ایک بوسہ، ایک قانون اور دو زندگیاں/ فرزانہ افضل

سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں، ایک نو بیاہتے جوڑے، کو ’’غیر اخلاقی حرکت‘‘ کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی۔ سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق دونوں کو عدالت سے سزا ملنے کے بعد 14 اکتوبر 2026 کو مکہ کے علاقے میں موت کی سزا دی گئی۔ بنگلہ دیشی حکومت نے سعودی حکام سے اس معاملے کی وضاحت اور عدالتی فیصلے کی نقل بھی طلب کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ جوڑا شادی کے بعد ہنی مون کے بجائے عمرہ ادا کرنے سعودی عرب گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تفصیلات میں کہا گیا کہ ایک مسجد میں نماز کے بعد شوہر نے اپنی اہلیہ کی پیشانی پر بوسہ دیا، کسی شخص نے اس کی ویڈیو بنا کر پولیس کو دے دی اور دونوں گرفتار ہوگئے۔ تاہم سعودی حکام نے بوسے کی تفصیل کی تصدیق نہیں کی۔ سرکاری طور پر ’’غیر اخلاقی حرکت‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔
سعودی عرب ایک خودمختار ملک ہے اور اس کا اپنا قانون ہے۔ وہاں جانے والے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ قانون اور مقدس مقامات کے آداب کا احترام کرے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر خلاف ورزی کی سزا موت ہونی چاہیے؟ اور کیا سزا جرم کے متناسب ہونی چاہیے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک طرف سعودی عرب میں قوانین اور سماجی ضوابط کے حوالے سے سختی نظر آتی ہے، جبکہ دوسری طرف ریاض میں فیشن شوز، عالمی میوزک کنسرٹس، بڑے تفریحی پروگرامز اور کلبنگ تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ پھر سوال اٹھتا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے یا اس کے اطلاق کے پیمانے مختلف ہیں؟
مجھے الحمدللہ دو مرتبہ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ حرمین شریفین کی حاضری میرے لیے بھی ایک عظیم روحانی سعادت ہے، لیکن وہاں سکیورٹی سٹاف کے رویوں کے، اپنے تجربات اور دوسروں سے سنے ہوئے تلخ واقعات کے باعث تیسری بار جانے کا سوچ کر کبھی خوشی کے بجائے دل میں ملال بھی آتا ہے۔
دنیا بھر سے مسلمان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرکے حج اور عمرے کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ وہ وہاں عبادت، عقیدت اور روحانی سکون کے لیے پہنچتے ہیں۔ ایسے میں اگر ان کے ساتھ بدسلوکی یا غیر ضروری سختی ہو تو اس کا دکھ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔
اس سال مجھے ابوظہبی کی شیخ زاید گرینڈ مسجد جانے کا بھی موقع ملا۔ وہاں خواتین کے لباس کی باقاعدہ جانچ کی جا رہی تھی، جو مسجد کے احترام کے حوالے سے قابلِ فہم ہے۔ جوڑوں کو بھی بعض آداب کی پابندی کی ہدایت تھی۔ میں نے ایک جوڑے کو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تصویر بناتے دیکھا تو گارڈ نے فوراً انہیں منع کیا اور فاصلے سے تصویر بنوانے کو کہا۔

یہاں بھی قانون اور ضابطہ تھا، مگر ضابطے کی خلاف ورزی پر تنبیہ اور دوسری طرف مبینہ طور پر موت کی سزا؟ کیا ان دونوں کے درمیان کوئی متناسب راستہ نہیں؟
مکہ اور مدینہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ سعودی عرب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ مقدس مقامات اس کی سرزمین پر ہیں، لیکن یہ اعزاز ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان وہاں محبتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ میں سرشار ہو کر جاتے ہیں، اس لیے سعودی حکومت سے توقع بھی عام حکومتوں سے کہیں زیادہ ہے۔
مقدس مقامات کا انتظام صرف اختیار نہیں، ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
اگر اس جوڑے کے بارے میں گردش کرنے والی یہ تفصیل درست ثابت ہوتی ہے کہ جرم صرف اپنی اہلیہ کی پیشانی پر محبت کا بوسہ دینا تھا، تو دنیا یہ سوال ضرور کرے گی۔
“کیا ایک بوسہ اتنا بڑا جرم تھا کہ دو انسانوں کی زندگیاں ختم کر دی جائیں؟”
میرا سوال انصاف، رحم اور انسانی وقار کا ہے۔
قانون اپنی جگہ، مسجد کی حرمت اپنی جگہ ، لیکن انسانی زندگی بھی تو اللہ ہی کی عطا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں