میں تمام دوستوں کو اور فیس بک و سوشل میڈیا پر پڑھنے والے تمام احباب کو ایک ایسا واقعہ سناتا ہوں، بالخصوص ان لوگوں کو جو چوبیس گھنٹے کے لیے اپنے گھروں میں ملازم رکھتے ہیں—چاہے وہ کسی کمپنی سے ہائر کرتے ہوں یا اپنے طور پر رکھتے ہوں، اور بعض اوقات تو تھانوں سے ان کی باقاعدہ پولیس تصدیق بھی کرا لیتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیے کہ یہ سب ایک ملے جلے گروہ ہوتے ہیں اور یہ عورتیں بعض اوقات خطرناک قسم کی لت اور نشوں میں مبتلا ہوتی ہیں، جبکہ تھانے بھی کئی بار ان کی رپورٹیں بس یونہی کلیئر دے دیتے ہیں۔
یہ جو کہانی میں آپ کو سنانے لگا ہوں، اسے غور سے پڑھیں کیونکہ یہ ہمارے معاشرے میں جنم لینے والا ایک ایسا خاموش المیہ ہے جس پر ابھی تک لوگوں کی نظر نہیں گئی۔ ایسا نہی کہ پانچوں انگلیاں برابر ہوں ۔۔ مگر کالی بھیڑیں اور ہوس زدہ لوگ ہر محنت اور مشقت کے کام اور پیشہ کے لئے کلنک کا ٹیکہ ہیں۔۔
میرے دوست نے مجھے یہ بات قرآن پر حلف لیکر کچھ اس طرح سے سنائی کہ آج سے ڈیڑھ سال پہلے، راولپنڈی یا اسلام آباد کے کسی پوش علاقے کا یہ واقعہ ہے جس نے میرے تو ہوش ہی اڑا دیے تھے۔اور وہ ان باتوں کو قرآن اٹھا کر حلفیہ کہتا ہے کہ سچ ہیں۔۔
اس کے مطابق بات کچھ یوں ہے کہ میرے اس جاننے والے کاروباری شخص کا کاروبار باہر کے ملک میں ہے اور وہیں رہتے ہیں۔ ان کی فیملی یہاں جڑواں شہروں میں ایک بڑے بنگلے میں رہتی ہے۔
بڑا بیٹا ہاسٹل میں پڑھتا ہے، جبکہ گھر میں ان کی بیوی اور ایک چھوٹا بیٹا ہوتا ہے جو ابھی سات آٹھ سال کا تھا۔
مسئله یہ تھا کہ وہ بچہ عام بچوں کی طرح کھل کر بول نہیں سکتا تھا، بس چند الفاظ منہ سے نکالتا تھا یا اپنی بات سمجھانے کے لیے اشاروں کا سہارا لیتا تھا۔
اکیلی ماں کے لیے گھر کے کاموں اور اس بچے کو سنبھالنا بہت مشکل ہو رہا تھا، تو اس کے شوہر نے باہر سے ہی کسی جانی مانی سروس کمپنی کے ذریعے ایک فل ٹائم عورت کو بطورِ ملازمہ رکھوا دیا جو چوبیس گھنٹے اسی بنگلے میں رہتی تھی۔
پہلی دو عورتیں تو کچھ دن کام کر کے چلی گئیں، لیکن جو تیسری عورت آئی، شروع میں وہ ایک انتہائی مسکین اور مظلوم صورت عورت لگتی تھی۔
اس نے نظر کا چشمہ لگا رکھا تھا، قد کوئی پانچ فٹ آٹھ انچ کے قریب، دبلی پتلی اور لمبی، آنکھیں گہری تھیں اور چہرے سے بالکل سادہ اور ضرورت مند دکھائی دیتی تھی کہ کسی کو اس پر شک ہی نہ ہو۔
کمپنی نے تھانے کی روایتی تصدیق بھی کروائی تھی، لیکن وہ کاغذ کے ٹکڑے اس شیطان صفت عورت کے اصل روپ کو چھپا نہیں سکتے تھے۔
لیکن جیسے ہی اس نے کچھ دن گزارے، وہ آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوئی اور اس کے اندر کا خوفناک چہرہ بے نقاب ہونے لگا۔
اس نے گھر کی مالکن کو بتانا شروع کیا کہ وہ زیادہ عرصہ اس طرح انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا خاوند پچاسی سال کا ایک بوڑھا آدمی ہے، اور اس کے ساتھ زبردستی اس کی شادی کر دی گئی تھی جو اسے کسی طور مطمئن نہیں کر سکتا۔
وہ بتانے لگی کہ اس کا بوڑھا خاوند خود اسے کئی دفعہ نامعلوم مردوں کے پاس لے جاتا تھا تاکہ وہ اپنی ہوس مٹا سکے، اور یہاں تک کہ اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس کے اپنے بہنوئی سے اس کی ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی ہے!
یہ ہولناک باتیں سن کر اس مالکن کی روح کانپ گئی تھی۔
کچھ دنوں بعد وہ عورت اور آگے بڑھی اور رونے لگی کہ اس کی بڑی بہن بھی اسے پیسوں کی خاطر دو تین دفعہ مختلف لوگوں کے پاس لے جا چکی ہے، لیکن وہ کہتی تھی کہ باجی! میں یہ گندا کام نہیں کرنا چاہتی، میں عزت اور پردے کی روٹی کھانا چاہتی ہوں، اسی لیے میں نوکری کر رہی ہوں۔
مگر اس کے باوجود اس کے اندر کی ہوس اور جنونیت رک نہیں رہی تھی۔
وہ اس حد تک ایک خطرناک ہوس پرست تھی اور نشوں بالخصوص ‘آئس’ جیسی غلیظ لت میں بری طرح مبتلا تھی کہ رات کو اٹھ کر گھر میں گھومتی رہتی تھی۔
جب گھر کی مالکن کو اس کے نشے میں ہونے کا شک گزرا اور اس نے سختی سے کہا کہ وہ اس کا طبی معائنہ کروائے گی تاکہ پتہ چلے کہ اس کے جسم میں کون سا نشہ ہے، تو وہ پہلے تو انکاری رہی، لیکن پھر ایک عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی کہ اگر باجی میرے خون میں آئس یا نشے کا پتہ چلا بھی تو آپ میرا کیا کر لیں گی؟
مالکن نے کہا کہ وہ اسے اسی وقت نوکری سے نکال باہر کرے گی، تو وہ ہاتھ جوڑنے لگی کہ مجھے مت نکالیں۔
ان حالات سے تنگ آ کر اس مالکن نے اپنے ایک جاننے والے—جو انسانی نفسیات، سسپنس اور روحانی علوم پر عبور رکھتے تھے انہیں وہاں بلایا گیا —ان سے مدد مانگی۔ پہلے تو اس عورت نے اس سے اکیلے بات کرنے کے چکر میں اسے بھی اپنا گرویدہ کرنے کی کوشش کی جب بات نہ بنی تو اپنی آواز کو بھاری کر کے کہنے لگی اگر تم نے مجھ سے زیادتی نہ کی تو میں سارے شہر کو بتاوں گی۔۔ جس پر اس بندے نے اسے سمجھایا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔۔ تم مجھے یہاں نہ ستاو مین تمہارے لئے اچھی چاندی کی پازیب لاؤں گا اور ہم کسی ہوٹل میں ملینگے۔۔ یہاں نہی ابھی تمھیں چھٹی دلاتا ہوں۔ کچھ روز بعد تم اور میں مری چلیں گے۔۔جس پر اس خاتون کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری اور اسے سکون ہوا۔۔
اس روحانی شخصیت نے صلاح دی کہ اس عورت کو فی الحال دو دن کی چھٹی پر بھیجا جائے تاکہ اس کی غیر موجودگی میں گھر کا جائزہ لیا جا سکے۔
ان کی ہدایت پر جب اسے چھٹی دی گئی اور وہ چلی گئی، تو اصل راز کھلنے شروع ہوئے۔
گھر والوں نے جب کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ اس نے گھر کے سترہ اٹھارہ سالہ نوجوان چوکیدار کو بھی گھیرنے اور اس کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس دوران جب وہ دو دن کی چھٹی گزار کر واپس لوٹی، تو اس کے پاس بڑے برانڈ کے نئے کے جوڑے تھے اور ان کپڑوں پر خون کے دھبے لگے ہوئے تھے!جو کہ واضح کر رہے تھے کہ یہ کسی ہاتھ کی صفائی کا نتیجہ ہین جبکہ اس نے کہا کہ یہ میری بیٹی نے پہنے تھے شاید اس کا خون لگ گیا ہے۔۔
جب مالکن نے پوچھا کہ یہ کیا ہے، تو وہ ٹال مٹول کرنے لگی۔
لیکن اس مکروہ عورت کا سب سے بھیانک اور روح فرسا روپ تب سامنے آیا جب اس نے جانے سے پہلے اس گھر کے معصوم اور بولنے سے قاصر بچے کو نشانہ بنایا تھا۔
اس معصوم بچے نے اپنی ماں کو رو رو کر اشاروں سے جو کچھ سمجھایا، اسے سن کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔
وہ درندہ صفت عورت جب اس بچے کو نہلا رہی ہوتی تھی، تو وہ اپنے سارے کپڑے اتار لیتی تھی، اس معصوم کو اپنے جسم پر رگڑتی تھی، اپنی شہوت پوری کرتی تھی، اور کہتی تھی کہ میرے جسم کے فلاں حصے پر کاٹو!
بچہ جب ڈر کے مارے چیختا تو وہ اسے زور دار تھپڑ مارتی، دھمکاتی اور سب سے بڑھ کر، اس نے اس معصوم کو زبردستی پاخانہ اور پیشاب کھلانے پلانے کی بھی گھناؤنی کوشش کی تھی!
یہ سب سن کر ماں کے ہوش اڑ گئے۔ دل میں یہ شدید خوف بیٹھ گیا کہ کیا پتا اس درندہ صفت عورت نے اس معصوم بچے کو غلاظت کھلانے اور زیادتی کا نشانہ بناتے وقت ویڈیوز نہ بنا رکھی ہوں اور وہ انہیں ‘ڈارک ویب’ پر بیچنے کے دھندے میں ملوث نہ ہو؟ کیونکہ یہ لڑکی خود قبول کر چکی تھی کہ جنسی ویب سائٹ اور دوستی والی فحش ویب پر اسے اس کے سسرال نے پکڑ کر گھر سے نکال دیا تھا ۔۔ حالانکہ وہ ویڈیو اس کی تصویر کو سامنے رکھ کر بنائی گئی تھی اور یہ بے قصور ہے صرف اپنے فرصت اور تنہائی کے لمحات کو وہ اس قسم کی چیٹنگ کے لئے استعمال کرتی تھی۔۔
اس کے خاوند نے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا کہ فی الحال اس عورت کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرواتے، کیونکہ وہ بچہ اس کے ساتھ کچھ مانوس سا ہو چکا تھا، اور اگر یہ عورت انتقاماً کسی مجرم گینگ کو ساتھ ملا کر بچے کو اغوا کر لیتی یا اس کے اعضاء بیچنے کے کسی گھناؤنے چکر میں پڑ جاتی تو معاملہ اور بگڑ جاتا۔
انہوں نے بس چپکے سے کمپنی کو فون کر کے سختی سے کہہ دیا کہ ہمیں اب اس کا معاہدہ مزید نہیں چاہیے، اسے فوری طور پر واپس بلا لیں۔
اسے جانے کا کہا گیا تو وہ تلملا اٹھی، زبردستی ایک گلاس پانی مالکن کو پلانے کی کوشش کی جسے بڑی مشکل سے روکا گیا، اور جاتے ہوئے پاگلوں کی طرح بڑبڑائی کہ مجھے یہ بچہ بہت یاد آئے گا۔
اس کے جانے کے بعد حیرت انگیز طور پر بنگلے کی وہ چابیاں جو رات کو غائب تھیں، اسی پرانی کھونٹی پر لٹکی ہوئی مل گئیں جہاں سے غائب ہوئی تھیں!
میرے ان تجزیوں اور گہرے مشاہدات کی روشنی میں جب اس پورے نیٹ ورک کی پرتیں کھلتی ہیں، تو چند انتہائی ہولناک حقائق سامنے آتے ہیں جو ہمارے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔
میرے اندازے کے مطابق، اس طرح کے مجرمانہ گروہ بالخصوص تین بڑے بھیانک مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں: یا تو یہ معصوم بچوں کو اپنے گھناؤنے استحصال کا نشانہ بناتے ہیں، یا انہیں ‘ڈارک ویب’ کے تاریک نیٹ ورک پر فروخت کر کے اس کی غلیظ ویڈیوز وائرل کرتے ہیں، یا پھر ان بچوں کے قیمتی اعضاء کو منڈی میں بیچنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہوتے ہیں۔
یہ عورتیں اور ان کے پیچھے کام کرنے والے گینگ اتنے مکار ہوتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ گھر کا کوئی مرد یا خود وہ ملازم ان گندی اور شیطانی باتوں میں شامل ہو جائے، یا اپنے کسی وقتی جنون یا کمزوری کے تحت پھسل جائے، تو یہ گینگ اسے فوری طور پر اپنے ساتھ شامل کر کے بلیک میل کرنا شروع کر دیتا ہے۔
یہ مجرم پھر اس گھر میں کسی بڑی ڈکیتی، سنگین واردات یا خوفناک حادثے کا مکروہ پروگرام بناتے ہیں۔
جس طرح سے یہ عورت اس گھر کے نوجوان چوکیدار اور دیگر افراد کو اپنے جال میں پھنسانے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی، اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ ملازمین دراصل اندرونی طور پر ایسے راستے تلاش کر رہی ہوتی ہیں تاکہ کل کو اس گھر کے اندر باقاعدہ صفائی یعنی ہلا دینے والی چوری اور ڈکیتی کا راستہ مکمل طور پر صاف کر سکیں۔
اللہ نے اس معصوم بچے کو اور اس خاندان کو ایک بہت بڑے عذاب اور تباہی سے بچا لیا۔
آج کے اس نفسیاتی اور پرآشوب دور میں گھروں میں ملازم رکھنا، بالخصوص معصوم بچوں کو ایسے درندوں کے حوالے کرنا، کسی بارودی سرنگ پر چلنے سے کم نہیں ہے۔
شارٹ کٹس اور گندے دھندوں کے لیے کسی بھی شیطانی حد تک گر سکتے ہیں۔
جدید شہروں میں چھوٹے علاقوں سے آئی یہ خواتین جو پہلے خود استحصال کا شکار ہوتی ہین پھر مجرمانہ سرگرمیوں کا حصہ بن جاتی ہیں ۔۔ گھروں اور خاص طور پر نوجوان ہوتے بچوں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے انتہائی بھیانک انجام لئے ہوتے ہیں۔ والدین خصوصی طور پر اس طرح کی خواتین کو یا مرد حضرات کو ملازمت پر رکھ کر بے فکر نہ ہو جائیں کیونکہ چند ٹکوں کی خاطر یہ کسی گھر کے چراغ کو بجھانے میں دیر نہیں کرتے۔۔۔


