آئیڈیالوجی، اے آئی اور اردو زبان / جاوید رسول

انکار ہمیشہ اقرار کے ساتھ آتا ہے، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔اب یہ سوال بھی کوئی اہم نہیں رہا کہ انسان نے خدا کو کیوں مارا؟ سب جانتے ہیں کہ وہ خود خدا بننا چاہتا تھا۔ لیکن ظاہر ہے خدا کو ریپلیس کرنا اتنا آسان بھی نہیں تھا بلکہ اس کے لیے عقائد سے ٹکرانے کا حوصلہ چاہیے تھا۔میرے نزدیک صرف فلسفہ ہی ہے جو کسی حد تک اس Replacement کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس نے تشکیکیت کو جنم دے کر مذہب میں جو ویکیوم پیدا کیا اس نے کہیں نہ کہیں دوسری Ideologies مثلاً سائنس اور ٹیکنالوجی کو متبادل کے طور راہ بخشنے میں کافی مدد کی۔پھر اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تھی اسے نطشے نے پورا کیا۔فلسفے میں اس سے زیادہ عیار فلسفی شاید ہی کوئی رہا ہوگا۔وہ خدائی منطق سے اس قدر آشنا تھا کہ اس نے انسانوں کے خدا بننے کا پورا روڈ میپ تیار کیا۔وہ جانتا تھا کہ خدا کا بنیادی تفاعل آئیڈیالوجی ہے اور آئیڈیالوجی ہی اس کا بہترین اور معقول متبادل ہے۔اس نے بھلے ہی نہ مانا ہو لیکن انیسویں صدی میں جدید نیچرل سائننس نے جس تیزرفتاری سے مغرب کی مذہبی جڑوں کو کھوکھلا کر کے نئی ثقافت تشکیل دیناشروع کیا وہ نئی آئڈیالوجی کے ظہور کا ابتدائیہ تھا، یعنی خدائی کی جانب انسان کا پہلا قدم۔ اچھا، میں نے نطشے کو عیار کیوں کہا اس کی کئی وجوہات ہیں، ایک بلکہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے ‘Will To Power” کہہ کر عام انسان کو اس دھوکے میں رکھا کہ طاقت آزادی کا جوہر ہے جبکہ بنیادی طور پر طاقت ہمیشہ اشرافیہ کے لیے ہوتی ہے کیونکہ جدلیاتی اور فکری دونوں اعتبار سے یہی طبقہ آزاد ہوتا ہے۔نطشے نے طاقت کو بظاہر Politisize نہ کیا ہو لیکن اس کی منشا یہی تھی کہ طاقت کو کسی طرح ایک فرد یا جماعت تک ہی محدود رکھا جائے۔ظاہر ہے فوق البشر کا جوہر اس کی Free Sprit ہے یعنی وہ آفاقی اصول و نظریات سے ماورا ہوتا ہے اور دنیا میں صرف Elite Minority ہے جو اتنی آزاد ہوتی ہے، باقی اکثریت وہی کرتی ہے جو یہ اقلیت طے کرتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بیسویں صدی سے اب تک اس اقلیت نے دنیا کو کیسے آئیڈیالوجی کا اسیر بنائے رکھا ہے۔ہمیں نے سمجھنے میں دیر کردی ورنہ بات تو صاف تھی کہ نطشے کا پاگل آدمی خدا کی موت کا نہیں بلکہ نئے خدا کے ظہور کا اعلان کررہا تھا۔نطشے نے جس انداز سے اشرافیہ کو خدا کی Rational Replacement کے طور پر پروجیکٹ کیا وہ چونکا دینے والا ہے۔میں حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے کلاس روموں میں جس آدمی کو صوفی بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے وہ حقیقت میں کتنا عیار اور انتہا پسند تھا۔بھلے ہی وہ یونیورسل مارلٹی کا انکاری رہا ہو لیکن اس کا فوق البشر جس مورلٹی کا تعین کرتا ہے کیا وہ evolve ہوکر یونیورسل مارلٹی نہیں بنتی؟پھر سوال ذرا پیچیدہ ہے کہ دنیا کے اس مقتدر طبقے کا ویلیو سسٹم کیسے justify ہوگا جس کا مقصد ہی اکثریت کو ایک ہی فریم ورک میں فٹ کرکے ہانکنا ہوتا ہے؟جدیدیت اور آج کی مہاجدیدیت سامنے کی مثالیں ہیں۔اب آپ کہیں گے کہ یہ فریم ورک کوئی استعماری شئی تو نہیں ہے کہ انسان کو لامحالہ اس میں فٹ ہونا پڑے، وہ چاہے تو اس سے انکار بھی کرسکتا ہے۔لیکن پھر میرا سوال ہوگا، کیا ایسا کرنا واقعی اکثریت کے لیے ممکن ہوگا؟
دنیا کی اکثریت کا المیہ یہ بے کہ یہ بے یارو مددگار رہی ہے کیونکہ اس کے اختیار میں سوائے ووٹ کے کچھ نہیں ہوتا اور اس میں بھی اس کی مرضی کم نظریاتی مرعوبیت زیادہ شامل رہتی ہے۔گویا اس کے پاس سوائے فریم ورک میں فٹ ہونے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔جدیدیت کے منکرین ہی کو دیکھیے یا ہمارے مشرقی علماء کو جنہوں نے مغربی ازموں کی سخت تنقید کی حتی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں جتنی بھی ترقیاں ہوئیں، ہمارے علماء نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ان کی مخالفت کی ہوگی۔ایسا نہیں ہے کہ مغرب نے ہر ازم کو جوں کا توں قبول کیا ہو، وہاں کے دانشور طبقے نے بھی ازموں کی مخالفت کی لیکن ان کی اور ہماری مخالفت میں آسمان زمین کا فرق ہے۔انہوں نے پھر بھی فلسفہ دیا، جبکہ ہم نے مسلکی اور مذہبی اختلافات دیے؟میں کبھی کبھی سوچ کر حیران ہوجاتا ہوں کہ ہم کیسے روایت پسند ہیں کہ ہماری تان بالآخر مغرب کو اسلام دشمن کہنے پر ہی ٹوٹتی ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ ہماری مخالفت سے مغرب کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔ہم نے جدیدیت کو اسلام دشمن ازم کہا لیکن بتائیے ہماری مخالفت سے جدیدیت کے فریم ورک کو کیا کوئی نقصان پہنچا؟ ہم نے پہیے اور موبائل فون کی مخالفت کی تو کیاان دونوں کے تفاعل میں کوئی تبدیلی آئی؟ ظاہر ہے نہیں۔کیونکہ آئڈیالوجی جیسے فریم ورک کو ہرگز عوامی رائے کی ضرورت نہیں رہتی۔مارکٹ ڈیمانڈ ایک متھ ہے۔ یہ ہمارا وہم ہے کہ ہمارے چاہنے سے فریم ورک بدلتا ہے یا اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔قیدی سے کبھی یہ نہیں پوچھا جاتا کہ اسے کس طرح کی کوٹھری چاہیے بلکہ جس کوٹھری میں ڈال دیا جائے اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ایڈجیسٹ کرنا پڑتا ہے۔اکثریت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے،یہ دئے گئے فریم ورک کے خلاف بھلے ہی بغاوت کرے لیکن آخر کار ایڈجیسٹ کرہی لیتی ہے۔
اے آئی دنیا کیElite Minority کی پیدوار ہے۔اس کی ترقیاں دیکھ کر اتنا تو سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ دنیا کو ایک ہی لسانی فریم ورک میں لے آنا چاہتا ہے۔لیکن اس کی آئیڈیالوجی کا دائرہ کتنا وسیع ہے اس کا اندازہ لگانا فی الحال تو بہت مشکل ہے۔آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ اے آئی کی آمد نے ہمارے ادبی حلقوں میں کس نوعیت کی تشکیکیت کو جنم دیا ہے۔لوگ طرح طرح کے تحفظات کے شکار ہیں، کسی کو لگتا ہے تخلیقیت ختم ہوئی تو کوئی کہتا ہے اب آرجینلٹی نہیں رہی۔لیکن بہت کم لوگ ہیں جو اسے سمجھنے اور اس سے familiar ہونے پر زور دیتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اے آئی ( Ai) محض کوئی ڈیجیٹل ماڈل یا ٹول نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل صورت حال ہے جو دھیرے دھیرے اب ایک نیا کلچر بنتا جارہا ہے۔میرے خیال میں اس وقت دنیا میں موجود ہر زبان کے بولنے والوں کو اگر الگ الگ معاشروں میں تقسیم کیا جائے تو ہر دوسرے معاشرے کی طرح اردو معاشرے کو بھی یہ چیلنج درپیش ہے کہ خود کو اس صورت حال میں فٹ کرنے کی کوشش کرے۔دیکھنا یہ ہے کہ اردو سماج کب اس صورت حال کو اس کے تمام تر challenges کے ساتھ قبول کرتا ہے۔
میں جانتا ہوں کہ اے آئی اس وقت خاص طور پر ہمارے ادبی سماج کے لیے واقعی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔مجھے میراجی یاد آتے ہیں کہ بیسویں صدی کے چوتھے دہے میں جب ہندستان میں جدید کلچر یعنی مشینی دور کا ابھی آغاز ہورہا تھا ادبی سماج میں ایک عجیب قسم کی سراسیمگی اور تشویش کا ماحول تھا۔لوگ جدید کلچر کو تسلیم کرنے اور نہ کرنے کے تذبذب میں مبتلا تھے۔تشکیکیت اتنی بڑھ چکی تھی کہ جدید کلچر کو کاونٹر کرنے کے لیے ترقی پسندوں اور روایت پسندوں نے باضاباطہ لکھنا شروع کیا۔ظاہر ہے میراجی خود اسی صورت حال میں پھنسے ہوئے تھے لیکن آپ دیکھیے کہ کیسے انہوں نے انٹلیکچولی تب اس صورت حال کو ایڈریس کیا تھا۔ انہوں نے “نئی شاعری کی بنیادیں” عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:
“نیا شاعر اب ایک ایسے چوک میں کھڑا ہوا ہے جس سے دائیں بائیں آگے پیچھے کئی راستے نکلتے ہیں۔ لیکن اسے پوری طرح نہیں معلوم ہے کہ کون سا راستہ اس نے طے کرلیا۔۔۔۔اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جس عمارت کو اسے سجانا ہے۔ نئے روپ میں ڈھالنا ہے۔ اس کی بنیادوں کا حال اسے پوری طرح نہیں معلوم ہے”
ظاہر ہے کسی بھی صورت حال میں فٹ ہونے یعنی اسے قبولنے کے لیے اسے سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
مجھے لگتا ہے ہم اے آئی کو لے کر اسی لیے تشویش اور تذبذب کے شکار ہیں کیونکہ ہم ابھی اسے پوری طرح understand نہیں کرپائے ہیں۔اے آئی زبانوں کو فائدہ پہنچائے گا کہ نقصان، ادب کی آرجینلٹی کو ختم کرے گا کہ تحفظ بخشے گا، انسانی ذہانت کو چیلینج کرے گا کہ اس سے مدد لے گا، ان سبھی سوالات کے جوابات ہمیں ملیں گے اگر ہم موجودہ میٹا عہد کی صورت حال کو سمجھتے ہیں۔
دیکھیے سب سے پہلے ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ اب انسان ایک نہیں بلکہ بیک وقت دو دنیاوں میں سانس لیتا ہے۔ایک وہ جسے ہم خارجی دنیا کہتے ہیں اور ایک وہ جسے ہم پہلے ورچیول اور اب ڈیجیٹل دنیا سے تعبیر کرتے ہیں۔ظاہر ہے خارجی دنیا میں انسان کا سروکار چلتے پھرتے انسان کا تو ہے لیکن وہ بہت ہی محدود اور دھیرے دھیرے سکڑتی جارہی ہے۔اس کے برعکس ڈیجیٹل دنیا جدید کلچر کا ترقی یافتہ ورژن ہے۔یہاں رکیے اور غور کیجیے۔اگر میں آپ سے پوچھوں کہ ان دونوں دنیاوں میں سے کس ایک پر اب انسان منحصر ہے تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟ ظاہر ہے ڈیجیٹل دنیا۔کیوں؟ کیونکہ انسانی زندگی کے تمام تر معاملات اب دھیرے دھیرے ڈیجیٹل دنیا کی طرف شفٹ ہوتے جارہے ہیں۔شاید اس لیے کہ یہاں امکانات زیادہ ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ ایک Given یعنی دیا گیا فریم ورک ہے۔موجودہ دور کا انسان اس فریم سے باہر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہے، جیسا کہ ابتدا میں کہا جاچکا ہے۔
اب چونکہ اس دوسری دنیا کی زبان ڈیجیٹل ہے مثلاً اے آئی کی Programming زبان پائتھن، جو کہ ایک ڈیجیٹل زبان ہے۔ لہذا ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ زبان کیسے کام کرتی ہے۔دیکھیے ڈیجیٹل دنیا میں سب کچھ زبان ہی ہے۔مثلاً آپ ہیلتھ سیکٹر میں دیکھیےAi based روبوٹک سرجریاں لسانی پروگرامنگ کے ذریعے ہوتی ہیں۔لیکن کیا اردو زبان اس معاملے میں معاون ہوسکتی ہے۔بالکل ہوسکتی ہے اگر اسے ڈیجیٹائز کیا جائے۔مجھے پڑھنے والے زیادہ تر قارئین ادب کے طالب علم اور اسکالر ہوتے ہیں لہذا میں بات کو آسان انداز میں سمجھاتا ہوں۔آپ اردو کو Ai سے کیسے جوڑ سکتے ہیں۔آپ کو زیادہ سے زیادہ مشینی تراجم کرنے ہوں گے اور جہاں کہیں آپ کو لگتا ہو کہ ترجمہ غلط ہورہا ہے وہیں اسی وقت مشین کو درست کرنا ہوگا۔مثلاً آپ گوگل، چیٹ جی پی ٹی یا کسی بھی اے آئی ٹول کا استعمال کررہے ہوں، اگر آپ کو کہیں کوئی لفظ جملہ، یا صرف و نحو کی غلطی دکھے تو اسے فوراً درست کریں۔لیکن یہاں یاد رکھیں کہ آپ درستی کے وقت authenticity کا خیال رکھیں گے۔یہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، اس لیے کہ ہم غلط انفارمیشن دے کر مشین کو گمراہ بھی کرسکتے ہیں۔
اسی طرح ہم Optical Character Recognition میں اے آئی کی مدد کرسکتے ہیں۔مثلاً چونکہ اے آئی کی پائتھن لینگویج inpage یا pdf text کے بجائے صرف یونی کوڈ فارم کو سمجھتی ہے لہذا ہمیں اس کی مدد کرنا ہوگی۔ایسے کہ جتنا بھی متن ان پیج اور پی ڈی ایف صورت میں ہے اسے یونی کوڈ میں convert کرنا ہوگا۔اس طرح اردو زیادہ سے زیادہ اے آئی supportive بن جائے گی۔ہماری جامعات اور پبلشروں کا المیہ یہ ہے کہ آج بھی ان پیچ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جبکہ ہمیں word میں لکھنے کو ترجیح دینی چاہیے تھی اور اسی کو مزید Develope کرنا چاہیے تھا لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔ہاں inpage 17 advanaced version ضرور ہے لیکن اس تک رسائی کسی کسی کو ہے سب کو نہیں۔
یاد رکھیے اے آئی تب تک کسی زبان کو فروغ نہیں دے سکتا جبتکہ وہ اس سے واقف نہ ہو۔ہم جتنا زیادہ ڈیٹا اے آئی کو یونی کوڈ فارمیٹ میں دیتے رہیں گے اتنا اے آئی اسے استعمال میں لانے کی کوشش کرے گا اور جتنا معیاری ہمارا ڈیٹا ہوگا اے آئی کا Response بھی اتنا ہی معیاری ہوگا۔یہ وہ پروسس ہے جو زبانوں کی بالادستی کو ختم کرتا ہے۔ظاہر ہے جو زبان حاشیے پر تھی اسے مرکز میں آنے کے لیے بس محنت اور معیار کی ضرورت ہے۔اب یہ زبان بولنے اور لکھنے والوں تک ہے کہ وہ کتنا اسے اے آئی کے قریب لے آتے ہیں۔
رہی بات اے آئی کے ادبی سروکار کی تو اس ضمن میں ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اے آئی نے مصنف اور قاری دونوں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں اور میرے خیال میں دونوں کے مابین communication کو ممکن بنایا ہے۔مثال کے طور پر میں اخترالایمان کی نظم پگڈنڈی پڑھ رہا تھا تو خیال آیا کہ پگڈنڈی کو پگڈنڈی کیوں کہتے ہیں جان لوں۔اب ظاہر ہے اے آئی نہ ہوتا تو مجھے کسی لغت کا سہارا لینا پڑتا لیکن جو لغت میرے پاس ہے ضروری نہیں اس میں اتنی تفصیل ہو۔ ایسے میں اے آئی کا کمال دیکھیے چونکہ اس کے پاس ہماری زبان کے علاوہ دوسری زبانوں کے لغات سے بھی اکٹھا کیا ہوا ڈیٹا موجود ہے لہذا یہ مجھے فوراً ضرورت کی تفصیل فراہم کرتا ہے.آپ اگر chat gpt سے پوچھتے ہیں پگڈنڈی کو ایسا کیوں کہتے ہیں تو جواب سن کر دھنگ رہ جائیں گے۔گویا اے آئی دئے گئے مواد کی بنا پر آپ کی مدد کرتا ہے۔ اب رائٹر کے لیے اے آئی کار آمد کیسے ہے دیکھیے۔رائٹر پہلے تو اپنی معلومات کی فوری تفتیش کرسکتا ہے کہ درست ہے کہ نہیں دوسرے وہ اے آئی سے زبان اور تکنیک بھی درست کراسکتا ہے حتی کہ شاعر چاہے تو غزل کا وزن بھی درست کراسکتا ہے۔اسے استاد کی جوتیاں درست کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی۔لیکن مسئلہ آرجینلٹی کا ہے جو کہ ایک چیلینج ہے۔ میں کیسے مان لوں کہ فلاں افسانہ، ناول یا غزل اے آئی جنریٹڈ نہیں ہے۔ظاہر ہے ادب لکھنا اب پہلے سے زیادہ آسان ہوگیا ہے لیکن آرجینل ادب لکھنا پہلے سے زیادہ چیلنجنگ بن چکا ہے۔مجھے لگتا ہے نئے تجربوں کی جتنی ضرورت جدیدیت والوں نے محسوس کی تھی اس سے زیادہ ہم اس وقت محسوس کرتے ہیں۔ہمارے رائٹر کو ہمیشہ نئے کی تلاش میں رہنا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا ہوگی کہ اپنا ذاتی ورلڈ ویو بیان کرے۔میں نے ایک دوست عاصم بدر کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ زمانہ جتنا ایڈوانس ہوگا علم و ادب میں سرکھپانا اتنا ہی مشکل ہوگا۔ہمارا یہ اندیشہ کہ اے آئی تخلیق کار کا تخلیقی سروکار چھین رہا ہے، غلط ہے۔بلکہ یہ اسے چیلنج کرتا ہے کہ وہ حقائق اور عام تصورات کو subvert کرکے دکھائے۔لیکن افسوس ہمارے شاعر آج بھی عورت کو objectify کرکے شاعری کو کمرشلائز کرنے کی کوشش میں ہیں اور فکشن نگار اسی nothingness میں مغز کھپا رہے ہیں جس جدیدیے Exaust کرچکے ہیں اور جو موجودہ انسان کے لیے مابعد الطبیعاتی متھ کے سوا کچھ نہیں۔دنیا اس وقت دانشوری کے بحران سے گزر رہی ہے ایسے میں یہ ہمارے ناول یا نثر نگار کی ذمے داری ہے کہ وہ دنیا میں تشکیل پانے والے Narratives کے پیچھے کی سچائی دکھائے اور بظاہر خوشگوار دکھنے والے عوامل کے جھوٹ کو بےنقاب کرے۔دنیا اگر ورلڈ آڑڈر کے تحت چل رہی ہے تو اس آرڈر کی نظریاتی اساس کون سمجھائے گا، ظاہر ہے دانشور تو رہے نہیں اب یہ کام ہمارے فکشن نگار کا ہوگا لیکن وہ ڈارک Narratives کے جنگلوں میں سے نکلے تو۔
رہی بات مصنف اور نقاد کے رشتے کی تو اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ اے آئی نے مصنف اور نقاد دونوں کی اتھارٹی کو مرکز میں لانے کا کام کیا ہے۔ظاہر ہے ہر ادبی متن تخلیق کار کے perspective کا نتیجہ تو نہیں ہوتا ہے بلکہ بہت سارا ادب دئے گئے فارمولے کی پیداور ہوتا ہے لہذا وہی ادب اے آئی کے مقابلے زیادہ آرجینل ہوگا جس میں مصنف کے ذاتی نقطئہ نظر کو دخل ہو۔ نقاد کی آرجینلٹی یہ ہوگی کہ وہ مصنف کے نقطئہ نظر کو اپنے علاوہ کئی دوسرے given percepctives سے دیکھنے کی کوشش کرے اور بہترین نقاد وہی ہوگا جو متن سے مکالمہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اے آئی بھی ایسا کرسکتا ہے لیکن اس کی limitations ہوتی ہیں۔وہ معنی کو ڈی کنسٹرکٹ کرنے کے بجائے اسے کسی دائرے میں لاکر قید کرنا چاہتا ہے جبکہ آرجینل نقاد limitations کا قائل نہیں ہوگا بلکہ وہ کسی نتیجے تک پہنچنے کے بجائے متن کو ہمیشہ ڈی کنسٹرکٹ کرتا رہے گا۔متن سے مکالمہ قائم کرنے سے میری مراد یہی ڈی کنسٹرکشن ہے۔یہ جبھی ممکن ہے جب ہمارا نقاد متن کی خوبیوں سے زیادہ خامیوں پر بحث کرے گا۔اعتدال پسندی اے آئی کا شعار ہے، ہمارے نقاد کو سخت گیری سے کام لینا ہوگا۔
ظاہر ہے مابعد جدیدیت اپنی مدت پوری کرچکی ہے اور locale یعنی مقامیت بھی اپنی شناخت کھوچکی ہے۔یہ زمانہ Meta Modernism یعنی مہاجدیدیت کا ہے۔اس میں غیر یقینی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے لہذا ہمارا ادب اسی uncertainity کا محض حادثاتی product ہوگا۔میں اسے حادثاتی ادب تو نہیں البتہ situational ضرور کہوں گا اور واضح رہے اس سچویشن کا محل وقوع کوئی locale یعنی مقامیت نہیں ہوگی بلکہ میٹا ہوگا۔یعنی ورچول دنیا کا لینڈ اسکیپ جس میں فیس بک اور اس جیسے باقی ذرائع آتے ہیں۔یہاں جس لمحے جو کچھ ہوگا ہمارا ادب اسی کا ردعمل ہوگا۔
آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر ساخت کسی نہ کسی نظریے کی پیداوار ہوتی ہے۔ادبی ساختوں میں نظریہ تلاشنا کوئی مشکل کام نہیں تاہم مشینی ساختوں خاص کر اے آئی جیسی ساختوں میں جو اس وقت دنیا کا نیا ماڈل تیار کررہی ہیں، یہ تشخیص کرنا ذرا مشکل کام ہے۔شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دنیا کو ہر زمانے میں ایسے دانشوروں کی ضرورت پڑی ہے جن سے نظریہ ایکسپوز ہوا ہے۔اے آئی پر نوم چومسکی کے مضامین اس زمانے کے ہیں جب ابھی اے آئی عام آدمی تک رسائی پانے کے ابتدائی مراحل میں تھا اور اس نے اسے انسانی ذہانت کے مقابلے میں پرلے درجے کی چیز کے طور پر دیکھا تھا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اے آئی آج بھی انسانی ذہانت کے آگے ہیچ ہے اور کیا یہ آگے بھی ایسا ہی رہے گا؟ دنیا خاص طور پر ہم ادب والوں میں اس بات پر مباحثے ہونا ہمارے زندہ ہونے کی دلیل ہوگی۔

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں