جب شیطان انسان سے گناہ کروانے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ یہ تڑپ عام نہیں ہوتی۔ یہ اس دشمن کی تڑپ ہے جس نے اللہ رب العزت کے سامنے قسم کھائی تھی کہ وہ بنی آدم کو ہر طرف سے گھیرے گا، دائیں سے، بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے۔ جب وہ بندہ سجدوں میں گر جاتا ہے، جب وہ توبہ کے آنسو بہاتا ہے، جب وہ گناہوں کے بازار سے نکل کر نیکی کی طرف آتا ہے تو شیطان کی تمام محنت ضائع ہو جاتی ہے۔
مایوسی کے باوجود وہ ہار نہیں مانتا۔ وہ اپنا آخری اور سب سے خطرناک حربہ استعمال کرتا ہے، اور وہ ہے انسان کی عقل و شعور اور اس کی سوچ سمجھ میں بگاڑ پیدا کر دینا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اب اسے شراب، زنا، جھوٹ یا چوری کی طرف نہیں لے جا سکتا، کیونکہ اس بندے نے اپنے اور گناہ کے درمیان قرآن کی دیوار کھڑی کر لی ہے۔ اب وہ براہ راست حملہ نہیں کرتا، بلکہ غیر محسوس طریقے سے اس کے اندر گھس جاتا ہے۔
وہ انسان کو بلاوجہ کی بے چینی، ڈپریشن، پینک اٹیکس اور اوور تھنکنگ جیسی اذیت ناک کیفیات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ اس کے دماغ میں ایسے سوال ڈالتا ہے جن کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ “میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟” “اللہ میری سنتا کیوں نہیں؟” “میرا مستقبل کیا ہوگا؟” “لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے؟” یہ وہ سوالات ہیں جو بظاہر بہت معصوم لگتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ شیطان کے وہ تیر ہیں جو وہ سیدھا دل پر مارتا ہے۔
کیونکہ یہی وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جب انسان ہمت ہار کر “گیو اپ” کر دیتا ہے اور لاشعوری طور پر شیطان کی سب سے بڑی صفت یعنی مایوسی کو اپنا لیتا ہے۔ شیطان خود مایوس ہے۔ قرآن کہتا ہے “اِنَّہٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ” کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف کافر ہوتے ہیں۔ شیطان چاہتا ہے کہ انسان بھی اسی کی طرح مایوس ہو جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ بندہ کہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، میری دعائیں قبول نہیں ہوتیں، میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔
اور یہی اس کی جیت ہے۔ اسے آپ کے شراب پینے سے زیادہ آپ کے مایوس ہونے پر خوشی ہوتی ہے۔ کیونکہ شرابی تو ایک رات توبہ کر کے ولی بن سکتا ہے، لیکن مایوس انسان تو توبہ کے دروازے تک بھی نہیں جاتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے لیے دروازہ بند ہو چکا ہے۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت میں یہی وقت اپنے خالق سے جڑنے کے سفر کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ صوفیاء کہتے ہیں کہ ٹوٹا ہوا دل اللہ کا عرش ہوتا ہے۔ جب دل دنیا کی ہر سہارے سے ٹوٹ جاتا ہے، جب انسان کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کوئی دوست، کوئی رشتہ دار، کوئی ڈگری، کوئی پیسہ اسے سکون نہیں دے سکتا، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندہ اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے۔ یہ بے چینی دراصل بلاوا ہے۔ یہ ڈپریشن نہیں، یہ روح کی پکار ہے کہ مجھے میرے رب سے ملا دو۔
ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کے اندیشے انسان کو اس کے حال سے غافل کر دیتے ہیں۔ شیطان کا سارا کھیل ہی ماضی اور مستقبل میں ہے۔ وہ آپ کو ماضی میں لے جا کر کہتا ہے دیکھو تم نے فلاں گناہ کیا تھا، تم کتنے برے ہو، اللہ تمہیں کیسے معاف کرے گا؟ اور پھر وہ آپ کو مستقبل میں لے جاتا ہے اور کہتا ہے دیکھو کل کیا ہوگا، تمہارا کیا بنے گا، تم ناکام ہو جاؤ گے۔ اور اس ماضی اور مستقبل کی کشمکش میں وہ آپ سے آپ کا “حال” چھین لیتا ہے۔ وہ حال جس میں دل آباد ہوتا ہے اور جس دل میں اللہ بستا ہے۔ یوں انسان کا تعلق اپنی ہی ذات سے ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ باہر سب کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اندر سے بالکل تنہا ہوتا ہے۔
اور یاد رکھیں، خود سے تعلق جوڑنا دراصل اپنے خالق کی ذات کو پہچاننے اور سمجھنے کے مترادف ہے۔ جس نے خود کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ خود سے جڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود غرض ہو جائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے دل کی آواز سنیں۔ دن میں پانچ منٹ خاموشی سے بیٹھ کر اپنے دل کی دھڑکن کو محسوس کریں۔ یہ دھڑکن آپ کو بتا رہی ہے کہ کوئی ہے جو اسے چلا رہا ہے۔
لہٰذا جب بھی شیطانی وسوسے آپ کو گھیریں تو انہیں دبانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ان کا رخ موڑ دیں۔
پہلا ہتھیار قرآن ہے۔ قرآن صرف کتاب نہیں، یہ شفاء ہے۔ جب وسوسے شدید ہوں تو وضو کر کے سورہ الضحیٰ اور سورہ الانشراح ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔ یہ دونوں سورتیں خاص طور پر مایوسی کے اندھیروں میں امید کی روشنی ہیں۔ “فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا” بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
دوسرا ہتھیار صبح و شام کے مسنون اذکار ہیں۔ یہ اذکار آپ کے گرد ایک نادیدہ حصار بنا دیتے ہیں۔ جس طرح ہم گھر کو تالا لگاتے ہیں، اسی طرح اذکار دل کو تالا لگاتے ہیں تاکہ شیطان اندر داخل نہ ہو سکے۔ خاص طور پر آیت الکرسی، تینوں قل، اور “لاحول ولا قوۃ الا باللہ” کا کثرت سے ورد۔
تیسرا ہتھیار اپنے حال میں جینا ہے۔ جسے آج کل مائنڈ فل نیس کہا جاتا ہے، ہمارے دین میں اسے “مراقبہ” اور “احسان” کہا گیا ہے کہ تم اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ کھانا کھاتے ہوئے صرف کھانا کھائیں، چلتے ہوئے قدموں کو محسوس کریں، نماز میں صرف نماز کو محسوس کریں۔ ماضی اللہ کے سپرد کر دیں اور مستقبل اللہ پر توکل کر دیں۔
شیطان آپ کو تھکانا چاہتا ہے، آپ نے تھکنا نہیں ہے۔ یہ جنگ ایک دن کی نہیں ہے۔ جب تک سانس ہے، یہ جنگ جاری رہے گی۔ لیکن یاد رکھیں، شیطان کمزور ہے۔ قرآن کہتا ہے “اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا” بے شک شیطان کا مکر بہت کمزور ہے۔ وہ صرف وسوسہ ڈال سکتا ہے، آپ کے دل میں زبردستی داخل نہیں ہو سکتا۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
تاکہ شیطان خود ہمیشہ کے لیے مایوس اور نامراد رہے اور آپ اپنے رب سے جڑے رہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو شیطان اور نفس کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں کو اپنے سکون سے بھر دے۔ آمین۔


