دنیا کا کوئی بھی معاشرہ راتوں رات زوال پذیر نہیں ہوتا اور نہ ہی ادارے ایک دن میں تباہی یا خسارے سے دوچار ہوتے ہیں۔ زوال کا عمل بتدریج شروع ہوتا ہے۔ جب غیر صحت مند اور غیر مہذبانہ رویے معاشرے میں معمول بن جائیں، جب لوگ اداروں کے معاملات پر سوال اٹھانا چھوڑ دیں اور جب اختیارات رکھنے والے افراد یہ سمجھنے لگیں کہ طاقت انہیں دوسروں کو نظر انداز کرنے اور ماتحت ملازمین کی عزتِ نفس مجروح کرنے کا حق دیتی ہے، تو دراصل یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اداروں کا اخلاقی زوال شروع ہوتا ہے۔
پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں بھی ایک ایسا ہی خاموش بحران تیزی سے جنم لے رہا ہے۔ یہ بحران محض دفتری سیاست، انتظامی بدانتظامی یا ملازمین کے درمیان اختلافات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق ہماری اجتماعی سوچ، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور قیادت کے تصور سے بھی ہے۔کارپوریٹ سیکٹر کو کسی بھی ملک کا پیشہ ورانہ چہرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس شعبے سے میرٹ، نظم و ضبط، اخلاقیات، قابلیت، ٹیم ورک اور باہمی احترام کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کی اہمیت محض کاروباری سرگرمیوں یا منافع تک محدود نہیں، بلکہ یہ نوجوانوں کو سیکھنے، آگے بڑھنے اور مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا کارپوریٹ سیکٹر واقعی بہتر اور باصلاحیت پیشہ ور افراد تیار کر رہا ہے یا یہ بھی معاشرے میں پہلے سے موجود غیر صحت مند رویوں کو نئی نسل میں منتقل کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے؟۔ روزمرہ دفتری زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو بہت سے اداروں میں دفتری سیاست، اقربا پروری، ذاتی تعلقات، امتیازی سلوک اور غیر ضروری درجہ بندی کو قابلیت اور کارکردگی پر فوقیت دی جاتی ہے۔ بعض اداروں میں صورتحال اس حد تک پیچیدہ ہو چکی ہے کہ ایک باصلاحیت جونیئر ملازم اپنے سینئر سے کسی معاملے پر سوال کرنے یا اختلاف رائے کا اظہار کرنے سے بھی ہچکچاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کا سوال غیر مناسب ہوتا ہے، بلکہ اسے خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کے سوال کو نافرمانی یا اپنی حدود سے تجاوز نہ سمجھ لیا جائے۔یہ رویہ دراصل ہمارے تعلیمی اور تربیتی نظام پر بھی ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔ ہم نوجوانوں کو ڈگریاں تو فراہم کر رہے ہیں، لیکن کیا انہیں تنقیدی سوچ، دلیل، اختلاف رائے کے احترام اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی تربیت بھی دے رہے ہیں؟ اگر ایک تعلیم یافتہ نوجوان عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد سوال کرنے سے خوف زدہ ہو جائے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کے مقاصد پر بھی غور کرنا ہوگا۔
کسی بھی ادارے میں نیا آنے والا نوجوان اپنے ساتھ نئے خیالات، تخلیقی صلاحیتیں اور کچھ مختلف کرنے کا جذبہ لے کر آتا ہے۔ لیکن جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ ادارے میں کامیابی کا انحصار قابلیت اور کارکردگی سے زیادہ تعلقات، چاپلوسی اوراعلیٰ افسران کی خوشنودی پر ہے تو رفتہ رفتہ اس کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ بعض اوقات اسے اپنی پیشہ ورانہ بقا کے لیے ایسے رویے اختیار کرنا پڑتے ہیں جو اس کی اپنی اخلاقی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔یہیں سے اداروں کے اندر فکری جمود اور اخلاقی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ جب نوجوان ملازمین مسلسل ایسے ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جہاں اختلاف کو ناپسند کیا جاتا ہے اور جہاں اختیارات کا استعمال رہنمائی کے بجائے دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے، تو وہ بالآخر اسی ماحول کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک غیر صحت مند دفتری ثقافت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے لگتی ہے۔اس مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ملازمین کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک، دفتری ہراسانی اور انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے موجود قانونی اور ادارہ جاتی نظام کی عملی افادیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ملازمین اکثر اپنی ملازمت، معاشی ضروریات اور مستقبل کے خدشات کے باعث انتظامیہ کے غیر اخلاقی رویوں کے خلاف آواز بلند کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض اداروں میں سینئر افسران کے تکبر، بدتہذیبی اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو ان کی انتظامی صلاحیت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ کسی عہدے پر فائز ہونا کسی شخص کو دوسروں کی تذلیل کا اختیار نہیں دیتا۔اس صورت حال کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ آج جو جونیئر ملازم اپنے سینئر کے غیر اخلاقی رویوں کو مجبوری کے تحت برداشت کر رہا ہے، کل جب وہ خود کسی اہم عہدے پر فائز ہوگا تو ممکن ہے کہ وہ بھی انہی رویوں کو دہرانے لگے۔ یوں اداروں میں اصلاح کے بجائے غیر صحت مند روایات مزید مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔
پاکستان کے مجموعی سماجی اور معاشی حالات کو بھی اس مسئلے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں معاشی عدم مساوات، کمزور احتساب اور طبقاتی تقسیم پہلے ہی سنگین مسائل ہیں، وہاں کارپوریٹ سیکٹر بھی ان سماجی تضادات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا۔کراچی اس کی ایک اہم مثال ہے۔ ملک کے سب سے بڑے معاشی اور صنعتی شہر میں لاکھوں شہری روزگار، نقل و حمل، صفائی، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری سہولیات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اس شہر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں۔ بعض شعبوں میں علاقائی، لسانی اور دیگر بنیادوں پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں کارپوریٹ سیکٹر نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی استحکام کا اہم ذریعہ بن جانا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے یہ سیکٹر بھی بدترین طبقاتی کے شکار ہیں۔ اگر اسی شعبے میں بھی میرٹ کے بجائے سفارش، قابلیت کے بجائے ذاتی تعلقات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے خوشامد کو اہمیت دی جائے تو نوجوانوں کے لیے ترقی کے مواقع مزید محدود ہو جاتے ہیں۔ بالخصوص بینکاری کے شعبے میں، جہاں نظم و ضبط، شفافیت، پیشہ ورانہ دیانت اور احتساب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، انتظامی عہدوں پر فائز افراد کے رویے پورے ادارے کی کارکردگی اور ساکھ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہاںاس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی ادارے کی کامیابی صرف اس کے مالی منافع، کاروباری حجم یا ترقی کی شرح سے نہیں ناپی جا سکتی۔ بلکہ اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ اس ادارے کے اندر کام کرنے والے ملازمین کو کس قدر عزت، تحفظ اور ترقی کے مواقع حاصل ہیں۔
کارپوریٹ سیکٹر میں موجود مسائل کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے معاشرے میں پائی جانے والی طبقاتی تقسیم پر بھی نظر ڈالنا ہوگی۔ پاکستان کا تعلیمی نظام اس تقسیم کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ایک بچے کو ملنے والی تعلیم کا معیار اکثر اس کے خاندان کی معاشی حیثیت سے وابستہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے ایک طبقے کے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم اور بین الاقوامی مواقع میسر آتے ہیں، جبکہ دوسرے طبقے کے بچوں کے لیے بنیادی تعلیمی سہولیات کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔یہ محض تعلیمی سہولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی ترقی اور معاشی نقل و حرکت کا بھی معاملہ ہے۔ جب بچے مختلف تعلیمی اور معاشی ماحول میں پرورش پاتے ہیں تو وہ عملی زندگی میں یکساں مواقع کے ساتھ داخل نہیں ہوتے۔ نتیجتاً معاشی اور سماجی مراعات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہیں اور طبقاتی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔
یہی تقسیم ہمارے سماجی اور مذہبی حلقوں میں بھی مختلف صورتوں میں موجود ہے۔ ذات، برادری، علاقہ، زبان اور معاشی حیثیت کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان امتیاز بعض اوقات ہماری مشترکہ انسانی شناخت سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ ہم اکثر کسی انسان کی قابلیت، کردار اور اخلاقیات کے بجائے اس کے خاندانی پس منظر، سماجی حیثیت یا تعلقات کی بنیاد پر اس کی قدر و قیمت کا تعین کرتے ہیں۔حالانکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسان کی اصل پہچان اس کا کردار، قابلیت اور اخلاقی رویہ ہونا چاہیے۔ کسی شخص کی سماجی حیثیت سے زیادہ اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور خاندانی تعلقات سے زیادہ اس کی دیانت داری اہمیت رکھنی چاہیے۔ یہی اصول ایک صحت مند کارپوریٹ ثقافت کی بنیاد بھی ہیں۔اس حوالے سے کارپوریٹ قیادت کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ایک سینئر ایگزیکٹو محض کسی ٹیم کا سربراہ یا ماتحت ملازمین پر اختیار رکھنے والا افسر نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک رہنما ، سرپرست اور تربیت کار بھی ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف کام لینا نہیں بلکہ اپنے ماتحت ملازمین کی پیشہ ورانہ اور فکری اور شعوری تربیت کرنا بھی ہوتاہے۔ایک اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو عہدے کی رعونیت سے بالاتر ہوکر اپنے جونیئرز کی بات سنتا ہے، ان کی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے، انہیں غلطیوں سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ان کی ترقی میں معاون بنتا ہے۔ دفاتر کو ایسی جگہ ہونا چاہیے جہاں ملازمین غلطی کرنے سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اپنی غلطیوں سے سیکھ سکیں۔ جہاں اختلاف رائے کو نافرمانی کے بجائے بہتری کا ذریعہ سمجھا جائے اور جہاں کسی جونیئر کی قابلیت کو سینئر کے لیے خطرہ تصور نہ کیا جائے۔کسی ملازم کو محض اپنا اختیار ثابت کرنے کے لیے تذلیلکرنا یا اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا کسی بھی صورت میں پیشہ ورانہ قیادت کی علامت نہیں ہو سکتا۔ اختیار کا اصل مقصد ادارے کے مقاصد کا حصول اور ملازمین کی رہنمائی ہے۔ حقیقی قیادت خوف کے ذریعے اطاعت حاصل کرنے کے بجائے اپنے کردار، انصاف اور رویے سے احترام پیدا کرتی ہے۔پاکستان میں ملازم دوست کارپوریٹ ثقافت کا فروغ اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ادارے صرف پالیسی دستاویزات، تربیتی سیشنز اور اخلاقی اصولوں کے اعلانات تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان اصولوں کو اپنے روزمرہ انتظامی رویوں کا حصہ بنائیں۔ کیونکہ کسی بھی ادارے کی کلچر کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جہاں اختلاف رائے اور سوال اٹھانے کی گنجائش موجود ہو اور ملازمین کیلئے ترقی کے مواقع کارکردگی اور قابلیت کی بنیاد پر ہو اور ملازمین کی غلطیوں کی اصلاح کے لیے تربیت فراہم کی جاتی ہو نہ کہ ملازمین کی تذلیل کا ذریعہ بنایا جاتا ہو۔
یہی وہ سوالات ہیں جو کسی بھی ادارے کی حقیقی پیشہ ورانہ ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔پاکستان کے نوجوان پیشہ ور افراد ایسے اداروں کے مستحق ہیں جہاں ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے، ان کے سوالات کا خیرمقدم کیا جائے، اختلاف رائے کا احترام ہو اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہیں یہ سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملنا چاہیے کہ قیادت کا مطلب دوسروں کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ انہیں بااختیار اور خودمختار بنانا ہوگا کیونکہ آج کا جونیئر ملازم کل کا مینیجر، آج کا نیا آنے والا کل کا چیف ایگزیکٹو اور آج کا نوجوان پیشہ ور مستقبل کا پالیسی ساز، کاروباری شخصیت، استاد یا سماجی رہنما بن سکتا ہے۔ آج ادارے ان نوجوانوں کے لیے جس دفتری ثقافت کو فروغ دیں گے، کل وہی ثقافت ہمارے اداروں اور معاشرے کا حصہ بنے گی۔اسی لیے زہریلی کارپوریٹ ثقافت کا مسئلہ محض دفتری اختلافات یا ملازمین کی وقتی ناراضی تک محدود نہیں۔ یہ دراصل اس بات کا سوال ہے کہ ہم مستقبل میں کس قسم کے ادارے اور معاشرے کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ہم اکثر حکومتی اصلاحات، اداروں کی بہتری، تعلیمی نظام میں تبدیلی اور معاشی ترقی کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ادارہ جاتی اصلاحات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتیں جب تک اداروں کے اندر موجود غیر صحت مند رویوں کو تبدیل نہ کیا جائے۔
پاکستان کو صرف بہتر پالیسیوں اور مضبوط اداروں کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے پیشہ ورانہ رویوں کی بھی ضرورت ہے جو انصاف، احترام، میرٹ اور جواب دہی پر مبنی ہوں۔ یہ تبدیلی صرف اعلیٰ سطح پر پالیسی سازی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کا آغاز ہر اس فرد سے ہونا چاہیے جو کسی نہ کسی ادارے میں ذمہ داری یا اختیار رکھتا ہے۔اس مینیجر سے جو دھمکی دینے کے بجائے رہنمائی کو ترجیح دیتا ہے، اس سینئر افسر سے جو اپنے جونیئر کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع فراہم کرتا ہے، اس ملازم سے جو دفتری سیاست اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے دور رہتا ہے اور اس ادارے سے جو ذاتی تعلقات کے بجائے میرٹ اور کارکردگی کو اہمیت دیتا ہے۔
ایک بہتر کارپوریٹ ثقافت ایک بہتر سماجی ثقافت کی بنیاد بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم غرور، امتیازی سلوک، اقربا پروری، خاموشی اور اختیارات کے غلط استعمال کو معمول سمجھتے رہے تو پھر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کا شکار ہوں گی۔حقیقت یہ ہے کہ کسی معاشرے کی اخلاقی اور ادارہ جاتی حالت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں طاقت اور اختیار رکھنے والے افراد دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ اگر کسی ادارے میں کامیابی کا معیار صرف مالی منافع ہو اور اس کے حصول میں انسانی وقار، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ملازمین کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا جائے تو ایسی کامیابی کی پائیداری پر بھی سوال اٹھنا فطری ہے۔شاید پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں سب سے اہم اصلاح کسی نئی پالیسی یا ضابطے سے زیادہ رویوں کی تبدیلی ہے۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جہاں قابلیت کو تعلقات پر، کردار کو عہدے پر اور انسانیت کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے۔کیونکہ جب پیشہ ورانہ رویہ اپنی انسانیت کھو دیتا ہے تو ادارے بظاہر ترقی کرتے رہتے ہیں، ان کے منافع میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور کاروباری کامیابیاں بھی حاصل ہوتی ہیں، لیکن اس کامیابی کی اصل قیمت بالآخر ملازمین، معاشرے اور آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔


