سب کا اپنا اپنا مفاد ، خان کسی کا مسئلہ نہیں/ اے وسیم خٹک

ستمبر کا مہینہ گزر رہا ہے، اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے وہ آدمی بیٹھا سوچتا ہو گا کہ باہر اس کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کی رہائی کے لیے ہے یا کسی اور کی دکانداری کے لیے۔ یہ سوال جتنا تلخ ہے، اتنا ہی سچ بھی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما ہر چند دن بعد احتجاج کی کال دیتے ہیں، ہر بار ریاست پوری قوت سے جواب دیتی ہے، اور ہر بار کپتان کا قیام مزید طویل ہو جاتا ہے۔ اگر واقعی مقصد رہائی ہوتا تو یہ لوگ کب کا مذاکرات کی میز پر ہوتے، اسٹیبلشمنٹ سے بیک ڈور رابطے استوار کر چکے ہوتے، سیاسی درجہ حرارت کم کر کے راستہ نکال چکے ہوتے۔ مگر یہاں معاملہ الٹ ہے۔

جتنا خان اندر رہتا ہے، اتنا ہی ان رہنماؤں کا سیاسی قد باقی رہتا ہے۔ اگر وہ باہر آ جائے تو پارٹی کے اندر موجود درجنوں چھوٹے کپتان اپنی اپنی اہمیت کھو بیٹھیں گے، پریس کانفرنسیں کرنے والے، سوشل میڈیا پر جذباتی بیانیہ بیچنے والے، اور کپتان کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے والے سب کی دکان بند ہو جائے گی۔ اسی لیے یہ چاہتے ہیں کہ خان اندر ہی رہے، مگر زبان سے کہتے ہیں کہ رہائی چاہتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ بھی کوئی بھولی نہیں۔ وہ دیکھ چکی ہے کہ ہر بے تکا احتجاج، ہر بلاجواز ہڑتال، ہر سڑک بند کرنے کا فیصلہ دراصل مذاکرات کا دروازہ خود بند کر دیتا ہے۔ جس پارٹی نے سنجیدگی دکھانی تھی، وہ ہر بار جذباتیت دکھاتی ہے۔ اور جذباتیت کا جواب ریاستی ادارے نرمی سے نہیں دیتے۔

یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کو وہ گھاس نہیں ڈال رہی جو کبھی ڈالی جاتی تھی۔ نہ کوئی سنجیدہ مذاکراتی چینل، نہ کوئی نرمی کا اشارہ۔ ایک وقت تھا جب بیک چینل رابطے ہوتے تھے، اب وہ دروازے بھی پی ٹی آئی کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔ جس پارٹی کو سیاسی بلوغت دکھانی تھی، وہ نعروں اور احتجاج کی سیاست میں پھنسی رہ گئی۔

سہیل آفریدی جیسے لوگ اپنی وزارتِ اعلیٰ بچانے کے لیے احتجاج کو ہوا دیتے ہیں، کچھ رہنما اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے بیانات داغتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر اپنی دکان چمکانے کے لیے جذباتی مواد بناتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے حصے کی روٹی سینک رہا ہے، اور خان کا نام صرف ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

عام کارکن، جو سچ میں کپتان کی رہائی چاہتا ہے، وہ ان چالوں سے بے خبر سڑکوں پر نکلتا ہے، مار کھاتا ہے، جیل جاتا ہے، اور اوپر بیٹھے رہنما محفوظ کمروں میں بیٹھ کر اگلی حکمت عملی بناتے ہیں۔ یہ وہی فرق ہے جو ہر تحریک میں کارکن اور قیادت کے درمیان ہوتا ہے، مگر یہاں یہ فرق کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو چکا ہے۔
سچ یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت واقعی سنجیدہ ہوتی، ٹھنڈے دل سے حکمت عملی بناتی، بلاوجہ کے احتجاج سے گریز کرتی، تو شاید آج خان کی رہائی کا راستہ کھل چکا ہوتا۔ مگر جس دن وہ رہا ہو گا، اس دن ان بہت سے لوگوں کی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ اور یہی وہ راز ہے جو کوئی زبان پر نہیں لاتا، مگر ہر کوئی جانتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں