جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ انسان گزرتے وقت کو گرفت میں رکھ کر کچھ کر گزرنے کی ناتمام کوشش کرتا ہے، مگر وقت تھمتا نہیں۔ البتہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ ٹہرو، رکو دوڑو مت، کہیں ایسا نہ ہو ٹھوکر کھا کر گر پڑو۔عجلت سے کام نہ لو، ضروری نہیں تیز رفتاری تمہیں بروقت منزل پہ پہنچا دے۔ راستہ بھول گئے یا حادثہ پیش آ گیا تو بجاۓ وقت پر پہنچنے کے، بڑی تاخیربھی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے اپنی جان سے ہی گزر جاؤ۔ سڑک پار کرنی ہو تو احتیاط سے گزرو۔ کسی بے روزگار کو کم روزگار کا موقع ہاتھ آۓ تو اسے غنیمت جانے اور کم آمدنی پر وقتی طور پر اکتفا کر لے، اپنے اخراجات کو کم کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ جلد بازی میں اس کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ آپ کو جلد سازی کا کام کر کے کمانے پر مجبور کر دے، اور آنے والے وقت میں گزر بسر کے لئے کچھ بھی میسر نہ ہو۔ یہاں تک کہ غم دنیا کھاتے کھاتے زندگی سے ہی گزر جائے۔
یہ عقل و خرد کی باتیں ہیں جن سےحکمت و دانائی کا رس ٹپکتا ہے، جو کچھ توانسان میں ہوش مندی اور ذہانت کی مرہون منت ہوتی ہیں اور کچھ تعلیم وتجربے کی برکت سے دماغی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں۔ آج کا دور جو ہمیں جدید علوم سے بہرہ ور کرتا ہے، وہ افراد کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ غور و فکر اور فہم و دانش کی دعوت دیتا ہے بلکہ فراست اور جستجو کے معاملے میں جدید معلومات پر بے پناہ دسترس رکھنے کی بنا پرجہلاء و نیم خواندہ افراد کو، یہاں تک کہ اپنے والدین اور بزرگوں کو بھی کم تر اور لا علم سمجھتا ہے۔ بلا شبہ پچھلا زمانہ سادہ تھا۔ با الخصوص گاؤں دیہات کے سادہ لوح بعض لوگ بسا اوقات مذاق، اور جگ ہنسائی کے ںشانہ بن جاتے ہیں۔ مٹلآ کسی نے گھر میں پاۓ پکانے کے لئے اپنے خادم کو بازار سے پاۓ خرید کر لانے کو کہا۔ وہ بے چاره چوپاۓ کے پاۓ لانے کی بجاۓ بڑھئی کی دکان سے چارپائی کے پاۓ لیکر آجاۓ۔ ہدائت کی کمی اور ہم نام و ہم آواز اشیاء پرکسی کی عدم آگاہی ہمیں ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ آج بھی ایسے واقعات سر عام سر زد ہو جاتے ہیں۔ جن کو پڑھا جاۓ تو ہنسی نہ بھی آۓ تو مزاج میں لطافت ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔
ہمارے ایک سلیم نامی نادان دوست ہماری طرح عقل سلیم سے عاری تھے۔ ہو سکتا ہے اسکی وجہ یہ ہو کہ وہ اپنی جوانی میں ہی شدید درد کی وجہ سے اپنی عقل داڑھ نکلوا چکے تھے۔ البتہ اس داڑھ کے نکلوانے کا ان کو ایک فائدہ ضرور ہوا کہ وہ جتنا چاہے شیریں پھل اور مٹھائی کھا لیں، انکی داڑھ میٹھی نہیں ہوتی تھی۔ جبکہ ہم سا کوئی بے ڈھنگا بندہ میٹھا مشروب پیتا ہو تو اس کی داڑھ تو داڑھ ، پوری کی پوری داڑھی میٹھے شربت سے بھیگ جاتی ہے۔ انہوں نے ایک صبح ہمیں ناشتے پر بلا لیا۔ ہم سے سوال کیا کہ ہم ناشتے میں کیا کھانا پسند کرینگے۔ ہم نے فرمائش کر ڈالی کہ ہمیں مغز کے ساتھ پراٹھے کھانے کا بہت شوق ہے، اگر وہ مل جاۓ تو مزا آ جاۓ۔ اگلی صبح ہم بصد شوق ناشتہ کرنے ان کے گھربھیجا کھانے پہنچ گۓ۔ ہم نے ناشتے کی ٹرے پر ڈھکے دستر خوان کو ہٹایا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پلیٹ میں ایک مغز کی بجاۓ چاروں مغزبھرے رکھے تھے۔ ہمارے دوست ناشتے میں ہمارا ساتھ دینے کے لئے اس طرح جڑ کر بیٹھ گئے، جیسے وہ ہمارے نوالے گننا چاہ رہے ہوں۔ ۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ ذرا پرے کو ہو جاؤ تاکہ ہم آرام سے ناشتہ کر سکیں۔ لیکن وہ باوجود کوشش کے ہم سے الگ نہ ہو سکے۔ ہم کھڑے ہوئے تو وہ بھی ایسے کھڑے ہو گئے جیسے ہم دونوں رسی سے بندھے ہوں۔ ہم بیٹھے تو وہ بھی جھٹ سے جڑے بیٹھ گئے۔ معلوم ہوا کہ موصوف کو خبر تھی کہ ہم کمر درد کے مریض ہیں،اس لئے انہوں نے پنسار سے چاروں مغز خریدتے وقت چاروں گوند بھی چار مغز میں ڈلوا لئے تھے۔ ہمارے دوست عجلت پسندی کی وجہ سے ہم سے پہلے ہی گوند ملے چار مغز کھا چکے تھے، اس لئے وہ ہم سے بغل گیر کیا ہوۓ پورے کے پورے چپک کے رہ گئے۔ ہمارے دوست پر ہم سے پہلے ناشتہ کر لینے پر شرمندگی تھی اس وجہ سے شائد ان پر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا جس سے کھایا پیا گوند سب دھل کر رہ گیا اور وہ اس وقت ہی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہم سے علیحدہ ہو گئے۔
جہاں تک کھانے پینے کا تعلق ہے تو بھائی کھاۓ پئے بغیرتو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ ۔تاہم دانشوروں کا قول ہے کہ کھانا زندگی کے لئے ہوتا ہے نہ کہ زندگی کھانے کے لئے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ کھانے پینے میں اعتدال برتنا چاہئے۔ کہتے ہیں کہ کوئی انسان کم کھانے سے نہیں مرتا، زیادہ کھانے سے مرتا ہے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ کیونکہ دیکھنے میں آتا ہے کہ آج کل لوگ بہت خوش خوراک ہو گئے ہیں۔ وہ نان اسٹاپ روغنی نان کھاۓ چلے جاتے ہیں۔ زیادہ کھاۓ پئے بغیر ان کی دال نہیں گلتی۔ کوئی دعوت ہو یا اچانک “تو مان نہ مان میں تیرا مہمان” بن کر آ جاۓ، اور میزبان تناول ما حضر اس کے سامنے رکھ دے تو مہمان سب کچھ ایسے ہڑپ کر جاتا ہے کہ میزبان دیکھتا رہ جاتا ہے۔ کھانے میں دال مونگ ہو یا نہیں، وہ بھوک سے پریشان میزبان کے سینے پر مونگ ضرور دل کر چلا جاتا ہے۔ دیکھنے میں آ یا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کھانے پینے کے معاملے میں زیادہ صابر شاکر ہوتی پیں۔ وہ انواع و اقسام کے کھانوں پر ہاتھ ضرور بڑھاتی ہیں مگر دل مار کر ہاتھ ہٹا لیتی ہیں۔ وہ بیچاری کریں بھی تو کیا؟ انکی ڈائٹنگ انہیں مجبورآ کم کھانے پینے کی قسم نہیں توڑنے دیتی۔
دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر سارے سسرالی اور پوسالی رشتے دار ایک ہی شہر میں رہتے ہوں تو سب کو باری باری کھانے کی دعوت دینا اور سب کی دعوتوں میں شرکت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کا آسان حل ون ڈش پارٹی کی صورت میں نکال لیا گیا ہے۔اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ ایک وقت میں سب عزیز رشتے داروں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور بیک وقت ڈھیر سارے کھانوں سے لطف بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ ذائقے اور لذت کی دنیا ہی اور ہوتی ہے، جس کا ہر سوچرچا ہو نے لگا ہے مزے کے بات یہ ہے کہ کھانوں کے سب شائقین کا خرچا کم ہونے لگا ہے۔ ایک طرف ٹی وی چینلوں پر کھانے بنانے کی تراکیب نے ایسی دھوم مچا دی ہے کہ گھروں کی خواتین نے سودے منگوا منگوا کر اپنے مردوں کا دیوالیہ کر رکھا ہے۔ رہی سہی کسر چار سو پھیلی فوڈ اسٹریٹس نے پوری کر دی ہے۔ اب گھروں میں کھانے بنانے کی چھٹی۔ صبح ہو کہ شام ، پلے پیسے ہوں نہ دام، بس آرڈر کرنے سے ہے کام۔ باہر کے کھانوں نے ہر چھوٹے بڑے کو دیوانہ بنا رکھا ہے اور اپنا بٹوا ہرباپ نے بچوں سے چھپا رکھا ہے۔ تاکہ نا رہے بانس نہ بجے بانسری۔


