کراچی میں کچرے کی منافع بخش صنعت اور پیپلز پارٹی کی کارکردگی / شیر علی انجم

کراچی پاکستان کا معاشی مرکز اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے یہ شہر بنیادی شہری سہولیات کے حوالے سے مسلسل زوال کا شکار ہے۔ کچرے کا مسئلہ اس بحران کی ایک نمایاں مثال ہے۔ کراچی میں کچرا اب صرف صفائی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسی منافع بخش صنعت کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس سے مختلف سطحوں پر وابستہ افراد مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ شہری اس کے ماحولیاتی اور صحت کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ڈان اخبار میں 6 دسمبر 2025 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں روزانہ 14,800 ٹن سے زیادہ ٹھوس اور بلدیاتی کچرا پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقدار ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے بڑے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔ کراچی میں ضلع وسطی سب سے زیادہ کچرا پیدا کرنے والا ضلع ہے، جہاں روزانہ تقریباً تین ہزار ٹن کچرا پیدا ہونے کی اطلاع ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی پاکستان کے کل ری سائیکل ہونے والے پلاسٹک کچرے کا تقریباً 25 فیصد پیدا کرتا ہے۔
کراچی میں کچرا اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے کی بنیادی ذمہ داری سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) کی ہے۔ بورڈ کے پاس 13 ہزار سے زائد کارکن اور تقریباً 2,300 گاڑیاں تعینات ہیں۔ بعض علاقوں میں لینڈ اوننگ ایجنسیاں بھی صفائی اور کچرا اٹھانے کی ذمہ داری خود انجام دیتی ہیں۔ SSWMB شہر کے 70 فیصد سے زائد حصے میں پرائمری کلیکشن کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
تاہم زمینی صورت حال ان دعوؤں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں انفرادی طور پر کچرا اٹھانے والے افراد بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، جن میں افغان شہری اور دیگر کچرا جمع کرنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ افراد بعض علاقوں میں فی گھر تین سو سے چار سو روپے ماہانہ وصول کرتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر گھروں سے کچرا اٹھاتے ہیں۔ اس کچرے میں سے کاغذ، پلاسٹک کی بوتلیں، خواتین کے بال، دھات، تار اور دیگر قابل فروخت اشیا الگ کرلی جاتی ہیں، جبکہ باقی کچرا کسی میدان یا خالی جگہ پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کراچی کے تقریباً ہر علاقے میں ایسی جگہیں دیکھی جاسکتی ہیں۔
مسئلہ صرف یہاں تک محدود نہیں۔ شہر بھر میں کچرا جمع کرنے والے افراد اور بعض انفرادی نیٹ ورکس قابل فروخت اشیا کو الگ کرنے کے بعد باقی ماندہ کچرے کو خالی میدانوں اور دیگر مقامات پر پھینک دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر اس کچرے کو ہفتے میں ایک بار آگ لگانے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس عمل سے پیدا ہونے والا دھواں نہ صرف فضائی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ شہریوں کی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ماحولیاتی جرم کو روکنے کے لیے مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔ یہی صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ کراچی میں کچرا باقاعدہ ایک صنعت کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس سے کچرا اٹھانے والے انفرادی گروہوں، بعض متعلقہ افراد اور ویسٹ مینجمنٹ کے نظام سے وابستہ مختلف سطحوں کے لوگ مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کچرے سے حاصل ہونے والے قابل فروخت سامان کی خریداری کے لیے دکانیں موجودہیں، جہاں یہ سامان خریدا جاتا ہے۔ ان میں سے متعدد مراکز شہری آبادی کے درمیان قائم ہیں، جس سے شہریوں کے لیے ماحولیاتی اور سماجی خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مراکز کو بچوں کے اغوا جیسے جرائم سے بھی جوڑا جاتا ہے، تاہم اس نوعیت کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آزاد سروے اور آڈٹ رپورٹس، جن کا حوالہ ڈان اور دیگر اخبارات میں بھی سامنے آیا ہے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی کو مکمل طور پر تسلی بخش قرار نہیں دیتیں۔ ایک سروے کے مطابق 65 فیصد کراچی والے صفائی کی سروس سے غیر مطمئن تھے، جبکہ 87 فیصد افراد یا تو غیر مطمئن تھے یا انہیں صفائی کی سروس دستیاب ہی نہیں تھی۔ کچرا اٹھانے کی مجموعی کارکردگی تقریباً 75 فیصد بتائی جاتی ہے۔کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود تھرڈ پارٹی آڈٹ کی کمی، کنٹریکٹرز کی نگرانی میں کمزوریاں اور بعض علاقوں میں طویل عرصے تک کچرا پڑے رہنے کی شکایات شہریوں کے لیے ایک بڑا سوال ہیں۔ اگر ایک ادارے کے پاس ہزاروں ملازمین اور سیکڑوں گاڑیاں موجود ہوں، بجٹ بھی مختص ہو اور اس کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں کچرا مسلسل موجود رہے تو پھر سوال صرف وسائل کا نہیں بلکہ نگرانی، احتساب اور انتظامی کارکردگی کا بھی ہے۔
کراچی کا مسئلہ صرف کچرے تک محدود نہیں۔ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 16 سالوں کے دوران صرف 1,016 تعمیراتی نقشے منظور ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں ہزاروں ایسی تعمیرات وجود میں آچکی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں متعلقہ اداروں سے باقاعدہ نقشے منظور کرائے بغیر تعمیر کیا گیا۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ شہر میں تعمیراتی قوانین اور شہری منصوبہ بندی کے نظام کی سنگین کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں۔اس معاملے میں سندھ حکومت، محکمہ ریونیو اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں ملی بھگت یا لاپروائی اہم سوال ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ صرف چند عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے نام پر ہونے والی تعمیرات کو بھی ایک سنگین مسلہ ہے جن کی تعداد لاکھوں تک ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
کراچی کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، اس کے مقابلے میں شہری انتظامی نظام اسی رفتار سے ترقی کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ بجلی، پانی، گیس، سیوریج، ٹریفک، پارکنگ، تجاوزات، اسٹریٹ کرائم اور لینڈ مافیا جیسے مسائل نے شہری زندگی کو مشکل اجیرن بنا دیا ہے۔ دوسری جانب شہر کے نسبتاً خوشحال اور ایلیٹ علاقوں میں ان مسائل کی شدت بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ یہی تضاد کراچی کے شہری نظام میں موجود طبقاتی تقسیم کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
گزشتہ 18 سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ اس طویل سیاسی دورانیے کے باوجود کراچی کے بنیادی شہری مسائل میں وہ تبدیلی نظر نہیں آتی جس کی شہری توقع کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر شہر روزانہ تقریباً 14,800 ٹن کچرا پیدا کرتا ہے تو اسے اٹھانے، منتقل کرنے، ری سائیکل کرنے اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا مؤثر اور شفاف نظام کیوں قائم نہیں ہوسکا؟۔SSWMB کی ذمہ داری بنیادی طور پر سندھ حکومت کے پاس ہے، جبکہ پرائیویٹ کمپنیوں اور کنٹریکٹرز کے ذریعے بھی صفائی کے مختلف کام انجام دیے جاتے ہیں۔ لیکن اصل سوال مانیٹرنگ اور احتساب کا ہے۔ اگر کوئی شہری شکایت کے لیے 1128 پر کال کرتا ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی تھانے میں جرم کی رپورٹ درج کرانے کی کوشش کی جارہی ہو۔ شکایت درج ہونے کے بعد اس پر عملی کارروائی اور اس کی نگرانی کا مؤثر نظام شہریوں کو واضح طور پر نظر نہیں آتا۔ آج بھی کراچی کے ملیر، کورنگی اور دیگر علاقوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں جن میں کچرے کے ڈھیر، بدبو اور گندگی سے متاثرہ علاقے دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ شہریوں کو سوشل میڈیا پر نظر آرہا ہے تو متعلقہ اداروں کو کیوں نظر نہیں آتا؟۔کراچی صرف کچرے کا شہر نہیں۔ یہ پاکستان کی معیشت کا دل ہے، لاکھوں لوگوں کے روزگار کا مرکز ہے اور ملک کی اقتصادی سرگرمیوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اس شہر کے شہری بنیادی صفائی، پانی، سیوریج اور محفوظ ماحول جیسی سہولیات سے محروم رہیں تو اس کا اثر صرف کراچی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری ملکی معیشت اور معاشرے پر پڑتا ہے۔اس لیے کراچی کے کچرے کے مسئلے کو محض صفائی کے ایک معمولی انتظامی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ گورننس، شفافیت، احتساب، ماحولیات اور شہری حقوق کا مسئلہ ہے۔ سندھ حکومت اور بالخصوص پیپلز پارٹی کی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کراچی میں کچرا اٹھانے کا نظام محض ایک منافع بخش صنعت نہیں بلکہ ایک مؤثر، شفاف اور جواب دہ شہری سروس ہے۔ ورنہ روشنیوں کا شہر بتدریج اندھیروں میں تبدیل ہوتا رہے گا اور کراچی کے شہری اپنے ہی شہر میں بنیادی شہری حقوق کے لیے سوال اٹھاتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں