ایک ریاست، آٹھ حکمران اور پونے دو صدیوں کا علمی، ثقافتی اور عوامی ورثہ / رمیش راجا

سابق ریاستِ خیرپور کے آخری حکمران، ہز ہائنس میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم، 5 اکتوبر 2026ء کی شام سکھر کے ایک نجی اسپتال میں 93 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ محض ایک سابق حکمران کی وفات نہیں، بلکہ سندھ کی ریاستی تاریخ سے جڑی ان آخری زندہ کڑیوں میں سے ایک کی جدائی بھی ہے، جنہوں نے برصغیر کی تاریخ کو بدلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کے ساتھ ایک ایسا عہد بھی تاریخ کے اوراق میں سمٹ گیا جس کی جڑیں اٹھارہویں صدی کے سندھ میں پیوست تھیں۔

میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم وہ شخصیت تھے جنہوں نے خیرپور کو ایک خودمختار نوابی ریاست کی حیثیت سے دیکھا، اسے پاکستان کا حصہ بنتے دیکھا اور پھر 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ اس کی الگ سیاسی شناخت کا خاتمہ بھی دیکھا۔ ان کی زندگی ایک لحاظ سے ریاستِ خیرپور کے آخری باب اور جدید سندھ کے ابتدائی ابواب کے درمیان ایک زندہ پُل تھی۔

میر صاحب اپنے پیچھے دو بیٹے، پرنس میر عباس رضا خان ٹالپر اور پرنس میر مہدی رضا خان ٹالپر، اور صاحبزادی پرنسس زہرہ ٹالپر سمیت خاندان، عزیز و اقارب، دوست اور بے شمار چاہنے والے چھوڑ گئے ہیں۔ وہ 29 جون 1933ء کو برائٹن، انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم برصغیر اور برطانیہ کے تعلیمی ماحول سے وابستہ رہی، جبکہ زندگی کے آخری کئی عشرے خیرپور اور ٹالپر خاندان کے تاریخی ورثے، بالخصوص فیض محل، سے جڑے رہے۔

خیرپور کے اس آخری میر کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس ریاست کی تقریباً پونے دو صدیوں پر محیط تاریخ کی طرف لوٹنا ہوگا۔

ریاستِ خیرپور کی بنیاد 1783ء میں میر سہراب خان ٹالپر نے رکھی۔ ٹالپروں کی سہرابانی شاخ کی اس ریاست پر بالترتیب میر سہراب خان ٹالپر، میر رستم علی خان ٹالپر، میر علی مراد خان ٹالپر اول، میر فیض محمد خان ٹالپر اول، میر امام بخش خان ٹالپر، میر علی نواز خان ٹالپر “ناز”، میر فیض محمد خان ٹالپر دوم اور میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم حکمران رہے۔ تاریخی ماخذ ان آٹھ حکمرانوں کے بعض ابتدائی ادوار کی تاریخوں کے بارے میں معمولی اختلاف رکھتے ہیں، لیکن حکمرانوں کا یہ سلسلہ مجموعی طور پر مسلمہ ہے۔

خیرپور کی تاریخ سندھ کی دوسری ریاستی تاریخ سے ایک اہم اعتبار سے مختلف ہے۔ 1843ء میں جب برطانوی افواج نے سندھ کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلیا، تب بھی خیرپور اپنی نوابی ریاست کی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ برطانوی بالادستی کے باوجود اس کا اپنا حکمران، انتظامی نظام اور مقامی ادارے قائم رہے۔ ریاست مختلف تعلقوں میں تقسیم تھی اور گمبٹ اس انتظامی ڈھانچے کا ایک اہم تعلقہ تھا۔

خیرپور کے میروں کے عہد کو صرف محلات، شاہی درباروں، شکار گاہوں اور سیاسی اقتدار کے آئینے میں دیکھنا اس تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ اس دور کی اصل اہمیت ان اداروں، روایات اور سماجی سرمایہ کاری میں بھی تلاش کرنی چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑی گئی۔

اس حوالے سے تعلیم کا شعبہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ میر امام بخش خان کے زمانے تک ریاست میں 98 سے زیادہ اسکولوں کا ذکر ملتا ہے جہاں تعلیم مفت تھی۔ طلبہ کو کھانے، رہائش اور بورڈنگ جیسی سہولیات بھی فراہم کی جاتی تھیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ایک نسبتاً چھوٹی ریاست کی جانب سے تعلیم پر اس نوعیت کی توجہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ سماجی ترقی میں ایک قابلِ ذکر سرمایہ کاری تھی۔

تعلیم کا تصور بھی صرف پڑھنا لکھنا سکھانے تک محدود نہیں تھا۔ اسکولوں میں سائنس، ادب، اخلاقی تربیت اور جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دی جاتی تھی۔ کئی تعلیمی اداروں کے ساتھ باغات اور کھیل کے میدان قائم کیے گئے اور بعض کے پاس کرکٹ کے میدان بھی تھے۔ خیرپور کے حکمران علی گڑھ سمیت برصغیر کی مختلف تعلیمی تحریکوں اور اداروں کی مالی معاونت کرتے رہے۔ مذہبی مدارس کے ساتھ سندھی اور انگریزی تعلیم کی سرپرستی بھی کی جاتی تھی۔

اسی تعلیمی اور ادبی روایت کا ایک نمایاں نام میر علی نواز خان ٹالپر “ناز” ہے، جو 1921ء سے 1935ء تک خیرپور کے حکمران رہے۔ وہ صرف حکمران نہیں بلکہ شاعر اور فن و ادب کے سرپرست بھی تھے۔ ان کے شعری مجموعے شائع ہوئے اور ان کے نام سے قائم ناز ہائی اسکول خیرپور کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوا۔ ان کی شخصیت میں اقتدار، شاعری اور فن دوستی ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

خیرپور کا دربار شاعری، موسیقی، ادبی محفلوں اور فنونِ لطیفہ سے بھی وابستہ رہا۔ سندھ میں شاعری اور موسیقی کبھی صرف تفریح نہیں رہیں۔ یہ عشق، تصوف، تاریخ، اجتماعی یادداشت اور سماجی اقدار کے اظہار کا ذریعہ رہی ہیں۔ میر علی نواز “ناز” کی شاعری سے گہری وابستگی نے اس روایت کو دربار کی سطح پر بھی تقویت دی۔ شاعروں، گلوکاروں، سازندوں اور دوسرے اہلِ فن کی سرپرستی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں ادب اور فن ریاستی و سماجی زندگی کا حصہ بن گئے۔

ریاست کا تعمیراتی ورثہ بھی آج تک اس دور کی داستان سناتا ہے۔ فیض محل، کوٹ ڈیجی کا قلعہ اور دوسری تاریخی عمارات اس زمانے کے فنِ تعمیر، ذوق اور کاریگری کی نشانیاں ہیں۔ فیض محل آج بھی خیرپور کے شاہی ماضی کی نمایاں علامت ہے، لیکن اسے صرف ایک محل سمجھنا کافی نہیں۔ اس کی دیواریں اس سماجی، سیاسی اور ثقافتی دنیا کی گواہ ہیں جو کبھی ریاستِ خیرپور کے گرد آباد تھی۔

خیرپور کی معیشت کا بنیادی رشتہ زمین اور پانی سے تھا۔ دریائے سندھ، روایتی آبپاشی، کنوؤں اور بعد میں جدید نہری نظام نے اس خطے کی زرعی معیشت کو مضبوط کیا۔ کھجور، گندم، کپاس اور دوسری زرعی اجناس مقامی معیشت کی بنیاد تھیں۔ 1931ء کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی تقریباً دو تہائی آبادی زراعت سے وابستہ تھی۔ یوں پانی، زمین اور کسان خیرپور کی معاشی زندگی کے بنیادی ستون تھے۔

میر جارج علی مراد خان دوم نے برطانیہ اور جرمنی کے دورے کیے، جہاں سے انہوں نے جدید صنعتی مشینری حاصل کی۔ اسی مشینری کی بدولت خیرپور میں خیرپور ٹیکسٹائل مل قائم ہوئی، جو اُس زمانے میں ایشیا کی سب سے بڑی کپڑا ساز فیکٹریوں میں شمار ہوتی تھی۔ انہوں نے جرمنی سے برصغیر ہندوستان کے سب سے بڑے تمباکو کو دوبارہ خشک کرنے والے کارخانے کے لیے بھی جدید مشینری منگوائی۔

صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ انہوں نے فنی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ خیرپور میں خواتین کے لیے ایک صنعتی تربیتی ادارہ قائم کیا گیا، جس کی سربراہی ایک جرمن خاتون کے سپرد کی گئی۔ مزید برآں، انہوں نے ایک صنعتی زون بھی قائم کیا، جس سے علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملا اور معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں۔ ان کا منصوبہ اسی طرز کے مزید آٹھ صنعتی زون قائم کرنے کا تھا، لیکن ریاستِ خیرپور کے پاکستان میں الحاق کے باعث یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔

میر صاحب عوامی سہولت اور معیارِ زندگی کی بہتری کو بھی خاص اہمیت دیتے تھے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے آٹھ جدید ایئرکنڈیشنڈ بسیں خریدیں۔ یہ بسیں اُس دور کے لحاظ سے نہایت جدید تھیں۔ ان کے دروازے خودکار طور پر کھلتے تھے اور مسافروں کے آسانی سے اترنے کے لیے بھی جدید نظام نصب تھا۔ ان بسوں کو پرانی سرکاری بسوں کی جگہ چلانے کا مقصد عوام کو زیادہ آرام دہ، محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا تھا۔ ریاست کے پاکستان میں الحاق کے بعد، میر صاحب کی خریدی ہوئی مزید ایسی جدید بسیں لاہور اور راولپنڈی بھیج دی گئیں۔

میر جارج علی مراد خان دوم کے عہدِ حکومت میں سیاسی اصلاحات بھی متعارف ہوئیں۔ 1949ء میں ریاستِ خیرپور میں بالغ رائے دہی (Universal Suffrage) کا نظام نافذ کیا گیا، جس کے تحت تمام بالغ شہریوں کو حقِ رائے دہی دیا گیا۔ اس نظام کے تحت ریاست میں منعقد ہونے والے انتخابات برصغیر ہندوستان میں اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات تھے۔

خیرپور کے ٹالپر دور پر ہونے والی تحقیق میں عوامی فلاح، تعلیم، معاشی ترقی اور انصاف کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے وابستہ ایک تحقیقی مقالے میں بالخصوص میر علی نواز “ناز” کے عہد میں سماجی و معاشی ترقی، تعلیم، انصاف اور عوامی مفادات کو حکمرانی کی اہم ترجیحات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

لیکن کسی معاشرے کی شناخت صرف اس کے محلات، اسکولوں اور کھیتوں سے نہیں بنتی۔ اس کے کھیل، میلوں اور عوامی روایات میں بھی اس کی روح سانس لیتی ہے۔

خیرپور کی ایسی ہی ایک زندہ روایت ملھ یا ملاکھڑا تھی۔ ملھ سندھ کا محض ایک دیسی کھیل نہیں، بلکہ ہمت، مہارت، جسمانی قوت، ضبط، عزت اور نیک نامی کی روایت رہی ہے۔ نامور پہلوانوں کو معاشرے میں غیر معمولی احترام حاصل ہوتا تھا اور حکمران اور بااثر خاندان بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ گھڑسواری، شکار، نشانہ بازی اور دوسری روایتی سرگرمیاں بھی اس عہد کی سماجی زندگی کا حصہ تھیں۔

اس مقام پر خیرپور کی تاریخ میرے لیے صرف کتابوں میں پڑھی جانے والی تاریخ نہیں رہتی بلکہ میرے اپنے خاندان کی یادداشت بن جاتی ہے۔

میرے دادا لدھا رام پنہوار ریاستِ خیرپور کے زمانے کے ایک نامور ملھ پہلوان تھے۔ ان کے ذریعے ہمارے خاندان کا تعلق اس ریاست کی عوامی، کھیلوں اور ثقافتی زندگی سے جڑا ہوا تھا۔ اس دور میں پہلوان صرف اکھاڑے میں دوسرے پہلوان کو پچھاڑنے والا شخص نہیں ہوتا تھا۔ اس کا کردار، بہادری، جسمانی طاقت، دیانت اور اپنے علاقے کی نمائندگی بھی اس کی سماجی شناخت کا حصہ ہوتی تھی۔

خیرپور سے ہمارے خاندان کا دوسرا اہم رشتہ گمبٹ اور تعلیم کے ذریعے قائم ہوا۔

گمبٹ، جو کبھی ریاستِ خیرپور کا ایک اہم حصہ تھا، وہاں قائم مراد ہائی اسکول میرے لیے محض ایک پرانی عمارت یا تاریخی ادارہ نہیں۔ اسکول سے متعلق مقامی تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس تاریخی بوائز اسکول کا دوسرا حصہ 4 اپریل 1947ء کو ہز ہائنس میر علی مراد خان ٹالپر نے تعمیر کروایا، یعنی اپنے حکمران بننے سے کچھ ہی عرصہ پہلے۔ بعد میں یہی ادارہ مراد ہائی اسکول کے نام سے معروف ہوا۔

ہمارا خاندان 1970ء میں کوٹ ڈیجی سے گمبٹ منتقل ہوا۔ یہ خیرپور کی الگ ریاستی حیثیت کے خاتمے کے پندرہ برس بعد کا زمانہ تھا۔ میں نے اسی مراد ہائی اسکول گمبٹ میں تعلیم حاصل کی اور 1985ء میں یہاں سے میٹرک کیا۔

یوں خیرپور کی تاریخ سے میرے خاندان کی دو نسلیں دو مختلف مگر نہایت خوبصورت حوالوں سے وابستہ ہیں۔ میرے دادا کی نسل کا رشتہ ملھ کے میدان سے تھا اور میری نسل کا رشتہ علم کی درسگاہ سے۔ ایک طرف جسمانی ہمت اور عوامی روایت کا اکھاڑا تھا، دوسری طرف کتاب، قلم اور تعلیم کا ادارہ۔ دونوں اپنے اپنے انداز میں خیرپور کے سماجی ورثے کی علامت ہیں۔

خیرپور کے آخری میر کی زندگی خود بھی برصغیر کی تاریخ کے ایک عظیم موڑ پر شروع ہونے والے عہدِ حکمرانی سے وابستہ تھی۔ 19 جولائی 1947ء کو میر فیض محمد خان ٹالپر دوم کے بعد نوجوان میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم ریاست کے حکمران بنے۔ اس وقت ان کی عمر صرف چودہ برس تھی، اس لیے ابتدائی طور پر ریاست کا انتظام ریجنسی کے ذریعے چلایا گیا۔

صرف چند ماہ بعد، 3 اکتوبر 1947ء کو خیرپور نے پاکستان سے الحاق کیا۔ اس کے باوجود خیرپور 1955ء تک پاکستان کے اندر ایک الگ نوابی ریاست کی حیثیت سے قائم رہا۔ پھر ون یونٹ کے قیام کے ساتھ اس کی جداگانہ سیاسی حیثیت ختم ہوگئی اور خیرپور نئے انتظامی نظام کا حصہ بن گیا۔

میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم کی زندگی اسی لیے غیر معمولی تاریخی معنویت رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی ریاست کے آخری حکمران تھے جس کی بنیاد اٹھارہویں صدی میں رکھی گئی تھی، مگر خود اکیسویں صدی تک زندہ رہے۔ انہوں نے اپنے خاندان کی حکمرانی کا اختتام دیکھا اور پھر سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سندھ اور پاکستان کو مسلسل بدلتے ہوئے بھی دیکھا۔

5 اکتوبر 2026ء کو ان کی وفات کے ساتھ خیرپور کے شاہی دور کی آخری زندہ علامتوں میں سے ایک بھی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ مگر تاریخ کا ایک سبق ہمیشہ باقی رہتا ہے: سیاسی اقتدار عارضی ہوتا ہے، علم، ثقافت اور عوامی خدمت کی عمر کہیں زیادہ طویل ہوتی ہے۔

اسی لیے آج خیرپور کے میروں کو یاد کرتے ہوئے صرف کسی تخت، تاج یا شاہی دربار کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ فیض محل اور کوٹ ڈیجی کا قلعہ، ناز ہائی اسکول اور مراد ہائی اسکول، آبپاشی اور زراعت کی روایت، میر علی نواز “ناز” کی شاعری، موسیقی کی محفلیں اور ملھ کے اکھاڑے سب اسی تاریخ کے مختلف ابواب ہیں۔

میرے لیے اس پوری تاریخ کی سب سے قریب اور مانوس تصویر گمبٹ میں موجود ہے۔ ایک طرف میرے دادا لدھا رام پنہوار کی یاد ہے، جو ریاستِ خیرپور کی ملھ کی ثقافت سے وابستہ تھے، اور دوسری طرف مراد ہائی اسکول ہے، جہاں میں نے خود تعلیم حاصل کی۔ ایک اکھاڑے کی یاد اور ایک درسگاہ کی یاد میرے خاندان کی ذاتی تاریخ کو خیرپور کی اجتماعی تاریخ سے جوڑ دیتی ہیں۔

1783ء میں میر سہراب خان ٹالپر سے شروع ہونے والی ریاستِ خیرپور کا 172 سالہ سیاسی سفر 1955ء میں اختتام پذیر ہوا۔ اب اس ریاست کا آخری میر بھی رخصت ہوگیا۔

مگر کسی ریاست اور کسی حکمران کی سب سے بڑی یادگار یہ نہیں ہوتی کہ اس کا محل کتنا عظیم تھا، اس کا تخت کتنا شاندار تھا یا اس کے پاس کتنا اختیار تھا۔ تاریخ آخرکار یہ سوال پوچھتی ہے کہ اس عہد نے اپنے لوگوں کے لیے کیا چھوڑا؟

خیرپور کے معاملے میں اس سوال کا جواب اس کے تعلیمی اداروں، ثقافتی روایتوں، زرعی ترقی، فن و ادب، تاریخی عمارتوں اور عوامی اداروں میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ تخت ختم ہوگئے، ریاست کا نقشہ بدل گیا، نسلیں گزر گئیں، مگر علم کی درسگاہیں، ثقافت کی یادیں اور عوامی خدمت کے نقوش باقی رہے۔

الوداع، ہز ہائنس میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم۔ایک ریاست کا آخری حکمران رخصت ہوگیا، مگر خیرپور کی تاریخ، اس کا علمی و ثقافتی ورثہ اور اس کی اجتماعی یادداشت زندہ رہے گی۔خیرپور کے آخری میر کو آخری سلام۔

اپنا تبصرہ لکھیں