کراچی کے مسائل پر بہت کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، ٹریفک کا بے ہنگم نظام، پانی اور بجلی کے بحران، کچرے کے ڈھیر، آلودگی، تجاوزات اور بارشوں میں ڈوبتی سڑکیں—یہ سب اب کراچی کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن کراچی کا بحران صرف شہری سہولتوں کی کمی کا بحران نہیں۔ یہ اس سوال کا بھی بحران ہے کہ شہر کی ترقی کا فیصلہ کون کرتا ہے، کس کے مفاد میں کرتا ہے اور اس کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔
22 ستمبر کو کراچی سٹیزنز فورم (KCF) کے اجلاس میں کراچی پورٹ سے قیوم آباد کوریڈور پراجیکٹ (KPQCP) پر ہونے والی گفتگو نے اسی بنیادی سوال کو پھر سامنے لا کھڑا کیا۔ اجلاس میں شہریوں، ماہرینِ ماحولیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے منصوبے کے ماحولیاتی اور سماجی و معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس کی صدارت نرگس رحمان نے کی، جو کراچی کے شہری مسائل اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔
سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ 65 ارب روپے کا یہ منصوبہ کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے؟ کیا کراچی پورٹ سے مال برداری کے لیے پہلے سے موجود راستوں اور انفراسٹرکچر کو بہتر اور جدید بنانے کے امکانات پوری طرح دیکھے گئے ہیں؟ اگر موجودہ سہولتوں کو اپ گریڈ کر کے مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے تو پھر ایک ایسے بڑے منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے جو شہر کے کئی آباد علاقوں، ماحول اور لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے؟
یہ سوال ترقی کی مخالفت نہیں بلکہ ترقی کے طریقۂ کار پر سوال ہے۔
مجوزہ کوریڈور DHA کے فیز 3، 4، 5، 6، 7 اور 8 کے علاوہ ملحقہ کلفٹن کے علاقوں سے گزرے گا۔ اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ، راستوں کی بندش اور روزمرہ آمدورفت میں خلل کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ وہ راستے ہیں جنہیں ہزاروں شہری روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے منصوبے کے اثرات صرف تعمیراتی مدت تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک مرتبہ انفراسٹرکچر بن جانے کے بعد شہر کی ٹریفک، آبادی اور ماحول پر طویل عرصے تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
لیکن اس منصوبے کا سب سے تشویش ناک پہلو شاید چینا کریک کے مینگرووز ہیں۔
مجوزہ منصوبے میں چینا کریک کے اندر چار سے پانچ میٹر بلند مٹی کا بند بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ مینگرووز محض چند درخت نہیں بلکہ کراچی کے ساحلی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ سمندری حیات اور پرندوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں اور قدرتی طور پر سیلاب، سمندری لہروں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بھی کسی حد تک تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر قدرتی ماحولیاتی نظام کو بچانے پر زور دیا جا رہا ہے تو ہم ایک ایسے قدرتی علاقے میں مٹی کا ایک بڑا بند کیوں تعمیر کرنا چاہتے ہیں جو پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے؟
چینا کریک کے قدرتی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ نہ صرف مینگرووز اور سمندری حیات کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے بلکہ بارشوں کے موسم میں کراچی کے پہلے ہی ناقص نکاسیِ آب کے نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ کراچی ہر سال اربن فلڈنگ کا سامنا کرتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی بڑے منصوبے کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ٹریفک یا مال برداری کا مسئلہ کس حد تک حل کرے گا، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ پانی کے قدرتی راستوں، نکاسیِ آب اور ساحلی ماحول کو کس حد تک متاثر کرے گا۔
یہاں ایک اور دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن چینا کریک میں Mangrove & Biodiversity Park and Learning Centre قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ اس علاقے کو ماحولیاتی تحفظ، عوامی آگاہی اور ایکو ٹورزم سے جوڑا جا سکے۔ دوسری طرف اسی علاقے میں ایسا انفراسٹرکچر بنانے کی تجویز ہے جس کے بارے میں ماہرین اور شہری حلقے مینگرووز کے لیے خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
آخر ہم کراچی کے ساحل کے بارے میں کیا وژن رکھتے ہیں؟
کیا ہم اسے کنکریٹ اور سڑکوں کا ایک اور میدان بنانا چاہتے ہیں، یا ایسا ساحلی خطہ جہاں شہری، ماحولیاتی نظام اور مقامی آبادی ایک ساتھ زندہ رہ سکیں؟
اس منصوبے کا سماجی پہلو بھی کم اہم نہیں۔
ایک طرف کوریڈور شہر کے نسبتاً خوش حال علاقوں DHA اور Clifton کے قریب سے گزرے گا، تو دوسری طرف اس کا راستہ بھٹہ ولیج اور گلشنِ سکندرآباد جیسی تاریخی ماہی گیر بستیوں سے بھی متاثر ہوگا۔ ان بستیوں کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف ’’غیر لیز شدہ‘‘ یا ’’غیر قانونی‘‘ آبادیوں کے طور پر دیکھنا ان کی کئی نسلوں پر محیط تاریخ اور روزگار کو نظرانداز کرنا ہے۔
کراچی کی ترقی میں سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والی آواز اکثر وہی ہوتی ہے جو سمندر سے جڑی ہوئی ہے۔ ماہی گیر برادری کے لیے زمین صرف زمین نہیں؛ وہ ان کا گھر، ان کا روزگار اور ان کی نسلوں کی شناخت ہے۔ اگر کسی ترقیاتی منصوبے سے ان کی روزی متاثر ہوتی ہے تو اسے محض ’’سائیڈ ایفیکٹ‘‘ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے علاوہ فضائی آلودگی، شور، ارتعاش، ٹریفک کے دباؤ اور کاروباری سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات بھی اہم سوالات ہیں۔ خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں کی صحت اور روزمرہ زندگی پر تعمیراتی اور بعد از تعمیر ٹریفک کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ چینا کریک پہلے ہی ایک شدید متاثرہ اور محروم ساحلی علاقہ ہے۔ تجاوزات، کٹاؤ، کچرے اور کراچی کے سیوریج اور صنعتی فضلے نے اس علاقے کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے علاقے کو مزید دباؤ میں ڈالنے کے بجائے شاید ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اسے بحال کیسے کیا جائے۔
کراچی کو انفراسٹرکچر ضرور چاہیے۔ بندرگاہ کو بہتر سڑکیں اور مال برداری کے مؤثر راستے بھی درکار ہیں۔ لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر قدرتی، تاریخی یا انسانی رکاوٹ کو راستے سے ہٹا دیں۔ ترقی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کتنے لوگوں کی زندگی بہتر بناتی ہے اور کتنے لوگوں کی زندگی کی قیمت پر۔
کراچی کے لیے منصوبہ بندی صرف انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں۔ یہ ماحول، معیشت، سماج، تاریخ اور شہری حقوق کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اسی لیے بڑے منصوبوں کے بارے میں فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ ماہرین، متاثرہ آبادیوں، شہری تنظیموں اور عام شہریوں کی بامعنی شرکت سے ہونے چاہئیں۔
کراچی کو ترقی چاہیے، لیکن ایسی ترقی جو اس کے سمندر کو تباہ نہ کرے، اس کے مینگرووز کو ختم نہ کرے، ماہی گیروں کے روزگار کو نہ چھینے اور ایک علاقے کا مسئلہ حل کرتے ہوئے دوسرے علاقے کے لیے نیا بحران پیدا نہ کرے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کراچی میں ترقی کس تصور کے تحت ہونی چاہیے—اور اس ترقی کی قیمت کون ادا کرے گا؟


