مدت ہوئی لاہور گردی کرتے ہوئے میں نے اپنے عزیز شاعر دوست علی اصغر عباس کو جب یہ خبر سنائی کہ چھوٹا بھائی ماجد یزدانی بھی شعر کہنے لگا ہے تو اس نے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہا:
’’اللہ یزدانی جالندھری صاحب پر رحم کرے۔‘‘
میں نے حیرت سے کہا: ’’ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟‘‘
تو قہقہہ لگا کر بولا: ’’بھائی، ہمارے یزدانی صاحب کو اب ایک اور اضافی غزل کہنا ہوگی۔ پہلے وہ خالد، ساجد اور تمہارے لیے لکھا کرتے تھے ، اب ماجد کے لیے بھی۔۔۔‘‘
اس پر میرے ردعمل کا جملہ سننے سے پہلے ہی وہ ٹی ہاؤس والی سڑک عبور کرگیا تھا۔ اس کا قہقہہ اتنا بلند تھا کہ سڑک کے اِس پار بھی سنا جاسکتا تھا۔
علی اصغر کا میں مزاج آشنا تھا جیسا کہ ہمارے اکثر دوست تھے وہ ڈاکٹر جاوید انور ہو یا عباس تابش، ضیا الحسن ہو یا امجد طفیل۔۔۔سبھی اصغر کی فقرہ بازی کی زد میں رہتے تھے۔
بعد ازاں شام ڈھلے لکشمی چوک سے مال روڈ کی طرف چہل قدمی کرتے ہوئے میں نے طارق کامران کو علی اصغر کا جملہ سنایا تو اس نے بھی قہقہہ بلند کیا اور یہ کہتے ہوئے تقریبا دوڑ لگا دی کہ ’علی اصغر نے کیا غلط کہا ؟‘‘
تفنن برطرف ایک وقت میں ایک ہی گھر کی چھت کے نیچے ایک ہی وقت میں چار شاعروں کا ’’پُرامن‘‘ انداز میں رہنا اور برس ہا برس رہنا اپنے طور ایک واقعہ تو تھا۔
حقیقت یہ کہ ہم کیا کتنے ہی شعرا تھے جو والد صاحب قبلہ یزدانی جالندھری صاحب سے مشورہ سخن کے لیے گھر یا ان کے دفتر آیا کرتے تھے۔ہم نے تو خیر قلم تھامنا اور حرف لکھنا انھی سے سیکھا اور اب تک ان کی شفیق اور گہری ادنی تربیت کا ثمر پارہے ہیں۔ آج محبت اور عزت کی جس چھاوں سے ہم استفادہ کررہے ہیں رہ گزار ادب میں وہ پیڑ درحقیقت والد صاحب کا لگایا ہوا ہے۔
میرے بھائی لکھتے ہیں، متواتر لکھتے ہیں اور متنوع اصناف میں لکھتے ہیں۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ لکھنے لکھانے کے شوق کے ضمن میں ہمیں گھر سے پچاس فی صد اجازت اور ہمت افزائی حاصل ہوپائی کہ امی جان ہم میں سے کسی کو بھی شاعر دیکھنا نہیں چاہتی تھیں۔ وہ والد صاحب کی درویشانہ طبیعت یعنی دنیاوی معاملات سے عدم دل چسپی اور غیرمستحکم معاشی وسائل کے سبب اکثر پریشان رہتیں۔ اور اس کا ذمہ دار وہ والد صاحب کے شاعری کے شوق کو ٹھہراتی تھیں۔ لہٰذا نہ وہ بڑے بھائی خالد یزدانی صاحب کے شاعر بننے پر خوش تھیں اور نہ میرے ذوقِ شعری پر۔ اور ظاہر ہے ان کا یہ ردِعمل فطری اور مبنی بر حقیقت بھی تھا۔ اتفاق دیکھیے کہ سوائے شاہد بھائی اور بہن انیسہ کے میرے سبھی بھائی کسی نہ کسی انداز میں تخلیق کاری سے منسلک ہوئے۔ انیسہ کے مزاج کو دیکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر وہ لکھنے کی طرف آتیں تو ایک اچھی طنز و مزاح نگار ہوتیں۔ ان کی طبیعت میں شگفتگی اور بات سے بات نکالنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ بہرحال انہوں نے گھر گرہستی کا میدان چنا اور اسی میں خوش ہیں۔ وہ ادب پڑھتی رہتی ہیں اور عمدہ ذوقِ مطالعہ رکھتی ہیں۔
شاہد بھائی خود تو نہیں لکھتے مگر لکھنے والوں سے ربطِ خاطر ضرور رکھتے ہیں۔ لاہور کی ادبی ثقافتی شخصیات سے بھی ان کی دوستی رہی اور اہم تقریبات میں وہ شریک بھی ہوتے رہے۔ پھر نیویارک جا بسے اور وہاں بھی لکھاریوں سے رابطہ رہا۔ کینیڈا آنے کے کچھ عرصہ بعد جب پہلی بار میں ان سے ملنے امریکہ گیا تو انھوں نے نہ صرف مجھے نیویارک کے ادیبوں اور صٖحافیوں سے ملوایا بلکہ حلقہ اربابِ ذوق نیویارک کے ایک مشاعرہ میں بطور مہمان شاعر بھی شریک کروا دیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ وہاں کی ادبی و ثقافتی زندگی میں خاصے فعال ہیں۔ میرا دوسرا شعری مجموعہ ”گہری شام کی بیلیں“ انھی کی وساطت سے شمالی امریکہ پہنچا۔
باقی رہا ذکر خالد، ساجد، راشد اور ماجد کا تو وہ سبھی شاعری کرتے ہیں۔ خالد بھائی کے تو بیٹے بھی، ماشا اللہ، صاحبِ دیوان شاعر ہیں۔ اور پھر ہم سبھی صحافت کے شعبہ سے بھی منسلک رہے یا اب بھی ہیں۔ ہمارے ایک صحافی دوست ایک بار ازراہِ تفنن کہنے لگے کہ صحافت میں دو فیملیز کی اجارہ داری ہے۔ ایک ’نظامی فیملی‘ کی اور دوسرے ”یزدانی فیملی“ کی، بلکہ دیکھا جائے تو یزدانی فیملی کے زیادہ ارکان عملی صحافت میں ہیں۔
یہ بات تو بس یونہی برسبیل تذکرہ آ گئی۔
میں بتانا یہ چاہتا تھا کہ میرے شاعری شروع کرنے سے پہلے خالد بھائی ہی والد صاحب کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کو جایا کرتے تھے۔ وہ ہائی سکول میں عارف عبد المتین صاحب کے شاگرد رہے۔ خالد بھائی کی نظمیں اس دور کے بچوں کے جرائد میں تسلسل سے شائع ہوتی تھیں۔ میں اپنے سکول کی ہفتہ وار بزمِ ادب میں اکثر ان کی نظمیں اپنی طرف سے سنا کر شاباش حاصل کیا کرتا تھا۔ مقطع میں خالد کو حامد کرنا کیا مشکل تھا! (مسکراہٹ) ۔ وہ تو ایک روز والد صاحب کے ہاتھ میری ’بیاض‘ لگ گئی تو انھوں نے سمجھایا کہ اپنا نام لکھ دینے سے تخلیق اپنی نہیں ہو جاتی۔ خود لکھنا ہوتا ہے۔ یہ بات سمجھنے میں مجھے کچھ وقت لگا مگر میں سمجھ گیا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو اپنی نظمیں میں بھی رسالوں کو بھیجنے لگا جو اکثر شائع بھی ہو جاتی تھیں۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ میں نے بچوں کی لیے اتنی نظمیں نہیں لکھیں جتنی خالد بھائی نے لکھی ہیں۔ شعری مجموعے کے ساتھ ساتھ خالد یزدانی صاحب کی کئی ایک کتابیں نثر میں بھی شائع ہو چکی ہیں جن میں سے بیشتر قومی و بین الاقوامی سیاسی موضوعات پر ہیں۔ خالد پاکستان اور بیرون ملک بہت سے مشاعروں میں شریک ہوچکے ہیں اور ادبی اعزازات بھی پا چکے ہیں۔ انھوں نے ادبی جرائد کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے ہیں اور اخبارات میں عملی صحافت بھی کی ہے۔ خالد بھائی کی بنیادی پیشہ ورانہ تربیت تو فلمی عکاسی میں ہے مگر عملی طور پر وہ صحافی ہی بن گئے۔شاعری کے علاوہ ان کی کتابوں کو موضوعات حالات حاضرہ کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔ ان کی ایک کتاب ہے اقبالیاتی مصوری اور اسلم کمال جو معروف مصور اور خطاط اسلم کمال کے فن اور کلامِ اقبال پر کی جانے والی مصوری کے حوالے سے لکھی گئی ہے۔ وہ میری تحریروں کی حوصلہ افزائی ہی کرتے رہے اور آج تک کر رہے ہیں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے۔
خالد کی طرح ساجد، راشد اور ماجد بھی ادب و صحافت سے منسلک ہیں۔
ساجد بھائی نے فلم ایڈیٹنگ اور ڈائریکشن کی تربیت حاصل کی۔ کچھ فلموں میں معاونت بھی کی مگر پھر کُل وقتی ثقافتی صحافی بن گئے اور بہت نام کمایا۔ اُن کی شاعری محبت کی شاعری ہے اور اندازِ بیاں کومل اور دل کش۔ افسوس، انھوں نے ادب کم کم لکھا۔ اُن کی زیادہ توجہ لاہور اور کراچی سے شائع ہونے والے ممتاز فلمی جرائد کے لیے لکھنے کی جانب رہی کہ انھی سے ان کا روزگار وابستہ تھا۔ ساجد نے کئی ایک سٹیج ڈرامے بھی لکھے اور ڈائریکٹ کیے جنھیں پاکستان کے مختلف شہروں میں سٹیج کیا گیا۔ ساجد فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ایک سے زیادہ بار صدر منتخب ہوئے، خالد کی طرح وہ بھی لاہور پریس کلب کے تاحیات رُکن ہیں۔ ثقافت اور فلمی صنعت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں متعدد اعزازات مل چکے ہیں۔ مجھے یاد ہے یہ ساجد بھائی ہی تھے جن کے ساتھ میں پہلی بار ریڈیو پاکستان لاہور گیا تھا بچوں کے ہفتہ وار پروگرام میں شرکت کے لیے۔ اور پھر بعد ازاں انھی کے ساتھ میں پہلی بار فلم سٹوڈیو کی سیر کی اور فلمی کارکنوں اور ’ستاروں‘ سے ملا۔ وہ جس جریدہ کی ادارت پر مامور ہوتے مجھے بھی اس میں لکھنے کی دعوت دیتے۔ساجد ان دنوں ایک ٹی وی چینل سے منسلک ہیں جس پر وہ پاکستان کی فلمی شخصیات کی زندگیوں پر بات کیا کرتے ہیں۔
راشد نے بھی ایک دور میں شاعری کی۔ پھر غالباً ترک کردی یا شاید میری معلومات محدود ہوں اور وہ اب بھی مشقِ سخن کرتے ہوں۔ راشد کی شخصیت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ گھر کے کام کاج میں بھی ماہر ہیں۔ بچپن میں بھی امی جان کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ سُنا ہے کہ اب تو کھانا بھی خوب اچھا بنا لیتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد راشد بنکاری کے شعبہ سے منسلک ہو گئے اور پھر وہ بھی الیکٹرانک میڈیا کی جانب آ گئے۔ وہ مجھ سے چھوٹے ہیں اور ایک دور میں ہم دونوں دن کا زیادہ وقت ایک ساتھ گزارا کرتے تھے۔ سکول سے واپسی پر اکٹھے کھیلنے جاتے، مل کر والد صاحب کے دفتر جاتے، وہاں سکول کا کام بھی کرلیتے اور والد صاحب کو کھانا بھی پہنچا دیتے۔ سکول ہی کے دنوں میں ہم دونوں نے مل کر ”الاخلاق“ کے نام سے ایک رسالہ بھی جاری کیا تھا جس میں راشد کا نام معاون مدیر کے طور پر شامل تھا۔ ہم دونوں مل کر اسے تیار بھی کرتے اور تقسیم بھی کرتے۔ میں ان دنوں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ پھر انھی دنوں مل کر ”گیلان آرٹس سوسائٹی“ قائم کی اور اس کے تحت چند ایک ڈرامے بھی سٹیج کیے جنھیں لکھا بھی ہم نے تھا اور فن کار بھی ہم ہی تھے۔ اہلِ محلہ نے انھیں دیکھا اور حوصلہ افزائی کی۔ راشد کرکٹ کے بھی بہت اچھے کھلاڑی ہیں۔ میڈیم پیس باؤلر اور با اعتماد بلے باز۔ انھی کے اصرار پر مجھے محلہ کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بھی بننا پڑا ورنہ میں اچھا کھلاڑی ہرگز نہ تھا۔
راشد کی طرح ماجد یزدانی بھی کرکٹ کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں۔ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شان دار کرتے ہیں۔ میں انھیں اچھا آل راؤنڈر کہہ سکتا ہوں۔ جہاں تک ادب کا تعلق ہے تو ماجد کے تو شعری مجموعے بھی شائع ہوچکے اور اہلِ ادب سے داد و تحسین حاصل کرچکے۔ ماجد بھی صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور وقتاً فوقتاً کالم نگاری بھی کرتے ہیں۔ وہ لاہور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقدہ مشاعروں میں بھی اپنا کلام سنا چکے ہیں اور بھارت اور برطانیہ میں بھی پاکستانی ادیبوں کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ماجد نے ’سید پبلشرز‘ کے نام سے قائم اپنے اشاعتی ادارہ سے کئی کتابیں شائع کی ہیں۔ماجد ان دنوں روزنامہ نوائے وقت سے منسلک ہیں۔
ان کی تصانیف میں کوئی موسم تو ایسا ہو، اک اجنبی سی لڑکی، تنہا تنہا دل، ادب نما، کشمیر لہوہو اور لندن سے مانچسٹر تک شامل ہیں۔
ہم سب بھائی ایک سے شعبوں ہی سے منسلک رہے یا ہیں مگر خوش گوار اور دل چسپ بات یہ کہ ہم میں نہ کبھی معاصرانہ چشمک کی صورت پیدا ہوئی اور نہ حسد اور جلن کی ورنہ ہم عصروں میں مقابلہ بازی کی صورت تو عام دیکھنے میں آتی ہے۔ باہم محبت کا یہ پائیدار احساس ضرور ہمارے والدین کی محبت کی دین ہے۔ ان دونوں کی طبیعت اور شخصیت ایسی تھی کہ وہ ہمیں دوسروں سے خواہ مخواہ مسابقت یا مقابلہ بازی کی ترغیب نہیں دیتے تھے۔ بس اپنی منزل پر توجہ مرکوز کرنے کو کہتے تھے اور سچی محنت کی تلقین کرتے تھے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ مقابلہ بازی کی فضا بعض اوقات بہتر تخلیق کی ضامن بھی تو ٹھہرتی ہے۔ ہمارے ادبی دوستوں کے درمیان تو بعض اوقات بہت شدت اختیار کر جاتی تھی۔ ہر کوئی دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوشاں رہتا تھا۔ اچھے سے اچھا شعر کہنے کی کوشش۔ اساتذہ فن سے داد پانے کی خواہش۔ بعض دوست تو ادبی گروہ بندی کا حصہ بننے میں بھی عار محسوس نہ کرتے تھے کیوں کہ اس سے انھیں ان کے ادبی کیریر میں ترقی ملتی دکھائی دیتی تھی۔ تاہم ہم بھائیوں میں سے نہ کوئی گروہ بندی کی شدت پسندی کا شکار ہوا اور نہ ہی ہمارے درمیان جلن یا حسد کی ایسی فضا کبھی پیدا ہوئی جو ہمارے تعلقات کو منفی انداز میں متاثر کرتی۔ یہ قدرت کا ایک انوکھا انعام ہے کہ میرے بھائی میرے اچھے اور مخلص دوست بھی ہیں۔ میں ان کے لیے دل سے دعا گو رہتا ہوں۔
سچی بات یہ ہے کہ میں نے اپنے بھائیوں سے زندگی کے مختلف مراحل میں بہت کچھ سیکھا اور ان کی صلاحیتوں، خوبیوں اور قربتوں سے خوب استفادہ کیا۔ میں نے انھیں محبت کرنے والا، مخلص اور نرم دل پایا۔
’’مکالمہ‘‘ پر ’’مجھے یاد ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے میرے یاد نامہ جو اب ’’سوسن کے پھول‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوچکا، اس کے اوراق بھی بچپن سے اب تک ہماری برادرانہ محبت کے گواہ ہیں۔ والد صاحب اور خاندان کی یادوں پر مشتمل اس کتاب کا انتساب بھی میرے بہن بھائیوں کے نام ہے۔
میں ان سب کے بارے میں سوچتا ہوں تو دل کو بہت تقویت و طمانیت حاصل ہوتی ہے اور یہ خاص احساس بھی ابھرتا ہے کہ ہم نے ایک علمی و ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور درویش صففت مگر محنتی والدین کے زیر سایہ تربیت پائی۔ جن کے سکھائے زندگی کے اصول اپنانے کی کوشش ہم اب تک کررہے ہیں اور بالخصوص والد صاحب کے فکری و قلمی سفر کا جاری و ساری رکھنے میں کوشاں ہیں۔ یہ احساس اعزاز دراصل مقامِ شکر ہے۔



“علی اصغر نے ویسے کیا غلط کہا ” نے بہت لطف دیا۔ یزدانی جالندھری صاحب کی جلائی ہوئی شمعیں اب سارے جگ میں روشنی کی کرنیں بکھیر رہی ہیں۔ اللہ یزدانی صاحب کی روح کو آسودہ رکھے۔ آپ کے علمی گھرانہ کی خدمات ادب میں یاد رہیں گی۔
بہت شکریہ، بہت نوازش، احمد رضوان بھائی۔ سلامت رہیں۔
میں اس تحریر کی اشاعت کے لیے آپ کی وساطت سے اسما صاحبہ کا بھی تہ دل سے شکرگزارہوں ۔
اسلام آباد سے جناب افتخار عارف:
“ خانہ تمام آفتاب است”
لاہور سے جناب احسن بٹ:
“ خوش گوار تاثر قائم کرنے والا مضمون پہلے جملے سے آخری حرف تک قاری کی توجہ جذب کرنے والا ہے۔ مجھے تو ایک ایک جملہ ان وقتوں میں لے جاتا رہا جن کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اگر آپ چاہتے تو ہر پیراگراف اپنی جگہ ایک باب بن جاتا اور یادیں بھرپور تفصیل سے بیان کی جاتیں۔ جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ آپ سب بھائیوں میں حسد اور مقابلہ بازی کا نہ ہونا ہے۔ کم گھرانے اس سے بچ پاتے ہیں۔”