برداشت ایک شاندار انسانی وصف / محمد کوکب جمیل ہاشمی

صبر و برداشت اور تحمل ایک ایسا وصف ہے، جو کسی کو اللہ تعالیٰ عطا کر دے گویا وہ اللہ کا قرب حاصل کر بیٹھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان بے صبرا ہے۔ بلکہ قرآن کی ایک آئت کے مطابق انسان اپنے رب کا نا شکرا ہے۔ انسان کو اگرچہ خوبصورت و مثبت اعلیٰ اوصاف و خصوصیات اطمینان بخش زندگی فراہم کرتی ہیں، لیکن زندگی کے ناہموار سفر میں اس کو بیچینی، بے صبری، بیتابی، بیقراری، پریشانی، گھبراہٹ، بے بسی، اندیشے، خوف اور ڈر جیسی منفی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کیفیات دھیرے دھیرے اس کی خصلت کا حصہ بن جاتی ہیں، جنکا وہ مختلف حالات میں اپنے مزاج کے رد عمل کے طور پہ اظہار کرتا ہے۔ بعض اوقات پچھتاوا بھی اس کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ خصوصیات اکثر اسے حسرت اور گومگو کی کیفیت سے دو چار کرتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ میں یوں کرتا تو ایسا ہو جاتا، یا ایسا کرتا تو ویسا ہو جاتا۔ ایسی صورت میں انسان بیچارگی اور انفرادی طور پہ اپنی بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح اوپر بیان کی گئی انسان کی پریشان کن خصوصیات کے بر عکس اللہ تعالیٰ نے انسان کو صبر،حوصلے، برداشت، استقامت، عزم وہمت، تحمل، قرار، قناعت اور بردباری کی نعمتیں عطا کی ہیں۔ یہ اصطلاحات انسان کی مثبت خصوصیات کی عکاس ہوتی ہیں۔
بے چینی کی اگر بات کی جاۓ تو واضح ہوتا ہے کہ یہ خلاف مرضی یا توقع کے بر عکس کوئی کام خراب ہونے یا ارادے کی ناکامی ہونے کی صورت میں ایک اضطرابی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔ بے چینی غالب آ جاۓ تو زندگی ایسی لگنے لگتی ہے کہ جیسے آپ بیچینی کو نہیں جھیل رہے بلکہ ذیابیطس نہ ہونے کے بوجود بے چینی کی پھیکی چاۓ پی رہے ہیں۔ جیسے سگریٹ پینے والے مشکل سے سگریٹ پینا ترک کرتے ہیں۔ بے چینی بھی ایک نشے کی مانند ہے جوایک کن کجھورے کی طرح آپ کے جیون سے چمٹی رہتی ہے۔ جب تک چمٹا گرم کرکے چمٹانے سےاس نشے کو ہرن نہ کیا جاۓ۔
مٹھاس نہ ہو جینے میں، ہر مشروب بے مزا ہو جاتا ہے پینے میں۔ اس پھیکے پن میں مزاج کے تیکھے پن کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ کوئی برسر روزگار ہو، امتحان میں پوزیشن کے ساتھ۔ کامیاب ہو یا کسی کی شادی ہو، کسی کوبھی خوشی سے مبارک باد دینے کو جی نہیں کرتا۔ ایسی خوشیاں آپ کو ملیں یا کسی اور کو اس پر خوشی کا ظہار نہ کرنا نا شکری ہے۔ نا شکری اور عدم شکر خوری دونوں سے پوری دنیا بے رنگ، بے ہو، بے ذائقہ لگتی ہے۔ رنگینیاں ختم، خوشبوئیں عدم اور ذائقے بے دم لگتے ہیں۔ سب کچھ پھیکا پھیکا لگنے لگتا ہے۔ مزاج میں پھیکا پن اور کھانا پینا پھیکا پھیکا اور سیر و تفریح پھیکی پھیکی لگنے لگتی ہے۔ بزلہ سنجی کی جگہ شکر رنجی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں لازم ہے کہ وقت کی تکالیف کو وقتی تکالیف سمجھ۔ کر
برداشت کریں اور اللہ سے ہمت اور حوصلے کےساتھ تکلیف سہنے کی تو فیق کی دعا کے ساتھ صبر و شکر کریں۔ یہی کامیاب زندگی کا راز ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تکالیف کو نظر انداز کر کے اللہ کی دی گئی تمام نعمتوں کو یاد کریں اور باری تعالیٰ کا شکر ادا کرہں کہ دیگر نعمتیں حاصل نہ ہوئیں تو کیا ہوا۔ ہم نے بہت سے عرب ممالک میں اکثر لوگوں کو کسی کے فوت ہو جانے کی خبر پر اظہار رنج کرنے کی بجاۓ الحمد لللہ کہتے ہیں۔ اللہ کی شکر گزاری اس بات کی دلیل پرمبنی ہوتی ہے کہ گھر کا ایک فرد انتقال کر گیا تو دوسرے عزیز رشتے دار تو اللہ کے فضل سے بقید حیات ہیں۔ یہ اللہ کی نعمت ہوتے ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں رنج و غم میں مبتلا رہ کر بھی شکر الحمد لللہ کہنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے اپنی صحت خراب کرنے کی بجاۓ صبر و شکر کی جانب راغب ہو کر میت کی بخشش و مغفرت کی دعا کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں