پاکستان میں تعلیم کا بحران صرف نصاب کی چند کتابوں، امتحانات کے نتائج یا سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بچہ اسکول میں داخل تو ہو رہا ہے، لیکن کیا وہ سیکھ بھی رہا ہے؟ کیا وہ اپنی کتاب پڑھ کر اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے؟ کیا وہ سوال اٹھانے، دلیل دینے، مسئلے کا حل تلاش کرنے اور اپنی زندگی میں حاصل کردہ علم استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر ان بنیادی سوالوں کے جواب تسلی بخش نہیں تو ہمیں ماننا ہوگا کہ مسئلہ ہماری تعلیمی ترجیحات، تدریسی طریقوں اور ادارہ جاتی نظام میں موجود ہے۔
دنیا کے کامیاب تعلیمی نظاموں کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کو محض معلومات یاد کرنے کا عمل نہیں سمجھا جاتا۔ جاپان نے اپنے نصاب میں مختلف ادوار کے دوران اصلاحات کیں تاکہ طلبہ میں خود سیکھنے، عملی زندگی سے علم جوڑنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھے۔ فن لینڈ نے 2014 میں اپنا قومی بنیادی نصاب منظور کیا، جس کا نفاذ 2016 سے مختلف مراحل میں شروع ہوا۔ اس میں مختلف مضامین کے درمیان ربط، باہمی تعاون، روزمرہ زندگی کی مہارتوں اور سیکھنے کی ذمہ داری کو اہمیت دی گئی۔ ایسٹونیا نے بھی ڈیجیٹل تعلیم اور بنیادی علمی مہارتوں پر توجہ دی۔ پیسا 2022 کے ریاضی کے امتحان میں ایسٹونیا نے 510 نمبر حاصل کیے، جبکہ او ای سی ڈی کا اوسط 472 تھا۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ مسلسل نصابی اصلاحات، بہتر تدریس اور تعلیمی معیار پر توجہ سے نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔
آئرلینڈ اور آسٹریلیا کی مثالیں بھی ہمارے لیے اہم ہیں، لیکن ان کی خوبیوں کو سمجھنے کے لیے صرف ان کے نصاب کا نام لینا کافی نہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ استاد کو کس طرح تیار کرتے ہیں، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو کیسے پڑھاتے ہیں اور کلاس روم میں احترام، ہمدردی اور انصاف کو کس طرح عملی شکل دیتے ہیں۔
آسٹریلیا میں تعلیم کا ایک اہم پہلو مقامی اقوام کی تاریخ اور ثقافتوں کو تسلیم کرنا ہے۔ Aboriginal اور Torres Strait Islander اقوام آسٹریلیا کی مقامی آبادیوں میں شامل ہیں۔ Torres Strait Islanders آبنائے ٹوریس کے جزائر سے تعلق رکھنے والی میلینیشیائی جڑوں کی حامل اقوام ہیں، جن کی اپنی زبانیں، روایات، شناختیں اور ثقافتی ورثہ ہے۔ ان کی تاریخ کو نصاب میں جگہ دینا صرف ماضی کے چند واقعات پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ طلبہ کو یہ سمجھانے کی کوشش بھی ہے کہ ایک معاشرے میں مختلف ثقافتوں کی موجودگی اس کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی حقیقت اور شناخت کا حصہ ہے۔
آسٹریلیا کا نظام بھی خامیوں سے پاک نہیں۔ وہاں کی مقامی آبادی کو ماضی میں تعلیمی مواقع، ثقافتی شناخت اور مساوی سلوک کے حوالے سے سنگین ناانصافیوں کا سامنا رہا ہے۔ اسی تاریخ نے وہاں تعلیمی اصلاحات، مقامی ثقافتوں کی بہتر نمائندگی اور اساتذہ کی تربیت کی ضرورت کو مزید نمایاں کیا۔ اصل سبق یہ نہیں کہ آسٹریلیا نے تمام مسائل حل کر لیے، بلکہ یہ ہے کہ ایک ملک اپنے تعلیمی نظام کی خامیوں کو تسلیم کرکے ان پر کام کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ فار ٹیچنگ اینڈ اسکول لیڈرشپ نے مقامی اقوام سے متعلق اپنی رہنمائی میں اس بات پر زور دیا کہ استاد کو صرف ان ثقافتوں کے بارے میں معلومات دینا کافی نہیں۔ اسے اپنے تعصبات پہچاننے، تدریسی رویوں کا جائزہ لینے، مقامی خاندانوں اور برادریوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور ایسا کلاس روم بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کرنی چاہیے جہاں بچوں کی شناخت کا احترام ہو۔ آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف ابورجنل اینڈ ٹوریس اسٹریٹ آئی لینڈر اسٹڈیز کے تربیتی مواد میں بھی تاریخ، زبان، ثقافتی شناخت، ممکنہ تعصبات اور تدریسی حکمت عملیوں جیسے پہلو شامل ہیں۔
یہاں ہمارے لیے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا پاکستان میں کسی استاد کو باقاعدہ طور پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ مختلف زبانوں، علاقوں، معاشرتی طبقات اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ساتھ کیسے معاملہ کرنا ہے؟ کیا اسے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کسی بچے کا کمزور تعلیمی پس منظر اس کی ذہنی صلاحیت کا حتمی پیمانہ نہیں؟ کیا اسے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ بچے کی غلطی درست کرنا اور اس کی تذلیل کرنا دو بالکل مختلف باتیں ہیں؟
آسٹریلیا میں 2004 کی ایک تحقیق نے ٹیچر ایجوکیشن فراہم کرنے والے 38 اداروں اور ان کے تربیتی پروگراموں کا جائزہ لیا تھا۔ اس میں کورسز کی ساخت، داخلے کے معیار، تدریسی مواد، عملی تربیت، ٹیکنالوجی اور منظوری کے طریقوں سمیت مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا گیا۔ یہ تحقیق اس وقت کے نظام کی تصویر پیش کرتی ہے، آج کے ہر ادارے کی نہیں۔ تاہم یہ ایک اہم اصول واضح کرتی ہے کہ اچھا استاد محض ڈگری حاصل کرکے تیار نہیں ہوتا۔ اس کے لیے معیاری تربیت، عملی تدریسی تجربہ، نگرانی اور پیشہ ورانہ معیار کی جانچ ضروری ہے۔
آئرلینڈ سے بھی یہی سبق ملتا ہے۔ وہاں اساتذہ کی ابتدائی تربیت میں شمولیت، سماجی تنوع، مساوات، خصوصی تعلیمی ضروریات اور مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے بچوں کو پڑھانے جیسے موضوعات شامل کیے جاتے ہیں۔ ڈبلن سٹی یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج کارک جیسے اداروں کے تعلیمی پروگراموں میں بھی ان پہلوؤں سے متعلق کام کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم آئرلینڈ کو بھی ایک مکمل اور بے عیب مثال سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ 2022 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے آئرلینڈ اور آسٹریا میں اساتذہ کی ابتدائی تربیت کے نصاب کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ نصاب میں ثقافتی تنوع کا ذکر موجود ہونے کے باوجود اساتذہ کو عملی طور پر تیار کرنے میں کمی رہ سکتی ہے۔ مختلف موضوعات کو ایک ہی کورس میں جمع کرنے سے بھی ہر موضوع پر گہری تربیت کی ضمانت نہیں ملتی۔
یہی فرق اصل اہمیت رکھتا ہے۔ نصاب میں ہمدردی، احترام اور مساوات لکھ دینا کافی نہیں۔ استاد کو ان اقدار کو روزمرہ تدریس میں نافذ کرنا بھی آنا چاہیے۔ اگر ایک طالب علم کی زبان مختلف ہے، اس کا گھرانہ معاشی مشکلات سے دوچار ہے یا اسے سیکھنے میں اضافی مدد درکار ہے تو استاد کا کام اسے کم تر سمجھنا نہیں، بلکہ اس کی ضرورت پہچان کر آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے۔ ہمدردی کا مطلب نظم و ضبط ختم کرنا نہیں، بلکہ سخت معیار قائم رکھتے ہوئے بچے کی عزتِ نفس محفوظ رکھنا ہے۔
ہمارے ہاں استاد کی تربیت اور طالب علم کے ساتھ اس کے رویے پر بھی سنجیدہ بحث ضروری ہے۔ بعض تعلیمی اداروں میں سمسٹر سسٹم کے دوران استاد اور طالب علم کا تعلق علم کی رہنمائی کے بجائے ذاتی پسند ناپسند سے متاثر ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ کہیں طالب علم کو استاد سے اختلاف کرنے کا خوف ہوتا ہے، کہیں سوال اٹھانے کو بدتمیزی سمجھ لیا جاتا ہے اور کہیں مارکنگ میں جانبداری یا ذاتی عناد کے الزامات لگتے ہیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر تمام اساتذہ یا جامعات کو ایک ہی نظر سے دیکھنا انصاف نہیں، لیکن ان مسائل کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔
سمسٹر سسٹم بذاتِ خود کوئی خرابی نہیں۔ اس کا مقصد مسلسل جائزہ، اسائنمنٹس، تحقیق، بروقت فیڈبیک اور استاد و طالب علم کے درمیان علمی رابطہ بہتر بنانا ہے۔ مگر اگر نمبروں کے معیار واضح نہ ہوں، شکایت کا غیر جانب دار راستہ موجود نہ ہو اور طالب علم کو منصفانہ سماعت نہ ملے تو یہی نظام دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک اچھے تعلیمی ادارے میں استاد کا احترام بھی ضروری ہے اور طالب علم کے حقوق کا تحفظ بھی۔ مارکنگ کے واضح معیار، تحریری فیڈبیک، جائزے کے شفاف طریقے، مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ اور شکایات کے غیر جانب دار نظام کے بغیر تعلیم میں انصاف کا دعویٰ ادھورا رہتا ہے۔
پاکستان کو استاد کی بھرتی کے بعد اسے تنہا چھوڑ دینے کی روش بدلنا ہوگی۔ نئے اساتذہ کے لیے تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی، کلاس روم میں عملی مشق، تدریسی مہارتوں کا جائزہ، بچوں کی نفسیات، خصوصی ضروریات، ڈیجیٹل تعلیم اور منصفانہ جانچ کے طریقوں پر مسلسل تربیت ضروری ہے۔ استاد کو بھی مناسب تنخواہ، وسائل، پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور عزت ملنی چاہیے۔ احتساب صرف استاد سے مطالبہ نہیں، بلکہ حکومت، انتظامیہ اور اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کے تعلیمی بحران کی سنگینی بنیادی تعلیمی مہارتوں کے اعدادوشمار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی مارچ 2026 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دس سال کی عمر کے تقریباً 77 فیصد بچے سادہ عبارت پڑھنے اور اسے سمجھنے کی مطلوبہ صلاحیت نہیں رکھتے۔ ورلڈ بینک کی 2024 کی لرننگ پاورٹی بریف میں بھی پاکستان کے لیے تقریباً 80 فیصد کا تخمینہ دیا گیا تھا۔ دونوں اعدادوشمار کے ادوار اور پیمائش کے طریقے مختلف ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی پیمانے کے نتائج نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم دونوں ایک سنگین حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: بچے برسوں اسکول میں گزارنے کے باوجود بنیادی مطالعے اور فہم کی مہارتیں حاصل نہیں کر پا رہے۔
یہ مسئلہ صرف کتابوں کی مشکل زبان یا نصاب کی طوالت سے پیدا نہیں ہوتا۔ ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے کی کمزور بنیاد، تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، کلاس روم میں بچوں کی تعداد، غیر حاضری، وسائل کی قلت، گھریلو حالات اور امتحان پر حد سے زیادہ توجہ جیسے عوامل بھی اس میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اگر بچہ ابتدائی جماعتوں میں پڑھنا اور سمجھنا نہیں سیکھتا تو اگلی جماعتوں میں سائنس، ریاضی، تاریخ اور دیگر مضامین اس کے لیے مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک ابتدائی کمزوری پورے تعلیمی سفر کو متاثر کرتی ہے۔
سرکاری تعلیمی اخراجات بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹ میں مختلف ادوار کے لیے تعلیم پر اخراجات کے اعدادوشمار دیے گئے، جن میں 2022-23 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 1.5 فیصد اور جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے عبوری عرصے کے لیے تقریباً 0.8 فیصد خرچ رپورٹ کیا گیا۔ ان اعدادوشمار کے ادوار مختلف ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی مکمل مالی سال کے براہِ راست تقابل کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ تعلیم کے لیے مختص اور حقیقتاً خرچ ہونے والے وسائل کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ صرف بجٹ کا اعلان کافی نہیں؛ یہ بھی جانچنا ہوگا کہ رقم اسکول، استاد، کتاب، تربیت اور بچے کی سیکھنے کی صلاحیت تک کتنی پہنچتی ہے۔
سندھ میں سرکاری ملازمین کی غیر حاضری اور اسکولوں کے انتظامی مسائل اس بحران کی ایک واضح مثال ہیں۔ 17 جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے محکمۂ اسکول ایجوکیشن کے دس ہزار سے زیادہ ایسے ملازمین کے خلاف برطرفی کی کارروائی کا فیصلہ کیا جنہیں طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر یا فرائض ادا نہ کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔ اس فہرست میں صرف اساتذہ نہیں بلکہ پرائمری اور جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز کے علاوہ نائب قاصد، چوکیدار، مالی اور لیبارٹری اٹینڈنٹس جیسے ملازمین بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں اگست سے کارروائی شروع کرنے کا منصوبہ بتایا گیا تھا۔ اس لیے اس اعلان کو تمام ملازمین کی برطرفی مکمل ہونے کا ثبوت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اسی طرح 22 ستمبر 2026 کو سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ کے حوالے سے رپورٹ ہوا کہ حالیہ انکوائری میں تقریباً چھ ہزار اساتذہ غیر حاضر قرار پائے اور متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس بیان کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ انکوائری میں نام آنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کا جرم حتمی طور پر ثابت ہو چکا ہے۔ منصفانہ کارروائی میں شواہد، وضاحت اور اپیل کا حق بھی ضروری ہیں۔ لیکن اگر سرکاری اسکولوں میں استاد کی مسلسل غیر حاضری ثابت ہو تو سب سے بڑا نقصان اس بچے کا ہوتا ہے جس کے پاس تعلیم کے لیے کوئی دوسرا قابلِ رسائی راستہ نہیں۔
سندھ میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ اہلیت کا سوال بھی اہم ہے۔ جنوری 2024 میں ہونے والے پہلے تدریسی لائسنس ٹیسٹ میں تقریباً چار ہزار امیدوار شریک ہوئے اور 646 کامیاب قرار پائے۔ سرکاری ملازمین کے گروپ میں 3,023 امیدواروں میں سے 445 کامیاب ہوئے، یعنی تقریباً 14.7 فیصد۔ یہ اعدادوشمار ٹیسٹ دینے والے امیدواروں سے متعلق ہیں، صوبے کے تمام اساتذہ کی صلاحیت کا حتمی فیصلہ نہیں۔ پھر بھی یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ بھرتی، تربیت، پیشہ ورانہ معیار اور امتحان کے درمیان کتنا مضبوط تعلق موجود ہے۔ اگر استاد کو خود مضمون سمجھنے، بچوں کی رہنمائی کرنے اور تدریسی طریقے اختیار کرنے میں دشواری ہو تو صرف کتاب تبدیل کرنے سے نتائج نہیں بدلیں گے۔
پنجاب میں بھی تعلیمی نتائج کے حوالے سے تشویش ناک صورت حال سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2026 میں وزیر تعلیم کی جانب سے تقریباً 2,200 ایسے اسکولوں کی نشان دہی رپورٹ ہوئی جہاں نویں جماعت کے نتائج 20 فیصد یا اس سے کم تھے اور کارروائی کا انتباہ دیا گیا۔ یہ اعدادوشمار توجہ طلب ہیں، لیکن کم نتائج کو خود بخود ہر استاد کی نااہلی کا ثبوت بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بچوں کی کمزور ابتدائی تعلیم، وسائل کی قلت، غیر حاضری، غربت اور مقامی حالات نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ درست راستہ یہ ہے کہ ہر اسکول کی صورت حال الگ جانچی جائے، خامیوں کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور جہاں غفلت ثابت ہو وہاں شفاف احتساب کیا جائے۔
جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں تعلیمی مسائل کی نوعیت مزید پیچیدہ ہے۔ اکتوبر 2024 کی ایک رپورٹ میں اس خطے کے اسکولوں کے لیے اساتذہ کی کمی، محدود وسائل اور بنیادی سہولتوں کے مسائل بیان کیے گئے تھے۔ بعض جگہ ایک استاد کو متعدد جماعتوں کی ذمہ داری سنبھالنا پڑتی ہے۔ ایسے ماحول میں صرف استاد کو قصوروار قرار دینا مسئلے کو آسان بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ اگر ایک ہی استاد مختلف جماعتوں کے بچوں کو بیک وقت پڑھا رہا ہو، عمارت یا تدریسی مواد ناکافی ہو اور نگرانی کا نظام کمزور ہو تو تعلیم کا معیار متاثر ہونا فطری ہے۔ دوسری طرف وسائل کی کمی کسی استاد کی غیر حاضری یا ذمہ داری سے فرار کا جواز بھی نہیں بن سکتی۔ ریاست کو سہولتیں دینی ہیں اور متعلقہ اہلکاروں کو اپنا فرض ادا کرنا ہے۔
اس پورے بحران میں نصاب کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔رٹہ سسٹم سے جان چھڑوانی ہوگی اور اصل تربیت کرنا ہوگی ۔نصاب وہ بنیاد ہے جو طے کرتی ہے کہ بچے کو کیا سیکھنا چاہیے، لیکن صرف نصاب ہی فیصلہ نہیں کرتا کہ بچہ حقیقت میں کیا سیکھے گا۔ کتاب اچھی ہو مگر استاد اسے سمجھانے کی تربیت نہ رکھتا ہو تو مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔ استاد محنتی ہو لیکن امتحان صرف رٹے ہوئے جواب کو انعام دے تو اس کی تدریس بھی محدود ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جدید نصاب، تربیت یافتہ استاد اور معیاری امتحان موجود ہوں مگر اسکول میں بنیادی سہولتیں نہ ہوں تو بہت سے بچے پیچھے رہ جائیں گے۔
پاکستان کا نصاب اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس میں سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ مقام نہ دیا جائے جس کی ہماری دینی، تہذیبی اور قومی زندگی متقاضی ہے۔ ہمارے لیے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایمان کی روشنی، محبت کا مرکز اور زندگی گزارنے کا روشن ترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہمیں عدل، رحم، امانت، دیانت، عفو و درگزر، حقوق العباد اور انسانیت سے محبت کا درس دیتی ہے۔ نئی نسل کو اس عظیم اسوۂ حسنہ سے اس انداز میں روشناس کرانا ضروری ہے کہ ان کے دلوں میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پروان چڑھے اور آپ کی تعلیمات ان کی شخصیت، اخلاق اور معاملات میں نمایاں ہوں۔
ہمیں اپنے بچوں کو ان اسلامی ہیروز سے بھی متعارف کرانا چاہیے جنہوں نے علم، تحقیق، طب، ریاضی، فلسفے، عدل اور خدمتِ خلق کے میدانوں میں تاریخ رقم کی۔ اسلامی تہذیب کی علمی روایت اس بات کی گواہ ہے کہ ایمان، علم اور غوروفکر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ہماری نئی نسل کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے علم کی جستجو کو اپنی تہذیبی میراث کا حصہ بنایا اور انسانی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس تاریخ سے واقفیت بچوں میں اپنی شناخت کا شعور، اپنے اسلاف کے علمی کارناموں سے آگاہی اور مستقبل میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کر سکتی ہے۔
جدید تعلیم کے تقاضے پورے کرنا بھی اسی سفر کا حصہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نوجوان قرآن و سنت کی روشنی میں اخلاق اور ذمہ داری کا شعور حاصل کرے، سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور کردار کی روشنی پائے، سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرے اور اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرے۔ ہماری تعلیمی پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو دینی شناخت پر اعتماد، اسلامی تاریخ سے وابستگی اور جدید دنیا کے علمی تقاضوں کو ایک ساتھ لے کر چلے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جس کے دل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آباد ہوں، کردار اخلاقِ نبوی ﷺ سے روشن ہو اور ذہن علم و تحقیق کے نئے افق دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
نصاب میں ادب، تاریخ اور جدید علوم کے ساتھ موجودہ دنیا کے اہم موضوعات کو بھی مناسب انداز میں شامل کرنا چاہیے۔ ڈیجیٹل خواندگی، مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال، معلومات کی تصدیق، آن لائن اخلاقیات، ماحولیاتی مسائل، شہری ذمہ داری اور تحقیق کی بنیادی مہارتیں اب محض اضافی موضوعات نہیں رہیں۔ بچوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملنا چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے، معلومات کی صداقت کیسے جانچی جائے اور اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کی عزت کیسے برقرار رکھی جائے۔ دینی شناخت، جدید علم اور اخلاقی ذمہ داری ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک متوازن تعلیمی نظام میں ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔
چین کا تعلیمی نظام بھی اس بحث میں ایک اہم مثال ہے، مگر اسے نہ مکمل ناکام قرار دینا درست ہے اور نہ پاکستان کے لیے ہر پہلو سے مثالی سمجھنا چاہیے۔ چین نے سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن وہاں بھی سخت مقابلے، امتحانی دباؤ اور رٹے پر انحصار کے بارے میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ گاؤکاؤ کا امتحان لاکھوں طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا فیصلہ کن مرحلہ بن جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض خاندانوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور طلبہ کی زندگی امتحانی کارکردگی کے گرد محدود ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
چین نے ان مسائل کو نظر انداز نہیں کیا۔ 2014 سے امتحانی اور داخلہ نظام میں مختلف اصلاحات کی گئیں اور 2021 میں ڈبل ریڈکشن پالیسی کے ذریعے ہوم ورک اور نجی ٹیوشن کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اصلاحات کا اعلان اور ان کے عملی نتائج دو الگ چیزیں ہیں۔ چین میں بھی علاقوں، اسکولوں اور معاشرتی طبقات کے درمیان مواقع کا فرق موجود ہے۔ پاکستان کے لیے سبق یہ ہے کہ کسی ملک کی کامیابی کا ایک پہلو دیکھ کر اس کے پورے نظام کو نقل نہ کیا جائے۔ ہمیں اس کے تحقیقی اور سائنسی کام سے سیکھنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی امتحانی دباؤ اور عدم مساوات جیسے مسائل سے بھی سبق لینا چاہیے۔
میڈیکل تعلیم کے حوالے سے بیرونِ ملک ڈگری حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی صورت حال بھی سنجیدہ غور چاہتی ہے۔ دسمبر 2025 کے نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن، یعنی این آر ای، کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 7,012 امیدواروں میں سے 1,473 کامیاب ہوئے، جو تقریباً 21 فیصد بنتے ہیں۔ چین سے تعلیم حاصل کرنے والے امتحان میں شریک امیدواروں میں 2,154 میں سے 333 کامیاب ہوئے، یعنی تقریباً 15.5 فیصد۔ ازبکستان سے تعلق رکھنے والے گروپ میں 116 میں سے 35 امیدوار کامیاب ہوئے، جو تقریباً 30.2 فیصد ہے۔
ان اعدادوشمار کو احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے۔ یہ متعلقہ امتحان میں شریک مخصوص امیدواروں کے نتائج ہیں، چین یا ازبکستان کی ہر میڈیکل یونیورسٹی، وہاں سے فارغ التحصیل ہر ڈاکٹر یا ان ممالک کے پورے طبی نظام کے معیار کا فیصلہ نہیں۔ امیدواروں کی تیاری، یونیورسٹیوں کے معیار، کلینیکل تجربے اور امتحانی تقاضوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود نتائج یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو پاکستان میں مریضوں کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے مطلوبہ علمی اور عملی معیار پر کیسے پرکھا جاتا ہے۔ متعلقہ ضوابط کے تحت این آر ای کا مقصد بھی غیر ملکی اداروں سے میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے اہل امیدواروں کی قابلیت جانچنا ہے۔
مریض کی زندگی کسی تعلیمی ادارے کی شہرت یا ڈگری کے کاغذ سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو امتحان، رجسٹریشن اور معیار کے تقاضوں پر شفاف انداز میں عمل کرنا چاہیے۔ اگر کوئی امیدوار مطلوبہ معیار حاصل نہیں کرتا تو اسے مزید تربیت اور امتحان کا موقع ملنا چاہیے، لیکن صرف ڈگری کی بنیاد پر مریضوں کی ذمہ داری سونپ دینا بھی درست نہیں۔ اسی اصول کا اطلاق ملک کے اندر میڈیکل تعلیم پر بھی ہونا چاہیے۔ سوال یہ نہیں کہ ڈگری کس ملک سے لی گئی، بلکہ یہ ہے کہ ڈاکٹر کے پاس علم، عملی مہارت اور مریض کی حفاظت کے لیے ضروری قابلیت موجود ہے یا نہیں۔
پاکستان میں اصلاحات کے لیے پہلا قدم بنیادی تعلیم کو ترجیح دینا ہونا چاہیے۔ ہر بچے کے لیے ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں حاصل کرنا یقینی بنایا جائے۔ اسکولوں میں بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت کو باقاعدگی سے جانچا جائے اور نتائج صرف امتحانی نمبروں تک محدود نہ ہوں۔ والدین کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بچہ کس جماعت میں ہے اور حقیقتاً کیا پڑھ سکتا ہے۔ اگر کسی علاقے کے بچوں کی بڑی تعداد بنیادی عبارت نہیں سمجھ پا رہی تو اس کی ذمہ داری صرف اگلی جماعت کے استاد پر ڈالنے کے بجائے ابتدائی تدریس، تربیت اور انتظامی نظام کا جائزہ لیا جائے۔
دوسرا قدم استاد کی تربیت کو مرکزی اہمیت دینا ہے۔ بھرتی کے وقت مضمون کے علم کے ساتھ تدریسی صلاحیت کو بھی جانچا جائے۔ نئے استاد کو عملی تربیت، تجربہ کار استاد کی رہنمائی اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع دیے جائیں۔ تربیت میں بچوں کی نفسیات، ثقافتی تنوع، خصوصی ضروریات، ہمدردانہ نظم و ضبط، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر توجہ ہونی چاہیے۔ استاد کو صرف احکامات دینے والا ملازم نہیں، بلکہ تعلیمی نظام کا بنیادی ستون سمجھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ غیر حاضری، غفلت اور پیشہ ورانہ بدعنوانی کے خلاف شفاف احتساب بھی ضروری ہے۔
تیسرا قدم امتحانی نظام کی اصلاح ہے۔ سوالات میں فہم، تجزیے، دلیل، عملی اطلاق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو مناسب جگہ ملنی چاہیے۔ بنیادی معلومات کی اہمیت اپنی جگہ ہے، مگر بچے کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جو کچھ سیکھ رہا ہے، اسے حقیقی زندگی میں کیسے استعمال کرے۔ اس کے ساتھ دینی اور اخلاقی تعلیم کو بھی اس کی زندگی سے جوڑا جائے تاکہ علم کے ساتھ ذمہ داری، دیانت اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی پروان چڑھے۔
چوتھا قدم اعدادوشمار اور جواب دہی میں شفافیت ہے۔ ہر ضلع اور اسکول کی صورت حال کے مطابق معلومات دستیاب ہوں۔ اساتذہ کی خالی آسامیوں، غیر حاضری، بچوں کے نتائج، بنیادی سہولتوں، تربیت اور بجٹ کے استعمال کو باقاعدگی سے جانچا جائے۔ جہاں استاد محنت کر رہا ہو مگر وسائل ناکافی ہوں وہاں مدد فراہم کی جائے۔ جہاں انتظامیہ کی غفلت ہو وہاں ذمہ داری طے کی جائے۔ اور جہاں کسی ملازم کی مسلسل غیر حاضری یا بدعنوانی ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ایک ہی فیصلے سے ہر اسکول کی مختلف مشکلات حل نہیں ہوں گی۔
سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم محض حکومت، استاد یا والدین میں سے کسی ایک کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ایک مربوط نظام ہے جس میں نصاب، تربیت، امتحان، وسائل، انتظامیہ اور گھر کا ماحول ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کسی ایک حصے کو تبدیل کرکے مکمل کامیابی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ہمیں دوسرے ملکوں کی اچھی مثالوں سے سیکھنا چاہیے، لیکن ان کی پالیسیوں کو اپنے حالات کے مطابق سمجھ کر نافذ کرنا ہوگا۔ آسٹریلیا سے ثقافتی احترام اور استاد کی تیاری، آئرلینڈ سے شمولیت اور تنوع پر توجہ، فن لینڈ سے مربوط تعلیم اور ایسٹونیا سے بنیادی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے حوالے سے سبق لیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اپنی دینی شناخت، سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلامی علمی ورثے کو تعلیمی مستقبل کا بنیادی حصہ بنانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
پاکستان کا مستقبل صرف اس بات سے محفوظ نہیں ہوگا کہ کتنے بچے اسکول میں داخ


