جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں / علی عباس کاظمی

یہاں اصل کہانی صرف ایوانِ اقتدار کی نہیں، اس آدمی کی بھی ہے جو صبح گھر سے نکلتے ہوئے جیب میں چند نوٹ رکھتا ہے اور شام کو حساب لگاتا ہے کہ آج آٹا، بجلی، بچوں کی فیس، دوا اور سفر میں سے کس ضرورت کو مؤخر کیا جائے۔ سیاسی بحث اسے اکثر ٹیلی وژن کی اسکرین پر دکھائی دیتی ہے، مگر سیاست کے فیصلوں کا اصل بوجھ اس کے کندھوں پر پڑتا ہے۔ اس لیے جب سیاست دان ایک دوسرے کو دشمن سمجھ کر لڑتے ہیں تو عام آدمی کے لیے یہ محض دو جماعتوں کا جھگڑا نہیں رہتا۔ اس کی قیمت کبھی مہنگائی کی صورت میں، کبھی روزگار کی کمی میں، کبھی تھانے کے چکر میں، کبھی عدالت کی تاریخ میں اور کبھی دفتر کے دروازے پر سفارش تلاش کرنے کی مجبوری میں ادا ہوتی ہے۔ہم نے سیاست کو اتنا اوپر اٹھا دیا ہے کہ عام آدمی کی زندگی اس کے نیچے دب گئی ہے۔ ایوان میں تقریریں ہوتی ہیں، ٹیلی وژن پر مناظرے ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف مہمات چلتی ہیں اور سیاسی کارکن اپنے اپنے رہنما کے دفاع میں دن رات ایک کرتے ہیں، لیکن اس شور کے درمیان وہ شخص کہاں ہے جو بجلی کا بل ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے؟ وہ مزدور کہاں ہے جسے مہینے کے آخری ہفتے میں ادھار لینا پڑتا ہے؟ وہ نوجوان کہاں ہے جس کے ہاتھ میں ڈگری ہے مگر نوکری نہیں؟ وہ باپ کہاں ہے جو بچے کی فیس اور گھر کے راشن کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے؟ اگر سیاست کا مرکز عوام ہیں تو پھر عوام کی زندگی سیاسی گفتگو کے مرکز میں اتنی کم کیوں ہے؟

مہنگائی صرف اشیائے ضروریہ کی قیمت بڑھنے کا نام نہیں۔ یہ انسان کے اندر پیدا ہونے والی مسلسل بے یقینی کا نام بھی ہے۔ جب گھر کا بجٹ ہر ماہ دوبارہ بنانا پڑے، جب آمدن وہیں کھڑی رہے اور اخراجات آگے بڑھتے جائیں تو انسان صرف پیسہ نہیں کھوتا، ذہنی سکون بھی کھوتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم، ایک دکاندار، ایک مزدور اور ایک چھوٹا کاروباری شخص اپنے اپنے انداز میں اسی دباؤ کا سامنا کرتا ہے۔ لیکن سیاسی گفتگو اکثر اس بنیادی سوال سے بچ نکلتی ہے کہ ایسی معاشی پالیسیوں کا بوجھ آخر کس طبقے نے اٹھانا ہے۔ اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، مگر عام آدمی کے لیے معیشت کا سب سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ مہینے کے آخر میں اس کی جیب میں کیا بچا۔یہی وجہ ہے کہ سیاسی انتقام کی بحث کو بھی عام شہری کی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جب حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوشش میں اپنی سیاسی توانائی صرف کرتے ہیں تو پارلیمانی نگرانی، قانون سازی، انتظامی اصلاحات اور عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ضروری ہے، مگر اگر مقابلے کا بنیادی مقصد یہ بن جائے کہ مخالف کو کیسے زیر کیا جائے تو عوامی خدمت ثانوی بن جاتی ہے۔ پھر حکومت کے پاس مخالف کو جواب دینے کے لیے وقت ہوتا ہے مگر مہنگائی، تعلیم، صحت، روزگار اور مقامی انتظامیہ کی خرابیوں کے لیے نہیں۔

عام آدمی کے لیے ریاست کا سب سے پہلا چہرہ اکثر پارلیمنٹ نہیں بلکہ تھانہ ہوتا ہے۔ جس شخص کا موبائل چوری ہو جائے، زمین پر قبضے کا مسئلہ پیدا ہو جائے، کسی سے جھگڑا ہو جائے یا کوئی فوجداری شکایت سامنے آ جائے، اس کے لیے ریاست قانون کی کتاب نہیں بلکہ پولیس اہلکار، محرر اور تفتیشی افسر کی شکل اختیار کرتی ہے۔ یہاں اسے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ قانون اس کی حفاظت کرے گا۔ لیکن اگر اسے سفارش، اثر و رسوخ یا پیسے کے بغیر اپنی شکایت درج کرانے میں دشواری ہو تو پھر اس کے لیے جمہوریت کا تصور بہت دور کی چیز بن جاتا ہے۔ اسے ٹیلی وژن پر آئینی دفعات نہیں، اپنے سامنے کھڑا ہوا ریاستی اہلکار دکھائی دیتا ہے۔تھانے کا مسئلہ صرف پولیس کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاست اور شہری کے تعلق کا امتحان ہے۔ اگر طاقتور شخص فون کر کے معاملہ بدلوا سکتا ہے اور کمزور شخص درخواست ہاتھ میں لیے دروازے پر کھڑا رہتا ہے تو قانون کی برابری کا تصور عام آدمی کے لیے ایک خوب صورت مگر بے جان جملہ بن جاتا ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوں سے ایک سوال ضرور بنتا ہے کہ اقتدار میں آکر وہ پولیس کو سیاسی اثر سے آزاد کرنے کی کتنی کوشش کرتی ہیں؟ اور اگر ہر حکومت پولیس کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو پھر عام شہری کیسے توقع کرے کہ کل اس کا مقدمہ کسی سیاسی تعلق کے بغیر صرف قانون کی بنیاد پر چلے گا؟

تھانے کے بعد اگر معاملہ عدالت تک پہنچ جائے تو عام آدمی کے لیے ایک نئی آزمائش شروع ہو جاتی ہے۔ عدالت انصاف کا آخری سہارا ہونی چاہیے، مگر ایک مقدمے کی طویل مدت، وکیل کی فیس، سفر کے اخراجات اور بار بار کی تاریخیں ایک کم آمدنی والے شخص کے لیے خود ایک سزا بن سکتی ہیں۔ ایک غریب شخص کے لیے عدالت جانا صرف قانونی عمل نہیں، روز کی مزدوری چھوڑنا، کرایہ خرچ کرنا اور کبھی کئی سال تک ایک غیر یقینی صورت حال برداشت کرنا بھی ہے۔ جس شخص کے پاس وسائل نہیں، اس کے لیے تاخیر ہمیشہ غیر جانب دار نہیں ہوتی۔ وقت بھی ایک معاشی طاقت ہے اور جس کے پاس وقت خریدنے کی استطاعت کم ہو، وہ نظام کی پیچیدگی زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔یہاں سیاسی جماعتوں کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ عدالتوں کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور عدالتی احترام پر بیانات دینا آسان ہے، مگر جب عام شہری کے مقدمے کو برسوں لگ جائیں تو اس مسئلے پر سیاسی شور کیوں کم ہو جاتا ہے؟ اگر انصاف صرف بڑے سیاسی مقدمات کی بحث بن کر رہ جائے اور عام آدمی کے زمین، وراثت، ملازمت، تنخواہ، خاندانی تنازع اور فوجداری مقدمات کا انصاف پس منظر میں چلا جائے تو پھر قانون کی حکمرانی کا فائدہ سب سے زیادہ کس کو مل رہا ہے؟

نوکری کا مسئلہ بھی اسی سیاسی نظام کا ایک آئینہ ہے۔ پاکستان کا لاکھوں نوجوانوں پر مشتمل وہ طبقہ جس نے تعلیم حاصل کی، ڈگریاں لیں، امتحانات دیے اور انٹرویوز کیے، اکثر ایک اور امتحان سے گزرتا ہے جس کا نصاب کتابوں میں نہیں ہوتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ قابلیت ضروری ہے، مگر سفارش بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ بعض جگہ میرٹ کا اعلان بہت بلند آواز میں ہوتا ہے مگر تقرری کے وقت تعلقات کی سرگوشیاں زیادہ طاقتور محسوس ہوتی ہیں۔ ہر ادارہ ایسا نہیں اور ہر بھرتی کو مشکوک قرار دینا درست نہیں، لیکن جہاں میرٹ پر اعتماد کمزور ہو جائے وہاں صرف ایک امیدوار نہیں ہارتا، پورے معاشرے کا اعتماد ہارتا ہے۔سوچیے، ایک نوجوان برسوں پڑھنے کے بعد جب نوکری نہ ملنے پر والد سے کہتا ہے کہ شاید کسی سے سفارش کروانی پڑے گی تو اس لمحے وہ صرف بے روزگاری کا شکار نہیں ہوتا، وہ ریاست کے ایک بنیادی وعدے پر بھی سوال اٹھا رہا ہوتا ہے۔ اگر قابلیت سے زیادہ تعلق اہم ہو جائے تو نوجوان محنت کے بجائے تعلقات تلاش کرنا شروع کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بدعنوانی صرف رشوت لینے والے کے ہاتھ میں نہیں رہتی بلکہ معاشرتی رویہ بن جاتی ہے۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ نوجوان ملک سے باہر کیوں جانا چاہتے ہیں، حالانکہ کبھی کبھی ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم نے یہاں ان کے لیے مواقع، میرٹ اور عزتِ نفس کی کتنی جگہ چھوڑی ہے۔

یہ تمام مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مہنگائی گھر کو پریشان کرتی ہے، بے روزگاری نوجوان کو بے امید کرتی ہے، تھانے میں ناانصافی ریاست سے بدظن کرتی ہے اور عدالت میں تاخیر انصاف پر اعتماد کم کرتی ہے۔ پھر سیاسی جماعتیں اسی ناراض شہری کو اپنے اپنے نعروں کے ذریعے متحرک کرتی ہیں۔ اسے کبھی بتایا جاتا ہے کہ تمام مسئلے پچھلی حکومت کی وجہ سے ہیں، کبھی موجودہ حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، کبھی کسی ادارے کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ مگر عام آدمی کے لیے مسئلہ یہ نہیں کہ الزام کس پر ہے۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی زندگی بہتر کب ہوگی؟ہماری سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر مسئلے کو شخصیت کے گرد گھما دیتے ہیں۔ عمران خان، نواز شریف، آصف علی زرداری یا کسی دوسرے رہنما کے حق اور مخالفت میں معاشرہ تقسیم ہو جاتا ہے، جبکہ عام آدمی کی اصل ضرورت کسی شخصیت کی فتح نہیں بلکہ ایسے ادارے ہیں جو شخصیتوں کے بدلنے سے اپنا رویہ نہ بدلیں۔ اسے ایسی پولیس چاہیے جو سفارش کے بغیر مقدمہ درج کرے، ایسی عدالت چاہیے جہاں انصاف غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو، ایسی نوکری چاہیے جو میرٹ پر ملے اور ایسی معیشت چاہیے جس میں محنت کرنے والا انسان مسلسل خوف میں زندگی نہ گزارے۔

یہاں سیاسی جماعتوں کے ساتھ عام شہری کی بھی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنے پسندیدہ رہنما کی ہر غلطی کا دفاع کریں گے تو ہم دراصل اسے بہتر ہونے کا موقع نہیں دیں گے۔ اگر ہم مخالف جماعت کے ہر اقدام کو غلط کہیں گے تو ہم اپنی سوچ کو سیاسی جھنڈے کے حوالے کر دیں گے۔ جمہوری شعور یہ نہیں کہ انسان ہر وقت حکومت کے خلاف ہو یا ہر وقت حکومت کے ساتھ۔ اصل شعور یہ ہے کہ وہ ہر فیصلے کو ایک ہی ترازو میں تولے۔ جو قانون اپنے لیے پسند ہے، وہ مخالف کے لیے بھی پسند ہو۔ جو آزادی اپنے لیے ضروری ہے، وہ مخالف کے لیے بھی ضروری سمجھی جائے۔ ہمیں ایسی سیاست چاہیے جس میں ہمارے پسندیدہ رہنما جیتیں یا ایسی ریاست چاہیے جس میں عام شہری جیتے؟ اگر حکومت بدلنے سے تھانے کا رویہ نہیں بدلتا، عدالت کی رفتار نہیں بدلتی، نوکری کا معیار نہیں بدلتا اور گھر کے بجٹ کا بوجھ کم نہیں ہوتا تو پھر صرف سیاسی چہرے بدلنے سے عام آدمی کی زندگی میں کیا بدلا؟ جمہوریت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کس جماعت کا جھنڈا بلند ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایک کمزور شہری جب اپنے گھر کی دہلیز پار کرکے تھانے، عدالت یا دفتر کے دروازے تک پہنچتا ہے تو اسے ریاست اپنے ساتھ کھڑی محسوس ہوتی ہے یا اپنے سامنے کھڑی ہوئی ایک ایسی طاقت، جس کے سامنے اس کی آواز بھی کمزور پڑ جاتی ہے؟جس دن عام آدمی کو قانون کے سامنے اپنی حیثیت کسی طاقتور کے برابر محسوس ہونے لگے گی، شاید اسی دن اسے یقین آئے گا کہ جمہوریت واقعی اس کی زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں