ریکوری روم سے وارڈ تک : ایک ہیرو کے گرد سب زیرو (1) – وحید مراد

آغاخان ہسپتال کےریکوری روم کا ایک اور واقعہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔ رات تقریباً دس بجے طے ہوچکا تھا کہ مجھے ریکوری روم سے وارڈ منتقل کیا جائے گا لیکن عملی طور پر یہ منتقلی ایک بجے ہوئی۔ وجہ یہ بنی کہ شفٹ تبدیل ہونے کے بعد رات کی انچارج کو میری فائل نہیں مل رہی تھی۔ وہ بار بار خود کلامی میں اس بات کا اظہار کرتی نظر آئیں کہ آخر روزانہ ایک آدھ فائل ان سے کیوں گم ہوجاتی ہے۔

جب میں نے شکایت کی کہ مجھے وارڈ منتقل کیوں نہیں کیا جارہا تو اس دوران میری فیملی کے تمام افراد کو ریکوری روم میں آنے سے روک دیا گیا جبکہ دوسری طرف فائل کی تلاش جاری رہی۔ تقریباً بارہ بجے فائل مل گئی لیکن اس کے بعد بھی اس میں ضروری کوائف درج کرنے میں مزید ایک گھنٹہ لگ گیا۔ اس تجربے نے کم از کم میرے ذہن میں یہ تاثر ضرور پیدا کیا کہ دن اور شام کے اوقات میں کام کرنے والا عملہ نسبتاً منظم اور responsive دکھائی دیتا ہے جبکہ رات کی شفٹ میں انتظامی اور پروفیشنل ڈسپلن کا معیار وہ نہیں تھا جس کی ایک بڑے ہسپتال سے توقع کی جاتی ہے۔

اس پورے تجربے کے دوران ایک بات بار بار سامنے آتی رہی۔ ڈاکٹر ہمدان پاشا ایک معروف اور سنئیر ای این ٹی سرجن ہیں۔ ان کی پیشہ وارانہ شہرت اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن ان کے اردگرد کام کرنے والی ٹیم کے ساتھ مریض کا تجربہ ہر جگہ اسی معیار کا نہیں ہوتا۔ ذہن میں ایک مزاحیہ اور معنی خیز سیاسی تشبیہ بھی آئی کہ ڈاکٹر ہمدان پاشا عمران خان کی طرح ایک ہیرو اور ان کی ٹیم کے اکثر افراد عمران خان کی سیاسی ٹیم کی طرح زیرو دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی ٹیم کا ایک جونئیر ڈاکٹر جب وارڈ میں مجھے دیکھنے آیا تو اس کا انداز اتنا غیرمطمئن محسوس ہوا کہ ازراہِ مذاق ذہن میں بزدار کی مثال آگئی۔ میں نے اس سے پوچھا:کیا واقعی آپ ڈاکٹر ہیں؟جواب ملا:جی، میں ڈاکٹر ہمدان پاشا کی ٹیم کا ممبر ہوں۔ ڈریسنگ کرنے کو کہا تو وہ اعتماد اور مہارت کے ساتھ نہیں کرپائے۔ دورانِ ڈریسنگ ان کی توجہ مریض کے بجائے ساتھ کھڑی نرس کی طرف زیادہ محسوس ہوئی۔ آخر میں دستانے بھی مناسب طریقے سے waste bin میں ڈالنے کے بجائے میرے جسم پر پھینک کر چلے گئے۔

سرجری شروع ہونے سے پہلے سے لے کر وارڈ میں پہنچنے کے کئی گھنٹے بعد تک بار بار بلڈ پریشر اور شوگر چیک کی جاتی رہی۔ مریض کی پوری ہسٹری پوچھی گئی۔ یہاں تک کہ جسم پر موجود پرانے داغ اور scars کے بارے میں بھی پوچھا گیا اور انہیں نوٹ کیا گیا تاکہ بعد کی کسی غلط فہمی سے ہسپتال کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جا سکےلیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ مریض کو بخار تو نہیں۔ڈسچارج سے کچھ دیر پہلے جب ڈیوٹی تبدیل ہوئی تو نئی پیرامیڈیکل اسٹاف ممبر نے پوچھا:آپ کا تھرمامیٹر کہاں ہے؟جواب دیا کہ نہ تھرما میٹر جاری کیا گیا ہے اور نہ اب تک کسی نے بخار چیک کیا ہے۔ اس نے پھر ایک تھرمامیٹر منگوا کر دیا اور بتایا کہ hospital protocol کے مطابق اسے گھر لے جایا جاسکتا ہے۔

میرے ڈسچارج لیٹر پر دن اور رات کے ایمرجنسی فون نمبرز درج تھے۔ دن والا نمبر درست تھا جبکہ رات کے لیے دیے گئے دونوں نمبرز غلط ٹائپ ہوئے تھے۔ حالانکہ یہ ایسی بنیادی معلومات تھیں جو عموماً پہلے سے درج یا کاپی ، پیسٹ کی جاتی ہیں تاکہ کسی قسم کی غلطی کا امکان ہی نہ رہے۔ میں نے رات کے وقت دن والے نمبر پر دوبار ٹرائی کیا تو اتفاق سے ایک خاتون نے فون اٹھالیا۔ میں نے بتایا کہ گردن پر کچھ swelling ہورہی ہے۔ انہوں نے ضروری کاغذات کے ساتھ زخم کی تصاویر بھیجنے کو کہا۔ ہدایت کے مطابق سب کچھ بھیج دیا۔ جواب ملا کہ معلومات ڈاکٹر کو فارورڈ کردی گئی ہیں اور ان کی رائے آنے کے بعد مجھے مطلع کردیا جائے گا۔ تقریباً بیس گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر نئی تصاویر بھیج کر دوبارہ درخواست کی لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملا۔اب سوال یہ تھا کہ ڈسچارج لیٹر پر جس نمبر کو ایمرجنسی ہیلپ کے طور پر دیا گیا تھا، اگر وہاں postoperative complication کی اطلاع دینے کے بعد تقریباً ایک دن تک کوئی جواب نہ آئے تو کیا اسے ایمرجنسی ہیلپ کہا جاسکتا ہے؟

چوبیس گھنٹے بعد جواب آیاکہSwelling پر نظر رکھیں۔ اگر یہ اسی سطح پر رہے یا آہستہ آہستہ کم ہو تو ڈاکٹر ہمدان پاشا کی ای این ٹی کلینک میں معمول کے فالو اپ پر آئیں۔ لیکن اگر یہ بڑھنے لگے تو فوراً ایمرجنسی روم آجائیں۔مسئلہ یہ تھا کہ میں پہلے ہی یہی شکایت کر رہا تھا کہ ڈاکٹر نے دس دن بعد کا فالو اپ ملاقات کا وقت دیا ہے جبکہ swelling بڑھ رہی ہے اور اسکے جواب میں مجھے جو رہنمائی دی گئی وہ بالکل بے معنی تھی۔ بہرحال میں نے اگلے دن صبح کا appointment لیا اور ڈاکٹر ہمدان پاشا کے پاس پہنچ گیا۔

یہ سرجری کے بعد پہلی ملاقات تھی جس میں ڈاکٹر پاشا نے میرا معائنہ کیا۔ انہوں نے گردن کو دیکھتے ہی بتایا کہ چونکہ cyst کافی بڑی تھی، اسے نکالنے کے بعد اندر ایک dead space پیدا ہوگیا تھا۔ جسم اس خالی جگہ میں خون یا رطوبت جمع کررہا تھا جس کی وجہ سے swelling ہورہی تھی۔انہوں نے کہا:میں یہ فالتو خون syringe سے نکال دیتا ہوں۔ خون نکالنے کے بعدانہوں نے کہا کہ اب گردن کے گرد ایک بڑی compressive dressing باندھی جائے گی، تقریباً دوپٹے کی طرح تاکہ اوپر کی جلد نیچے کی سطح کے ساتھ کس کر بندھی رہے اور اندر دوبارہ فالتو خون جمع نہ ہو اور سوجن بھی نہ بڑھے۔ ان کے اسسٹنٹ نے اسی ہدایت کے مطابق پٹی باندھ دی۔

یہ دیکھ کرمیرے ذہن میں فوراً سوال آیا کہ یہ کام پہلے بھی تو ہوسکتا تھا۔اگر سرجری کے فوراً بعد یہی احتیاط کی جاتی تو شاید نہ متلی سے ٹانکے کھلتے، نہ دوبارہ کوئی پروسیجرکرنا پڑتا، نہ بارہ گھنٹے اضافی وارڈ میں رہنا پڑتا، نہ swelling کی اس پریشانی سے گزرنا پڑتا اور نہ اگلے دن کا میرا کام متاثر ہوتا۔ لیکن شاید مسئلہ یہ تھا کہ ڈاکٹر پاشا کے پاس سرجریوں کے علاوہ مریض یا اپنی ٹیم کو تفصیلی طور پر گائیڈ کرنے کا وقت ہی نہیں تھا۔ نہ انہوں نے کسی کو ایسی ہدایت دی اور نہ ٹیم نے اس کا انتظام کیا۔

ایک ہفتے بعد ڈاکٹر ہمدان سے صبح نو بجے کا دوسرا فالو اپ appointment تھا۔ وہ تقریباً دس بجے تشریف لائے۔ آتے ہی ایک مرتبہ پھر سرنج کے ذریعے زخم سے خون نکالا اور پھر ہاتھ سے میرے گلے کو دبا کر کہا ( It needs this much pressure to stick with)میں نے عرض کیا: سر، ٹھیک ہے، لیکن اتنا پریشر کون، کیسے ڈالے؟وہ مسکرا کر بولے: گلوبند پٹی سے۔میں نے کہا:وہ تو میں اتنی کس کر باندھ رہا ہوں جتنی میری سانس اجازت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی طریقہ ہے؟جواب ملا:بس یہی طریقہ ہے۔دل میں خیال آیا (How can I do that? You are the doctor, Do whatever is needed) ۔ اگر یہی مؤثر طریقہ تھا تو سرجری کے پہلے دن ہی اسے کیوں نہیں اپنایا گیا؟ میری تو یہ توقع تھی کہ ڈاکٹرز مجھ سے کہیں زیادہ جانتے ہیں؛ آخر مریض ڈاکٹرز سے آگے بڑھ کر کیسے سوچ سکتا ہے؟

ڈاکٹر ہمدان نے دو ملاقاتوں میں میرے زخم سے خون نکالا تھا لیکن تیسری ملاقات پر انہوں نے بتایا کہ اب مزید خون نکالنے کی ضرورت نہیں، زخم بہتر ہورہا ہے۔ ساتھ ہی ایک خوشخبری بھی سنائی کہ اگلی ملاقات تک بائیوپسی رپورٹ بھی آ جائے گی اور وہ اس ملاقات کے کوئی فیس چارج نہیں کریں گے۔ لیکن یہ خوشخبری چوتھی ملاقات کے دن اس وقت ایک نئے مسئلے میں بدل گئی جب انہوں نے مجھے صبح نو بجے کا وقت دیا اور خود ساڑھے بارہ بجے تشریف لائے۔ ان کے انتظار میں ساری کلاسز کینسل کرنا پڑیں، جس کا مالی نقصان ان کی فیس سے کہیں زیادہ تھا۔

انہوں نے آتے ہی بائیوپسی رپورٹ پڑھتے ہوئے بتایا:آپ کا good disease positive آیا ہے۔یہ سن کر حیرت ہوئی کہ بیماری بھی کوئی گُڈ ہوتی ہے؟انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بیماری بعض صورتوں میں بہت خطرناک ہوسکتی ہے لیکن سسٹ میں اس کی جو قسم پائی گئی ہے وہ نسبتاً کم خطرناک ہے، اسی لیے اسے گُڈ کہا جارہا ہے۔رپورٹ کا اہم جملہ تھا(Features are consistent with Diffuse Large B Cell Lymphoma)
یعنی پیتھالوجسٹ کو سسٹ کے اندر ایسے خلیات ملے تھے جو لیمفوما(بلڈ کینسر کی ایک ہلکی قسم)سے مطابقت رکھتے تھے۔

یہ خبر میرے لئے انتہائی غیر متوقع تھی کہ جس گلٹی کو میں ساڑھے تین سال سے معمولی سمجھ کر نظرانداز کر رہا تھا، وہ اب ایک باقاعدہ لیمفوما کی تشخیص بن چکی تھی۔ اب معاملہ صرف یہ سسٹ نکال دئے جانے تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ مزید تشخیص اور علاج کے لیے hematology اور oncology کی طرف جانا ضروری تھا۔

ڈاکٹر ہمدان نے آغا خان میں ایک معروف ڈاکٹر (hematologist)سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن ان کے دفتر پہنچ کر معلوم ہوا کہ ملاقات کا وقت تقریباً ایک ماہ بعد مل سکتا ہے اور appointment سے پہلے فیس جمع کروانا بھی ضروری ہے۔میرے عزیز ڈاکٹر حسین سید اور دوسرے دوست ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ انتظار کرنے کے بجائے کسی دوسرے ماہر ڈاکٹر سے جلد ملاقات کی جائے۔ اب تک جو معاملہ معمولی سمجھا جارہا تھا وہ ایک ایسی بیماری میں تبدیل ہوچکا تھا جس نے علاج کے اگلے سفر کا رخ ہی بدل دینا تھا۔ (جاری)

اپنا تبصرہ لکھیں