سرحد کے اُس پار سے کبھی گولوں کی گھن گرج سنائی دیتی، کبھی خودکار بندوقوں کی مسلسل تڑتڑاہٹ۔ پھر اچانک سب کچھ خاموش ہو جاتا۔
ایسی خاموشی، جس میں آدمی اپنے دل کی دھڑکن بھی سن لے۔
پاک افغان سرحد پر یہ روز کا معمول تھا۔
شیر ولی اپنے کچے مکان کے باہر چارپائی پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ سوچنا چاہتا تھا، مگر سوچ کے دروازے پر جیسے کسی نے اندر سے کنڈی لگا دی تھی۔
اس نے ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھا۔
فروری کی برف باری شروع ہونے والی تھی۔ اس سال گاؤں کے بوڑھوں نے پیش گوئی کی تھی کہ برف بہت پڑے گی۔ پہاڑ کئی دن تک سفید رہیں گے اور راستے بند ہو جائیں گے۔
شیر ولی کو اپنے مال مویشیوں کی فکر تھی۔
مگر یہ فکر بھی اس کے اندر موجود اس بڑے خلا کے سامنے بہت چھوٹی تھی جو کل سے اس کے سینے میں کھل گیا تھا۔
کل اس کا بیٹا مر گیا تھا۔
سترہ برس کا جوان۔
اس کی مسیں ابھی پوری طرح نہیں بھیگی تھیں، مگر وہ اپنے باپ سے اونچا ہو گیا تھا۔ چند دن پہلے ہی تو شیر ولی نے اسے ہنستے ہوئے کہا تھا
’’اب تو میرے کپڑے بھی تجھے چھوٹے لگنے لگے ہیں۔‘‘
وہ ہنسا تھا۔
اب وہ ہنسی اس کے گھر میں کہیں نہیں تھی۔
آج صبح اسے دفنا دیا گیا تھا۔
**********************
شیر ولی کا گاؤں میران شاہ سے کوئی سو کلومیٹر شمال میں، افغانستان کی سرحد کے قریب پہاڑوں کے درمیان واقع تھا۔ یہاں سرحد کوئی لکیر نہیں تھی۔ کبھی پہاڑ کے اُس پار سے لوگ اِدھر آ جاتے اور کبھی اِدھر کے لوگ اُس پار چلے جاتے۔ لکیر صرف نقشے پر تھی۔
ان پہاڑوں میں لمبے بالوں والے طالبان کے غول در غول گھومتے رہتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو جہادی کہتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ اسلام کے سچے سپاہی وہی ہیں۔
جس گاؤں کی طرف ان کا رخ ہو جاتا، اس گاؤں کے لیے ان کی مہمان نوازی فرض بن جاتی۔
دس دن پہلے وہ شیر ولی کے گھر بھی آئے تھے۔
ان کے امیر نے اس کے بیٹے کو دیکھا تھا۔
’’جوان ہو گیا ہے۔‘‘
شیر ولی خاموش رہا۔
’’اسلام کو ایسے جوانوں کی ضرورت ہے۔‘‘
شیر ولی نے نظریں جھکا لیں۔
’’یہ تمہارا بھی صدقۂ جاریہ ہوگا۔‘‘
اس نے بہت آہستہ سے کہا تھا
’’بچہ ابھی چھوٹا ہے۔‘‘
امیر ہنسا تھا۔
’’سترہ سال کا جوان چھوٹا نہیں ہوتا۔‘‘
شیر ولی نے پھر کچھ نہیں کہا۔
وہ لوگ چلے گئے تھے۔
اس نے سمجھا تھا کہ بات ختم ہو گئی۔
*********************
گاؤں سے دس کلومیٹر دور فوجی چھاؤنی تھی۔ وہاں سے کبھی کبھار فوجی دستے گاؤں میں آتے اور لوگوں کو خبردار کرتے
’’اپنے بچوں پر نظر رکھو۔ دہشت گرد انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ جو انہیں پناہ دے گا، اسے ملک دشمن سمجھا جائے گا۔‘‘
شیر ولی نے یہ بات کئی بار سنی تھی۔
اسے یہ بھی معلوم تھا کہ فوج کے لیے سرحد کے اُس پار سے آنے والا ہر مسلح آدمی دشمن تھا۔
اور سرحد کے اُس پار سے آنے والوں کے لیے شاید ہر فوجی دشمن تھا۔
مگر شیر ولی کے لیے دونوں طرف کے بندوق برداروں سے زیادہ اہم ایک ہی چیز تھی:
اس کا بیٹا۔
اسے سیاست نہیں آتی تھی۔
اسے سرحدوں کا علم نہیں تھا۔
وہ صرف یہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا صبح بکریاں لے کر پہاڑوں کی طرف جاتا ہے اور شام کو واپس آتا ہے۔
بس یہی اس کی دنیا تھی۔
**************************
اس شام بکریاں واپس آ گئیں۔
بیٹا نہیں آیا۔
پہلے شیر ولی نے سوچا، شاید دیر ہو گئی ہے۔
پھر اندھیرا بڑھنے لگا۔
گاؤں کے چند آدمی ٹارچ لے کر پہاڑوں کی طرف نکلے۔
وہ رات بھر تلاش کرتے رہے۔
صبح کے قریب ایک لڑکے نے دور سے آواز لگائی
’’مل گیا!‘‘
شیر ولی بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔
اس کا بیٹا ایک چٹان کے نیچے پڑا تھا۔
جسم موجود تھا۔
سر نہیں تھا۔
شیر ولی کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
پھر اس نے اپنے بیٹے کے جسم کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ہاتھ ٹھنڈا تھا۔
اس نے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
’’اٹھو۔‘‘
کوئی جواب نہیں آیا۔
’’چلو گھر چلتے ہیں۔‘‘
خاموشی۔
شیر ولی نے دوبارہ کہا
’’اٹھو بیٹا۔ سردی ہو رہی ہے۔‘‘
مگر اس بار بھی کوئی جواب نہیں آیا۔
اس کے اندر کچھ ٹوٹا۔
مگر آنکھوں سے آنسو نہیں نکلے۔
**********************
علاقے کے امام صاحب آگے بڑھے۔
انہوں نے شیر ولی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
شیر ولی نے خالی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
امام صاحب نے مضبوط لہجے میں کہا
’’وہ بے گناہ تھا۔‘‘
شیر ولی خاموش رہا۔
’’بے گناہ شہید ہوتے ہیں۔‘‘
شیر ولی اپنے بیٹے کے ہاتھ کو دیکھتا رہا۔
امام صاحب نے کہا
’’اور شہید کبھی مرتے نہیں۔‘‘
ہجوم میں کسی نے بلند آواز سے نعرہ لگایا
’’شہید!‘‘
دوسری آواز آئی
’’شہید!‘‘
پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں ایک ہی لفظ دہرانے لگا
’’شہید! شہید! شہید!‘‘
شیر ولی نے اپنے بیٹے کے بے سر جسم کو دیکھا۔
اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ اس کا بیٹا اب اس کا نہیں رہا۔
وہ گاؤں کا شہید بن چکا تھا۔
لوگ اس کے بیٹے کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ کیسے مرا۔
مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ باپ کیسے جیے گا؟
**********************
دفن کے وقت بھی یہی بات ہوتی رہی۔
’’شیر ولی خوش نصیب ہے۔‘‘
’’روزِ قیامت یہی بیٹا باپ کی شفاعت کرے گا۔‘‘
’’شہید زندہ ہوتا ہے۔‘‘
’’شہید مرتا نہیں۔‘‘
لوگ آتے رہے، دعائیں کرتے رہے، تسلیاں دیتے رہے۔
شیر ولی سب سنتا رہا۔
مگر اس کے اندر صرف ایک جملہ گونجتا رہا
میرا بیٹا مر گیا ہے۔
وہ کسی سے یہ بات کہہ نہیں سکتا تھا۔
کیونکہ ہر طرف سے اسے بتایا جا رہا تھا کہ:
نہیں، تمہارا بیٹا مرا نہیں۔
وہ شہید ہے۔
شام تک لوگ چلے گئے۔
صحن خالی ہو گیا۔
آوازیں ختم ہو گئیں۔
شیر ولی نے پہلی بار محسوس کیا کہ گھر کتنا بڑا ہے۔
اور کتنا خالی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’تو نے کیوں کیا؟‘‘
کوئی جواب نہیں آیا۔
اس نے دوبارہ دیکھا۔
’’میرا کیا قصور تھا؟‘‘
خاموشی۔
’’اس کا کیا قصور تھا؟‘‘
آسمان ویسا ہی خاموش رہا۔
اسی لمحے ایک بکری نے رسی تڑائی اور آہستہ آہستہ اس کے پاس آ گئی۔
شیر ولی نے اسے دیکھا۔
یہ وہی بکری تھی جسے اس کا بیٹا سب سے زیادہ چاہتا تھا۔
بکری نے اپنا سر شیر ولی کے سینے سے لگا دیا۔
شیر ولی نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھ دیا۔
کافی دیر تک دونوں خاموش رہے۔
پھر شیر ولی نے آہستہ سے کہا:
’’پتا ہے… کل میرا بیٹا مر گیا۔‘
بکری نے سر اٹھایا۔
اس کی آنکھیں ساکت تھیں۔
شیر ولی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
پھر بولا
’’لوگ کہتے ہیں وہ شہید ہے۔‘‘
وہ رکا۔
’’مگر میرا بیٹا مر گیا ہے۔‘‘
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
’’مجھے رونے بھی نہیں دیتے۔ کہتے ہیں شہیدوں کے لیے رویا نہیں کرتے۔‘‘
بکری اس کے اور قریب ہو گئی۔
شیر ولی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’تو ہی سن لے۔‘‘
وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا
’’تو تو انسانوں سے بہتر ہے۔‘‘
پھر اچانک اس کی آواز بدل گئی۔
’’وہ شہید نہیں تھا۔‘‘
اس نے دانت بھینچ لیے۔
’’وہ میرا بیٹا تھا۔‘‘
بکری خاموش رہی۔
’’وہ کسی کا سپاہی نہیں تھا۔ نہ کسی کا دشمن۔ وہ تو بکریاں چراتا تھا۔‘‘
اس کی آواز بلند ہونے لگی۔
’’کس نے مارا اسے؟‘‘
خاموشی۔
’’کس جرم میں مارا؟‘‘
خاموشی۔
’’کس خدا کے نام پر؟‘‘
ہوا تیز ہو گئی۔
آسمان سے برف کے پہلے گالے گرنے لگے۔
شیر ولی نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’کس سے پوچھوں؟‘‘
ایک برف کا گالا اس کی پلک پر آ کر ٹھہر گیا۔
’’کس سے پوچھوں کہ میرے بیٹے کا قصور کیا تھا؟‘‘
بکری نے اپنا جسم اس کے ساتھ لگا دیا۔
شیر ولی نے اسے دونوں بازوؤں میں بھینچ لیا۔
برف اب تیز ہو چکی تھی۔
گاؤں سفید ہونے لگا۔
پہاڑ سفید ہو گئے۔
راستے سفید ہو گئے۔
اس کے بیٹے کی قبر بھی سفید ہو گئی۔
شیر ولی کی داڑھی پر بھی برف جم گئی۔
وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اس کے اندر سے ایک چیخ نکلی۔
ایسی چیخ، جیسے کسی نے اس کے سینے کے اندر سے دل نوچ لیا ہو۔
وہ چیخ کر بولا
’’میرا بیٹا مر گیا ہے اسے مارا گیا ہے، وہ شہید نہیں ہے!‘‘
پہاڑ خاموش رہے۔
گاؤں خاموش رہا۔
بکری خاموش رہی۔
مگر آسماں برف برساتی رہی۔
شیر ولی نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اسے لگا، شاید آج پہلی بار کوئی اسے سن رہا ہے۔
شاید خدا بھی انسانوں کی طرح اسے یہ نہیں کہے گا کہ
’’مت رو… وہ شہید ہے۔‘‘
شاید خدا صرف اتنا کرے گا۔۔۔۔
کہ اسے رونے دے گا۔


