(تبصرہ کتاب: (شکیب جلالی۔۔ملک سخن کا شہزادہ

یہ عنوان ہے اس کتاب کا جو اس سال شکیب جلالی کی زندگی اور شاعری پر مصنفین کی تثلیث یعنی امیر حسین جعفری، ڈاکٹر خالد سہیل اور حسین اقدس رضوی  (شکیب جلالی کے فرزند ارجمند ) نے مل کرلکھی ہے ۔ اس کتاب کی تقریبِ رونمائی کل فیملی آف دی ہارٹ کے زیر اہتمام ریکسڈیل کمیونٹی ہب میں منعقد ہوئی ۔ شرکا کی ایک بڑی تعداد جو شکیب جلالی سے محبت و عقیدت رکھتی ہے، نے شرکت کی۔  کتاب پر جن احباب نے خیال آرائی کی، ان میں ڈاکٹر خالد سہیل ماڈ ریٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ مقررین میں شاہد اختر ،سارہ علی، وسیم گردیزی، حامد یزدانی، امیر حسین جعفری شامل تھے جبکہ  خاکسار نے بھی اپنی مختصر گزارشات پیش  کیں۔

 کتاب کی اشاعت و  رونمائی نے اس پہلی بوند کا کام کیا ہے جس سے حق بہ حق داررسید کی طرف اپنا رخ کیا ہے ۔ بلاشبہ شکیب جلالی اردو شاعری میں ایک ایسا بڑا نام ہے جو اپنی جواں مرگ کے باوجود  تخلیقی وفور کا ایسا بھرپور خزانہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے جس پر مکمل تحقیق، تفہیم و استناد پر ان کے ہم عصر پوری طرح گرفت نہ کرسکے تھے اور آج تک ان کی شاعری اپنے ایک حقیقی شارح کی تلاش میں سرگرداں وپریشاں ہے ۔

شکیب جلالی نے خود کہا تھا

ادھر سے گزرا تھا ملک سخن کا شہزادہ 

کوئی نہ جان سکا، ساز و رفت ایسا تھا 

کتابیں لکھنے کی وجوہات میں کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اس کتاب کا ایک مقصد بقول ڈاکٹر خالد سہیل، امیر حسین جعفری کو ان کی صحت یابی کے بعد ان کی طبیعت پر در آن والے تخلیقی انقباض یا اس کا یخ توڑنے کے لیے انہوں نے سوچا کہ کس طور امیر کو دوبارہ لکھنے پڑھنے کی طرف مائل کیا جائے۔ ان کے ذہن میں شاعری کے  ساتھ امیر حسین جعفری کے پسندیدہ شاعرشکیب جلالی کے متعلق ان کو تحریر  پر آمادہ کرنے کا خیال آیا۔ بظاہر وہ ایک مختصر   معصومانہ سا سوال اپنے خط میں شکیب کی خودکشی کے بارے میں پوچھتے ہیں جو اس کتاب کا نقطہءِ آغاز ثابت ہوا۔

اس کتاب کی تفہیم میں تثلیث کا ایک اہم کردار ہے۔

پہلی تثلیث تو مصنفین کی ہے جنہوں نے مل کر اس کتاب کو پایہءِ تکمیل تک پہنچایا۔

دوسری تثلیث کی مثال ڈاکٹر خالد سہیل نے بیان کی ہے۔وہ کہتے ہیں “تخلیقیت، دیوانگی اور روحانیت تینوں اوصاف کا تعلق انسان کے  دائیں دماغ کے ٹیمپورل لوب سے ہوتا ہے”۔

تیسری تثلیث امیر حسین جعفری نے قائم کی جس کے تین کونے شکیب جلالی، اختر حسین جعفری اور خود امیر حسین جعفری ہیں۔ امیر اس میں خود کو ایک قاری کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

چوتھی تثلیث جس کا ذکر اس کتاب میں ہے وہ مرگ، تصور ِمرگ اور انتظارِ مرگ سے ہے ،جو شکیب جلالی،اختر حسین جعفری اور خود امیر حسین جعفری کی شاعری میں جابجانظر آتا ہے۔ 

امیر حسین جعفری نے شکیب جلالی سے اپنے قلبی تعلق،  ان کی شاعری تک کیسے ان کی رسائی ہوئی اور اس شاعری کی قرآت سے ان کے قلب و نظر پر جو بیتی اس  کو صفحہءِ قرطاس پر اتارنا شروع کر دیا۔ اس کتاب کو اگر نام نہاد نقاد تنقیدی نظر سے دیکھے گا تو یقیناََ ٹھوکر کھائے گا۔ یہ محبت کا وہ لیکھا جو کھاہے جو امیر کے قلب پر اترا اور اس نے اپنی محبت کے اظہار میں ڈاکٹر خالد سہیل کو شامل کر لیا۔ ڈاکٹر خالد سہیل چونکہ ادبی خطوط کی اہمیت کو جانتے اور مانتے ہیں اور اسے دو ادیبوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں اس لیے پوری کتاب خطوط کے تبادلوں پر مشتمل ہے۔ جہاں ایک فریق دوسرے کو خط لکھتا ہے اور اس سے کچھ استفہامی سوال جواب کرتا ہے ۔سید اقدس رضوی کا تحریری انٹرویو پانچویں  خط سے شروع ہوتا ہے جس میں وہ اپنے والد کے حالاتِ زندگی کے متعلق بتاتے ہیں۔ اگر ہم شکیب کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیں تو یہ ایک ایسی داستان ہے جس میں ہر رنگ موجود ہے۔ آس کا، یاس کا، قلبِ حساس کا، احساس کا۔ شکیب کے والد  بدا یوں سے تعلق رکھتے تھے اور پولیس کے محکمہ میں ملازم تھے۔ ان کو نوکری سے غیر منصفانہ طور پر نکال دیا گیا۔ اس کی وجہ سے وہ دنیا کی بے ثباتی سے شاکی ہو کر راہ سلوک کی طرف مائل ہو گئے اور مجذوبیت سے مجنونیت کی طرف بڑھ گئے۔ ان کی ذہنی حالت ایسی نہ رہی جو انہیں کسی کام کرنے کے قابل رکھتی ۔ 1945 میں جب شکیب اپنی زندگی کے دسویں سال میں تھے تو وہ سانحہ رو نما ہوا جو بعد میں ان کی اپنی خودکشی تک ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ ان کے والدین ایک فوتگی سے واپسی پر ٹرین بدلنے کے لیے اسٹیشن پر موجود تھے کہ والد پر دیوانگی کا دورہ پڑا اور انہوں نے اس حالت میں شکیب کی والدہ کو آتی ہوئی ٹرین کے آگے دھکا دے دیا۔ والدہ کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں اور وہ چند گھنٹوں بعد ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ مرنے سے پہلے اس نیک دل خاتون نے اپنے شوہر کو اس حادثے کے الزام سے بری الذمہ قرار دیا کہ ان کی ذہنی حالت درست نہیں ہے۔ ان کے والد کو پولیس نے گرفتار کرنے کی بجائے ذہنی امراض کے علاج کے لیے نفسیاتی ہسپتال بھیج دیا جہاں وہ 20 سال تک داخل رہے۔ شکیب کے حافظے پر یہ حادثہ نقش ہو گیا اور جب تک وہ زندہ رہے اس کےکرب و اذیت سے باہر نہ نکل سکے۔ 20 سال بعد 1965 میں ان کے والد کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا مگر شکیب اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان آ چکے تھے۔ ان کو جب اپنے والد کی رہائی کا پتہ چلا تو ان سے ملنے کے لیے جانے کی تیاری کرنے لگے مگر اس دوران 1965 کی جنگ لگنے کی وجہ سے ویزے نہ مل سکے اور وہ نہ جا سکے۔ کچھ عرصہ بعد ان کے والد کی انتقال کی خبر آگئی ۔شکیب اپنے شکیب اپنے والد کی وفات کے بعد غم و اندوہ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گئے۔ٰیہی وہ بریکنگ پوائینٹ تھا جس کا انجام ان کی خودکشی پر منتج ہوا۔

ایک سال کے اندر اندر انہوں نے اسی طرح جیسے ان کی والدہ ٹرین کے آگے گری تھیں، انہوں نے خود کو اپنے والد کی جگہ رکھ کر اپنے آپ کو والدہ جیسی تکلیف دینے والے کام یعنی ٹرین کے آگے چھلانگ لگا دی اور ان کی ٹانگیں بھی کہتے ہیں کہ وہیں سے کٹیں جہاں سے ان کی والدہ کی کٹی تھیں۔ یہ خودکشی ان کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں بتاتی ہے کہ کس کرب سے وہ اپنی ساری زندگی گزرتے رہے ۔والد کی بیماری ایک ایسی موروثی بیماری تھی جس کے اثرات شکیب میں موجود تھے۔ شکیب کی خودکشی کے محرکات کے متعلق ڈاکٹر خالد سہیل اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ نمایاں محرکات میں ان کی موروثی بیماری کے ساتھ ساتھ ان کے ہم کار اور معاشرہ میں موجود معاندا نہ رویوں کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے ۔لوگ ان کی ذہنی جِلا سے حسد کرتے تھے اور ان کے فن کو اس انداز سے  پذیرائی نہیں دیتے تھے جس کے وہ مستحق تھے

ان کی خودکشی میں ایک بڑا محرک یہ بھی تھا کہ وہ اپنے زمانے سے مطابقت نہ کرسکے۔ 

شکیب کی زندگی اور اس کے نفسیاتی مسائل پر ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنا نفسیاتی تجزیہ بہت عمدگی سے بیان کیا ہے شکیب کی ذہنی حالت اور ڈپریشن کا مناسب علاج نہ ہو سکا، نہ انہیں کوئی ایسا غمگسارمیسر آیا جو ان کے خودکشی والے خیالات کے متعلق  آگاہ ہوکر انہیں اس اقدام سے بچنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتااور ا سے اس حالت سے باہر لانے میں اپنی سی کوشش کرتا۔ وزیر اغا سے جب شکیب کی ملاقات  ہوئی اور اس نے اپنا درد بیان کیا تو وہ بھی شکیب کو مناسب مشورہ نہ دے سکے ۔مجھے یہاں احمد بشیر اور ابن انشاء کی مثال یاد آتی ہے کہ احمد بشیر نے کس طرح ابن انشاء کو خودکشی کے بارے  پڑنے والےدوروں سے نکالا ۔وہ لکھتے ہیں کہ اکثر ابنِ انشاء رات کو ان کے پاس آتا ،وہ سمجھ جاتے دورہ کی کیفیت ہے۔ احمد بشیر کہتے ہیں کہ وہ اس کو ساتھ لیے ساری رات  سڑکوں پر گھومتے رہتے اور طریقے سوچتے کہ کیسے خودکشی کی جائے جس میں تکلیف بھی نہ ہو اور انسان اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے ۔یوں  سڑکوں پر گھومتے گھومتے  وہ ابنِ انشاء کا کتھارسس کرنے میں کامیاب رہتے اور صبح کے آثار ظاہر ہونے پر دورے کا زور ٹوٹ جاتا اور دونوں دوبارہ گھر لوٹ آتے۔ کاش شکیب کو بھی ایک احمد بشیر میسر آجاتا یا ڈاکٹر خالد سہیل جیسا مسیحا تو شاید ان کی زندگی نارمل ہونے کی طرف آجاتی مگر  شدنی شد۔ 

 امیر حسین جعفری نے کتاب کے بارہویں ادبی محبت نامے میں شکیب سے اپنی محبت اور عقیدت اور اس کی فکر و فن کو سمجھنے کے لیے وینٹیج پوائنٹ سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔تصور مرگ ہی وہ وینٹیج پوائنٹ ہے جو انہوں نے اختر حسین جعفری ،شکیب جلالی اور خود اپنے درمیان قائم کیا۔ امیر حسین جعفری نے شکیب فہمی کے سلسلے میں ان کی شاعری کو سبقاََ سبقاََ  نہیں پڑھا بلکہ ہر شعر کو اپنے اوپر یوں طاری کر کے پڑھا جیسے یہ ان پر بیتا  ہو۔ اس وقت بلاشبہ شکیب فہمی پر اگر کوئی شاعر پوری طرح قادر ہے تو وہ امیر حسین جعفری ہے۔شکیب تک امیر کو پہنچانے والے خالد احمد بھی شکیب کے عاشقوں میں سرِاول تھے۔

 شکیب کو جدید اردو غزل کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ رجحان ساز غزل گو شاعر جو جدید تلازمے ، خیال کاری ،منظر نگاری کا ایسا امتزاج پیش کرتا ہے جوان کی شاعری کو اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتا ہے۔ روایتی مضامین ان کی شاعری میں نہ ہونے کے برابر تھے۔ شکیب کی شاعری فرد کی سطح پر ان کی اپنے آپ سے وہ خود کلامی ہے جس میں وہ اپنے ذہنی تناؤ اور خلش کو الفاظ کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ امتداد زمانہ اور وقت کی ناقدری، حاسدانہ رویے،ادبی چشمک،ذہنی بیماری وہ سب عوامل تھے جنہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ والد کی ذہنی بیماری ،والدہ کی ٹرین کے آگے موت اور ان کی اپنی خودکشی کی ناکام کوششیں ۔ اگر ہم ادب میں ایسی مثالوں کی طرف دیکھنا شروع کریں تو ہمیں خودکشی کرنے سے قبل ناکام کوششیں کرنے والوں میں،سلویا پلاتھ، سارا شگفتہ، شکیب جلالی جیسے لوگ نظر اتے ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ بار اپنی زندگی ختم  کرکے خود کشی کرنے کی کوشش کی۔  

اردو ادب میں اگر ہم خودکشی کرنے والے شاعروں کی لسٹ پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں ان میں شکیب جلالی 1966، مصطفٰی زیدی1970 ،سید آنس معین بلے 1986، اور ثروت حسین 1990 نظر آتے ہیں۔ ان میں ثروت حسین اور شکیب جلالی کے والدین دونوں بدایوں سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ سید آنس معین اور ثروت حسین دونوں نے شکیب جلالی کی طرح ٹرین کے آگے کود کر خودکشی کا انتخاب کیا بقول حسین اقدس رضوی یہ دونوں شکیب جلالی سے متاثر تھےاور انہی کی طرح اپنی زندگی کو ختم کیا۔

ثروت کا یہ شعر شکیب جلالی، سارا شگفتہ اور خود ثروت کے کیس میں ان پر صادق آتا ہے 

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں۔

 

4 تبصرے ”(تبصرہ کتاب: (شکیب جلالی۔۔ملک سخن کا شہزادہ“

  1. ایک اہم کتاب پر بہت عمدہ اور مفصل تبصرہ۔
    آپ نے شکیب جلالی کی شخصیت اور شاعری اور پھر ماہرانہ تجزیات اور تقریب کی روداد س کو ایک جامع تحریر میں سمو دیا۔ بہت خوب۔ مبارک باد ۔
    ڈاکٹر خالد سہیل صاحب نے بھی اس تبصرہ کا لنک شیئر کیا ہے۔ انھیں بھی یقینا پسند آیا ہوگا۔
    گویا “حق بہ حق دار رسید”

    1. بہت محبت حامد بھائی۔ آپ کا کل کا مضمون بلاشبہ ایک عمدہ خراج عقیدت تھا امیر حسین جعفری اور ان کی شکیب جلالی پر لکھی گئی کتاب کے بارے میں

اپنا تبصرہ لکھیں