اس وقت دنیا کی معیشت کو طباقاتی تفریق، آمرانہ اور سرمایہ دارنہ نظام کی زنجیر نے اس قدر جکڑ لیا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے معاشی گراف انتہائی قابل تشویش اور لمحہ فکریہ ہیں۔ صورتحال حال اس قدر پیچیدہ ہو گئی ہے کہ معاشی شماریات بھی سیاسی بنیادوں پر نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نظریہ سوشلزم ناکام ہو چکا ہے۔ اس صورتحال میں آیت اللہ شہید سید محمد باقر الصدر کی شاہکار کتاب اقتصادنا (اردو ترجمہ: اسلامی اقتصادیات اور جدید اقتصادی مکاتب) ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں شہید الصدر نے دو بڑے اقتصادی مکاتب سرمایہ داری اور مارکسزم پر گہرا تنقیدی جائز اور اس کے مقابل اسلام کا ایک متوازن، عادلانہ اور انسانی اقتصادی نظام کا نظریہ پیش کیا ہے۔
آج کے مضمون میں ہم آیت اللہ شہید باقر الصدر کے فکر کی روشنی میں اسلامی اقتصادیات، سرمایہ داری اور مارکسزم کے پر روشنی ڈالیں گے۔ شہید صدر نے اس کتاب میں سب سے پہلے یہ واضح کیا کہ علم اقتصاد اور اقتصادی مکتب دو الگ چیزیں ہیں۔ علم اقتصاد معاشی مظاہر کا مشاہدہ اور ان کے باہمی تعلقات کی دریافت کرتا ہے، جبکہ اقتصادی مکتب لوگوں کی معاشی زندگی کو انصاف کے ساتھ منظم کرنے کا راستہ بتاتا ہے۔ اسلام نے کوئی علم اقتصاد پیش نہیں کیا بلکہ ایک مکمل اقتصادی مکتب دیا ہے جو معاشرے کی معاشی زندگی کو عادلانہ بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔
شہید الصدر فرماتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام تین بنیادی اصولوں پر کھڑا ہے غیر محدود نجی ملکیت، غیر محدود اقتصادی آزادی اور غیر محدود کھپت کی آزادی۔ آپ کے مطابق اس نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ معاشی مسئلے کی جڑ کو قدرتی وسائل کی کمی قرار دیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وسائل وافر ہیں ؛ اصل مسئلہ انسان کی نا انصافی اور غلط تقسیم ہے۔ سرمایہ داری میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتی ہے، مزدور اپنی محنت کے پھل سے محروم رہتا ہے اور سود کا نظام معاشرے کو مزید لوٹتا ہے۔ آزادی کا نعرہ درحقیقت کمزوروں کو کچلنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جس کی ایک مثال ہم پاکستان کے موجودہ معاشی نظام کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف شہید الصدر مارکسزم اور سوشلزم پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مارکسزم تاریخی مادیت پرستی پر مبنی ہے۔ یہ تمام معاشرتی تبدیلیوں کو معاشی عوامل کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور نجی ملکیت کو مکمل طور پر ختم کر کے اجتماعی ملکیت کا پرچار کرتا ہے۔ لہذا شہید الصدر اسے بھی مسترد کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی فطرت نجی ملکیت کی مکمل نفی کو قبول نہیں کرتی۔ سوشلزم جبری مساوات پیدا کرنے کی کوشش میں فرد کی آزادی اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو کچل دیتا ہے۔ اسلام فرد اور معاشرے کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے، نہ تو فرد کو بالکل آزاد چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے ریاست کا غلام بنا دیتا ہے۔
شہید باقر الصدر نے اسلامی اقتصادی نظام کے تین بنیادی ستون بیان کیے ہیں۔ دوہری ملکیت، یعنی اسلام نجی ملکیت، عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت تینوں کو تسلیم کرتا ہے۔ نجی ملکیت محنت اور جائز ذرائع سے حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اس پر معاشرتی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ قدرتی وسائل، معادن اور کچھ اہم شعبے عوامی یا ریاستی ملکیت میں رہتے ہیں۔ محدود اقتصادی آزادی، یعنی اسلام فرد کو معاشی آزادی دیتا ہے لیکن شریعت کی حدود کے اندر۔ سود، قمار، ذخیرہ اندوزی، دھوکہ دہی اور استحصال کی ممانعت ہے۔ اور ریاست وہ شعبے جہاں شریعت نے تفصیلی احکام نہیں دیے، اس میں معاشرتی ضروریات کے مطابق قوانین بنا سکتی ہے۔ سماجی انصاف، یعنی یہ دو اصولوں پر مشتمل ہے۔ تکافل عامہ (معاشرتی کفالت) اور توازن اجتماعی (معاشرتی توازن) ۔ زکوٰۃ، خمس، انفاق، بیت المال اور دیگر ذرائع کے ذریعے دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اسلام میں معاشی مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ انسان کی نا انصافی اور غلط تقسیم ہے۔ جب تقسیم انصاف پر مبنی ہو اور انسان کی صلاحیتیں قدرت کے وسائل کو استعمال کرنے میں لگ جائیں تو معاشی مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔
اب اگر نظریہ تقسیم کی بات کریں تو شہید الصدر تقسیم کی دو حصوں میں تعریف کرتے ہیں، پیداوار سے پہلے کی تقسیم (وسائل اور مواقع کی تقسیم) اور پیداوار کے بعد کی تقسیم (منافع کی تقسیم) ۔ اسلام میں محنت اور ضرورت دونوں اہم ہیں۔ محنت کرنے والا اپنی محنت کا حق دار ہے، لیکن ضرورت مندوں کا بھی معاشرے پر حق ہے۔ سرمایہ داری میں صرف مالک کو سب کچھ ملتا ہے جبکہ اسلام میں محنت کرنے والے کو بنیادی حق دیا جاتا ہے۔ اس نظریے کا آج کے تناظر میں اہمیت کا اگر جائزہ لیں تو آج جب عالمی سطح پر دولت کی ناہمواری عروج پر ہے، قرضوں کا بوجھ غریب ممالک کو کچل رہا ہے، جس کی واضح مثال پاکستان ہے جہاں پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض پیدا ہوتا ہے، اور ماحولیاتی تباہی بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال میں شہید الصدر کی فکر ایک متبادل نظریہ پیش کرتی ہے۔ اسلامی بینکاری، مضاربہ، مشارکہ، مزارعہ اور اجارہ جیسے عقود آج بھی اسلامی مالیاتی اداروں کی بنیاد ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے اسلامی بینکاری نظام کا جائزہ لیں تو مذاق لگتا ہے کیونکہ جس ملک کا پورا نظام سود اور قرضوں پر چل رہا ہے وہاں اسلامی بینکاری کی حیثیت فقط نام کی حد تک ہے۔
یعنی شہید باقر الصدر نے صرف تنقید نہیں کی بلکہ ایک مکمل متبادل نظام پیش کیا جو نہ تو سرمایہ داری کی بے رحمی رکھتا ہے اور نہ سوشلزم کی جبریت۔ یہ نظام انسان کو خلیفہ ارض مانتا ہے اور اسے ذمہ دار بناتا ہے کہ وہ قدرت کے وسائل کو انصاف اور اعتدال کے ساتھ استعمال کرے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک کا پورا معاشی نظام عالمی بینک جو خود امریکہ جیسے ملک کے ایماء پر فیصلے کرتے ہیں غریب اور ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے جال میں پھنساتے ہیں، کے اصولوں اور قوانین کی روشنی میں معاشی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ اور اس نظام عام آدمی کے لئے کوئی جگہ نہیں جس کی مثال بھی پاکستان کا موجودہ نظام ہے جہاں غریبوں سے تعلیم، صحت اور شہری حقوق، انسانی حقوق چھین کر وقت ایسا آ گیا ہے کہ عام آدمی کو پیٹرول پر پانچ سو روپیہ سبسڈی لینے کے لئے لائنوں میں لگ کر گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں نہ ہی آئین پر مکمل عمل درآمد ہو رہا ہے اور نہ اسلامی معاشی نظام پر جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ یقیناً شہید باقر الصدر کی معرکۃ الاراء کتاب اسلامی اقتصادیات اور جدید اقتصادی مکاتب آج بھی ماہر محققین، اسکالرز اور پالیسی سازوں کے لیے رہنما کتاب ہے جو معاشی انصاف کی تلاش میں ہیں۔ شہید صدر کی یہ فکری میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ترقی صرف مادی دولت میں اضافہ نہیں بلکہ انصاف، کفالت اور انسانی کرامت کے تحفظ میں پنہاں ہے۔
عراق سے تعلق رکھنے والے شہید باقر الصدر نے اصول فقہ، اقتصاد، کلام، تفسیر، تاریخ، فلسفہ سیاست اور معرفت شناسی، منطق، جیسے علوم میں جدید نظریات پیش کیے، اور درجنوں کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کے انقلابی نظریات سے صدام کی حکومت سخت خائف تھی۔ اس بنیاد پر اُنہوں نے آپ کو 9 اپریل 1980 مطابق 23 جمادی الاول 1400 ہ میں ہمشیرہ کے ہمراہ بے دردی سے شہید کر دیا۔
وما علینا الاالبلاغ


