مجھے نہیں پتہ کہ میں اب ہوش میں ہوں، یا پہلے ہوش میں تھا!
میرے کان عجیب و غریب آوازوں سے گونج رہے ہیں
میری آنکھیں ہزاروں میل دور کیا کیا دیکھ رہی ہیں—
صوفوں پہ بیٹھا زمیندار اور تھکن سے چور کسان
چمکتی کار میں صنعت کار اور بس سے لٹکتا مزدور
بھاری توند والے سرمایہ دار اور بھوک سے مرتے ستواں اجسام
اونچے محلوں کے باسی اور جھگیوں میں رینگتے ہوئے کیڑے
فرانس کا پانی پینے والے وزرا اور پانی کو ترسنے والے غلام
تقریریں کرنے والے نمائندے اور ‘زندہ باد’ کے نعرے لگانے والے جہلا
طاقتور سرکار اور نہتے معصوم غربا
اکڑ کر چلنے والے افسران اور محکوم عوام
دس بجے آنے والے ڈاکٹر اور دور دیہات سے آئے ہوئے منتظر مریض
موٹی گردن والے مبلغ اور رحمان کے خوف سے سہمے ہوئے لاچار
اسلحے کا کاروبار کرنے والے ارب پتی اور بمباری سے بے گھر ہونے والے انسان
دندناتے ہوئے عزت لوٹنے والے مجرم اور کمزور، بے آواز مقہور
شرفا کے بچوں کے لیے خصوصی اسکول اور یتیموں کے لیے محض مدرسے
مستقبل کے حکمرانوں کی فرفر انگریزی اور رعایا کی بے زبانی!
؎
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے، خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی، گلتے ہوئے ناسوروں سے
(فیض احمد فیض)
یہ منظر ہر وقت میری آنکھوں کو سلگاتے ہیں
چیخ و پکار اور صدائیں ہر دم کانوں کو چیرتی ہیں
لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہوں
میں دیوانہ بن گیا ہوں میں بہکی بہکی گفتگو کرتا ہوں، مجھ سے دور رہو!
کیا ان کو پتہ ہے…
“صاحبِ ہوش وہی ہے کہ جسے ہوش نہیں!”


