عالمی سیاست اور عام زندگی کے زاویے ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ عام زندگی جذبات، اعتماد اور رواداری کا مرقع ہے، مگر عالمی سیاست اور اس میں ریاستوں کے درمیان تعلقات کا پیمانہ عام ذندگی سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں جذبات سے زیادہ مفادات اہم ہیں۔ کوئی مستقل دوست نہیں ہوتا بلکہ دوست اور دشمن کا تعین مفادات اور ترجیحات کرتیں ہیں۔ سلامتی اور طاقت کا توازن تعلقات کی بنیاد بنتا ہے مگر کچھ بھی یکطرفہ نہیں ہوتا ہے۔ ان تعلقات کی اساس ایک ہاتھ دو اور دوسرے ہاتھ لو ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کامیاب خارجہ پالیسی کا بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ ’’کون کس کا دوست ہے؟‘‘ بلکہ سوال یہ ہے کہ ’’قومی مفاد کہاں پنہاں ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کس کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات درکار ہیں؟‘’ اور ان تعلقات کی قیمت کیا ہی
ہے۔ کیونکہ کوئی کسی کو اپنے فائدے کے بغیر فائدہ نہیں پہنچاتا ہاں مگر کسی کی گردن پر پاوں رکھ کے اپنی سالمیت کو یقینی بنانا ایک رائج اصول ہے۔ اور اس اصول پر عمل پیرا ہونے کے لیے عالمی برادری میں کچھ صحیح یا غلط نہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کے معروف مفکر ہانس مورگنتھاؤ نے خارجہ پالیسی کے اسی حقیقت پسندانہ تصور کو ’’interest defined as power‘‘ یعنی مفاد کو طاقت کے تناظر میں دیکھنے کے تصور سے واضح کیا۔ ان کے نزدیک ریاستی فیصلوں کو جذباتی وابستگیوں کے بجائے قومی مفاد اور طاقت کے حقیقت پسندانہ حساب سے سمجھنا چاہیے۔ اسکی واضح مثال افغانستان اور ایران کا پاکستان کی بجائے بھارت کی طرف ذیادہ جھکاو ہے۔ اس مثال سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عالمی تعلقات میں نظریاتی اساس سے زیادہ قومی مفادات اہم ہیں۔
مفاد کو طاقت کے تناظر میں سمجھنے کا تصور آج کی دنیا میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔
دنیا نوّے کی دہائی کے یک قطبی دور سے آگے نکل کر ایک ایسے کثیر قطبی عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں عالمی طاقت مختلف مراکز میں تقسیم ہو رہی ہے۔
امریکہ عالمی سیاست میں ایک بڑی طاقت ہے، چین معاشی اور تزویراتی قوت کے طور پر تیزی سے اپنا کردار بڑھا رہا ہے، روس، یورپی ممالک، خلیجی ریاستیں اور دیگر علاقائی قوتیں بھی اپنے اپنے دائرہ اثر کو کامیابی سے بڑھا رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ایک طاقت کے کیمپ کا مستقل حصہ بن جانا خارجہ پالیسی کی کامیابی نہیں بلکہ یہ حکمت عملی سفارتی امکانات کو محدود کر دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہی سوال اہم ہے۔ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا مطلب کسی ایک طاقت کے کیمپ میں شامل ہونا نہیں بلکہ مختلف طاقتوں کے ساتھ اپنے قومی مفادات کے مطابق متوازن تعلقات قائم کرنا ہے۔
چین اور امریکہ آج دنیا کی دو بڑی حریف طاقتیں ہیں۔ تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عالمی اثر و رسوخ اور تزویراتی برتری کے میدان میں دونوں کے درمیان شدید مسابقت موجود ہے۔ لیکن اس مسابقت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم وقت کے ساتھ کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2025 میں امریکہ اور چین کے درمیان صرف اشیائے تجارت کا مجموعی حجم تقریباً 414.4 ارب ڈالر تھا—امریکہ نے چین کو تقریباً 106.0 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں جبکہ چین سے تقریباً 308.4 ارب ڈالر کی اشیا درآمد کیں۔ یعنی دو عالمی حریف ایک دوسرے کے خلاف تزویراتی مقابلہ بھی کر رہے ہیں اور سینکڑوں ارب ڈالر کی تجارت بھی۔
یہی عالمی سیاست کا وہ پہلو ہے جسے جذباتی رو میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مسابقت معاشی تعاون کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں کرتی۔
ریاستیں ایک معاملے میں حریف اور دوسرے معاملے میں حلیف ہو سکتی ہیں۔ کسی ریاست کے ساتھ سیاسی یا تزویراتی اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ معاشی تعاون کے امکانات کو بھی ختم کر دیا جائے، اور تجارتی حلیف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ریاستوں کے درمیان تمام تزویراتی اختلافات بھی ختم ہو گئے۔
اگر امریکہ اور چین اپنے وسیع تر قومی مفادات کے لیے مسابقت اور تجارت کو بیک وقت آگے بڑھا سکتے ہیں تو پاکستان کے لیے بھی یہ سوچنا غیر منطقی نہیں کہ وہ چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنے مفادات کے مطابق آگے بڑھائے۔
چین پاکستان کا اہم اسٹریٹجک حلیف ہے۔ چین کے سرکاری اعداد کے مطابق 2024 میں پاک چین دوطرفہ تجارت 23.06 ارب ڈالر رہی، جبکہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعداد کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی چین کو برآمدات تقریباً 2.38 ارب ڈالر اور درآمدات 16.3 ارب ڈالر رہیں۔
دوسری طرف امریکہ بھی پاکستان کے لیے ایک اہم تجارتی حلیف ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2025 میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان اشیا اور خدمات کی مجموعی تجارت تقریباً 11.5 ارب ڈالر رہی، جس میں امریکی اشیا کی پاکستان کو برآمدات 3.1 ارب ڈالر اور پاکستان سے امریکی درآمدات 5.4 ارب ڈالر تھیں۔ یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں: خارجہ پالیسی کو ’’یا یہ، یا وہ‘‘ کی منطق سے نہیں چلایا جا سکتا۔
پاکستان کے لیے چین اہم ہے، اس لیے چین کے ساتھ تعلقات مضبوط ہونا چاہییں۔ امریکہ بھی اہم ہے، اس لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر اور وسیع ہونا چاہییں۔ امریکہ یا چین میں سے ایک نہیں۔
اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ پاکستان کسی ایک تعلق کو دوسرے تعلق کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کے ایک مخصوص دائرے میں دیکھے۔یہی اصول مشرقِ وسطیٰ میں بھی پاکستان کے لیے اہم ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ حلیف ہے، جبکہ ایران نہ صرف ایک اہم ہمسایہ ملک ہے بلکہ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی قربت رکھنے والا ملک بھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے تک شدید علاقائی مسابقت رہی، لیکن پاکستان, سعودی عرب اور ایران میں سے ’’یا یہ، یا وہ” کا انتخاب کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔
اسی ’’یا یہ، یا وہ ” سے بچنے کے لیے پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں سہولت کاری اور سفارتی رابطے ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں مارچ 2022 کے او آئی سی اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی اس عمل میں اہم پیش رفت تھی۔ تاہم، مارچ 2023 میں چین، عمان، اورعراق کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کو اپنا قریبی دوست اور شراکت دار قرار دیا۔
اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے پاکستان کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، توانائی اور رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور دوطرفہ تجارت کو اگلے پانچ برس میں 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی رکھا۔ یہی متوازن سفارت کاری ہے: ایک ملک کے ساتھ تعلق دوسرے کے ساتھ تعلق کی قیمت پر نہیں ہو سکتے۔
ماضی میں بھی پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی رابطے شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں 1971 میں ہنری کسنجر کا بیجنگ کا تاریخی مگر خفیہ دورہ ممکن ہوا۔ اور یہ سفارتی تاریخ کا بڑا بریک تھرو تھا۔ آج بھی اس تاریخی بریک تھرو سے یہ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ کسی ایک طاقت کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے لیے دوسری طاقت کے لیے دروازہ بند کر دینا عقلمندی نہیں۔ اور نہ ہی متوازن خارجہ پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ دو حریف طاقتوں کو ناراض نہ کیا جائے بلکہ اسکا مقصد یہ ہے کہ اپنے مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر حریف طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھا جائے۔
خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں توازن کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان ہر معاملے میں دونوں فریق طاقتوں یعنی امریکہ اور چین، اور سعودی عرب اور ایران سب کو خوش کرنے کی کوشش کرے۔ یہ خارجہ پالیسی نہیں۔ حقیقی متوازن خارجہ پالیسی کا مطلب یہ ہے کہ جہاں قومی مفاد چین کے ساتھ تعاون کا تقاضا کرے وہاں چین کے ساتھ تعاون کیا جائے، جہاں امریکہ کے ساتھ تجارت یا سفارت کاری پاکستان کے مفاد میں ہو وہاں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات آگے بڑھائے جائیں، اور جہاں سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہوں وہاں دونوں کے ساتھ تعلقات کو اپنی جگہ برقرار رکھا جائے۔ ریاستی تعلقات میں اختلاف کی گنجائش بھی ہونی چاہیے اور تعاون کی بھی۔ کیونکہ
کسی ملک سے تعلقات استوار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر فیصلے سے اتفاق کیا جائے، اور کسی ملک سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ساتھ ہر دروازہ بند کر دیا جائے۔پاکستان کے لیے شاید یہی وہ سفارتی بلوغت ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
خارجہ پالیسی میں اصل کامیابی کسی ایک ملک کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنا نہیں، بلکہ اپنے قومی مفاد کے لیے زیادہ سے زیادہ سفارتی راستے کھلے رکھنا ہے۔ پاکستان کو بھی’’کیمپ‘‘ تلاش کرنے کے بجائے ’’گنجائش‘‘ تلاش کرنا ہوگی۔ ایسی سفارتی گنجائش جس میں پاکستان مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھ سکے، مگر اپنی سفارتی حکمت عملی کو کسی ’’یا یہ، یا وہ” کے تابع نہ بنائے۔
دنیا بدل رہی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں۔ اتحادوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے شاید سب سے دانش مندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ کسی ایک طاقت کے سائے میں اپنی جگہ تلاش کرنے کے بجائے متعدد طاقتوں کے درمیان اپنی جگہ خود متعین کرے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتے ہیں۔ مگر قومی مفاد، بدلتی ہوئی دنیا میں ریاست کو اپنا راستہ خود متعین کرنے اور اپنی قسمت خود لکھنے کی راہ دکھاتا ہے۔ بے شک یہی وہ راہ جس نے پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کو ایک اتحادی سے ایک ثالث بنا دیا ہے۔ مگر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔


