چند دن قبل سر گنگا رام ہسپتال کے مادر اینڈ چائلڈ (M&CH) بلاک جانا ہوا۔ یہ پورے پنجاب کے گائنی کے سب بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے ایک ہے۔ یہاں رات کو بھی دن کا سماں ہوتا ہے۔
ہوا یہ کہ میں کوریڈور سے گزر رہا تھا، ایک عورت تھی (غالباً دادی) اپنے بیٹے کا ماتھا چوم رہی تھی، کیونکہ آپا چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ منڈا ہویا اے ۔ اب باقی ساتھ آئی عورتیں بھی اس آدمی کو جھپیاں ڈال کر خوش ہو رہی تھیں کہ بیٹا ہوا ہے۔ پورا خوشی کا ماحول تھا۔ لیکن اس پورے منظر میں نومولود کی ماں کہیں بھی نہیں تھی۔ وہ کیسی ہے؟ ڈلیوری ٹھیک ہوئی؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟ کوئی پیچدگی تو پیدا نہیں ہوئی؟ ماں کس حالت میں ہے؟ ابھی تھیٹر میں ہی ہے یا ریکوری روم میں شفٹ کر دی گئی ہے؟ یہ کوئی پوچھ نہیں رہا تھا۔ سارے باپ کو یوں جھپیاں ڈال کر خوش ہو رہے تھے کہ وہ کوئی نوبل انعام جیت کر آیا ہے۔
کیا بیٹے کی پیدائیش میں صرف باپ کا کردار ہے؟ ماں کو کوئی رول نہیں؟ جس نے اس کو نو مہینے اپنے پیٹ میں پالا، اس کا اس میں کوئی دور دور تک زکر ہی نہیں ۔
یہ منظر ہمارے پورے معاشرے کے ایک افسوناک ترین پہلو بھی ہے۔ کیا ہم بیٹیوں کی پیدائیش پر بھی ایسی خوشیاں مناتے ہیں؟ تو جواب نفی میں ہو گا۔ اگر بیٹی ہو گئی لو جی ماں کی غلطی ہے،بیٹا ہوا، یہ تو ہوا ہی باپ کی وجہ سے ہے۔اگر اولاد کچھ نا کر پائی، ماں نے صیح پرورش نہیں کی۔ اولاد کامیاب ہو گئی، باپ کی وجہ سے ہوئی ہے ۔
لیبر روم میں ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔مائیں دعا کر رہی ہوتی ہیں کہ بیٹا ہو، پہلے ہی تین بیٹیاں ہیں، اگر اب بھی بیٹی ہو گئی تو کہیں طلاق ہی نا ہو جائے۔ گھر والا اس لیے مارتا ہے کہ اسے بیٹا چاہیے،ساس سیدھے منہ بولتی نہیں کہ پوتا کیوں نہیں ہو رہا، نندوں کے طعنے علیحدہ سہنا پڑتے ہیں ۔
آخر ایک عورت اس پاکستانی معاشرے میں جائے تو جائے کہاں؟ ہاں اگر بیٹا پیدا ہو جائے، تو ماں منظر سے غائب، کہ یہ تو ہوا ہی باپ کی وجہ سے ہے۔ اگر صرف بیٹے کی پیدائش کے لیے ہم پاکستانی اتنی تگ و دو نا کریں، ہماری آبادی کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ایک ڈاکٹر صاحبہ بتا رہی تھیں کہ ایک مریضہ آئی، پانچویں دفعہ حمل سے تھی، اسے بتا دیا گیا تھا کہ جب تک بیٹا پیدا نہیں ہو گا، یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔۔ آخر کس سے منصفی چاہیں؟
بات یہاں رکی نہیں، اس M&CH بلاک کے لیبر روم میں ہی بیٹی پیدا ہونے پر ناجانے کتنی طلاقیں دی جا چکی ہیں ۔ لاہور کے ہی ایک سرکاری ہسپتال میں ایک حاملہ عورت نے ہسپتال کی چھت سے چھلانگ لگا دی تھی کہ الٹراساؤنڈ میں اسے بتایا گیا تھا کہ بیٹی ہے، وہ پہلے ہی 5 بیٹیوں کی ماں تھی۔ اس کے شوہر نے اسے کہا تھا کہ اگر چھٹی بار بھی بیٹی پیدا ہوئی تو تمہیں طلاق دے دوں گا،تو بیٹی کا سنکر اس نے جان دینا مناسب سمجھا۔
گائنی کی کولیگز نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جن حاملہ عورتوں کی پہلے بیٹیاں ہوتی ہیں اور سسرال سے صرف بیٹے کی پیدائش کا پریشر ہوتا ہے، انکا Antenatal period نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور اسی ٹینشن کی وجہ سے زیادہ تر عورتیں مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔
ہماری بطور قوم پستی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ اسی M&CH بلاک کی آپائیں اور دیگر خاتون ورکرز بیٹے کی پیدائش پر ساتھ آئی خواتین کو بھاگ بھاگ کر اونچی آواز میں بتاتی ہیں کہ پتر ہوا ہے،جبکہ بیٹی کی پیدائش پر انکی خوشیاں ماند پڑ جاتی ہیں کیونکہ انکو اس بات کا پتا ہوتا ہے کہ اب مبارکی ( پیسے) کم ملے گی،کیونکہ بیٹی جو پیدا ہوئی ہے ۔ یہ ایک typical پاکستانی مائنڈ سیٹ ہے۔
پاکستان جیسے چھوٹی زہنیت سماج میں آج بھی بیٹی کی پیدائش کو اس خوشی سے نہیں دیکھا جاتا۔ اگر مڈل یا لوئر مڈل کلاس کو دیکھیں،یہاں سسرال میں بہو کی عزت و آبرو کو بیٹے کی پیدائش سے نتھی کر دیا گیا ہے۔ بیٹیوں کی پیدائش پر طلاقیں اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ اب اس معاشرے سے گھن آنا شروع ہو گئی ہے۔
پاکستان کو ایسے معتدل اور اوپن مائنڈڈ معاشرے کی اشد ضرورت ہے،جہاں بیٹی کی پیدائش پر بھی اتنی خوشیاں منائی جائیں جتنی بیٹے کی پیدائش پر منائی جاتی ہیں ۔ ایسا مہذب معاشرہ بننے کے لئے ہم پاکستانیوں کو کوئی پانچ/ چھے سو سال درکار ہیں، کیونکہ ہم اخلاقی و سماجی پستی کے اس لیول تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن لگ رہی ہے۔
تحریر ۔ ڈاکٹر محمد شافع صابر


