غارِ حِرا کی خلوت اور آج کے انسان کا اندرونی سناٹا / رانا جی جعفر

​اگر آپ سے پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا انسان کون ہے، تو شاید آپ کسی اور کا نام لیں… حالانکہ جواب آپ خود ہیں۔
​یہ عجیب بات ہے کہ ہم پوری زندگی دوسروں کو سمجھنے، ان کے لیے وقت نکالنے اور ان سے تعلق نبھانے میں گزار دیتے ہیں، مگر اس انسان سے ملنے کی فرصت نہیں نکالتے جس کے ساتھ ہمیں آخری سانس تک رہنا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل، پھر دفتر، کاروبار، ٹریفک، ملاقاتیں، سوشل میڈیا اور رات گئے تک نہ ختم ہونے والی مصروفیات… یوں دن، مہینے اور برس گزر جاتے ہیں، مگر انسان خود سے ایک بار بھی نہیں مل پاتا۔ شاید اسی لیے آج سہولتیں بڑھ رہی ہیں، مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔
​تاریخِ انسانی کی سب سے عظیم حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی ہدایت، فکر اور انقلاب کی تمام تر کرنیں ایک “خلوت” سے پھوٹی تھیں۔ جب دنیا جہالت کے اندھیروں اور غفلت کے شور میں ڈوبی ہوئی تھی، تب ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے غارِ حِرا کی خاموش چٹانوں کا انتخاب فرمایا۔ وہ خلوت دراصل جلوتِ کائنات کی تیاری تھی۔ فرمانِ نبوی ﷺ ہے: “عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔” جب انسان باطن میں اتر کر خالق سے رشتہ جوڑتا ہے، تو وہیں سے نبوت کے نورانی پیغام کا چشمہ جاری ہوتا ہے۔ اگر کائنات کے محسنِ انسانیت ﷺ کی عظمت کا نقطۂ آغاز خلوت اور ذات کی دریافت سے شروع ہوتا ہے، تو پھر آج کے انسان کا اپنے آپ سے فرار اختیار کرنا کس قدر بڑا المیہ ہے؟
​انسان نے خلا اور سمندر تو تسخیر کر لیے، مگر اپنے اندر کے سناٹے سے ہمیشہ فرار کی راہ اپنائی۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے انسان کو باطنی وجود کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا: “تو گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ تیرے اندر ایک بہت بڑی کائنات سموئی ہوئی ہے۔” مگر ہم موبائل اسکرینوں اور وقت کی بھاگ دوڑ میں خود کو اس قدر کھو چکے ہیں کہ جب کبھی لمحہ بھر کے لیے خاموشی ملتی ہے تو اپنے ہی اندر کا سناٹا ہمیں بے چین کرنے لگتا ہے۔ انسان آخر اپنے آپ سے اتنا خائف کیوں ہے؟ اپنے ہی ساتھ چند لمحے سکون سے بیٹھنا ہمیں اتنا مشکل کیوں لگتا ہے؟
​خلوت اور تنہائی میں فرق
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ “تنہائی” Loneliness ایک درد ہے، ایک کمی ہے، جبکہ “خلوت” Solitude ایک نعمت ہے، ایک انتخاب ہے۔ تنہائی میں انسان خود سے بھاگتا ہے، خلوت میں انسان خود سے ملتا ہے۔ تنہائی شور کی عدم موجودگی ہے، خلوت فکر کی موجودگی ہے۔
​مشہور مفکر بلیز پاسکل نے کیا خوب کہا: “انسان کی تمام مشکلات کی جڑ یہ ہے کہ وہ ایک کمرے میں خاموشی سے اکیلا نہیں بیٹھ سکتا۔” اور کارل یونگ کہتا ہے: “جو باہر دیکھتا ہے وہ خواب دیکھتا ہے، مگر جو اپنے اندر جھانکتا ہے وہ بیدار ہو جاتا ہے۔” یعنی خلوت بیداری ہے اور تنہائی نیند۔
​اپنے ساتھ وقت گزارنا کوئی فضول مشغلہ نہیں بلکہ روح کی ضرورت ہے۔ دنیا کی ہر چیز بدل سکتی ہے، لیکن جب تک انسان خود اپنا سچا ساتھی نہیں بنتا، کوئی دوسرا اسے حقیقی سکون نہیں دے سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ نیوٹن، ایڈیسن، آئنسٹائن اور اسٹیو جابز جیسے ذہنوں نے دنیا بدلنے والے خیالات خاموشی اور یکسوئی کے لمحوں میں حاصل کیے۔ روحانی دنیا میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے لے کر حضرت سلطان باہوؒ تک، اولیائے کرام نے خلوت کو تزکیۂ نفس کا ذریعہ بنایا۔
​دنیا کی خوشحال قومیں بھی اس حقیقت کو سمجھ چکی ہیں۔ ڈنمارک میں لوگ سکون اور خاموشی کے لمحات کو خوشحال زندگی کا راز سمجھتے ہیں، جبکہ جاپان میں جنگل کی خاموشی میں وقت گزارنے (نیچر تھراپی) کو ذہنی صحت کی بحالی کا مؤثر ذریعہ مانا جاتا ہے۔
​کبھی کسی پارک کی بینچ، چائے خانے یا کسی سفر کے دوران لوگوں کو خاموشی سے دیکھیے۔ اکثر کے ہاتھ میں موبائل ہوگا، نظریں سکرین پر جمی ہوں گی اور انگلیاں مسلسل چل رہی ہوں گی۔ شاید انہیں باہر کی ہر خبر معلوم ہو، مگر اپنے دل کی خبر نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آج کا انسان چند لمحے اپنے ساتھ گزارنے سے زیادہ دنیا کے شور میں گم رہنے کا عادی ہو چکا ہے۔ حالانکہ بعض اوقات انسان کو سب سے زیادہ ضرورت کسی اور سے نہیں، خود اپنی ذات سے ملاقات کی ہوتی ہے۔
​اس کے برعکس ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ لوگوں کو سرے سے معلوم ہی نہیں کہ اپنے ساتھ وقت کیسے گزارا جاتا ہے۔ ہم نے تنہائی اور خلوت کے فرق کو مٹا دیا ہے۔ اگر کوئی شخص چند لمحے خاموش بیٹھا ہو تو فوراً پوچھ لیا جاتا ہے: “خیریت تو ہے؟” شاید ہم نے خاموشی کو پریشانی اور شور کو معمول سمجھ لیا ہے۔ ہم روزمرہ کے شور، معاشی دوڑ اور سماجی مصروفیات میں اس حد تک الجھ چکے ہیں کہ اپنے باطن میں جھانکنے کا شعور ہی مدھم پڑ گیا ہے۔
​سلگتے اشاریے یہ ہیں کہ ہم نے باہر کی دنیا تو سجا لی، مگر اندر کی دنیا خالی رہ گئی۔ ہم سب کو وقت دیتے ہیں، خود کو نہیں۔ ہر چیز موجود ہے مگر چین نہیں۔ دوڑ، کامیابی اور مصروفیت اپنی جگہ، لیکن جب تک انسان خود سے نہیں ملتا، اندر کا خلا بھرتا نہیں۔ خلوت کے چند لمحے وہ سکھا دیتے ہیں جو برسوں کی بھاگ دوڑ نہیں سکھا پاتی۔ اگر کبھی رک کر اپنے دل کی سنیں تو بہت سے جواب باہر نہیں، اپنے اندر ہی مل جائیں گے۔
​اور سب سے بڑی خلوت تو سجدے میں ہے۔ نماز دراصل سب سے پاکیزہ خلوت ہے، جہاں دنیا کا دروازہ بند اور رب کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ یہاں صرف بندہ اور اس کا خدا ہوتا ہے، نہ موبائل کی خبر نہ دنیا کا شور۔ اگر سجدے میں خلوت نصیب نہ ہو، تو زندگی کی باقی تمام دوڑ دھوپ بے سکون اور بے مقصد رہ جاتی ہے۔
​غارِ حِرا سے لے کر آج تک ایک حقیقت نہیں بدلی؛ انسان جب بھی اپنی ذات کے قریب ہوا، وہ پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ پُرسکون اور زیادہ باشعور ہو کر لوٹا۔ شاید زندگی کا سب سے طویل سفر دنیا کا نہیں، اپنی ذات تک پہنچنے کا سفر ہے… اور افسوس، یہی سفر ہم سب سے آخر میں شروع کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں