انسانی شعور نے آنکھ کھولی تو اُسے قدرتی آفات اور درندوں کا سامنا تھا۔ مگر جلد ہی اُسے اپنے جیسے انسانوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑا۔ اِس طرح انسان کے اندر ہمہ جہت خوف نے جنم لیا۔ شاید یہی خوف تھا جس نے انسان کو جانوروں، مظاہر فطرت اور دوسرے انساوں کو زیرِنگیں کرنے پر اُکسایا۔ اِن جذبات واحساسات کے ساتھ ساتھ روز اوّل سے ایک ادیب بھی انسان کے اندر سانس لے رہا تھا۔ ایک ایسا ادیب جو امن چاہتا تھا۔ جو مظاہر فطرت کا ثناخوان تھا اور مل جل کر پُرامن زندگی بسر کرنے کا خواہش مند تھا۔ اُس نے دلکش انداز میں کہانیاں، داستانیں، حکایتیں اور فسانے بیان شروع کر کے اجتماعیت کے جذبے کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ لوگوں میں قدرتی آفات اور ناگہانی مصائب کا مل جل کر مقابلہ کرنے کا شعور بیدار کیا۔ ادیب نے نہ صرف محبت کو زبان دی، خوبصورتی کی تعریف کو الفاظ دیے اور جذبات و احساسات کو بیان کرنے کا سلیقہ دیا بل کہ ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کی۔ وہ دیب ہی رہا ہو گا جس نے جبر و تشدد کو داستانوں کا حصّہ بنایا اور محبتوں کی لازوال کہانیاں اگلی نسلوں تک پہنچائیں۔ وہ ”تعلیماتِ پتاہ حوتپ ہوں“ یا ”رزمیہ گلگامشِ“ کسی نہ کسی ادیب کی کاوش ہی رہی۔ ادیبوں نے ہمیشہ امن و آشتی اور باہمی رواداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادب مختلف اصناف میں بانٹ دیا گیا۔ یہ دراصل ادیب کی تقسیم تھی۔ جہاں دنیا کالونیاں اور مہلک ہتھیار بنانے میں مصروف رہی وہیں ادیب کا مرکز نگاہ انسان رہا۔ کچھ لوگوں نے مادیت کو اپنا پیش رو بنایا تو کسی نے دنیا تسخیر کرنے کی راہ پر چلتے ہوئے کرہِ ارض کو تباہی سے
دوچار کیا۔ مگر کچھ حساس دل ایسی بہیمانہ مہم جوئیوں پر تڑپ اٹھے۔ ادیب نے اپنا نکتہِ نظر بیان کرنے کے لیے کبھی گیتوں کا سہارا لیا، کبھی داستانوں اور کبھی افسانوں کا۔ کچھ اہلِ علم نے اپنی توجہ تسخیر کائنات اور انسان کی جسمانی صحت کی بہتری پر مرکوز کی تو دوسروں نے مادی سہولیات کی طلب پیدا کر کے دولت جمع کی۔ مگر ادیب نے اپنی صلاحیتیں، نام نہاد ترقی کے مضر اثرات پر صرف کر دیں۔ انسانی داخلی اور خارجی رجحانات، نفسیات اور مسائل کو کھنگالا۔ امن عالم کے لئے جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔ صحافتی شعبے میں
ادب سے منسلک شعراء، ناول نگار اور افسانہ نگار
ادیب اور تخلیق کار حسرت موہانی، فیض احمد فیض،جوش ملیح آبادی،سجاد ظہیر، احمد ندیم قاسمی، مولانا محمد علی جوہر، حبیب جالب جیسے لوگوں نے قید و بند، معاشی عتاب اور دیگر مشکلات کا سامنا کیا۔ مختلف شعبوں سے وابستہ صحافی اور قلم کار تھے۔ ڈینیل پرل تحقیقاتی صحافی، فاضل وہاب صحافی و مصنف، حیات اللہ خان صحافی و فوٹو جرنلسٹ، موسیٰ خان خیل ٹی وی رپورٹر، سلیم شہزاد تحقیقاتی صحافی و مصنف، ولی خان بابر ٹی وی صحافی، جواد نصیر رند صحافی، ہرنت ڈنک صحافی و ادیب، اور نصراللہ گڈانی صحافی و سماجی کارکن تھے۔ ان میں بعض کو صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے قتل کیا گیا، جبکہ بعض اپنی تحریروں اور رپورٹنگ کے باعث تشدد کا نشانہ بنے۔


