یہ جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں، اس تصویر میں جو شخص موجود ہے، اس کا نام ہے پراکش شا۔ کی عمر تقریباً 57 ایئرز کی ہے اور یہ بی جے پی کی سنسد سے بی جے پی کے ایک بہت متحرک ممبئی کے مہاراشٹر کی اسمبلی کے رکن ہیں۔ میرے لیے ان کی شخصیت بہت مختلف اور ایک وجہ سے رہی۔ یہ میں نے ان کی ایک آرٹیکل پڑھا جس میں یہ مجھے انکشاف ہوا کہ ان کی اور ان کے گرو کی کچھ سماجی اور سیاسی معاملات پہ جن کو یہ سمجھتے تھے وہ ذہین انسان ہے، کچھ مکالمہ ہو گیا۔ اب اس مکالمے میں اتنی شدت آ گئی کہ ان کے گرو نے، ان کے استاد نے ان کو کہا کہ تم ایک دن کے لیے ایک بھکاری بن کے ممبئی کی سڑکوں پہ گھومو۔ معاشی سماجی طور پہ یہ بہت مضبوط انسان ہیں۔ یہ تین چار پیڑھیوں سے نسلوں سے ایک بہت بڑے کاروباری خاندان سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن سیکھنے اور بہتر قانون سازی کے لیے اور بہتر لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے انہوں نے اس سفر کو جاری رکھا۔ یہ ایک دن کے لیے اپنا بھیس بدل کے ایک فقیر کے ہیولیے میں ممبئی کے پلیٹ فارم، گلیاں، اسپتال، سرکاری اسپتال، اسکولوں، چوراہوں، گلیوں میں در در کی ٹھوکریاں کھائیں۔ کسی نے ان کو دھتکارا، کسی نے بھٹکارا، کسی نے ان کو برا بولا، کسی نے ان کو سموسہ کھلایا، کسی نے کھانا کھلایا، اور یہ لوگوں کے رویے بہت قریب سے، بہت باریک بینی سے جانچتے رہے کہ انسان کے کپڑے، کار، طاقت، پیسہ، ایک عام انسان کے لیے کیا اہم بات کرنے سے پہلے کتنا اہمیت رکھتا ہے۔ اور پورا دن انہوں نے ایک فقیر کے بھیس میں گزارنے کے بعد جب اپنا ہیولیہ بدلا، یہ دوبارہ یہاں تک کہ اپنی کمپنی تک گئے۔ ان کی کمپنی میں ان کو دھتکارا گیا، دروازے میں اندر سے داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ تو ان کو اندازہ ہوا کہ دنیا جس طرح ہم دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، وہ دیوار کے اس طرف دوسری ہوتی ہے۔ پھر اس کے بعد بھیس بدل کے یہ دوبارہ ان لوگوں کے پاس گئے جن لوگوں نے ان کو سموسہ کھلایا۔ انہوں نے ان کو جو ہے وہ مدد کی، حوصلہ افزائی کی اور ایپریشیئیٹ کیا۔ اور جن لوگوں نے ان کو دھتکارا تھا انہوں نے جا کے ان سے دوبارہ ان کی کاؤنسلنگ کی۔ لیکن ہمارے لیے ان سے سیکھنے کی جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ جب آپ ایک سماجی یا سیاسی دستور ساز کسی اسمبلی کے رکن ہوتے ہیں تو آپ نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسے قانون واضح کرنے، ایسی دستور سازی کرنی ہے جس میں ان کی سماجی، سیاسی اور معاشی تحفظ ہو اور ایک روشن اور مضبوط مستقبل ہو۔ تو اس کے لیے آپ کو دور اندیشی، دانشمندی کی ضرورت ہے، علم اور ذہانت کی ضرورت ہے، برداشت کی ضرورت ہے۔ تکلیف کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں پاکستان میں پولیٹیکل فیبرک ہے، وہ پوری طرح جو ہے وہ سرمایہ دار نظام کی جکڑ میں ہے۔ اس کی وجہ سے گراس روٹ سے پڑھے لکھے روشن خیال ترقی پسند لوگ جو تھوڑی زیرک رکھتے ہیں اور دستور ساز اسمبلیوں کے رکنیت حاصل نہیں کر پاتے ہیں اور ملک دن بہ دن بتدریج نیچے کی طرف جا رہا ہے۔ شکریہ۔


