آخر یہاں نوجوان احتجاج کیوں نہیں کر رہے؟- سائرہ رباب

آج جب بھارت، یورپ سمیت دنیا بھر میں نوجوان ظلم، استحصال اور نظام کی ناانصافیوں کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، تو یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل مزاحمت کے بجائے ملک چھوڑنے کو ترجیح کیوں دے رہی ہے؟ کیا یہ محض معاشی بحران ہے یا اس کے پیچھے کچھ گہرے تاریخی، سیاسی اور نفسیاتی عوامل بھی کارفرما ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ یہاں کے نوجوان اپنے ہی ملک میں اپنے مستقبل کے لیے لڑنے کے بجائے اس سے نکل جانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں؟

شائد پاکستان کے ساتھ سب سے بڑا ہاتھ یہ ہوا کہ اسے اس کی تاریخی جڑوں اور تہذیبی تسلسل سے کاٹ دیا گیا۔ ہندوستان ہمیشہ سے تنوع اور تہذیبی کثرت کی سرزمین رہا ہے۔ یہاں کے دانش وروں، شاعروں، ادیبوں اور مفکروں کی تحریروں میں اس مشترک تہذیب کے حوالے ملتے ہیں، جبکہ بغاوتوں اور مزاحمتوں کی ایک طویل تاریخ بھی موجود ہے، جس سے آج بھی رہنمائی اور تحریک لی جا سکتی ہے۔ بھارت میں ہندوتوا کے خلاف مزاحمت کے لیے یہ تاریخی حوالے اہم جذباتی اور نفسیاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اسی حوالے سےپچھلے دنوں جاوید اختر صاحب کا ایک بیان گردش کر رہا تھا کہ آر ایس ایس ، مہا سبھا اور مسلم لیگ، تینوں ، تحریکِ آزادیٔ ہند کا حصہ نہیں تھے، بلکہ انگریزوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اقتدار میں اپنا حصہ حاصل کرنے کی سیاست کر رہے تھے۔ یہاں کے دو قومی نظریے اور وہاں کے ہندوتوا کو بھی نوآبادیاتی سیاست کے تاریخی تسلسل میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اگر اس خطے کو اسکے تاریخی تسلسل سے جوڑ کر دیکھا جائے تو برصغیر میں شناختیں ہمیشہ اتنی جامد اور ایک دوسرے سے متصادم نہیں تھیں۔ ایک شخص بیک وقت پنجابی، گجراتی، مراٹھی، ہندوستانی، مسلمان ، ہندو، سکھ ہو سکتا تھا۔ اس کی علاقائی زبان، اردو، ہندی اور مقامی تہذیب، سب مل کر اس کی شناخت بناتے تھے۔ آج بھی دنیا بھر میں ہمیں Indo-Muslims کے طور پر پہچانا اور لکھا جاتا ہے۔ یعنی ہماری شناخت کا ایک تاریخی اور تہذیبی تسلسل موجود ہے، جسے محض مذہبی یا قومی خانوں میں مکمل طور پر سمیٹا نہیں جا سکتا۔

پھر پاکستان کی تشکیل کس نوآبادیاتی تسلسل یا ڈھانچہ کے اندر ہوئی ، اسکو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔۔پاکستان ایک سکیورٹی ریاست اور سرد جنگ کے تناظر میں مغربی مفادات کے لیے ایک اہم اتحادی و بفر اسٹیٹ کے طور پر بھی تشکیل پایا۔ نوآبادیاتی حکمرانی کا ایک اہم حربہ لوگوں کو ان کی زمین، مقامی تاریخ اور جڑوں سے نفسیاتی طور پر الگ کرنا تھا۔ مذہب جب ایک نوآبادیاتی یا ریاستی آلے کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو وہ لوگوں کو اپنی تہذیبی شناخت سے دور کرنے کے ساتھ ایک ایسی اتھارٹی بھی قائم کرتا ہے جو ان کی مرضی اور فیصلوں پر بالادستی کا دعویٰ کرے۔ پھر اختلاف کرنے والوں کو کافر، غدار یا مجرم قرار دے کر ان کی آواز دبانا آسان ہو جاتا ہے۔ تاریخی طور پر مذہبی ادارے بھی اکثر پارلیمان کے ماتحت ہی کام کرتے ہیں ، آزادی سے نہیں۔۔

اسی تناظر میں جب زمین سے جذباتی وابستگی اور تاریخ سے رشتہ کمزور ہو جائے تو بیرونی مداخلت اور وسائل کے استحصال کے خلاف مزاحمت کا محرک بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور جب تاریخی تسلسل ٹوٹ جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل تحریک اور رہنمائی کہاں سے لے؟ پھر مزاحمت کرنے والے کرداروں کے بجائے نوآبادیاتی اقتدار کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کو، یا بیرون ملک سے آنے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔

آج دنیا بھر میں نیولبرل معاشی نظام اور دائیں بازو کی سیاست کے درمیان ایک گہرا تعلق دیکھا جا سکتا ہے۔ جب کوئی معاشی و سیاسی نظام عوام کو روزگار، سماجی تحفظ، معاشی انصاف اور فیصلوں میں اختیار دینے میں ناکام رہتا ہے تو اپنی حکمرانی کا جواز برقرار رکھنے کے لیے سلامتی اور دفاع کو مرکزی حیثیت دینے لگتا ہے۔ فرضی یا حقیقی دشمنوں کا خوف، معاشرے میں تقسیم، مذہبی و لسانی اختلافات اور سخت شناختوں کا فروغ لوگوں کو مشترک معاشی و سیاسی مسائل پر متحد ہونے سے روکتا ہے۔ یوں عوام کی توجہ وسائل کی تقسیم، استحصال اور اختیار کے سوالات سے ہٹ کر شناختی تنازعات میں الجھ جاتی ہے۔

جب کسی قوم کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آئی ہے تو اسے یہ سمجھنے میں بھی دشواری ہوتی ہے کہ اسے جانا کدھر ہے۔ شاید ہمارے نوجوانوں کی بے سمتی، بے عملی اور شناخت کا بحران بھی اسی تاریخی کٹاؤ کا ایک اہم پہلو ہے۔ انہیں وہ جذباتی وابستگی، اعتماد اور تاریخی بنیاد نہیں مل رہی جو اجتماعی عمل اور مزاحمت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں