جنگ شروع ہوتی ہے تو سب سے پہلے الفاظ بدلتے ہیں۔ ایک ملک کہتا ہے کہ اس نے اپنی سلامتی کے دفاع میں کارروائی کی، دوسرا کہتا ہے کہ اس کی سرزمین پر حملہ ہوا۔ ایک فریق اپنے حملے کو فوجی ضرورت قرار دیتا ہے، دوسرا فریق دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے بے گناہ شہری نشانہ بنے۔ بیانات آتے ہیں، پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں، نقشے دکھائے جاتے ہیں، اہداف گنوائے جاتے ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک سوال کہیں پیچھے رہ جاتا ہے: عام انسان کا کیا قصور تھا؟
دنیا کی تقریباً ہر جنگ میں یہی منظر مختلف شکلوں میں دہرایا گیا ہے۔ حملہ کرنے والا ملک عموماً کہتا ہے کہ اس کا ہدف فوجی تنصیبات، جنگجو یا عسکری اہداف تھے، جبکہ متاثرہ ملک شہری ہلاکتوں کی تعداد بتاتے ہوئے دنیا سے سوال کرتا ہے کہ اگر نشانہ صرف فوجی اہداف تھے تو بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری کیوں مارے گئے؟
یہیں سے ’’Collateral Damage‘‘ کی اصطلاح سامنے آتی ہے۔ ایک ایسا نقصان جسے جنگی کارروائی کا غیر ارادی نتیجہ کہا جاتا ہے۔ مگر جس خاندان نے اپنا گھر کھویا، جس بچے نے اپنے والدین کھوئے، یا جس ماں نے اپنا بچہ کھویا، اس کے لیے یہ محض ’’Collateral Damage‘‘ نہیں۔ اس کے لیے یہ پوری زندگی کا المیہ ہے۔
غزہ میں بھی دنیا نے یہی بحث دیکھی۔ اسرائیل نے اپنی کارروائیوں کو حماس کے خلاف جنگ اور اپنے شہریوں کے تحفظ سے جوڑا، جبکہ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے اداروں نے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں اور تباہی کی نشاندہی کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے دسمبر 2025 تک غزہ میں 71,200 سے زیادہ افراد کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جو بدستور جاری ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اعداد کے اس پہاڑ کے نیچے چھپے ہوئے ہر انسان کی زندگی کی قیمت کون بیان کرے گا؟
یوکرین میں روسی حملے کے بعد بھی یہی صورتحال سامنے آئی۔ روس اپنی کارروائی کو اپنے مخصوص سیاسی و عسکری مؤقف کے تناظر میں بیان کرتا ہے، جبکہ یوکرین شہری علاقوں پر حملوں اور شہری ہلاکتوں کو دنیا کے سامنے رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ نے صرف 2025 میں یوکرین میں 2,514 شہری ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ تو سوال صرف یہ نہیں کہ کس نے کس پر حملہ کیا؛ سوال یہ بھی ہے کہ جنگ کے فیصلے کرنے والوں اور جنگ میں مرنے والوں کے درمیان اتنا بڑا فاصلہ کیوں ہے؟
سوڈان میں بھی مسلح تنازع نے عام شہریوں کو بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا۔ افغانستان، شام، عراق اور دنیا کے دوسرے تنازعات میں بھی مختلف فریقوں نے اپنے اپنے دفاع، سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائی یا قومی مفاد کے دلائل پیش کیے۔ لیکن ہر جگہ ایک انسان ایسا بھی تھا جس کے پاس نہ جنگ شروع کرنے کا اختیار تھا، نہ اسے ختم کرنے کا
اگر ایک ملک کہتا ہے کہ ہم نے فوجی ہدف کو نشانہ بنایا، اور دوسرا کہتا ہے کہ ہمارے بے گناہ شہری مارے گئے، تو دنیا کس کی بات مانے؟
کیا صرف سرکاری بیان کافی ہے؟
کیا ہر شہری کی موت کو ’’غلطی‘‘ کہہ کر معاملہ ختم کیا جا سکتا ہے؟
کیا جنگ میں شہریوں کی موت صرف ایک عدد ہے؟
اور اگر ایک حملے میں ایک مطلوب شخص کے بجائے کئی عام شہری مارے جائیں تو کیا اسے صرف ’’Collateral Damage‘‘ کہہ دینا اخلاقی سوال کا جواب ہے؟
ان سوالات کا مقصد کسی ایک ملک کو مجرم قرار دینا نہیں، بلکہ اس اصول کو یاد دلانا ہے کہ جنگ کے بھی قانون ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون شہریوں کے تحفظ، متناسب کارروائی اور احتیاط کے اصولوں پر زور دیتا ہے۔ جنگ کا اعلان کرنے والے، جنگ کی منصوبہ بندی کرنے والے اور جنگ کے فیصلے کرنے والے اگر محفوظ مقامات پر بیٹھے ہوں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میدانِ جنگ میں موجود عام انسان کی زندگی کم قیمتی ہو گئی۔
ہم اکثر جنگوں کو میزائلوں، ٹینکوں، طیاروں اور فوجی کامیابیوں کے اعداد سے ناپتے ہیں۔ شاید ہمیں ایک دن جنگ کو اس سوال سے بھی ناپنا چاہیے کہ کتنے بچے اسکول واپس نہ جا سکے؟ کتنے خاندان اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹ سکے؟ کتنے شہری اپنی جان سے گئے؟ اور کتنے لوگ ایسے تھے جن کے نام کبھی خبروں کی سرخی بھی نہ بن سکے؟
دنیا کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ ’’قومی مفاد‘‘ اور ’’فوجی ضرورت‘‘ کی بحث میں انسان کہاں کھڑا ہے۔
کیونکہ جنگ میں سرحدیں شاید نقشے پر تبدیل ہوتی ہیں، حکومتیں شاید اپنے بیانات بدلتی ہیں، فوجیں شاید اپنی کامیابیوں کا اعلان کرتی ہیں، مگر ایک عام شہری کے لیے جنگ کا مطلب اکثر صرف ایک سوال ہوتا ہے:
’’آخر میری جان کی قیمت کس کے فیصلے نے مقرر کی؟‘‘
اور شاید یہی ’’Collateral Damage‘‘ کا سب سے تلخ سوال ہے۔


