جب کسی معاشرے کے حواس اتنے مفلوج ہو جائیں کہ وہ انصاف کے قتل پر تالیاں بجانے لگے اور انسانی جان کے زیاں کو سلاٹر ہاؤس کے اصطلاحات میں تولنے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف آئین ہی نہیں مرا، بلکہ اجتماعی ضمیر بھی اجتماعی قبر میں دفن ہو چکا ہے۔
وسیم عباس کا معصوم لاشہ ابھی مٹی کی تہوں میں ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ سوشل میڈیا کے گلی کوچوں اور پولیس کی پریس ریلیزوں میں ایک کریہہ، لرزہ خیز اور گھناؤنا لفظ گونجنے لگا: “ملزم کو فرائی کر دیا گیا!”۔ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی، وہ ایک تہذیب کے باطن کا ایکسرے ہوتی ہے۔ جب ایک ریاستی ادارہ کسی انسان کو ماورائے عدالت گولیوں سے چھلنی کرنے کے عمل کو قصابوں اور کڑاہی کے حوالے سے “فرائی کرنا” کہے، اور اس پر تعلیم یافتہ شہری واہ واہ کے ڈونگرے برسائیں، تو یہ اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ ہم ایک منظم آئینی ریاست سے نکل کر ایک خونی تماش گاہ (Colosseum) میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں مجمع خون دیکھ کر وحشیانہ
قہقہے لگاتا ہے۔
اس مبینہ “پولیس مقابلے” پر جشن منانے والے سادہ لوح شہریوں اور ریٹنگ کے بھوکے میڈیا کو یہ ادراک ہی نہیں کہ وہ جسے “فوری انصاف” سمجھ کر خوش ہو رہے ہیں، وہ دراصل جرم کے اصل سرپرستوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنانے کا ایک منظم بندوبست ہے۔ پولیس مقابلہ انصاف کا مظہر نہیں ہوتا، وہ نظام کی پردہ پوشی کا سب سے سفاک طریقہ ہے۔
وسیم عباس کے مبینہ قاتل کی سی سی ڈی کے ہاتھوں ہلاکت نے درحقیقت سچائی کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ مردہ زبانیں کبھی گواہی نہیں دیتیں۔ اب کون بتائے گا کہ اس دس بارہ سال کے معصوم بچے کو کس ایجنٹ کے ذریعے گھر کی چاردیواری میں بیگار کے لیے بیچا گیا تھا؟
اس کالے دھندے میں کس کس بیوروکریٹ، کس سیاست دان اور کس بااثر طبقے کے مفادات وابستہ تھے؟
محکمہ محنت کے کن کن انسپکٹروں نے رشوت لے کر چائلڈ لیبر کے اس گھناؤنے کاروبار پر آنکھیں بند کر رکھی تھیں؟
جب مرکزی ملزم کو گولی مار کر خاموش کر دیا گیا، تو اس کے ساتھ ہی وہ ساری کڑیاں بھی زمین میں دفن ہو گئیں جو اقتدار کے ایوانوں اور نام نہاد شرفا کے ڈرائنگ رومز تک پہنچتی تھیں۔ یہ انصاف نہیں، یہ اشرافیہ کے اپنے جرائم کو مٹانے اور ریاستی ناکامی پر فتح کا پرچم لہرانے کی ایک خونیں مشق ہے۔
ہمارے سماج کی منافقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ وسیم عباس جیسے بچوں پر اس وقت ماتم کرتا ہے جب ان کے مسخ شدہ لاشے سامنے آتے ہیں، مگر اسی بچے کو روزِ روشن میں اپنے ہی گھروں میں نوکر بنا کر رکھنے پر کسی کی پیشانی پر بل نہیں پڑتا۔ یہ وسیم عباس کون تھا؟
یہ ان لاکھوں بے چہرہ بچوں کا نمائندہ تھا جنہیں یہ نو دولتیہ اور مراعات یافتہ طبقہ اپنے بچوں کے اسکول کے بستے اٹھانے، ان کے کتے نہلانے، ان کے برتن مانجھنے اور ان کی ڈسٹنگ کرنے کے لیے چند ہزار روپوں میں خرید لیتا ہے۔
جن ججوں، وکیلوں، بیوروکریٹوں، وزرا اور این جی او ڈائریکٹروں نے اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 25-اے لکھ کر پانچ سے سولہ سال کے بچوں کو مفت تعلیم کا حق دیا تھا، انہی کے محلات اور فارم ہاؤسز کے اندر تیرہ سال کے وسیم عباس چولہا جھونکتے ہوئے مالکان کی گالیاں اور جوتے کھاتے ہیں۔
جب تک آئین کی یہ دفعات صرف لیمینیٹڈ فریموں میں بند رہ کر ایئر کنڈیشنڈ کانفرنس ہالوں کی زینت بنی رہیں گی اور اسکول کی دہلیز تک جانے کے بجائے بچے فیکٹریوں اور کوٹھیوں کے عقوبت خانوں میں سڑتے رہیں گے، تب تک کسی شہری کا یہ طعنہ سو فیصد سچ رہے گا کہ “تعلیم کی صورتِ حال اس وقت زیادہ بہتر تھی جب ریاست نے اسے بنیادی حق تسلیم نہیں کیا تھا”۔ کیونکہ تسلیم کر کے نافذ نہ کرنا، اصل میں مظلوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی اس ماورائے عدالت درندگی کا حامی کیوں بن جاتا ہے؟
وہ کیوں چاہتا ہے کہ عدالتوں کے بجائے پولیس چوکوں پر فیصلے صادر کرے؟
اس کا جواب ریاست کے عدالتی ڈھانچے کے مکمل انہدام میں چھپا ہے۔ جب ایک غریب مدعی کو انصاف حاصل کرنے کے لیے اپنی زمینیں بیچنی پڑیں، جب دہائیوں تک تاریخ پر تاریخ پڑے، جب بااثر اور پیسے والے وکیل شواہد کا حلیہ بگاڑ کر سفاک مجرموں کو ضمانتوں پر رہا کروا لیں، اور جب مظلوم کو یہ یقین ہو جائے کہ عدالت کا راستہ اسے برباد تو کر سکتا ہے مگر انصاف نہیں دے سکتا، تو مایوس عوام کا شعور بکھر کر قبائلی انتقام کی سطح پر گر جاتا ہے۔
لوگ بھول جاتے ہیں کہ جو بندوق آج ایک مبینہ مجرم کو بغیر ثبوت اور بغیر صفائی کے مارنے کے لیے اٹھائی گئی ہے، وہی بندوق کل ان کے اپنے بے گناہ بچوں کے سینے کا رخ بھی کر سکتی ہے کیونکہ ماورائے عدالت طاقت کا کوئی اخلاقی پیمانہ نہیں ہوتا؛ وہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہوتی ہے۔
ہمارا پڑوسی ملک افغانستان میں افغان طالبان اور ان کے مروجہ نافذ کردہ انصاف کی عوام میں مقبولیت وہاں پر جدیدیت لانے کے نوآبادیاتی سامراجی عالمی منصوبوں ، سرد جنگ کے دوران سی آئی اے فنڈڈ جہاد اور پھر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکی بلاک کی جنگ کا نتیجہ تھی ۔
یہ وہی تضاد ہے جس نے ہمیں خرد افروزی کی جدلیات کے اس ہولناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جدید ریاست تمام تر آئینی وعدوں اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات کے باوجود ایک منظم گینگ کی طرح کام کرنے لگتی ہے۔
ایک طرف آرٹیکل 10-اے کے تحت فیئر ٹرائل کا سنہری اصول درج ہے، اور دوسری طرف وردی پوش جلادوں کا نیٹ ورک ہے جو “فرائی” کرنے کے نعرے لگا کر سڑکوں پر انصاف کا ناٹک رچاتا ہے۔
اگر حقوق کی تحریکوں نے اڑتیس سال کی مسافت کے بعد بھی خود کو صرف بیانات، اخباری مذمتوں اور فنڈڈ پروجیکٹوں تک محدود رکھا، اور ریاستی جبر اور معاشی ناہمواری کی اصل جڑوں پر وار نہ کیا، تو ہم اس بربریت کے آگے ہمیشہ بے بس رہیں گے۔
وسیم عباس کا خون صرف ایک ظالم مالک کے ہاتھ پر نہیں ہے؛ اس خون میں وہ ہر شخص برابر کا شریک ہے جو چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے خلاف قانون بنانے سے کتراتا ہے، وہ پولیس افسر شریک ہے جس نے تفتیش کی محنت سے جان چھڑا کر بندوق کا سہارا لیا، وہ جج شریک ہے جس نے انصاف کو اتنا مہنگا کر دیا کہ لوگ سڑک چھاپ جلادوں کے گن گانے لگے، اور وہ ہر شہری شریک ہے جس نے اپنے گھر میں کسی معصوم بچے کو اس کے کھلونوں اور کتابوں سے محروم کر کے مشقت کے جہنم میں جھونک رکھا ہے۔
اگر ہمیں اس دلدل سے نکلنا ہے تو ہمیں اس بھیانک “انکاؤنٹر کلچر” اور اس کی پشت پر موجود تمام تر اشرافیائی مفادات کے خلاف ایک بے باک فکری اور قانونی محاذ کھولنا ہوگا۔
وسیم عباس کی روح ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم قاتل کو مارنے کے نام پر اصل سچائی کو دفن کرنے کے اس ریاستی فریب کو بے نقاب کریں، ورنہ کل کسی اور غریب کا بچہ کسی ڈرائنگ روم میں تشدد سے دم توڑے گا اور ریاست ایک اور فرضی مقابلے کی کہانی سنا کر اپنا دامن جھاڑ لے گی۔


