خون کا قصہ / محمد کوکب جمیل ہاشمی

خون انسان کی رگوں میں دوڑتا، وہ سرخ سیال مادہ ہے جو ان کی زندگی کے باغ کو ہرا بھرا رکھتا ہے۔ اس کی مقدار کا تناسب بگڑ جائے تو صحت کے لئے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ خون کے اجزاء کی متعینہ شرح برقرار نہ رہے تو بھی جسمانی امراض کا تکلیف دہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہم مرغن کھانا کھانے اورگھی یا تیل میں تلی ہوئی اشیاء کا بے درہغ استعمال کرنا شروع کر دیں تو خون میں چکنائی کی مقدار بڑھ جاتی
ہے اس سے خون کی شریانوں میں چکنائی جم جانے سے خون کی گردش میں رکاوٹ آنے لگتی ہے، ہم دوسروں کے کاموں میں رکاوٹ تو ڈالتے ہی ہیں خود اپنے خون کی گردش کے راستے میں بھی روزے اٹکاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہےجو ہارٹ اٹیک کی وجہ بنتی ہے۔ مریض کو کنفیوز کرتی ہے، بلکہ اگر بات بڑھ جاۓ تو گویا قلب کے روشن بلب کو فیوز کر دیتی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ ہمیں چکنائی سے ہی پرہیز نہیں کرنا چاہئے بلکہ چکنی چپڑی باتوں سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔ دونوں ہی ہمارے لئے مضر ہیں ۔ چکنائی سے ہمارا جگر اور چکنی چپڑی باتوں سے ہمارے جگری یار دونوں ہی ناراض ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں جگر پکار پکار کر کہتا ہے کہ مجھے فیٹی ہونے سے بچاؤ۔ لیور کا صحت مند ہونا بہتر ہے، موٹا ہونے سے۔ اسی طرح میٹھی اشیاء کے ضرورت سے ذیادہ استعمال سے ذیابیطس کا مرض لاحق ہوجاتا ہے اور خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے، جسے مانیٹر نہ کیا جاۓ تو ڈاکٹر کو مریض کی کلاس لینے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم خون میں بڑھانے کی بجاۓ شوگر ، زبان میں مٹھاس کے بن جائیں خوگر۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں، اس سے میٹھا کوئی ذائقہ نہیں۔
میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ خون کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ بلکہ خون میں موجود سرخ جسیموں کی وجہ سے ہمیں خون سرخ دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب ہم خاندان کے کسی فرد کی، عزیز رشتے داروں کے ساتھ بے رخی دیکھتے ہیں، اور وہ ملنے جلنے سے کتراتا ہو تو، فورآ اس کے بارے میں کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس کا خون سفید ہو گیا ہے۔ خون ایسے کیسے سفید ہو سکتا ہے۔ یہ سفید جھوٹ نہیں تو اور کیا پے۔
کوئی بھی ملک، جس کے اپنے شہری سخت محنت، تن دہی،جانفشانی اور پسینہ بہا کر کام نہ کرتے ہوں وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک کی ترقی اور خوش حالی کا خواب ملک کے لئے لوگوں کےخون پسینہ بہاۓ بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ ہمارا ماننا ہے کہ کام کاج کے لئے لوگوں میں جوش وخروش کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا۔ البتہ اگر خون جوش مارے تو لوگ بڑے بڑے کارنامے سر انجام دے لیتے ہیں ۔ اس لئے سارا کام خون کا ہے۔ لہذا انسان کو خون پسینے کی کمائی کی طرف راغب ہونا جاہئے ۔۔ لوگ خود بھی اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ خون پسینے کی کمائی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اسے حق حلال کی کمائی سمجھا جاتا ہے۔
لیکن دیکھنے میں ایا ہے کہ ہم میں سے کچھ نوجوان ہماری توقعات پہ پورا نہیں اترتے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنے اسلاف کے ارمانوں کا خون کرتے ہیں۔ بعض دفعہ آپ اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہوں تو وقت گزرنے کا پتا نہیں چلتا۔ چائے کی چسکی اور کھانے کے چسکے چل رہے ہوتے ہیں تو اس دوران، دوران خون بڑھ جاتا ہے۔ لیکن جونہی اپ کی محفل میں مخالف حلقے کا بن بلایا مہمان آجاتا ہے تو انہیں دیکھ کر کچھ جذباتی دوستوں کا خون کھولنے لگتا ہے۔ بات بگڑتی ہے تو ایسا گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ جیسے سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں۔ معلوم نہیں کیوں بات بات پر ہمارا خون جوش کیوں مارتا ہے جو اکثر خرابی کی وجہ بنتا ہے۔
اسی طرح ہم کہیں بھی چلے جائیں، خونچکاں واقعات اور حادثات جگہ جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کہیں خون میں لت پت کپڑوں میں پڑا کراہ رہا ہوتا ہے اور کہیں کسی زخمی کے رستے خون کو روک کر زخم پر مرہم پٹی کی جارہی ہوتی ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی بات پر ایک دوسرے کی جان لینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کسی کا بے رحمانہ قتل کر کے اسے خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔ ایسی خونی وارداتوں کا سن کر اور خون کی ارزانی دیکھ کر دل خون کے انسو روتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ خون بہانے پر اظہار رنج و غم اور نوحہ خوانی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ابھی ہماری رگوں میں غیرت باقی ہے کہ ہم ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ کیا کہ ہمارے گھروں میں آپس کے اختلافات کو بھلانے کی بجاے، ہم دوسروں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام بڑے شوق سے کرتے ہیں۔ افسوس کی بات پہ ہے کہ ہمارے انصاف کا نظام برسہا برس سے قتل و غارت گری کے مقدمات کا فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ حالاں کہ ایک فریق خون بہا دینے کو بھی تیار ہو جاتا ہے۔
اکثر گھرانوں میں جب کسی بیٹے یا بیٹی کو بڑی کامیابی حاصل ہوتی ہے یا قابلیت کی بناء پر بڑا اعزاز ملتا ہے تو والدین اسے اپنا خون ہونے پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ گویا وہ اولاد کی غیر معمولی کامیابی کو اپنی مرہون منت سمجھتے ہیں۔ ایسی سوچ غلط بھی نہیں کیونکہ ماں باپ کی محنت اور تربیت ہی انہیں یہ دن دکھاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خونی رشتوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ سگے رشتے دار جن میں ماں باپ، بہن بھائی، خالہ، ماموں، چچا، تاۓ، پھپھی،نانا نانی، دادا دادی، نواسے نواسی، پوتے پوتی، بھانجے اور بھتیجے وغیرہ سب خونی یعنی حقیقی رشتے کہلاتے ہیں اور ہمارے یہاں ان کی قدر و عزت کی جاتی ہے۔ جب ان رشتوں میں محبت اور یگانگت ہو تو انہیں دیکھ کر سب گھر والوں کا خون بڑھ جاتا ہے۔ ناصرف یہ کہ خون جب جوش مارتا ہے تو فساد پیدا کرتا ہے بلکہ اس میں بھی فاسد مادہ پیدا ہوجاتا ہے۔ چنانچہ فاسد خون کے اخراج کے لئے پہلے زمانےمیں جونک لگوائی جاتی تھیں جو خراب خون چوس لیتی تھیں۔ اب خون کی صفائی کے لئیےحجامہ کروایا جاتا ہے۔
اکثر ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں فریقین میں اتنا خون خرابہ ہوتا ہے کہ زخمیوں کے لئے خون کی بوتلیں کم پڑ جاتی ہیں۔ بعض معاشروں میں جہاں ہر ایک کے پاس اسلحہ ہوتا ہے وہاں لوگ دشمنیوں میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ خون مقدس ہوتا ہے جو ہمارے فوجی اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوۓ شہید ہو کر بہاتے پیں۔ انکے ورثاء کے جذبات دیدنی ہوتے ہیں، جب انکے سپوتوں کے سروں پر سہرا سجنے والا ہوتا ہے۔ اس طرح شہداء کے خون میں انکے گھر والوں کے ارمانوں کا خون بھی شامل ہو جاتا ہے مگر ان کے لبوں پہ مسکراہٹ ہوتی ہے۔ وہ یک گونہ خوشی محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سپوت شہادت کا مرتبہ پاگئے

اپنا تبصرہ لکھیں