خاموش زہر: حسد کی نفسیات اور دشمنی کا سفر/ رانا جی جعفر

​دشمنی کبھی کھل کر حسد کا نام لے کر نہیں آتی۔ لوگ اسے “عزت، انا، وقار اور خاندانی غیرت” کا خوبصورت بھیس پہناتے ہیں۔ کہتے ہیں “ہم اصول پسند لوگ ہیں، اپنا حق نہیں چھوڑیں گے، یہ ہماری عزت کا معاملہ ہے!” لیکن اگر اس غیرت کے غلاف کو اتارا جائے تو اندر سے وہی سڑا ہوا حسد نکلتا ہے، جو انسان سے کسی بھی اپنے، دوست، ہمسائے یا واقف کار کا وجود تک برباد کروا دیتا ہے۔
​ہم نے ہمیشہ حسد کو ایک روایتی اخلاقی عیب سمجھ کر پڑھا، مگر کبھی اس کی سائنسی، نفسیاتی اور فلسفیانہ گہرائی میں اترنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ انسان خود کو حسد سے کیسے بچائے، بلکہ اصل اور تیکھا سوال یہ ہے کہ “کسی دوسرے انسان کے سکون اور اس کی خوشی کو اپنے خاموش زہر سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟”
​علمِ نفسیات کے مطابق انسان اکثر اپنے اندر کے حسد کو تسلیم کرنے کے بجائے خود کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی خود ساختہ مظلومیت اسے یہ یقین دلاتی ہے کہ اصل ناانصافی اس کے ساتھ ہوئی ہے۔ انسانی دماغ کا ایک مرکزی حصہ Anterior Cingulate Cortex (دماغ کا وہ حصہ جو درد اور ناانصافی محسوس کراتا ہے) جسمانی چوٹ، شدید درد اور ناانصافی کے احساس سے جڑی کیفیت میں کردار ادا کرتا ہے۔ جب کسی دوسرے کو کامیابی ملتی ہے اور لاشعور یہ سمجھتا ہے کہ “اس مقام کا حق دار تو میں تھا”، تو انسان اسے ایک طرح کی ذہنی تکلیف کے طور پر محسوس کر سکتا ہے۔
​اسی نادیدہ درد اور بے نام ناانصافی کو چھپانے کے لیے انسان کا نفسیاتی دفاعی نظام (Defense Mechanism) حرکت میں آتا ہے۔ انسان اپنے حسد کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنی اندر کی جلن کو “اصول پسندی”، “حق کی جنگ” اور “غیرت” کا غلاف پہنا دیتا ہے تاکہ وہ خود کو مجرم کے بجائے مظلوم ثابت کر سکے۔
​انسان دوسرے کی خوشحالی دیکھ کر اندر سے اس لیے ٹوٹتا ہے کیونکہ وہ کامیابی اسے اپنی محرومی کا عکس دکھاتی ہے۔
​فلسفی باروخ سپینوزا کے نزدیک حسد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان دوسرے کی خوشی دیکھ کر خود غم محسوس کرے۔ دوسرے کی کامیابی اسے اپنی کمی یاد دلاتی ہے۔
​ماہرِ نفسیات کیرن ہورنے کے نظریات کے مطابق، جب انسان ہر وقت اپنا موازنہ دوسروں سے کرنے لگے تو دوسرے کی کامیابی اسے اپنی ناکامی لگنے لگتی ہے۔ حسد اکثر دوسرے کی کامیابی سے نہیں، اپنی محرومی کے سامنے کھڑے ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔
​یہ وہ نفسیاتی کیفیت ہے جہاں انسان بظاہر مسکرا کر مبارکباد دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک خاموش “لیکن” کا خنجر گاڑ دیتا ہے۔ فلسفی نطشے اس حالت کو Ressentiment (پنہاں دشمنی) کہتا تھا—یعنی جو انسان کھلے میدان میں مقابلے کی تاب نہیں رکھتا، وہ پیٹھ پیچھے تقدیر پر شک اور کردار کشی کی فضا قائم کر کے دوسرے کے وجود کو نادیدہ طریقوں سے برباد کرنے لگتا ہے۔
​یہی کیفیت جب بڑھتی ہے تو رویہ بدلنے لگتا ہے۔ معمولی اختلاف بھی ذاتی مسئلہ بن جاتا ہے اور خاموش جلن آہستہ آہستہ دشمنی میں بدل جاتی ہے۔
​اس کا حل بات کو خود پر سے ہٹا کر “امانت داری” پر لانے میں ہے۔ کسی دوسرے کی خوشی اللہ کی امانت ہے، اور آپ کا لفظ، آپ کی نظر اور آپ کی خاموشی اس امانت کے محافظ ہیں۔
​جب کسی کی کامیابی پر پہلے تین سیکنڈ کا لاشعوری ردِعمل آئے، تو اسی لمحے اپنے دماغ کو مقابلے سے ہٹا کر اس کے لیے برکت کی دعا پر منتقل کیجیے۔ صرف تعریف کے بجائے اس کامیابی کی تکنیک اور تفصیل پوچھیے، کیونکہ سائنس بتاتی ہے کہ تفصیل مانگنے سے دماغ کا موازنہ کرنے والا سرکٹ فوراً بند ہو جاتا ہے اور سیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، اپنے اندر کی خالی جگہ کا اعتراف کیجیے۔
​اگر ہم اپنے اندر چھپے اس زہر کا اعتراف نہ کر سکے، اور حسد کی خاطر کسی کا سکون، خوشی یا آشیانہ ویران کرتے رہے، تو یاد رکھیے، اپنے خاموش زہر سے کسی کی دنیا برباد کرنے کا حساب دنیا کے کسی قانون میں ہو نہ ہو، خالقِ کائنات کی عدالت میں ضرور دینا پڑے گا—اور یہی اس معاشرے کے لیے سب سے بڑا سلگتا اشارہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں