ہمارے سماج میں ادب اور آرٹ کے زوال کی ایک بڑی وجہ اپنی مقامی زبانوں اور ثقافت سے بڑھتی ہوئی دوری ہے۔ ہمارے نصاب اور تعلیمی نظام نے اس شناختی بحران کو پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب آپ بچے کو اپنی زبان اور اپنے ماحول کے بجائے کسی غیر زبان کے ذریعے دنیا سمجھاتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنے ہی گرد و پیش سے کٹنے لگتا ہے۔ احساس، جو کسی بھی آرٹ اور تخلیق کے لیے ناگزیر ہے، صرف معلومات سے پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ وہ زبان، تجربے، ماحول اور اجتماعی یادداشت کے باہمی تعامل سے پیدا ہوتا ہے۔
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اردو کتابیں دیکھیں تو تخلیقی ادب کا حصہ ہی بہت کم رہ گیا ہے۔ وہ کہانیاں اور نظمیں کہاں ہیں جو بچے کے تخیل کو پرواز دیتی تھیں؟ مقامی زبانوں کی صورتِ حال تو اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ بچہ جس لوری، کھیل، کہانی اور نظم سے اپنے بچپن کا تجربہ بناتا ہے، اگر وہاں ’’پوشن پو بھئی پوشن پو‘‘ اور ’’اینگو مینگو‘‘ کی جگہ صرف
London Bridge is Falling Down اور Clap Your Hands
آ جائیں تو مسئلہ صرف زبان کا نہیں رہتا، بچے کے تجربے اور اظہار کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ دوسری زبان سیکھنا مسئلہ نہیں، اپنی زبان اور اس کے تجربے سے محروم ہونا مسئلہ ہے۔ اس سے اظہار کی وہ فطری زمین چھن سکتی ہے جہاں سے اصل تخیل اور تخلیق جنم لیتے ہیں۔
2026 کے ایک تازہ تحقیقی مضمون میں بھی یہی مسئلہ سامنے آیا کہ مرکزی طور پر تیار ہونے والا نصابی مواد مقامی علم و دانش (indigenous knowledge) کو حاشیے پر رکھتا ہے اور کمتر درجے کی مہارتوں کی جانچ کرتا ہے جیسے یاد داشت ، زبانی معلومات کا امتحان۔۔
ہمارے نصاب میں بھی اس کا عکس نظر آتا ہے۔ مقامی زبان، ادب، لوک دانش اور مقامی تجربے کے لیے جگہ محدود ہے، جبکہ اسلامیات اور معاشرتی علوم/ مطالعہ پاکستان نصابی مواد کا بڑا حصہ گھیرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اردو کی کتاب میں بھی تخلیقی ادب کے بجائے معلوماتی اور نظریاتی مواد نمایاں نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بچے کے پاس اپنی زبان، ادب، فن، مقامی تاریخ، لوک دانش اور تخلیقی اظہار کے لیے ہی کم جگہ ہو تو ہم اس تخیل کی زمین کیسے بچائیں گے جہاں سے تخلیق جنم لیتی ہے؟
اردو کے ساتھ ایک اور بھی عجیب صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔ انگریزی کے غلبے نے ہماری مقامی زبانوں کو پیچھے دھکیلا، اردو کو شامل تو رکھا مگر ایک زندہ تجربہ اور تخلیقی وسیلہ بنانے کے بجائے زیادہ تر ایک امتحانی مضمون بنا دیا۔ بچہ اردو پڑھتا ہے، مگر کیا وہ اردو میں اپنی دنیا کو بیان کرتا ہے؟ کیا وہ مقامی کہانی، لوک ادب، محاورے، شاعری، اپنے محلے، دریا، کھیت، بازار اور روزمرہ زندگی کو زبان دے سکتا ہے؟ اگر زبان صرف سوال کے جواب اور امتحان کے نمبر تک محدود ہوجائے تو وہ بچے کی تخلیقی زندگی کا حصہ نہیں بن پاتی۔
مزید براں بچوں پر چھوٹی جماعتوں سے ہی آٹھ دس مضامین کا اتنا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ لرننگ اور کانسپٹ کے راستے کی بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے ۔۔بڑی جماعتوں میں بھی مسلسل مضامین، اسائنمنٹس، ٹیسٹ اور امتحانات کا بوجھ اسے صرف مصروف نہیں رکھتا بلکہ سیکھنے کے عمل کو بھی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ سمسٹر سسٹم اور تیزی کی اس دوڑ میں طالب علم کے پاس کسی تصور پر ٹھہرنے، اسے گہرائی سے سمجھنے اور مختلف علوم کے درمیان ربط پیدا کرنے کا وقت ہی نہیں بچتا۔۔۔ نتیجہ یہ کہ معلومات بہت ہوتی ہیں مگر کسی تصور پر مکمل گرفت، گہری سمجھ اور علم کی باہمی کڑیاں کمزور رہ جاتی ہیں۔ علم بھی بکھرا ہوا اور ادھورا ( fragmented) ہو جاتا ہے اور انسان بھی۔
بڑے فن اور گہری تخلیقی صلاحیت کے لیے صرف معلومات نہیں بلکہ فراغت، ٹھہراؤ، تنہائی، مشاہدہ اور اپنے آپ سے مکالمے کا وقت بھی چاہیے۔ تخیل ہمیشہ ایک بھرے ہوئے شیڈول میں پیدا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تخلیق کے لیے کچھ نہ کرنا، خاموش رہنا اور اپنے خیالات کے ساتھ اکیلے وقت گزارنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کچھ پڑھنا۔
یہی مسئلہ صارفیت اور سرمایہ دارانہ ثقافت کی تیز رفتار زندگی میں اور بڑھ جاتا ہے، جہاں انسان مسلسل پیدا کرنے (productivity)، خریدنے، مقابلہ کرنے اور اپنی توجہ بانٹنے پر مجبور ہے۔ برارڈی کے نزدیک نیم سرمایہ دارانہ نظام میں معلومات اور ابلاغ کی رفتار انسانی توجہ کی قدرتی رفتار سے آگے نکل جاتی ہے… توجہ کو لامحدود تیزی سے نہیں چلایا جا سکتا۔ اس کا نتیجہ تجربے کے سکڑنے، حساسیت کے کم ہونے اور معنی کے سطحی ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔
پھر سرمایہ دارانہ زندگی کی مسلسل mobility، growth کی دوڑ اور عارضی تعلقات انسان کو جڑوں اور دیرپا وابستگیوں سے کاٹتے جاتے ہیں، نتیجتاً تجربہ گہرا ہونے کے بجائے زیادہ تیز، عارضی اور سطحی ہوتا جاتا ہے۔
شاعری اور عظیم فن اس کے بالکل برعکس چیز مانگتے ہیں: وقت، توجہ، حساسیت، گہرائی اور معنی کے ساتھ ٹھہرنے کی صلاحیت۔ اسی لیے ایسی ثقافت جو ہر لمحے کو پیداوار اور کھپت میں بدل دے، وہ صرف ہماری توجہ ہی نہیں چھینتی, آہستہ آہستہ ہماری اندرونی دنیا، تخیل اور گہرے احساس کی گنجائش سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ جہاں ایک لمحے کا توقف بھی ہمارے اندر وقت کے ضیاع کا احساس پیدا کرتا ہے۔
لیکن یہ کہنا بھی مکمل بات نہیں کہ ’’جیسا سماج ہوگا ویسے ہی فنکار ہوں گے۔‘‘ بڑا فنکار صرف اپنے عہد کے ذوق کو پورا نہیں کرتا۔۔۔ وہ اس سے کچھ بلند ہو کر اسے دیکھتا، پرکھتا اور کبھی کبھی چیلنج بھی کرتا ہے۔ دانشور اور فنکار کی ایک اہم خصوصیت یہی ہے کہ وہ ان تضادات اور گہرائیوں کو دیکھ سکے جو عام نگاہ سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ وہ صرف سماج کے موجودہ ذوق کو cater نہیں کرتا، اس کے ذوق اور سوچ کی تشکیل بھی کرتا ہے۔۔۔کبھی آئینہ دکھا کر، کبھی سوال اٹھا کر اور کبھی نشتر کی طرح چبھ کر۔ یہی وجہ ہے کہ آرٹ صرف سماج کا عکس نہیں، وہ سماج کو اپنے آپ کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور بھی کرسکتا ہے۔
(نیچے ساتویں اور آٹھویں جماعت کی اردو کتب کی فہرست والے صحفہ کی تصاویر موجود ہیں )


