وطن سے محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے اندھیروں پر خاموش نہ رہا جائے۔ چراغ جلانے والوں کی تحسین ضرور کیجیے، مگر چراغ کے نام پر وصول ہونے والی قیمت کا حساب بھی مانگیے۔ یہاں تو عجب دستور ہے؛ صارف بل کی تاریخ بھول جائے تو جرمانہ، منصوبہ اپنی تکمیل کی تاریخ بھول جائے تو نیا تخمینہ! گھر کا بجٹ بگڑے تو کفایت شعاری کا مشورہ ملتا ہے، منصوبے کا بجٹ بڑھے تو قوم سے مزید انتظار مانگا جاتا ہے۔
نندی پور یاد ہے؟ 425 میگاواٹ کے اس منصوبے کو 2007 میں منظوری ملی اور تجارتی پیداوار جولائی 2015 میں شروع ہوئی۔ 2015 کی مالی تفصیلات میں 2008 سے 2015 تک سود اور مالیاتی چارجز ہی 14.345 ارب روپے بتائے گئے تھے۔ اس پرانی داستان کو دہرانا مقصود نہیں؛ اتنا یاد دلانا ہے کہ تاخیر کی بھی قیمت ہوتی ہے، اور وہ آخرکار کسی نہ کسی صورت قوم ہی ادا کرتی ہے۔ اب داسو، مہمند اور دیامر بھاشا کے سامنے یہی سوال کھڑا ہے: کیا ہم نے ماضی سے کچھ سیکھا؟
میں اپنے وطن کے دریاؤں کو توانائی بنتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ پہاڑوں کے سینے میں اترتی سرنگیں، پانی کا زور سنبھالتے بند اور بجلی پیدا کرتی مشینیں قومی امید کے مناظر ہیں۔ لیکن ان مناظر کا رشتہ اس گھر سے بھی تو جڑیے جہاں بجلی جاتے ہی پانی کی موٹر رک جاتی ہے، بچے کی نیند ٹوٹتی ہے اور صبح مزدوری پر جانے والا رات بھر کروٹیں بدلتا ہے۔ ترقی کا اعلان اس کے دروازے تک پہنچتا ہے؛ ترقی کا فائدہ کب پہنچے گا؟
پہلے موجودہ بحران کو سمجھیے۔ 29 اگست 2026 کو پاور ڈویژن نے بتایا کہ آر ایل این جی دستیاب نہ ہونے اور کارگو میں تاخیر سے رات کے زیادہ طلب والے اوقات میں 3,600 میگاواٹ کی پیداواری کمی ہوئی۔ منگلا کی پیداوار میں مزید 195 میگاواٹ کمی بھی بتائی گئی۔ اسی دوران 30 اگست کی خبروں میں مجموعی شارٹ فال تقریباً 4,000 میگاواٹ رپورٹ ہوا۔ یہ مخصوص دنوں کی صورتِ حال ہے، پورے سال یا ہر گھنٹے کا مستقل شارٹ فال نہیں۔
31 اگست کو وزیرِ توانائی نے رات کی طلب 20,000 سے 25,000 میگاواٹ بتائی اور کہا کہ دن میں سپلائی کا شارٹ فال نہیں۔ پھر 11 ستمبر کو وزیراعظم کو لوڈشیڈنگ 2 گھنٹے تک محدود رکھنے کی ہدایت دینا پڑی۔ اس سے واضح ہے کہ سوال صرف بجلی گھر گننے کا نہیں؛ ضرورت کے وقت ایندھن، دستیاب پیداوار اور صارف تک ترسیل کا بھی ہے۔
قوم کو بتایا جاتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یقیناً ہوگی، مگر ایندھن کے بغیر مشین اور راستے کے بغیر پیداوار کس گھر کا پنکھا چلائیں گے؟ صارف نصب شدہ میگاواٹ استعمال نہیں کرتا، اسے اپنے میٹر تک پہنچنے والی بجلی درکار ہوتی ہے۔ حکومت کی کامیابی اسی آخری فاصلے پر پرکھی جائے گی۔
سوکی کناری اس بحث کی ایک اہم مثال ہے۔ خیبرپختونخوا میں دریائے کنہار پر قائم 884 میگاواٹ کا یہ منصوبہ ستمبر 2024 میں فعال ہوا۔ سی پیک ریکارڈ میں تکمیل 13 ستمبر جبکہ پی پی آئی بی میں کمیشننگ 14 ستمبر درج ہے۔ پی پی آئی بی اس کی لاگت 1.963 ارب ڈالر بتاتا ہے۔ رقم کا حجم سمجھنے کے لیے ڈالر 280 روپے فرض کریں تو تقریباً 549.6 ارب روپے بنتے ہیں؛ یہ صرف تقابلی تبدیلی ہے، منصوبے کا آڈٹ شدہ تاریخی روپیہ خرچ نہیں۔
سوکی کناری کی متوقع سالانہ پیداوار تقریباً 3.212 ارب یونٹ ہے۔ اسے تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ عملی اضافہ ہے، محض آئندہ کا اعلان نہیں۔ لیکن 884 میگاواٹ کی صلاحیت کا مطلب ہر موسم، ہر گھنٹے اتنی ہی پیداوار نہیں۔ دریا کا بہاؤ اور مشینوں کی دستیابی بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ عوام کو اب یہ جاننے کا حق ہے کہ منصوبہ عملاً کتنے یونٹ دے رہا ہے اور اس کا فائدہ بجلی کی مجموعی لاگت میں کہاں دکھائی دیتا ہے۔
داسو کی طرف آئیے، جہاں سرمایہ بھی بڑا ہے اور انتظار بھی۔ پہلے مرحلے کی صلاحیت 2,160 میگاواٹ اور متوقع سالانہ پیداوار تقریباً 12 ارب یونٹ ہے۔ اپریل 2025 کی سرکاری منصوبہ بندی کارروائی میں اس مرحلے کا نظرثانی شدہ تخمینہ تقریباً 1,737.9 ارب روپے سامنے آیا۔ مئی 2026 میں قومی اسمبلی کو فراہم کردہ معلومات کی رپورٹنگ بھی تقریباً 1,737 ارب روپے بتاتی ہے، جبکہ سابق تخمینہ 486.093 ارب روپے تھا۔ یوں اضافہ تقریباً 1,251 ارب روپے بنتا ہے۔
یہاں قلم رکنا نہیں چاہیے۔ قومی منصوبے کی لاگت اتنی بڑھے تو سوال بھی اسی سنجیدگی سے اٹھنا چاہیے۔ ضرور بتایا جائے کہ کتنا اضافہ روپے کی قدر گرنے سے ہوا، کتنا تعمیراتی اشیا مہنگی ہونے سے، کتنا مالیاتی اخراجات اور کتنا تاخیر سے۔ ہر اضافے کو بدعنوانی کہنا غیرذمہ داری ہے، مگر ہر اضافے کو ناگزیر کہہ کر جواب دہی سے نکل جانا بھی قبول نہیں۔
داسو کے لیے پرانی معلومات میں 2027 ملتا ہے، لیکن واپڈا کی 15 فروری 2026 کی پیش رفت اطلاع پیداوار کا آغاز 2028 بتاتی ہے۔ اور مسئلہ صرف ڈیم کی تعمیر تک محدود نہیں۔ 25 ستمبر 2026 کی تازہ رپورٹ کے مطابق داسو سے مانسہرہ کی 157 کلومیٹر، 765 کلووولٹ ترسیلی لائن کے پہلے پیکیج کی مجموعی عملی پیش رفت 46 فیصد ہے۔ اس کی معاہداتی تکمیل 9 جون 2026 تھی، اب متوقع تاریخ 30 جون 2028 ہے۔
افتتاح کی تصویر میں بجلی گھر آجاتا ہے؛ اس سے صارف تک کا فاصلہ اکثر نظر نہیں آتا۔ بجلی گھر اور ترسیلی لائن کے نظام الاوقات ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہوں تو قوم کے سرمائے سے مکمل فائدہ کیسے اٹھایا جائے گا؟ ہمیں تعمیر کے ہر مرحلے کی خبر کے ساتھ یہ یقین بھی چاہیے کہ پیدا ہونے والی بجلی کے لیے راستہ تیار ہوگا۔
داسو سے آگے بڑھیے تو مہمند بھی اپنے بڑھتے ہوئے تخمینے کے ساتھ جواب چاہتا ہے۔ 800 میگاواٹ کے اس منصوبے کی منظور شدہ ابتدائی لاگت 309.558 ارب روپے تھی۔ مئی 2026 میں وزارتِ آبی وسائل کی قومی اسمبلی کو دی گئی معلومات کے مطابق نظرثانی شدہ تخمینہ 665.743 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ فرق تقریباً 356.185 ارب روپے ہے۔ اس وقت نظرثانی شدہ پی سی ون منظوری کے لیے زیرِ غور بتایا گیا تھا، اس لیے نئی تخمینی رقم اور حتمی منظور شدہ لاگت کو ایک نہ سمجھا جائے۔
واپڈا اب مہمند سے پیداوار کا آغاز 2028 کے اوائل میں بتاتا ہے۔ متوقع سالانہ پیداوار تقریباً 2.86 ارب یونٹ ہے، جبکہ سیلابی خطرے میں کمی اور پانی کی فراہمی بھی اس کے مقاصد ہیں۔ اسے محض بجلی گھر سمجھ کر جانچنا درست نہیں، مگر اس کے متعدد فوائد تاخیر کے متعدد نقصانات بھی واضح کرتے ہیں۔ ڈیم مؤخر ہوتا ہے تو صرف یونٹ نہیں رکتے، پانی اور تحفظ سے وابستہ امیدیں بھی انتظار کرتی ہیں۔
دیامر بھاشا کو بھی پرانے تخمینے پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ جولائی 2026 میں وزارتِ آبی وسائل سے منسوب تفصیلات کے مطابق صرف ڈیم والے حصے کا تخمینہ تقریباً 479.7 ارب سے بڑھ کر 1,122 ارب روپے ہوگیا۔ یہ بجلی گھروں سمیت پورے منصوبے کی مجموعی لاگت نہیں۔ 4,500 میگاواٹ کی مجوزہ صلاحیت رکھنے والے اس منصوبے کے لیے 2030 کا ہدف سامنے ہے۔ زرمبادلہ، مہنگائی، سلامتی اور مالی اخراجات بڑھنے کی وجوہ ہوسکتی ہیں؛ عوام کو ہر وجہ کی الگ رقم اور ذمہ داری معلوم ہونی چاہیے۔
سوکی کناری، داسو کے پہلے مرحلے اور مہمند کی صلاحیتیں جمع کریں تو 3,844 میگاواٹ بنتے ہیں۔ مگر ان میں 884 میگاواٹ کا سوکی کناری پہلے ہی نظام کا حصہ ہے؛ داسو اور مہمند کے 2,960 میگاواٹ مستقبل کا اضافہ ہیں۔ اسے موجودہ 4,000 میگاواٹ کی کسی روز کی کمی سے سیدھا منہا کرکے بحران ختم ہونے کا اعلان نہیں کیا جاسکتا۔ بجلی کا نظام موسم، وقت، ایندھن اور ترسیل کے ساتھ چلتا ہے۔
اور آج کا کراچی کیا کہتا ہے؟ وہاں کمپنی کی کارکردگی کا اصل امتحان اس شہری کے گھر میں ہے جو بل ادا کرکے بھی بندش سہتا ہے۔ نیپرا کے 31 اگست 2026 کے حکم کی رپورٹنگ کے مطابق کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ، غیر مقررہ اور ضرورت سے زیادہ لوڈشیڈنگ روکنے کی ہدایت دی گئی۔ نگران ادارے نے واضح کیا کہ کسی فیڈر پر چوری یا عدم ادائیگی، باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کی بجلی کاٹنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
یہ کیسا انصاف ہے کہ رسید ایک شخص کے ہاتھ میں ہو اور سزا پورے محلے کو ملے؟ جس نے اپنی ذمہ داری ادا کردی، اسے دوسرے کی نادہندگی کا بوجھ کیوں اٹھانا پڑے؟ چوری روکیے، نادہندہ سے وصولی کیجیے، انتظام بہتر بنائیے؛ مگر پورے محلے کا اندھیرا انتظامی اہلیت کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ میرا قلم اس شہری کا سوال اٹھائے گا جس کی تکلیف کارکردگی کی رنگین پیشکشوں میں جگہ نہیں پاتی۔
اب فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ لیسکو اور میپکو کے لیے مالی مشاورت کا مرحلہ سامنے ہے۔ کراچی کے تجربے کے بعد حکومت سے زیادہ مضبوط ضمانتیں مانگنا لازم ہے۔ خریدار کتنی سرمایہ کاری کرے گا؟ بجلی بند رہنے کا دورانیہ کیسے کم ہوگا؟ غلط بل کی اصلاح کتنے دن میں ہوگی؟ پابند صارف کا تحفظ کون یقینی بنائے گا؟ خلاف ورزی کی قیمت کمپنی ادا کرے گی یا پھر صارف؟
مجھے سرکاری دفتر کی تختی سے عقیدت ہے نہ نجی کمپنی کے نشان سے عداوت۔ میری وابستگی اس پاکستان سے ہے جس کا مزدور کام چاہتا ہے، صنعت کار قابلِ اعتماد بجلی اور گھر کا کفیل قابلِ برداشت بل۔ ان کی ضرورت کو معاہدے کی بنیادی شرط بنائیے۔ صرف مالک بدل دینے کو اصلاح کا آخری مرحلہ مت سمجھیے۔
وطن کی خدمت میں ڈیم بھی تعمیر ہوتے ہیں، بجلی گھر بھی اور عوام کا اعتماد بھی۔ پہلے دو پر اربوں خرچ کرکے تیسرے کو محروم چھوڑ دیا جائے تو ترقی کا دعویٰ دلوں تک نہیں پہنچتا۔ قوم نے منصوبوں کی قیمت ادا کرنی ہے، ضرور کرے؛ لیکن اسے روشنی کے ساتھ حساب بھی ملنا چاہیے۔
آخر اندھیرے میں بیٹھا ہوا شہری ملک سے باہر نہیں، اسی ترقی کے وعدے کے اندر رہتا ہے اور جہاں اوور بلنگ جینا محال کردے پروٹکیٹڈ کی کیٹگری ختم کی جا رہی ہو اور سبسڈی صرف لفظی بات لگے وہاں یہ سوال لازم ہے کہ عوام کو کیوں اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔


