پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور نمایاں کارکنوں نے اپنی سیاست کی ابتدا، بالخصوص نواز شریف حکومت کے خلاف طویل دھرنے اور پرتشدد مظاہرے، ریاستی مقتدرہ کے کندھوں پر سوار ہو کر کئے تھے۔ اس عہد میں وہی جرنیل ان کے لیے سوچتے، منصوبہ بندی کرتے، بیانیہ تشکیل دیتے، منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے مالی وسائل اور تنظیمی نیٹ ورک تشکیل دیتے، دوسری جماعتوں سے بااثر سیاستدانوں کو توڑ کر لاتے، پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث کارکنوں کو قانون کی تادیب سے بچاتے اور ان سارے عوامل کے نتائج بھی مرتب کرتے تھے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کا کردار محض ان کارروائیوں کو سیاسی چہرہ فراہم کرنے اور ایک مخصوص جارحانہ لب و لہجے کے ذریعے نواز شریف خاندان پر تہمتیں لگانے، الزامات عائد کرنے اور ان الزامات کو عوامی بحث کا حصہ بنانے تک محدود تھا۔ گویا فکر کسی اور کی تھی، منصوبہ بندی کسی اور کی، وسائل کسی اور کے، مگر اس سارے سیاسی کھیل کو سیاسی چہرہ پی ٹی آئی کی قیادت فراہم کرتی تھی۔
چنانچہ آج جب اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیاں چھن چکیں، ریاستی مقتدرہ کا ذہنی، سیاسی، مالی اور تنظیمی تعاون ختم اور پہلی بار قانون کی لاٹھی ان کے خلاف حرکت میں آئی تو یہ قیادت اپنے ہی بوجھ تلے لڑکھڑانے لگی ہے۔ اب یہ جماعت گم کردہ راہ مسافروں کی مانند سیاست کے تپتے صحرا میں بھٹکتی پھرتی ہے، جہاں نہ منزل کا تعین، نہ سمت کا شعور اور نہ ہی اپنے قدموں پر چلنے کا اعتماد میسر ہے۔ اس لئے پی ٹی آئی کے کوتاہ بین رہنما اپنی تمام تر توانائیاں ایک دوسرے کی نفی کرنے، باہمی الزام تراشی میں الجھنے اور ہر اس شخص کو غدار یا دھوکے باز قرار دینے میں صرف کر رہے ہیں جو ریاست کے خلاف مزاحمت کی کوشش میں کچھ غلطی کرتا ہے۔ یہ ایسی محوری گردش ہے جس میں یہ قیادت گرفتار ہو چکی ہے، جس میں حرکت تو بظاہر جاری ہے، مگر فکری اور سیاسی اعتبار سے سفر آگے بڑھنے کے بجائے اپنے ہی گرد گھوم رہا ہے۔
ان کی صف اول، دوم اور سوم کی پوری قیادت میں نہ وہ وسعت نظر ہے جو اختلاف کو تصادم کے بجائے قوت میں بدل سکے، نہ وہ فکری کشادگی جو مختلف طبیعتوں، متنوع مزاجوں اور جداگانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو ایک وسیع تر سیاسی مقصد کے تحت یکجا کر سکے۔ ایک طاقتور سیاسی تنظیم محض افراد کے اجتماع سے وجود میں نہیں آتی، اس کے لیے عقل اجتماعی، اختلاف رائے کی گنجائش، انفرادی صلاحیتوں کی ہم آہنگی اور مشترکہ مقصد کے لیے ذاتی مفادات سے بلند ہونے کی اہلیت درکار ہوتی ہے۔ مگر یہاں قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ افراد کی انفرادیت کو اجتماعی قوت میں ڈھالنے کے بجائے باہمی رقابت اور شخصی انا کی نذر کر دیتی ہے۔ وہ نہ عوام کے اجتماعی ارادے کی معنویت کو سمجھ سکتی ہے، نہ ان کی مجموعی خواہشات کا احترام کرنے کے لیے اپنی ذاتی آرزوؤں سے دست بردار ہو سکتی ہے۔ حالاں کہ حقیقی قیادت کا جوہر، اقتدار کی خواہش میں نہیں، بلکہ اجتماعی ارادے کو اپنی ذات پر مقدم رکھنے میں مضمر ہوتا ہے۔ میر کارواں وہ نہیں ہوتا جو ہر مسافر کو اپنی سمت چلنے پر مجبور کرے بلکہ وہ ہوتا ہے جو مختلف سمتوں میں بکھرے ہوئے قدموں کو ایک مشترکہ منزل کا شعور عطا کرے۔
ان کی تنگ نظر قیادت آئینہ ایام ایام میں مستقبل کے حوادث کا ادراک کرنے اور بدلتے ہوئے سیاسی حقائق کی پیش بندی کرنے کے بجائے اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی۔ اب زوال کے مرحلے میں بھی اس کے طرز عمل میں کوئی بنیادی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ وہ ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے، ایک دوسرے کی سیاسی حیثیت مجروح کرنے اور باہمی خود اذیتی کی مشق ستم کیش میں اس قدر منہمک ہیں کہ انہیں اپنے گرد پھیلتے ہوئے سیاسی خلا کا احساس تک نہیں ہوتا۔ یہ دراصل اس قیادت کا المیہ ہے جو عروج کو اپنی بصیرت کا ثمر سمجھتی رہی، مگر اس حقیقت کو نہ سمجھ سکی کہ اس کے عروج میں اس کی اپنی سیاسی صلاحیتوں کے علاوہ بیرونی سہاروں کا بھی بنیادی کردار تھا۔ جب سہارے اٹھا لیے گئے تو خود اعتمادی کا وہ محل بھی لرزنے لگا جسے یہ اپنی سیاسی قوت کی مظہر سمجھتے تھے۔
یہ ایک ایسا ہجوم بن چکا ہے جو عجلت میں فیصلے کرتا ہے، پھر ان فیصلوں کے نتائج سے نبرد آزما ہونے کے بجائے دیر تک کف افسوس ملتا رہتا ہے۔ اس کی سیاست میں تدبر کی جگہ اضطراب، حکمت عملی کی جگہ ردِعمل اور اجتماعی بصیرت کی جگہ شخصی انا نے لے لی ہے۔ ایسی صورت حال میں نہ کسی واضح سیاسی نصب العین کی صورت گری ممکن دکھائی دیتی ہے، نہ عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر اور مربوط حکمت عملی تشکیل پاتی نظر آتی ہے، نہ پارٹی کا تنظیمی شیرازہ برقرار رہ سکتا ہے اور نہ ہی سیاست کے اجتماعی دھارے میں اس کے لیے کوئی باوقار اور دیرپا گنجائش پیدا کرنا آسان رہتا ہے۔
تاریخ کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ جو سیاسی قوتیں اپنی داخلی توانائی، فکری خود مختاری اور اجتماعی بصیرت پیدا کرنے کے بجائے بیرونی سہاروں پر اپنی عمارت استوار کرتی ہیں، وہ ان سہاروں کے خاتمے کے بعد اکثر اپنی ہی کمزوریوں کے بوجھ تلے منہدم ہونے لگتی ہیں۔ پی ٹی آئی کی موجودہ کیفیت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا اصل بحران محض قیادت کے درمیان اختلافات نہیں بلکہ اس سیاسی شعور کا فقدان ہے جو اختلاف کو نظم، تنوع کو قوت اور میسر وسیع عوامی تائید کو ایک پائیدار سیاسی منصوبے میں تبدیل کر سکے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طرز عمل سے ایک ذلت آمیز انجام سے دوچار ہونے کے لئے تقدیر کو اکساتے رہتے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ انہیں مشکلات کا سامنا ہے، مسلہ یہ ہے کہ وہ مشکلات سے سیکھنے، اپنی کوتاہیوں کا ادراک کرنے اور اپنے ٹوٹے ہوئے سیاسی وجود کی ازسرنو تعمیر کرنے کے بجائے انہی غلطیوں کو بار بار دہرانے پر مصر ہیں جن کی بدولت وہ پامال ہوئے۔ جب کوئی سیاسی جماعت اپنی تشکیل نو کے دروازے بند کرکے اپنی تمام تر توانائیاں داخلی تصادم پر صرف کرنے لگے تو اس کا زوال کسی خارجی سازش سے زیادہ اس کے اپنے فکری افلاس، سیاسی کوتاہ بینی اور اجتماعی بصیرت کے فقدان کا نتیجہ بن جاتا ہے۔


