کشکول کب ٹوٹے گا؟ – علی عباس کاظمی

83 ٹریلین روپے کا قرض سن کر شاید عام آدمی کے ذہن میں کوئی تصویر نہ بنے۔ اس کے لیے ٹریلین کوئی روزمرہ کی رقم نہیں۔ وہ تو پانچ سو یا ہزار روپے کے فرق سے اپنا ہفتہ سنبھالتا ہے۔ وہ بجلی کا بل دیکھ کر سوچتا ہے کہ اس ماہ راشن کم کرنا پڑے گا، بچوں کی فیس کے لیے کسی خرچ کو روکنا ہوگا، دوا اگلے ہفتے خریدی جائے گی۔ لیکن جس رقم کو وہ اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے حصوں میں محسوس کرتا ہے، ریاست اسے کھربوں اور ٹریلین کے پیمانے پر خرچ کرتی ہے۔ اسی لیے ریاستی قرض کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ رقم کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ یہ رقم خرچ کہاں ہوئی، کس پر ہوئی، کس نے فیصلہ کیا اور اس کا فائدہ کس کو پہنچا؟ جون 2025ء میں مرکزی حکومت کا قرض تقریباً 77.888 ٹریلین روپے تھا جو جون 2026ء میں بڑھ کر 83.642 ٹریلین روپے ہوگیا۔ ایک سال میں تقریباً 5.754 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا۔ اندرونی قرض تقریباً 59.94 ٹریلین روپے جبکہ بیرونی قرض تقریباً 24.2 ٹریلین روپے تک پہنچا۔ یہ صرف معاشی اعداد نہیں بلکہ مستقبل کے بجٹ پر ایک اضافی بوجھ ہیں۔ جب ریاست آج قرض لے کر خرچ کرتی ہے تو کل اسی رقم کی اصل اور اس پر واجب الادا لاگت عوامی وسائل سے ادا ہوتی ہے۔ اس لیے ہر نیا قرض دراصل آنے والے بجٹ سے ایک حصہ پہلے ہی استعمال کرلینے کے مترادف ہے۔

یہاں ایک عام شہری کا سوال بالکل جائز ہے۔ اگر ایک خاندان قرض لے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔ گھر کی مرمت ہوئی، کاروبار شروع ہوا یا بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوئی۔ مگر جب ریاست کھربوں روپے قرض لیتی ہے تو عام آدمی کو یہ جاننے کا حق کیوں نہ ہو کہ اس رقم کا ایک ایک بڑا حصہ کہاں گیا؟ کون سا منصوبہ بنا؟ اس کی لاگت کتنی تھی؟ کتنی رقم جاری ہوئی؟ کام مکمل ہوا یا نہیں؟ اگر منصوبہ مکمل نہیں ہوا تو ذمہ دار کون ہے؟ اگر تخمینے سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ ہوئی تو اس کا حساب کس سے لیا گیا؟ہم نے ریاستی خرچ کو اکثر ایک ایسی دنیا بنا دیا ہے جہاں رقم عوام کی ہوتی ہے مگر تفصیلی جواب دہی کہیں دور دکھائی دیتی ہے۔ بجٹ پیش ہوتا ہے، اربوں اور کھربوں روپے مختص ہوتے ہیں، منصوبوں کے اعلانات ہوتے ہیں، افتتاحی تختیاں لگتی ہیں، تصویریں بنتی ہیں اور پھر چند برس بعد وہی منصوبہ دوبارہ مرمت، توسیع یا نئے منصوبے کے نام سے بجٹ میں واپس آجاتا ہے۔ عام آدمی کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پیسہ خرچ ہوا، مسئلہ یہ ہے کہ۔۔۔ خرچ کے بعد نتیجہ کہاں ہے؟

اگر ایک سرکاری اسپتال کے لیے کروڑوں روپے مختص ہوں لیکن وہاں ڈاکٹر، ادویات اور بنیادی سہولتیں نہ ہوں تو رقم خرچ ہونے کا مطلب کامیابی نہیں۔ اگر ایک سڑک پر بار بار کروڑوں روپے لگیں اور ہر چند برس بعد وہ دوبارہ ٹوٹ جائے تو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ترقیاتی بجٹ استعمال ہوگیا۔ اگر کسی سرکاری ادارے کے اخراجات مسلسل بڑھیں مگر اس کی کارکردگی بہتر نہ ہو تو سوال اٹھنا چاہیے کہ عوام کے پیسے کا فائدہ کہاں گیا۔ریاستی خرچ کی جواب دہی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر سرکاری خرچ غلط سمجھا جائے۔ حکومت کو سڑکیں بنانی ہیں، اسکول چلانے ہیں، اسپتال قائم رکھنے ہیں، دفاع کرنا ہے، پولیس اور انتظامیہ چلانی ہے اور کمزور طبقوں کی مدد بھی کرنی ہے۔ مسئلہ خرچ نہیں۔۔۔ بےحساب خرچ ہے۔ مسئلہ منصوبہ نہیں۔۔۔ بغیر نتیجے کے منصوبہ ہے۔ مسئلہ بجٹ نہیں۔۔۔ بغیر واضح ذمہ داری کے بجٹ ہے۔یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک عام آدمی اپنی محدود آمدنی میں غلط خرچ کرے تو نقصان اسی کے گھر کو ہوتا ہے۔ ریاست غلط خرچ کرے تو نقصان کروڑوں گھروں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ریاست کے پاس جتنا بڑا اختیار ہے، اس کے خرچ کی جواب دہی بھی اتنی ہی سخت ہونی چاہیے۔ جس افسر، وزیر، ادارے یا محکمے کے فیصلے سے عوام کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، اس فیصلے کے نتائج کا حساب بھی ہونا چاہیے۔

ہم اکثر قرض لینے پر بحث کرتے ہیں مگر قرض خرچ کرنے کے بعد کی نگرانی پر اتنی توجہ نہیں دیتے۔ یہ خطرناک خاموشی ہے۔ قرض کہاں سے آیا، یہ اہم ہے۔۔۔ مگر قرض کہاں گیا، یہ شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اگر قرض لے کر آمدنی پیدا کرنے والے منصوبے بنائے گئے تو اس کا معاشی جواز سامنے آنا چاہیے۔ اگر قرض روزمرہ اخراجات میں چلا گیا تو عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ یہ مستقل حل کیوں نہیں تھا۔ اگر کسی منصوبے میں تاخیر ہوئی تو ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔ اگر لاگت بڑھی تو وجہ سامنے آنی چاہیے۔ اگر کسی منصوبے سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہوا تو اس ناکامی کو بھی سرکاری رپورٹ کا حصہ ہونا چاہیے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ شہری کا کام یہ بھی ہے کہ وہ پوچھے کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہوا۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ بجٹ میں اس کے علاقے کے لیے کیا رکھا گیا اور اس میں سے حقیقتاً کیا مکمل ہوا۔ وہ سرکاری اعلان اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق دیکھے۔ کیونکہ جس معاشرے نے سوال کرنا چھوڑ دیا، وہاں عوامی پیسہ آہستہ آہستہ عوامی امانت کے بجائے محض ایک انتظامی عدد بن جاتا ہے۔

ریاستی خرچ میں شفافیت صرف عوام کا حق نہیں، حکومت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب ہر بڑے منصوبے کی لاگت، مدت، پیش رفت، ذمہ دار ادارہ اور نتیجہ عوام کے سامنے ہو تو غلط فیصلوں کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ جب ناکام منصوبوں پر بھی جواب طلبی ہو تو سرکاری اداروں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور جب کامیاب منصوبوں کی بھی شفاف بنیاد پر پذیرائی ہو تو عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔آخر میں بات پھر اسی عام آدمی کی طرف آتی ہے جو ٹیکس، بجلی، پٹرول اور مہنگائی کی قیمت ادا کرتا ہے۔ اس کے لیے ریاستی بجٹ کوئی پیچیدہ کتاب نہیں، اس کی اپنی زندگی کا حساب ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ 83 ٹریلین کتنے بڑے ہیں۔ وہ صرف یہ پوچھتا ہے کہ ۔۔۔ اتنا قرض لینے کے بعد میری زندگی بہتر کیوں نہیں ہوئی؟

اپنا تبصرہ لکھیں