خیال اور احساس کی دنیا/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

انسان اور حیوان دونوں اللہ کی مخلوق ہیں۔ لیکن دونوں میں کئی اعتبار سے واضح فرق موجود ہے۔ چونکہ انسان کو خالق کائنات نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اس لئے اس کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں صفات اور خصوصیات کے حوالے سے فضیلت و تفوق کا اعزاز حاصل ہے۔ انسان کے اندر ذہنی صلاحیت، سوچ بچار، سوجھ بوجھ اور خیال کی پختگی اسے حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ انسان اللہ کی ودیعت کردہ خوبیوں اور اوصاف کا صحیح استعمال کرتا ہے تو کامیابی اور نیک نامی اس کے قدم چومتی ہے۔ انسان صفائی، پاکیزگی اور اپنی اچھی صحت و نشو نما کے لئے بہترین وسائل اور سہولتوں سے استفادہ کرتا ہے جب کہ حیوا نات ان خصوصیات کے مطلق حامل نہیں ہوتے یا ان کا استعمال کم سے کم کرتے ہیں کیونکہ ان میں خیال اور احساس کا وہ مادہ نہیں ہوتا جو انسانوں کا طرہ امتیاز پے۔

انسان میں سوچنے کی حس اور اظہار خیال کی صلاحیت بنیادی طور پر قدرتی عطیہ ہوتی ہے لیکن اس کی مقدار آور نوعیت ہر انسان میں مختلف ہوتی ہے۔ یعنی کوئی ذہنی قابلیت، لیاقت اوراذن سے مالا مال ہوتا ہے اور کوئی احساس، خیال اور دانشورانہ صفات کے اظہار میں پست ہوتا ہے۔ اسی طرح اظہار و کردار کے ضمن میں اس کے اندر مثبت اورمنفی دونوں قوتیں کار فرما ہوتی ہیں۔ کہیں یہ محبت، شائستگی، تحمل اور احترام کا روپ اختیار کرتی ہیں اور کہیں نفرت، لالچ، غصے اورجبر جیسے جذبات کی مظہر ہوتی ہیں۔ البتہ بہت سے ایسے عوامل ہیں جو خیالات اور احساسات کو بہتر شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مثلآ والدین کی جانب سے اچھے اوصاف واخلاق اور تعلیم و تربیت کی موجودگی اور مناسب ماحول انسان کی کیفیات کو خوبصورتی سے ہم کنار کرتا ہے۔ جبکہ تعلیم و تربیت کے فقدان اور نا مناسب ماحول میں نفرت ، استحصال اور نا انصافی جیسی خرابیاں جنم لیتی ہیں جو نا پسندیدہ سمجھی جاتی ہیں۔

یہ خیال رہے کہ گفتگو احساس اور خیال کے بارے میں ہو رہی ہے میرے خیال میں خیال اور احساس دونوں کا عمل دخل کسی شخص میں نہ ہو تو وہ آدمی تو ہو سکتا ہے لیکن انسانیت کے حوالے سے انسان کے درجے پر مکمل طور پر فائز نہیں ہوتا۔ آپ کیا سوچتے ہیں کہ احساس اور خیال کا گہرا تعلق سوچ، سوجھ بوجھ اور سمجھداری سے ہوتا ہے۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہیں گے کہ جو سمجھ سمجھ کے بھی نہ سمجھ سکے، وہ میری سمجھ میں نا سمجھ۔ ہے۔ آپ اس بارے میں جو بھی سمجھتے ہیں آپ کو اس کا پورا حق حاصل ہے۔ خیال پختہ ہو تو وہ انسان کو ایسا سہارا مہیا کرتا ہے جو ہمیں خواب وخیال کی دنیا سے باہر نکالتا ہے۔ جب انسان کے دل میں کوئی خیال آتا ہے (اگرچہ خیال دل میں نہیں دماغ میں آتا ہے) تو ہم اس کا رومانوی اظہار یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ
” کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لئے “, گویا خیال ایک پیار، محبت، الفت اور وفا کے جذبے کی چاشنی سے میٹھا ہو جاتا ہے۔

خیال کا تقاضہ ہوتا ہے کہ ہم صرف اپنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔ کیونکہ ” ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا۔ دوسروں کے دکھ درد کا احساس اور تکلیف کے مداوا کا خیال ہوگا تو اس سمت میں قدم اٹھ سکے گا۔ ورنہ انسان اس خیال کا حامل متصور کیا جاۓ گا جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ” جب اس دنیا میں آۓ ہیں تو کھاؤ، پیو عیش کرو”۔ خیال شائد موسیقی یا پکے راگ کی ایک قسم ہے۔ لیکن خیال کا سب سے زیادہ استعمال اہل سخن کرتے ہیں۔ خیال مصرعوں اور شعروں کو تخلیق کرتے ہیں، کہانی، افسانہ نگاروں، ناول لکھنے والوں، مضمون و کالم نویسوں کو فکری غذا فراہم کرتے ہیں، مصوروں اور ماہر کاری گروں کے شاہکاروں کی تخلیق کو حسن زیبا دیتے پیں۔ آپ اس خیال سے اتفاق کریں یا نہ کریں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب تک ذہن میں خیال کی آمد نہ ہو تو کوئی بھی کام سرانجام نہیں دیا جاسکتا۔ ارادہ خیال کی کوکھ سے ہی جنم لیتا ہے۔ کس نے کس کو نیچا دکھانے کے لئے فالس فلیگ آ پریشن کے ذریعے جنگ مسلط کرنی ہے یا کون امن کا نوبل عالمی ایوارڈ پانے کے لئے جنگیں رکوانے کے لئے سرگرم ہو, یہ تمام سرگرمیاں خیال کی ہی مرہون منت ہوتی ہیں۔

بہت سے صحا فی، تجزیه کار اور ٹی وی پروگراموں کے میزبان جب بھی کسی سیاسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو حقیقت کے اظہار اور قطیعت سے اجتناب کرتے ہوۓ اپنی گفتگو کا آغاز ” میرے خیال میں” کے سابقے کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں انکے غلط تجزئے پرکسی تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خیال اچھا ہو تو گمان بھی اچھا ہوتا ہے۔ یہ خیال کی اچھائی ہے کہ ہمارے کچھ شاعروں کا تخلص خیال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی کے ساتھ غمگساری کرتے وقت یا کسی کی بیماری پر عیادت کو جائیں تو اس خیال سے گفتگو میں ہلکا پھلکا مذاق ضرور کریں تاکہ مریض کا دل بہل جاۓ اور مریض کی بیماری سے مریض کا خیال بٹ جاۓ۔ یہ خیال رکھنے کے مترادف ہے۔ تو پھر کہہ دینے میں کیا حرج ہے کہ یہ خیال اچھا ہے۔ یہ ہماری خام خیالی ہے کہ خیال کیسا بھی ہو وہ اچھا ہوتا ہے۔ خیالات اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ اس لئے برے خیالات کو ذہن سے جھٹک دینا چاہئے۔ کیا خیال ہے؟ بے خیالی میں کہی گئی غلط بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ بولنے سے پہلے خیال کریں کہ مونہہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو کسی کی دل آزاری کا باعث بنے۔ ویسے ایسی وضع داری اور خیال فرمائی اب خواب و خیال ہو گئی ہے۔

کتنا اچھا ہو کہ ہم سب ناصرف اپنا خود خیال رکھیں تاکہ آپے سے باہر نہ ہوں۔ کھیلیں تو سہی، مگر کھلواڑ نہ کریں۔ اپنے بہن بھائیوں، والدین، دوست احباب، خورد و کلاں اعزاء کا، ،شوہر بیگمات کا اور بیگمات اپنے شوہروں کا دل و جان سے خیال رکھیں۔ داماد ہوں یا بیٹوں کی بیویاں، سب اپنے سسرال والوں کا خیال رکھیں تاکہ خاندانی جھگڑے ختم ہو جائیں۔ اساتذہ کی تکریم کا خیال رکھیں کہ وہ اچھے سلوک کے مستحق ہیں، اور ہمسایوں کا خیال رکھیں۔ تاجر حضرات اور دکاندار اپنے گاہکوں کا خیال رکھیں، ان سے جھگڑیں نہیں۔ سیاستدان ملک و قوم کا خیال رکھیں، برسر اقتدار طبقہ غریب عوام کا خیال رکھیں اور عوام کو چاہئے کہ وہ وطن کی سر بلندی کا حتی الوسع خیال رکھیں۔ اتفاق، اتحاد اور غیرت ملی کا خیال کریں۔ اس طرح ہماری بہت سی خرابیاں حسن خیال سے ختم ہو جائیں گی۔ خیال محبت ہو تو دنیا فقط پیار ہی پیار ہے ورنہ سب کچھ بیکار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں