جو لوگ ملازمت پیشہ ہوتے ہیں وہ اپنی ریٹائرمنٹ کا سوچ کر بہت زیادہ غمگین اور پریشان اور اس فکر میں دبلے ہو ۓ جاتے ہیں، کہ ان کی تنخواہ، جو مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی بجلی، گیس کے بل بھر کے، بچوں کے اسکول کالج کی فیسیں ادا کر کے اور کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کر کے تمت بالخیر ہو جاتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد انکا گزارا کیسے ہوگا؟ لیکن اعلیٰ عہدوں پہ متمکن کچھ افسران کے جذبات کچھ اور ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کا کوئی دھڑکا نہیں ہوتا کہ رٹائرمنٹ کے بعد کیا ہوگا؟ انکی تنخواہیں اور مراعات جتنی ذیادہ ہوتی ہیں، پینشن اور الاؤنسز بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کا گزر بسر قدرے آرام سے ہو جاتا پے۔ البتہ کچھ اعلیٰ افسران یہ بات سوچ کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں کہ ملازمت سے فارغ ہو کر وہ بے اختیار ہو جائینگے، نوبت یہاں تک آ جاۓ گی کہ انہیں بنک سے چیک کیش کرانے کے لئے لائن میں لگنا پڑ ے گا۔۔۔۔ جس کی انہیں ہر گز عادت نہیں ہوتی۔ بعض اعلیٰ عہدوں پہ فائز افسران ریٹائر ہونے پر خوش ہوتے ہیں کہ اب وہ آرام کریں گے اور انہیں فائلوں میں سر کھپانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ گھر میں وہ ہونگے اور بیگم صاحبہ جن سے بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی تھی خیر سے ان کی ‘خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو’. مگر ایسا بھی نہیں کہ سارے ریٹائرڈ حضرات کے دل باغ باغ ہوتے ہوں گے اور وہ باغبان پورے کے باسی بن جائیں یا خوشی کے شادیانے بجاتے یوئے لاہور کی بستی شادمان کے رہائشی بن جائیں۔ غم روزگار انہیں بھی بے حال لئے رکھتا ہے۔
بہت سے با اختیار افسران جوں ہی پہنچتے ہیں ساٹھ کو، ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ختم ہونے پر ٹھاٹھ باٹھ کو۔ ٹھاٹھ سے آفس آنا اور ٹھاٹھ سے گھر جانا انہیں خواب و خیال دکھائی دینے لگتا ہے۔ جب وہ ساٹھ کے نہیں ہوتے تو لگتا ہے کہ ہر” لحظہ ہے ان کی نئی شان نئی آن”۔ مگر جیسے ہی وہ ساٹھ کے ہوئے, ان کو ملتی مہربانیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر خاموش و ساکت ہو جاتا ہے۔ تب یہ کہاوت اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے کہ ” چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات “. پھر گرمی ہو یا حبس، اس میں کوئی سرکاری خادم ان کو ٹھنڈا ٹھار پانی پلانے والا نہیں ہوتا۔ دنیا تو انہیں سلام کرنا چھوڑ دیتی ہے، ان کی اپنی بیگم کی نظر میں بھی ان کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی۔ پہلے تو دوران ملازمت ان سے ملنے والوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے رہتے تھے، اور باتوں کے دوران خوب ٹھٹھے بھی ہوا کرتے تھے، اب رٹائرمنٹ کا ٹھپا لگتے ہی وہ ٹھٹک ٹھٹک کر چلتے ہیں، کہ کہیں کوئی دفتری واقف کار، دیکھ نہ لےان کا حال زار۔ کیسے بڑے بڑوں کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو! یہ سٹھیا گیا ہے. یہ سوچ کر وہ خود بھی ماننے لگتے ہیں کہ بڑوں نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ’ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں’۔ اب خود بڑ ے ہوئے ہیں تو پتا چلی ہیں یہ باتیں۔
جو لوگ سروس کرتے افسروں سے فائدے اٹھایا کرتے تھے وہ بھی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ اٹھارویں صدی کے ہندوستانی شاعر جناب نظیر اکبر ابادی کی مشہور زمانہ نظم بنجارہ نامہ کے اشعار ہم جیسے ریٹائرڈ ملازمین کے اختیارات اور ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے احوال کی بھر پور عکاسی اپنی نظم میں اسطرح کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:- ع
– کچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ لعل زمرد سیم و زر
– جو پونجی بات میں بکھرے گی پھر آن بنے جان اوپر
– نقارے نوبت بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکر
– کیا مسند تکیہ ملک مکان کیا چوکی کرسی تخت چھپر
– سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ملازمت پیشہ افراد کے علاوہ بھی عام لوگوں کو ساٹھ سال یا اس سے ذیادہ کی عمر کو پہنچنے کا غم کھائے چلا جاتا ہے، جب وہ آئے دن موبائل فون پر ڈاکٹروں کی طرف سے آنے والی ان پوسٹوں کو دیکھ کر فکر مند ہونے لگتے ہیں کہ وہ اب چاق و چوبند اور صحت مند نہیں رہںے۔ اگر انہوں نے انکی بتائی ہوئی ہدایات پہ عمل نہیں کیا تو’ پیٹ میں آنت نہیں اور منہ میں دانت نہیں’ والے حال پہ پہنچ جائیں گے اور ہاتھ میں لاٹھی آ جائے گی۔ پہلے سب ان کے سامنے جھکا کرتے تھے اب وہ خود جھک کر چلنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بوڑھا سمجھنے لگیں گے۔۔ ان کی کمر میں درد اور ٹانگوں میں کمزوری محسوس ہونے لگے گی۔ کچھ لوگ تو عمر کے ساٹھ کوس دور چل کر تھکے تھکے قدموں سے تھک ہار کر ایسے بے حال ہو جاتے ہیں کہ کھاٹ پر پڑ رہنےکو جی چاہتا ہے۔ کھانسنا اور لڑ کھڑا کر چلنا ان کا نصیب بن جاتا ہے لیکن نہیں۔ان کے بھلے کے لئےایک ڈاکٹر کے ہدائت نامے پر مبنی ایک پوسٹ ملاحظہ ہو:-
*60 سال سے زیادہ عمر کے ہر فرد کے لیے
ضروری خوراک:
1. سبزیاں اور پھل۔
2. سمندری غذا، خاص طور پر مچھلی۔
3. گری دار میوے
4. انڈے
5. ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل۔
6. مرغی کا گوشت ( ہو سکے تو دیسی مرغی کا گوشت۔
7. اور سب سے بڑھ کر، صحت مند کھانا۔
*تین چیزیں بھولنے کی کوشش کریں:*
1. عمر
2. ماضی
3. ناراضی۔
*چار اہم چیزیں:*
1. خاندان میں میل جول،
2.کم دوستیاں
3. مثبت خیالات
4. پرہیزی کھانے
*آپ کے اہم ترین اعمال:*
1. ہنسی خوشی وقت گزاریں
2.واک کریں، لیکن صرف اپنی رفتار سے۔
3. دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزاریں (سواۓ بچوں یا پوتے پوتیوں، نواسے، نواسیوں کے )۔
4. کوئی بھی ایونٹ مت چھوڑیں۔
*چھ ضروری چیزیں:*
1. اس وقت تک انتظار نہ کریں جب تک کہ آپ پانی پینے کے لیے پیاسے نہ ہوں۔ کثرت سے پانی پیئں۔
2. رات کو دیر سے نہ سوئیں، صبح کو جلدی اٹھین۔
3. اس وقت تک انتظار نہ کریں جب تک کہ آپ آرام کرنے کے لیے تھک نہ جائیں۔
4. طبی معائنے کے لیے جب تک آپ بیمار نہ ہوں انتظار نہ کریں۔
5. خدا پر یقین کرنا کبھی نہ چھوڑیں۔ معجزے ہوتے ہیں۔
6. مثبت رہیں اور ہمیشہ بہترین کی امید رکھیں .
اللہ اللہ کریں نماز ، روزہ کریں۔ کسی کا دل نہ دکھائیں، قناعت کریں اور پر حال میں اللہ کا شکر کریں۔ ان باتوں پر عمل کر کے آپ بھول جائیں کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں۔ ہو سکے تو یہ دھیان کریں کہ ” ابھی تو میں جوان ہوں”.


