اچھے اور سچے دوست/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

اچھے دوست ٹھندی ہوا کے جھونکے، محبت کی چھاؤں دیتے پیڑوں اور بہاروں میں کھلے پھولوں کی مستانہ خوشبوؤں کی طرح ہوتے ہیں۔ بچپن ہو، جوانی ہو، یا بڑھاپا، یا کامل حسن سراپا، کوئی لاغر ہو یا دم بھرنے والا ساغر، دوستی کیون کا سرمایہ بن جاتی ہے۔ ہرعمر میں کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کو دوست ضرور رکھتا ہے۔ دوست بنانے کے لئے نوکری ڈھونڈتے نوجوانوں کی طرح مارے مارے پھرنے اور جوتے گھسانے نہیں پڑتے، دوستی اکثر بلا کسب خود سے وجود میں آجاتی ہے۔ صرف دل آجانے کی بات ہوتی ہے۔ فی زمانہ شائد ہی کوئی ایسا فرد ہو جس کا کوئی وقتی یا دیرینہ دوست نہ ہو۔ بلکہ اکثر بچے ہوں یا بڑے کسی دوسرے کو یار دوست کہہ کر پکارتے ہیں۔ حالانکہ کسی کو یارکہہ کربلانا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ بچے سب سے ذیادہ دوستی کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مخلوط ذریعہ تعلیم میں پہلی کلاس میں کمرہ جماعت میں قریب بیٹھا یا بیٹھی بچی ایک چاکلیٹ یا اپنی پینسل اور شارپنر کے عوض بچے سے دوستی کے ناتے میں بندھ جاتی ہے۔ بچے کو پہلی جماعت میں داخلہ لیۓ دوسرا دن نہیں ہوتا کہ اس سے گھر والے سوال کرنے لگتے ہیں کہ بتاؤ کلاس میں تمہارا کوئی دوست بنا ہے کہ نہیں؟ اگر یہ کہا جاۓ توغلط نہیں ہوگا کہ کبھی کبھی دوستی آندھی میں درختوں سے ٹپکتے آموں کی طرح جھولی میں آن گرتی ہے۔ اب یہ انسان کی قسمت پر ہے کہ اس کی جھولی میں ٹپکے کی کھٹی کیری آ گرے، یا کوئل اورمیناؤں کا کترا ہوا گدرا آم مل جاۓ، یا شہد کی طرح میٹھا قلمی آم قلمی دوستی کےروپ میں نصیب ہوجاۓ۔ پھر بقلم خود خطوط نگاری شروع ہو جاتی ہے۔ مگر اب قلمی دوستی متروک ہو گئ ہے۔ اس کی جگہ اب سوشل میڈیا دوستی نے لے لی ہے۔ ذیادہ تر دوست ہم عمر ہی ہوتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں ہوتا۔ گود میں کھیلنے والا بچہ بھی بڑوں کو دوست کی مانند عزیز ہوتا ہے۔ بڑے بزرگ تو بچوں کے گہرے دوست ہوتے ہی ہیں اور بچے بھی اپنے بڑوں کے من چاہے اورلاڈلے دوست ہوتے ہیں۔ ہماری اکلوتی پوتی زھا جو ماشاء اللہ دو سال کی ہونے کو ہے، ہماری گہری دوستی کا دم بھرتی ہے۔ ہم بھی پر وقت اس کی دوستی کا دم بھرتے پیں۔ ہم جب بھی اپنے بیٹے کے گھر دوحہ، قطر جاتے ہیں تو وہ اپنے ماں باپ سے کہیں بڑھ کر ہماری گود میں کھیلتی، کودتی اور خوشی سے نہال ہوتی ہے۔ وہ بار بار اس محبت بھرے انداز میں دادا دادا پکارتی ہے کہ دل اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ گھر کے قریب پارک میں جانے کا شوق اتنا ہے کہ تپتی دھوپ ہو یا لو کے تپھییڑے، پار میں کا کر کھولا کھولنے کی فرمائش کرتی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کے رشتوں میں بندھے دوستوں کی جوڑی سدا زمانوں کی مسافت طے کرے۔ انہیں ایک نہ ایک دن جدائی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے۔ دوستی کا رشتہ کتنا ہی خوبصورت، جاندار اور محبت و ہمدردی کے جذبے سے بھر پور کیوں نہ ہو، زیادہ ترغیروں کے ساتھ تعلق پہ استوار ہوتا ہے۔ آس کی بنیاد میں آپس کی وفاؤں، شوق، باہمی الفت اور جذبہ دل کے اجزاء ترکیبی ہوتے ہیں، لیکن یہ حقیقی رشتوں کا نعم البدل نہیں ہوتے۔ بلاشبہ دوستی کے رشتوں کی چمک، خونی رشتوں کے چراغوں میں بھی شامل نظرآتی ہے، لیکن حقیقی رشتوں کی رگوں میں دوڑتے خون میں قدرتی جوش کا جو ابال ہوتا ہے، وہ عام دوستی میں پاۓ جانے والے جوش و خروش پہ حاوی ہوتا ہے۔

ایک معروف قول ہےکہ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ کچھ لوگ تو کسی وزیر مشیر کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوۓ تصویر کھنچوا کر اس سے اپنی دوستی کا دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ جس جانی پہچانی مشہور شخصیت کے ساتھ تصویر بنوائی ہوتی ہے وہ اس سے جان پہچان بھی نہیں رکھتا۔ گزشتہ دنوں ایک غیر دوست ملک کی کرکٹ ٹیم نے میچ جیت جانے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ رسمی طور پر ہا تھ ملانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ کھیل کی ٹیم نہیں شائد کھلنڈروں کی ایک ٹولی تھی، جس نےخود ہاتھ نہ ملا کر اپنی جیت کا مزا کرکرا کیا۔ قدر دان دوست اپنے اچھے دوست پر فخر کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان اپنے دوستوں کی صحبت سے پہچانا جاتا ہے جو کوئی اچھے اور مخلص دوستوں کے حلقہ اثرمیں بیٹھتا ہے اسے بہت سے دوستوں کی مدد حاصل ہوتی ہے، دوست، دوستوں کے ساتھ مل کر امتحان کی تیاری کرتے ہیں۔ مطالعے اور کتابوں کا آپس میں تبادلہ کرتے ہیں۔ کسی ایک دوست پر مشکل آن پڑے تو سب اس کی ہر طرح کی مدد کو آتے ہیں۔ لاہور میں ہمارے ایک عزیز کا حلقہ دوستاں بڑا وسیع تھا۔ ایک مرتبہ اس کو حادثہ پیش آیا جس میں اس کی ٹانگ کی ہڈیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں تھیں۔ ایسے میں اس کےسارے دوست ہی کام آئے، کسی نے اسے اپنا خون فراہم کیا، کسی نے ہسپتال کے اخراجات میں مدد دی اور کسی نے ادویات کا بندوبست کیا۔ یہ اچھے اور بے غرض دوستانے کی عمدہ مثال تھی۔
ملکوں کےدوستانہ مراسم بین الاقوامی تعلقات میں بہت اچھا کردار آدا کرتےہیں۔ اچھے ملکوں کی دوستی نا صرف باہمی تعلقات کے باب میں بڑی اہمیت رکھتی ہے بلکہ دوسرے ملکوں کے ساتھ کشیدگی کو دور کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور چین کی دوستی کو سمندر سے زیادہ گہری اور ہمالیہ سے زیادہ بلند قرار دیا جاتآ ہے۔ پاک چین کا باہمی ا شتراک کا منصوبہ ‘ سی پیک ‘ اسی دوستی کا شاہکار ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھی دوستی باہمی دفاعی تعاون کے ذریعے عروج پہ پہنچ گئی ہے۔ جس طرح کسی امیر اور با اثر شخص کے گرد دوستی کے دعویداروں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے، اسی طرح ملکوں کی سطح پہ بھی بڑی طاقتوں کے گرد اپنے مفادات سے وابستہ ممالک بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہاں قدرت کے ایک احسان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ جب پاک بھارت کے درمیان گزشتہ مئی میں ہونے والے معرکہ حق میں شاندار فتح نصیب ہوئی، جس میں ایک ہی جست میں بھارت کے چھ سات جستی طیارے گرکرتباہ ہو گئے تھے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایسی دھاک بیٹھی کہ بین الاقوامی طور پر سب پاکستان کی دفاعی مہارت اور کارگر سفارتکاری کے قائل ہو گئے اور پاکستانی حکومت اور فیلڈ مارشل کے گرویدہ ہو کر پاکستان کی دوستی کا دم بھرنے لگے۔ حالیہ دنوں میں قطر پر ہونے والے حملے کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیکیوریٹی اور دفاع کے ایک بایمی معاہدے نے مزید پاکستان کی اہمیت میں اصافہ کر دیا ہے۔ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اغلب ہے دیگر دوست ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکیں گے۔ اس ؤقت بہت سے مغربی ممالک پاکستان کے قریب آتے جا رہے ہیں اور وہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی خوش قسمتی اور ساکھ کی بحالی ہے جس کی وجہ سے بہت سے ممالک پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ دوستوں کا کبھی کال نہیں پڑتا، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ لیکن آج کل زمانہ بہت خراب ہے اس لئے کسی کو دوست بنانے سے پہلے اچھی طرح چھان پھٹک کر لینی چاہئۓ۔ کبھی لوگ دوست ہو کر دھوکہ دیتے ہیں اور فتنہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ مرزا اسد اللہ خان غالب کی غزل کے اس شعرمیں جو بات کہی گئی ہے وہ قابل غور ہے۔ ملاحظہ ہو۔
ء
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے، ہوۓ تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔
ہمارہ مشورہ یہ ہے کہ اگر کسی کو سچا دوست بنانا ہے تو اللہ کو اپنا دوست بنائیں۔ اگر اللہ دوست بن جاۓ تو اس سے دل کی باتیں کریں، اس کی مدد طلب کریں اور دونوں جہان کی کامیابی سے ہم کنار ہوں۔ اس کے لئے احکامات الٰہی کی تعمیل از بس ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں