جب تیز ہوا سے نقاب لہرایا تو روز روشن کی طرح درخشاں چہرے کی جھلک دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ ڈورین پپلوس (یونانی لباس) کے لمبے چاک سے جھانکتا گل رنگ بدن اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہ تینوں دلہنوں میں سب سے چھوٹی تھی؛ صرف چودہ برس کی۔ گرچہ یونان کے دیگرعلاقوں میں کم سنی میں شادیاں عام تھیں، لیکن یہ سپارٹا کے رواج کے بالکل خلاف تھا۔ سپارٹا میں تو مضبوط اور صحت مند اولاد کی غرض سے صرف بالغ قوی و توانا عورتوں کی شادی کی جاتی تھی۔
اپنی کم عمری کے باوجود لیڈا نے کشتی کے مقابلہ میں جنگلی زیتون کا وہ تاج جیت رکھا تھا جو تاج شاہی سے کہیں زیادہ پروقار تھا۔ نامور پہلوان اس تاج کی تمنا کرتے تھے۔ اتنی طاقتور خاتون ہی بہترین اور توانا بچوں کو جنم دے سکتی تھی، اسی لیے جنرل ایجسن نے اسے اپنے سب سے بہادر جوان کاسٹور کے لیے منتخب کیا تھا۔
دوپہر کی تپتی اور بے رحم دھوپ تلے اسپارٹا کے جنگجو صف بستہ کھڑے تھے۔ احاطہ پتھر جسموں کے پسینے سے بھیگے آہنی لباس کی باس سے مہک رہا تھا۔ان کی تلواریں نیام میں اور تیز دھار نیزے زمین کے ساتھ ٹکائے گئے تھے۔ اب مشق کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
جنرل ایجسن کی زرہ دوپہر کی روشنی میں کندن کی طرح چمک رہی تھی۔ کلغی دار خود اس کی بغل میں دبا ہوا تھا۔ اس نے پُرامید اور چبھتی نگاہوں سے تینوں جوانوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد اس کی نظریں پلٹ کر عقب میں کھڑی ان دلہنوں پر پڑیں۔ سرخ و سنہری لبادوں میں ملبوس سر اٹھائے یہ سپارٹا کی دلکش دلہنیں تھیں جن کے سویم ور کا فیصلہ خاندان یا محبت نے نہیں بلکہ سپارٹا کے آہنی نظام نے کیا تھا۔
کاسٹور کی نبض میں ایک عجیب سی بے چینی دوڑ رہی تھی جسے وہ بیان کرنے سے قاصر تھا۔ اس نے بغیر کسی خوف کے جنگوں کا سامنا کیا تھا، پھر بھی آج کے دن کسی بات نے اسے مضطرب کر دیا تھا۔
’’ایک جنگجو محبت کے لیے شادی نہیں کرتا،‘‘ ایجسن کی آواز یوں فضا میں بلند ہوئی جیسے میدانِ جنگ میں زرہ پر کسی تیز دھار تلوار کا کاری وار پڑا ہو۔ ’’وہ اس بندھن میں بھی ایسے ہی قدم رکھتا ہے جیسے کوئی آہن گر دشمن کے سینے کو چیرنے کے لیے نئی شمشیر گھڑ رہا ہو!‘‘
یہ الفاظ کاسٹور کے کانوں میں گونج اٹھے، ایک جانا پہچانا سبق لیکن آج یہ الفاظ کچھ مختلف محسوس ہو رہے تھے۔
ایجسن ان کے سامنے چہل قدمی کرنے لگا، اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔
“اسپارٹا نے تمہارے لیے ویسی ہی عورتوں کا انتخاب کیا ہے جیسے اس نے تمہیں ڈھالا۔ میرے پیچھے کھڑی یہ خواتین نازک ہیں، نہ نکھٹو۔
ان کی پرورش نظم و ضبط اور طاقت کے ماحول میں ہوئی ہے۔ وہ طاقتور اولاد پیدا کریں گی۔‘‘ کاسٹور کو اپنے پاس بلا کر کہنے لگا،
’’کم سن طاقتور دلہن تمہارے لیے چنی گئی ہے۔ مجھے تم دونوں سے ہر نئی جنگ کے بعد ایک بچہ چاہیے جو میرے ان دو بیٹوں جیسا بہادر ہو جنہوں نے سپارٹا کی حفاظت کے لیے دیوانہ وار لڑتے اپنی جانیں قربان کر دیں۔‘‘
اپنے شہید بیٹوں کا ذکر کرتے اس کا سر فخر سے مزید بلند ہو گیا۔
وہ مڑا اور صف بستہ جوانوں کی طرف منہ کر کے پکارا،
’’اسپارٹا کے مردو! میری بات غور سے سنو۔ سپارٹا کے قوانین کے خالق، قوم کے محسن لکرگس lycurgus کا فرمان ہے، سب سے مستحکم شہر وہ ہے جس کی فصیلیں جوانوں کی ہوں، نہ کہ اینٹوں کی.‘‘
مجمع میں ایک ہلکی سی سرگوشی دوڑ گئی۔ کاسٹور بالکل ساکت اور بے حس و حرکت کھڑا رہا۔
جنرل نقاب پوش خواتین کی طرف مڑا، اس کی آواز غیر متزلزل تھی: “تم اپنا فرض پورا کرو گی۔ تم اسپارٹا کو بیٹے دو گی۔”
زمین پر ڈھالوں کے زور سے مارنے کی تیز آواز صحن میں گونج اٹھی۔
ایجسن کے اشارے پر دلہنوں نے نقاب اٹھا دیئے۔ لیڈا کی سرخ و سپید رنگت مہر تاباں کو شرما رہی تھی۔
کاسٹور کی سانس حلق میں اٹک کر رہ گئی۔
’’بہادر عورتو! تم بھی سن لو، تم ان سے لو مت لگانا۔ اگر تم نے خاکنائے کورنتھ کی بجائے خود کو بچوں اور ان مردوں کی محبت کے جال میں الجھا لیا تو تم غداری کرو گی۔‘‘
تینوں لڑکیوں نے اپنے پاؤں درخت کی جڑوں کی طرح زمین میں پیوست کر لیے۔
’’تمہارے بچے صرف سات سال تک ماؤں کے پاس رہیں گے اس کے بعد انہیں بیرکوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔‘‘ اس نے مڑ کر دلہنوں کی طرف دیکھا۔ ’’یہاں ٹسوے بہانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمیں طاقتور اور بہادر جنگجو چاہیے۔‘‘
کاسٹور کے جبڑے بھینچ گئے۔ حالانکہ وہ یہ بات ہمیشہ سے جانتا تھا۔
تینوں جوان آگے بڑھے اور اپنی دلہنوں کے پاس کھڑے ہو گئے۔
اس کے سامنے لیڈا کھڑی تھی، جس کی سیاہ آنکھیں بحیرہ ایجیئن پر ڈھلتی رات کی مانند گہری تھیں۔ نظم و ضبط کی ڈھلی ایک اسپارٹن عورت، جس کی نگاہوں پر ان سرد باتوں کا کوئی اثر نہ تھا۔ ان میں طاقت تھی، اور ساتھ ہی ایک عجیب سی گرمجوشی بھی، جیسے کوئی چنگاری بھڑک اٹھی ہو۔
سپارٹا میں پردہ تو دور کی بات ہے لڑکیاں کھیل کود میں کپڑے، لنگوٹ بھی نہیں پہنتی تھیں۔ سپارٹا کے مردوں کو عورت کی پہچان تھی۔ اس کی بیوی۔ لیڈا! دنیا کی حسین ترین عورت تھی۔ اسے دیکھ کر کاسٹور کا دل ایک پل کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔
سپارٹا کی عورتیں بھی مرد کو خوب پہچانتی تھیں۔ ایکلز کا باپ پیلیس کہا کرتا تھا بچپن سے جوانی تک لڑکوں سے برہنہ تن کشتی لڑنے والی لڑکیاں مردانگی کی ہر صنف سے واقف ہوتی ہیں۔ لیڈا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ سب سے انوکھا تھا، حسن، طاقت اور مردانہ کشش کے اسی امتزاج کا پیکر جس کی وہ آرزومند تھی۔
لیڈا نے اپنا سر ذرا سا جھکا کر اسے سلام کیا۔
کاسٹور کو احساس ہوا کہ اس کی مٹھیاں پہلو میں بھینچ چکی تھیں۔ اس نے مشکل سے انہیں ڈھیلا کیا۔
وہ نکاح کے رسمی الفاظ ادا کرنے لگے تو کاسٹور کو اپنی آواز اجنبی لگی۔
تقریب ختم ہوئی۔ جنگجو مڑے، ایجسن نے انہیں رخصت کیا۔ کاسٹور اور دوسرے دلہے ان قطاروں کے ساتھ چل پڑا۔ جیسے جیسے وہ دور جا رہا تھا، وہ محسوس کر سکتا تھا، اس کا وجود کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھے، صرف ایک بار۔
لیکن ایک اسپارٹن کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔
وہ بیرکوں کی طرف بڑھ گیا۔
کاسٹور نے وہی کیا جس کا حکم تھی، جس کا تقاضا تھا۔
ریاست کے مقرر کردہ اصولوں کے تحت وہ مخصوص راتیں تھیں جب وہ اس کے پاس جاتا۔ یہ محبت تھی اور نہ ہی قربت کی پیاس، بس فرض تھا۔ اسپارٹا نے اسے صرف ایک مقصد کے لیے بیوی دی تھی – جنگجو اولاد پیدا کرنا۔ جب طے شدہ وقت بیت جاتا، خاموشی سے اپنا لباس پہنتا اور طلوع سحر سے پہلے واپس اپنی بیرک میں پہنچ جاتا۔
شروع میں وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے واپس چلا جاتا رہا۔
لیکن پھر… کچھ بدل گیا۔ اب ان کے متصل جسموں پر ایک خاموش سکته طاری ہو جاتا اور ٹھنڈے جسم سانس لینے سے بھی کتراتے۔
کاسٹور نے یہ پہلی بار تب محسوس کیا جب اس کی انگلیاں بہت دیر تک اس کی جلد میں پیوست رہیں۔ کروٹ بدل کر اپنا لبادہ سنبھالنے کے بجائے، وہ پہلو میں لیٹا اس کے سانسوں کے زیر و بم کو دیکھتا رہا۔
لیڈا اسپارٹن تھی، اس کا دل ہی پتھر نہ تھا وہ خود بھی سنگ و خشت سے اٹی وہ زمین تھی جس میں محبت کا ہل نہیں چلایا جاسکتا تھا۔
وہ فضول باتیں نہیں کرتی تھی، نہ ہی اس کے جانے پر اسے روکتی، ہاں صرف ایک بار اس کے الگ ہونے سے پہلے اس کی انگلیوں نے کاسٹور کی کلائی کو یوں چھوا جیسے کچھ کہنے والی ہو مگر اس کے خشک ہونٹوں پر مکمل خاموشی چھائی رہی۔
پھر ایک رات، اس نے پہل کی۔
یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ محض ایک ہلکی سی سرگوشی۔ کمرے کے بوجھل سناٹے میں تیرتی ہوئی ایک دھیمی سی آواز، جو اس کے وجود سے جڑی تھی، یا شاید اس کی گہری اور مسحور کن آنکھوں میں اترتی ہوئی چاندنی کے حسن کا اعتراف تھی۔
اور پھر ایک شب… وہ جانے انجانے میں وہاں کچھ ایسا چھوڑ گیا، جس کا تصور بھی اس کے وہم و گمان میں نہ تھا۔
کپڑے کا ایک ٹکڑا اس کی اپنی پوشاک کا ایک پھٹا ہوا حصہ۔
اسے اپنی غلطی کا احساس اگلی رات تک نہ ہو۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو لیڈا نے وہ کپڑا اپنی انگلیوں میں تھام رکھا تھا۔
“یہ تم نے لکھا ہے؟” اس کی آواز دھیمی تھی، لیکن اس کی نگاہ کی چبھن تلوار کی نوک سے بھی زیادہ تھی۔ اس نے لیڈا کے ہاتھ سے وہ کپڑا لیا، اپنے ہی الفاظ کو گھورنے لگا؛ اس غداری کو جو روشنائی سے لکھی گئی تھی۔
’’انسانوں اور درندوں کا قلع قمع کرنے والا یہ سپاہی آج تیرے سامنے بے بس ہے۔‘‘
اس نے لیڈا کی طرف دیکھ کر کپڑا اپنے سینے سے لگا لیا۔
کپڑا اس کی پوشاک کا تھا لیکن اس میں لیڈا کے جسم کی آگ بسی تھی۔
لیڈا نے اس کو غور سے دیکھا۔
’’تمہیں اس طرح سوچنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا،‘‘ وہ سرگوشی کے انداز میں بولی، لیکن اس کے لہجے میں نرمی تھی ریشم سا احساس تھا۔
’’میں بہت سی باتوں کے لیے نہیں بنا تھا،‘‘ اس نے اعتراف کیا۔
کچھ مزید کہنے کے لیے سوچا لیکن دل کی بے ترتیب دھڑکن نے اسے بے بس کر دیا۔
لیڈا کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے سے وہ ایک لمحے کا احساس رخصت ہو چکا تھا۔
مہینے خاموشی سے گزرتے گئے۔
ایک رات، لیڈا نے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے پیٹ پر رکھ دیا۔
بچہ۔
اس کا اپنا بچہ۔
اس رات وہ میدان کارزار میں کشتوں کے پشتے لگاتا رہا۔ دشمن کی تلواریں اس کے وجود سے ٹکراتیں اور کند ہو جاتیں۔ کتنی ہی زرہ سے ٹکرا کے ریزہ ریزہ ہو گئیں مگر اس کے تن پر ایک خراش بھی نہ آئی۔ اس نے آہنی زرہ کے اندر ہاتھ ڈالا تو دیکھا کہ سینہ چاک تھا اوردھڑکتے دل سے خون کی ایک گرم ندی رواں تھی۔
اس رات اسے زندگی سے پیار ہوگیا۔
وہ اس دن کے بارے میں سوچنے لگا جب محض سات سال کی عمر میں ماں سے الگ کر کے اسے ’اگوجی‘ (تربیت) کے لیے بھیجا گیا۔ اسے یاد تھا کہ اس کی ماں نے آنسو نہیں بہائے تھے۔
اسپارٹا کا یہی دستور تھا۔
اس کے بعد جب بھی اس نے لیڈا کو دیکھا— اسے اپنے سامنے کم سن عورت نہیں ایک بہادر طاقتور ماں نظر آئی۔ جس کی مچلتی متحرک آنکھوں میں آگ تھی، جوش و جنوں تھا اور مکمل خاموشی بھی۔
جب یہ بات سامنے آ گئی کہ وہ ماں بننے والی ہے، تو اسے لیڈا کے پاس جانے سے منع کر دیا گیا۔
اس کا فرض پورا ہو چکا تھا۔ اس کا بیج بویا جا چکا تھا۔ توقع کی جاتی تھی کہ وہ اسے اپنے ذہن سے مٹا دے اور واپس جنگ پر جانے کی تیاری کرے، بالکل ویسے ہی جیسے اس کے باپ نے کیا تھا۔
اس نے کوشش کی۔ وہ ناکام رہا۔
تربیت کا میدان اب اس کے ذہن کو سکون نہیں دیتا تھا۔ بیرکوں کی سخت دیواریں، تنگ اور بھاری ماحول، لوہے اور پسینے کی بو۔ ہر طرف مرد ہی مرد، امرد پرست بانکے شہسوار: سپارٹا کے آزاد شہریوں کا یہی دستور تھا۔ اس مردانہ مجلس میں سختی ہی سختی تھی، شور ہی شور تھا۔ ادھر لیڈا کے کمرے کے سکوت میں وہ کچھ اور ہی محسوس کرتا تھا۔ وہ ساری ساری رات آگ کو گھورتا رہتا، لیڈا کی آواز اسے سونے نہ دیتی۔ وہ سوتے میں بھی اس کا نام دہراتا رہتا۔
چنانچہ اس نے قوانین توڑ دیے۔
پہلی بار جب وہ چھپ کر نکلا، تو ایک لمحے کے لیے لگا کہ یہ حماقت ہے۔
لیڈا اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ چودہ سال کی عمر اور سپارٹا کے قوانین، کچی عمر نے بہکا دیا۔ یوں اس نے چھپ کر ملنا سیکھ لیا۔ اس نے بیرکوں سے شہر تک کا ایک خفیہ راستہ دریافت کر لیا۔ زیتون کے باغات اور رات کے اندھیرے میں چھپا ہوا ایک بوسیدہ پتھریلا راستہ۔ وہ پہرے داروں سے بچتا ہوا اپنے ہی شہر میں ایک سائے کی طرح حرکت کرتا۔
یونہی سال گذرتے رہے۔
اس کے بعد لیڈا نے مزید دو بچوں کو جنم دیا۔ وہ تن درست اور بهرپور صحت کے حامل بچوں کی ماں بنتی تھی، اسی لیے ان کی ملاقات پر پابندیاں بھی نسبتاً کم رہتی تھیں۔
پابندیوں کے ایام میں بھی کاسٹور رات کی تاریکی کا سہارا لے کر اکثر اس تک پہنچ جاتا۔ اب لیڈا سمجھدار ہو چکی تھی۔ سپارٹا کے رسم و رواج کو اچھی طرح جان چکی تھی۔ لیڈا نے اسے بارہا تنبیہ کی، سختی سے روکا، بلکہ صاف الفاظ میں اس فعل کو ناقابلِ قبول قرار دیا، لیکن کاسٹور نے کسی ممانعت کی پروا نہ کی۔ وہ مسلسل ضابطوں کی خلاف ورزی کرتا رہا۔
بچوں کے ساتھ اس کی وابستگی بھی وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔
ایک رات وہ بہت دیر تک ٹھہرا رہا۔
صبح کی پہلی کرنیں افق پر نمودار ہو چکی تھیں۔ رات سرگوشیوں اور دھیمے قہقہوں میں کھو گئی تھی۔ لیڈا اس کے پہلو میں سوئی تھی۔ اس کے سانسوں کی گرم ہوا کاسٹور کی جلد کو چھو رہی تھی۔
بیرکوں میں جلد ہی ہلچل مچنے والی تھی۔ جنگجو بیدار ہونے والے تھے۔ اگر وہ صبح کے بگل سے پہلے واپس نہ پہنچا تو کوئی نہ کوئی دیکھ لے گا۔
کاسٹور جھٹکے سے اٹھا، اپنا لبادہ اوڑھا، لیڈا کے ماتھے پر جلدی سے بوسہ ثبت کیا اور باہر نکل گیا۔
وہ تیزی سے بھاگا، اس کا دل پسلیوں سے ٹکرا رہا تھا۔ پتھریلے راستے دوڑ کر پار کیے۔ بیرک کی دیوار سامنے آئی تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اور چھلانگ لگا کر پار اتر گیا۔
صبح کی دھیمی روشنی میں، ڈیمیٹریئس نے اسے دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھ لیا۔
وہ خاموشی سے کاسٹور کو دیوار کے سائے میں بیرکوں میں غائب ہوتے دیکھتا رہا۔
مسکراتا ہوا اس کا چہرہ نئے تانے بن رہا تھا۔
کچھ دیر بعد تربیت کا میدان کانسی کے ہتھیاروں کے ٹکرانے کے شور اور نبرد آزما جنگجوؤں کی ہنکار سے گونج رہا تھا۔
آج کا دن دوسرے دنوں جیسا نہیں تھا۔
شاہ لیونیڈاس خود موجود تھے۔
وہ بلند چبوترے پر جنرل ایجسن کے ساتھ بیٹھے تھے۔ پہلو میں چند اسپارٹن بزرگ بھی موجود تھے ان کی نگاہیں میدان میں ہونے والی پیش قدمی پر ٹکی ہوئی تھیں۔
میدان کے مرکز میں، کاسٹور اور ڈیمیٹریئس ہاتھوں میں مشق کے نیزے اٹھائے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ ان کے جسم صبح کی تیز دھوپ میں پسینے سے شرابور تھے۔
وہ پہلے بھی کئی بار لڑ چکے تھے۔
وہ اسپارٹا کے دو بہترین جنگجو تھے—ایک ایسی رقابت جو بچپن سے چلی آ رہی تھی۔
کاسٹور کی پہچان مہارت تھی اور ڈیمیٹریئس کی بربریت۔ کاسٹور سوچ سمجھ کر وار کرتا اور ڈیمیٹریئس شدید جنون کے ساتھ حملہ کرتا تھا۔
کاسٹور زیادہ بہتر تھا۔ جنرل ایجسن اپنے پیارے کی اس خوبی کا معترف تھا۔
ڈیمیٹریئس اس بات پر کاسٹور سے نفرت کرتا تھا۔
ایجسن بادشاہ کی طرف جھکا، اس کی نگاہیں جنگجوؤں سے ایک پل کے لیے بھی نہیں ہٹیں۔
“کاسٹور ان سب سے زیادہ طاقتور ہے،” جنرل نے کہا۔ “بااخلاق۔ یکسو۔ ذہن اور جسم سے ایک حقیقی جنگجو۔ میں اسے فوج کی قیادت کے لیے تیار کر رہا ہوں۔ اس کا بیٹا بھی سات سال کا ہو چکا ہے۔ اس ہفتے اسے ’اگوجی‘ کے لیے بھیج دیا جائے گا۔ طاقتور جنگجوؤں کی اگلی نسل تیار ہے۔
لیونیڈاس نے اثبات میں سر ہلایا اور دیکھا کہ کاسٹور نے ڈیمیٹریئس کے ایک شدید حملے کو روک کر بڑی مہارت سے نیزے کا رخ موڑ دیا۔
لیکن کچھ گڑبڑ تھی۔
کاسٹور کے وار اوچھے پڑ رہے تھے۔ رفتار معمولی سی سست تھی۔ مضبوط ٹانگوں کا مالک آج کچھ لڑکھڑا رہا تھا۔
ڈیمیٹریئس میدان جنگ کا ایک اچھا کھلاڑی تھا وہ حریف کی کمزوری پہچان گیا تھا۔
ڈیمیٹریئس نے اچانک اور سفاکانہ رفتار سے حملہ کیا۔ کاسٹور نے وار روکے، لیکن وہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس کا جسم ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ تھکاوٹ اس کے پٹھوں میں سرائیت کر رہی ہے۔ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا۔
پچھلی رات کا اثر ابھی تک قائم تھا۔ لیڈا کی آواز، گود میں لیے بچوں کی کلکلیاں، ماں کی چھاتیوں سے لپٹے بچے کی مسکراہٹ اور پیار کے چرائی ہوئی رات کے بوجھ نے اسے نڈھال کردیا تھا۔
ڈیمیٹریئس نے اوپر کی طرف وار کیا۔ کاسٹور کو اس سے بچنے کے لیے تیزی سے مڑنا پڑا۔ اس کے کندھے میں شدید درد کی لہر دوڑ گئی۔
بادشاہ اور جنرل خاموشی سے دیکھتے رہے، ان کے چہروں کے تاثرات ناپید تھے۔
کاسٹور نے جھپٹ کر اپنا نیزہ گھمایا اور ڈیمیٹریئس کا توازن بگاڑ دیا۔ ایک ہی پل میں، اس نے اپنی ٹانگ پھیلا کر اسے نیچے گرایا اور لکڑی کی تلوار اس کے سینے پر رکھ دی۔
خاموشی؛
پھر، تالیاں۔
بادشاہ اور ایجسن نے تالیاں بجائیں، تحسین میں سر ہلایا۔ بزرگوں نے بھی تائید میں سرگوشیاں کیں۔
ڈیمیٹریئس کاسٹور کے نیچے لیٹا ہوا تھا، اس کا چہرہ غصے سے بگڑا ہوا تھا۔
سال ہا سال اس نے تربیت حاصل کی تھی، جنگیں لڑی تھیں، خون بہایا تھا اور کاسٹور پھر بھی اس سے برتر تھا۔
اب بھی سب سے بہترین۔
اب بھی وہی جس کی ایجسن نے تعریف کی۔
اب بھی وہی جو قیادت کرے گا۔
کاسٹور نے اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
ڈیمیٹریئس نے اس کا ہاتھ نہیں تھاما۔
اس کے بجائے، وہ خود اٹھا، ہتھیار پر اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ ہاتھ کے جوڑ سفید پڑ گئے تھے۔
اس کی مسکراتی آنکھیں کاسٹور کی آنکھوں میں گڑ گئیں۔
اس لمحے کاسٹور کو اپنے حریف کی نگاہوں میں شکست کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ جنگجو پہلوان کی نظر اتنی گہری نہیں تھی کہ ان آنکھوں میں چھپا اپنا راز ہی دیکھ لیتا۔
ڈیمیٹریئس ایک بار پھر مسکرایا، بالکل اسی طرح جیسے وہ صبح مسکرایا تھا۔
’’تم آج تھکے ہوئے لگ رہے تھے، کاسٹور۔‘‘
کاسٹور نے کچھ نہ کہا، وہ جانتا تھا کہ یہ دُہری زندگی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
اس کا یہ ارادہ بھی نہیں تھا۔
ڈیمیٹریئس نے کاسٹور کی حرکات پر نظریں جما لیں۔ اس کی نقل و حرکت، اس کا غائب ہونا، اس کی آنکھوں میں تھکاوٹ کے آثار، وہ ان کی وجہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔
****
بیرکوں کے باہر سائے میں چھپا ڈیمیٹریئس اسے دیکھ رہا تھا۔ سرد پتھروں پر اس کے قدم بالکل بے آواز تھے۔ کاسٹور خاموش قدموں سے بڑھ رہا تھا۔
لیکن ڈیمیٹریئس سائے کی طرح اس کا پیچھا کر رہا تھا۔
شہر سے گزرتے ہوئے غلاموں کی بستی کے اس پار، اعلیٰ فوجی افسران کی رہائش گاہوں میں وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچ گیا، دروازہ کھلا۔
اور پھر
لیڈا!
اس کی بیوی اور بچے۔
ڈیمیٹریئس اندھیرے میں ساکت ہو گیا۔ وہ دیوار سے جا لگا۔ کاسٹور اندر داخل ہو چکا تھا۔ دروازہ ہلکا سا کھلا تھا اور اس کی باریک درز سے روشنی کی ایک لکیر تاریکی کو چیرتی ہوئی باہر نکل رہی تھی۔ وہ قریب ہوا اور کان لگا کر سننے لگا۔
کاسٹور کی آواز دھیمی تھی، مگر اس میں چھپی بے چینی نمایاں تھی۔
’’ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سپارٹا چھوڑ جائیں۔ ورنہ ہمارے بچے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
ڈیمیٹریئس کی نبض تیز ہو گئی۔ یہ الفاظ اس کے ذہن میں بیٹھ گئے۔ یہ غداری تھی۔ کاسٹور، ان کا سب سے بہترین جنگجو، اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اسپارٹا سے بھاگنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
کاسٹور کو شاید شک پڑ گیا تھا۔ وہ دروازے کی طرف لوٹا۔
ڈیمیٹریس مڑا اور رات کی تاریکی میں غائب ہو گیا۔
****
ڈیمیٹریئس کی بات سنتے ہوئے ایجسن خاموش کھڑا رہا۔
دیواروں پر رقص کرتی آگ کی روشنی جنرل کی آنکھوں میں منعکس ہو رہی تھی۔ ان آنکھوں میں سپنے تھے۔ وہ آنکھیں جنہوں نے کبھی کاسٹور کو ایک عام سپاہی سے اسپارٹا کے بہترین جنگجو میں ڈھلتے دیکھا تھا۔ اس کا کاسٹور سے تعلق اراستس ایرومینوس سے کہیں بڑھ کر تھا۔
(یونان کی طرح اسپارٹا میں یہ تعلق صرف رومانوی نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے اکثر تربیت، سرپرستی، جنگی نظم و ضبط اور کردار سازی سے بھی جوڑا جاتا تھا۔ اگوگے میں بڑے نوجوانوں کو چھوٹوں کی نگرانی اور تربیت کی ذمہ داری دی جاتی تھی۔)
اس کے چہرے پر سکوت کی ایک سپاٹ تہہ جمی ہوئی تھی، مگر ڈیمیٹریئس بھانپ چکا تھا کہ اس بےتاثر چہرے کے پیچھے مایوسی اور غصے کا طوفان انگڑائیاں لے رہا تھا۔
جب ڈیمیٹریئس کی بات مکمل ہوئی، تو ایجسن نے ہلکی سے سانس لی۔
کچھ دیر کے لیے وہاں بھڑکتے آلاؤ کی آواز کے سوا کچھ نہ تھا۔
’’اگر یہ سچ ہے، تو اس نے اسپارٹا کو دھوکہ دیا ہے۔‘‘
ایجسن کی دھیمی آواز ہتھوڑے کی طرح در و دیوار سے ٹکرائی۔
’’غداری کی سزا ملنی چاہیے۔‘‘
ڈیمیٹریئس سیدھا کھڑا ہو گیا، اس کی نبض تیزی سے چل رہی تھی۔ ’’کیا میں اسے للکاروں؟‘‘
ایجسن نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’پہلے یہ الزام ثابت کرو۔ صرف باتوں کی بنیاد پر میں اپنے بہترین جنگجو کو رسوا نہیں کر سکتا۔‘‘
وہ ڈیمیٹریئس کی طرف مڑا، اس کی نگاہیں لوہے کی طرح سخت تھیں، ’’ہم اس پر نظر رکھیں گے، رنگے ہاتھوں پکڑیں گے۔ وہ سزا بھگتے گا۔‘‘
ڈیمیٹریئس مسکرا دیا۔
کاسٹور کے دن گنے جا چکے تھے۔
****
آج کی رات کچھ مختلف محسوس ہو رہی تھی۔ بہت زیادہ خاموش۔
کاسٹور احتیاط سے آگے بڑھا۔ بیرکوں میں معمول سے زیادہ خاموشی تھی۔ کوئی سرگوشی تھی نہ بے چین جسموں کی کروٹیں۔ یہ سب غیر فطری لگ رہا تھا۔
اس کا دل دہل گیا۔ کچھ نہ کچھ غلط تھا۔ تیوریاں چڑھائے وہ تنگ گلیوں سے گزرتا گیا۔
گھرمیں ایک گرم روشنی جھلملا رہی تھی۔
وہ اندر داخل ہوا، سامنے لیڈا کھڑی تھی، ’اس کی محبت، اس کی تباہی۔‘
بار بار کے پھیروں نے لیڈا کو بھی ناراض کر دیا تھا۔
وہ فوراً اس کے پاس آئی، کاسٹور نے اپنی باہیں اس کے گرد لپیٹ دیں۔ گرم سانسیں کاسٹور کی گردن کو چھونے لگیں۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔ ایک لمحے کے لیے دنیا بالکل ٹھیک محسوس ہوئی۔
لیکن پھر احساس ہوا کہ لیڈا بالکل بے حرکت کھڑی تھی۔
’’چلو اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ آج ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے ورنہ کل وہ ہمارے بڑے بیٹے کو لینے آ جائیں گے۔‘‘
فرار ہونے کی بات سن کر تو لیڈا کے چہرے پر غصے اور حقارت کی لہر دوڑ گئی۔
’’بزدلی؟ اسپارٹا سے فرار؟‘‘ لیڈا گرج اٹھی، اس کی آواز میں وہی آہنی گرج تھی جو لکرگس کے قوانین کی روح تھی۔ ’’میں سپارٹا سے غداری نہیں کروں گی۔‘‘
’’ہم ترک وطن کر کے دور آئیونین سمندر کے ساحلی مقامات پر جا بسیں گے۔ سرسبز و شاداب زمینیں ہمیں خوش آمدید کہیں گیں۔ وہاں سپارٹا کے لوگوں کی آمد و رفت نہیں۔‘‘
’’میں سپاہی کی بیوی ہوں، کسی غلام کسان کی نہیںَ۔‘‘ وہ چیخ اٹھی۔
’’سپارٹا ایک جنگی ریاست ہے یہاں کبھی سکون ہوا ہے نہ ہوگا۔ ان کا مشغلہ حیات جنگ ہے۔ صدیوں کی حکومت کے بعد بھی انہوں نے انسانی ترقی میں کوئی حصہ نہیں ڈالا۔ یہ ختم ہو گئے تو کوئی عمارت، کوئی کتاب یا علم و حکمت کا کوئی اصول ان کی پہچان نہ ہوگا۔ ہم بچوں کو کسی پُرامن علاقے میں لے جائیں گے۔‘‘
بچے بھاگ کر کاسٹور کے ساتھ چمٹ گئے۔
’’ماں ہم یہاں سے جائیں گے۔‘‘
اسی وقت مکان کے باہر شور بلند ہوا، بھاری جوتوں کی چاپ کے ساتھ زرہ و تلوار کی چھنچھناہٹ سنائی دی۔
وہ تیزی سے مڑا اور اپنی تلوار تھام لی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔
باہر ایک مشعل روشن ہوئی اور پھر روشنی بڑھتی گئی۔ سارا مکان روشنی میں نہا گیا تھا۔ سپاہی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے تھے۔
وہ دیواروں کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوگئے تو دروازے کی چوکھٹ پر ڈیمیٹریئس کھڑا نظر آیا۔ اس کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ خنجر کی طرح تیز تھی۔
’’تم پکڑے گئے۔‘‘
وہ اندر آ گیا۔ اس کے پیچھے شاہی فوج کے سپاہی اور جنرل ایجسن بھی موجود تھا۔ اس کا چہرہ پتھر سے تراشا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس کی نگاہ کاسٹور سے ملی، اور پہلی بار، اس کی آنکھوں میں فخر کا نام و نشان نہ تھا۔
“تم میرے سب سے عظیم جنگجو تھے، کاسٹور۔” جنرل کی آواز لوہے کی مانند سخت اور بے لچک تھی۔ “میں نے بچپن سے تمہاری تربیت کی۔ تمہیں خود سے بھی عظیم تر بنایا۔ تم قیادت کے لیے بنے تھے۔”
کاسٹور نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔
’’سپارٹا کے ہر شہری کو اوروں پر حکومت کرنے سے پہلے خود کو محکوم بنانا سکھایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی خواہشات کا اسیر نہ ہو جائے لیکن تم نے اس عورت کی آغوش کے بدلے ہماری عزت کا سودا کر دیا۔‘‘
’’میرے لیے نہیں۔‘‘ لیڈا چلائی
’’میں نے اسے ہمیشہ منع کیا۔‘‘
ایجسن کی نگاہ ایک لمحے کے لیے ڈگمگائی۔
’’سپارٹا کے سپاہی کا دل کسی نازک چیز کے آگے نہیں جھکتا،‘‘ ایجسن نے بات جاری رکھی، اس کی آواز اب مزید دھیمی ہو چکی تھی۔ “اور تم کمزور ہو چکے ہو۔”
اس کا لہجہ نپا تلا تھا۔
’’میں تمہیں معاف نہیں کر سکتا۔ تمہیں سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تم میری فوج کی قیادت نہیں کرو گے۔‘‘
ایک گہرا سانس۔ خاموشی کا ایک آخری لمحہ۔
وہ جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔
آہستہ سے، اس نے اپنی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
ایجسن کے چہرے کے تاثرات تاریک ہو گئے۔ “احمق نہ بنو۔”
کاسٹور نے کوئی جواب نہیں دیا۔
جب اس نے تلوار نیام سے باہر نکالی تو اس کی دھار آگ کی روشنی میں چمک اٹھی۔
’’بے وقوف نہ بنو۔ مارے جاؤ گے۔‘‘
کاسٹور پیچھے نہ ہٹا، لیکن اس کا سانس پھول گیا۔
ایجسن نے لیڈا پر ایک نظر ڈالی اور پھر اس کے بچوں پر جو کاسٹور کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ نفرت سے اس کے ہونٹ بھینچ گئے۔
’’تم اس کے ساتھ جانا چاہو گی؟‘‘
بچے بھاگ کر ماں کے پاس آ گئے۔
’’ماں ہمارے ساتھ چلو۔‘‘
’’پیچھے ہٹو! اسپارٹا کی مائیں بچوں کو پلو سے نہیں باندھتیں؛ انہیں بیرکوں کی تربیت اور میدانِ جنگ کے اصولوں کا پابند بناتی ہیں۔ دنیا کی ساری مائیں بیٹے پیدا کر لیتی ہیں لیکن صرف سپارٹا کی مائیں مرد جنتی ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے بچے میرے حوالے کردو۔ میں انہیں لے کر چلا جاؤں گا۔‘‘
لیڈا کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
’’لے جاؤ انہیں۔ مجھے یہ بچے نہیں چاہیے۔ میں نے شادی کسی بزدل سے نہیں، سپارٹا کے بہادر جوان سے کی تھی جو میدان جنگ میں لڑنے مرنے سے نہیں گھبراتا تھا۔ مجھے تمہارے بچوں کی ضرورت نہیں۔ اب میں اس جوان کے بچے جنوں گی جو انہیں سپارٹا پر قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔‘‘
وہ تھوڑی دیر خاموش ہوئی پھر آگے بڑھ کر اس نے جنرل ایجسن کا ہاتھ تھام لیا،
’’ایجسن کے! جو اپنے بچوں کی شہادت پر فخر کرے گا۔
اور تمہارے دشمن۔۔۔
ڈیمیٹرئیس کے تاکہ وہ دشمن کو تہہ تیغ کر کے فوج کا سربراہ بن سکیں۔‘‘
وہ سب واپس چل پڑے۔ جاتے جاتے ایجسن نے حکم دیا۔ ’’لے جاؤ انہیں! اور اسیران جنگ ہیلواٹ میں شامل کر دو۔ وہ اور اس کے بچے غلام کے طور پرکھیتی باڑی کریں گے۔‘‘
(ہیلواٹ۔ وہ مقامی لوگ تھے جنہیں سپارٹا والوں نے غلام بنا لیا تھا۔)
*****
اس افسانے کو لکھتے وقت
Sparta: Beyond the Mirage
Book by
Anton Powel
Spartan Wives: Liberation or Licence? Author(s): Paul Cartledge
&
Artificial Intelligence
سے مدد لی گئی۔


