حال ہی میں جاوید اختر کو ستندر سرتاج کے پروگرام میں زبان، ادب، شاعری اور سینما کے زوال پر بات کرتے سنا تو پاؤلو فرارے کی بات یاد آ گیی کہ لوگوں کو چھوٹی چھوٹی سرحدوں میں تقسیم کردیا جائے تو انکا نالج اور ورلڈ ویو بھی بکھر جاتا ہے۔ وہ مسائل کی مشترکہ اور بڑی سٹرکچرل وجوہات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، اور مقامیت میں بٹی منتشر حقیقتوں کو جوڑنے اور بڑے تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔
شاید برصغیر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ یہ پورا خطہ صدیوں سے مشترک تاریخ، تہذیب اور باہم جڑی زبانوں کا خطہ تھا، مگر نوآبادیاتی دور میں ان سبکو مصنوعی حد بندیوں میں قید کر دیا گیا۔ جیسے ہندی اور اردو کو الگ سیاسی شناختوں کے طور پر تشکیل دے کر ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا گیا۔ پھر اردو کو ’’مسلمانوں کی زبان‘‘ اور رفتہ رفتہ ایک ’’بیرونی‘‘ زبان سمجھنے کا تصور عام کیا گیا۔۔ جس کے ساتھ مسلمان بھی اپنی ہی سرزمین میں ایک ’’outsider‘‘ شناخت کے طور پر دیکھے جانے لگے۔ یوں مشترک تاریخ اور زمین سے تعلق کمزور ہوا، شناختیں سخت ہوئیں اور تقسیم نے اپنا سیاسی راستہ بنایا۔
1947 کے بعد سرحدیں بدل گئیں، مگر نوآبادیاتی ڈھانچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ آج بھی پورے خطے میں انگریزی علم، اعلیٰ تعلیم، اداروں، روزگار اور اقتدار تک رسائی کی طاقتور زبان ہے، جبکہ مقامی زبانیں باہم اپنی برتری کی لڑائیوں میں الجھتی رہتی ہیں۔ اور
زیادہ تر ثقافتی اظہار تک محدود ہوتی گیں۔
اصل سوال اردو بمقابلہ ہندی یا اردو بمقابلہ پنجابی نہیں بلکہ اصل سوال طاقت کی زبان کا ہے۔۔ کون سی زبان اور اس سے جڑا سسٹم فائدہ اٹھا رہے ہیں ؟؟
مسئلہ اس لیے صرف یہ نہیں کہ ہم اپنی زبانیں بھول رہے ہیں۔ زبان کے ساتھ ایک دنیا جاتی ہے: محاورہ، تخیل، لوک دانش، تاریخ، اجتماعی حافظہ، جمالیاتی ذوق اور اپنے تجربے کو بیان کرنے کا اپنا طریقہ۔ جب تعلیم، اداروں اور علم کی زبان مسلسل باہر سے آئے گی تو نئی نسل اپنے ہی ادبی اور فکری ورثے سے کٹتی جائے گی۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ مقامی سینما، ڈراما، شاعری اور ادب کیوں کمزور ہورہے ہیں۔ شاید زوال صرف فن کا نہیں۔۔۔ اس مٹی سے پیدا ہونے والے تخیل کے پورے نظام کا زوال ہے۔
اور شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اس پورے عمل کو اردو بمقابلہ ہندی، اردو بمقابلہ پنجابی یا ایک قوم بمقابلہ دوسری قوم کے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں دیکھتے رہیں، جبکہ بڑی تصویر یہ ہے کہ مقامی زبانیں باہم لڑتے لڑتے کمزور ہوتی رہیں اور طاقت کی اصل زبان اور اس سے منسلک نظام اپنی جگہ قائم رہیں۔
یہی نوآبادیات کی شاید سب سے پائیدار میراث ہے: لوگوں کو ایک دوسرے سے الجھائے رکھو، تاکہ وہ مشترکہ مسائل اور اس پورے نظام کو ایک ساتھ دیکھ ہی نہ سکیں۔


