طلاق/ عارف خٹک

“مجھے طلاق چاہیے، ابھی اور اسی وقت؟”
وہ غصے سے پھٹ پڑی۔

وہ ہکا بکا اس کا منہ دیکھتا رہا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اچانک ایسا کیا ہو گیا ہے۔
“تیرے جیسے بے غیرت کے ساتھ جینے سے بہتر ہے کہ طلاق کا داغ ماتھے پر سجا لوں۔”

وہ خاموش رہا۔ بس بے بسی سے اپنی انگلیاں چٹخانے لگا۔
“تم جیسے بے غیرت اور کتے مرد سے بہتر تھا کہ کسی کنجر سے شادی کر لیتی۔ کم از کم اسے میرا احساس تو ہوتا۔”

وہ سوچنے لگا، آخر میں نے ایسا کیا گناہ کیا ہے کہ روز روز چھوٹی چھوٹی باتوں پر گالیاں سنتا رہوں؟
وہ پھر چیخی۔

“میں خودمختار ہوں، خود کماتی ہوں، دنیا گھومتی ہوں۔ تیری سوچ گھٹیا ہے اور تم اور تمہارا خاندان بھی گھٹیا ہے۔ سو بہتر ہے مجھے طلاق دے دو۔”
وہ اسے دیکھتا رہا۔

اس کے ذہن میں ایک خیال بار بار آ رہا تھا کہ جتنی تنخواہ وہ یہاں پورا مہینہ محنت کرکے کماتا ہے، اس کی ایک دن کی کمائی ہے۔ مگر اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ وہ تو جو کچھ کماتا ہے، سب اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔

وہ پھر بولی۔
“میں چاہوں تو میرے ایک اشارے پر تیرے جیسے مرد میرے قدموں میں کتوں کی طرح پڑے ہوں۔ تم ایک بے مایا اور بے وقعت مرد ہو۔ مرد کے نام پر ایک دھبہ ہو۔”
وہ ہذیان بکتی رہی۔
وہ اچانک اپنی جگہ سے اٹھا اور تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا گیا۔

وہ ابھی بھی بولے جا رہی تھی۔
“طلاق کیلئے بھی غیرت چاہیئے ہوتی ہے جو تیرے اندر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”

پانچ منٹ بعد وہ واپس آیا۔اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ وہ اس کے سامنے جا کر رک گیا۔

“یہ لو، طلاق۔۔۔۔ مبارک ہو۔ اس بے غیرت اور بے وقعت مرد سے تیری جان چھوٹ گئی۔”

وہ کھڑی کھڑی لڑکھڑا گئی۔ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ گرنے والی تھی کہ دیوار کا سہارا لے کر زمین پر گویا ڈھے گئی۔

مگر وہ خاموش کھڑا اس کا تماشا دیکھتا رہا۔ کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔

پھر اچانک اس کی چیخ نکلی۔ ایسی چیخ کہ جیسے اس خاموش کمرے کی دیواریں بھی کانپ اٹھیں۔

“یہ کیا کر دیا تم نے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے طلاق کیسے دے دی؟”
وہ بلک بلک کر رونے لگی۔

“میرا تیرے بغیر ہے ہی کون؟۔۔۔۔۔۔۔”

اس کی بین میں ایسا درد تھا جیسے ایک ماں کے سامنے اس کا جوان بیٹا مرتے ہوئے آخری بار اسے دیکھ رہا ہو اور ماں بے یقینی سے اپنے جگر گوشے کو دیکھ کر خود کو سمجھا رہی ہو کہ نہیں، یہ حقیقت نہیں، یہ صرف ایک خواب ہے۔
وہ بھی اس ماں جیسی بکھرنے لگی۔

پتا نہیں کتنے لمحے گزر گئے۔

وہ زمین پر بیٹھی مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ یہ سب خواب ہے۔ ابھی آنکھ کھلے گی اور سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا۔

وہ سامنے کھڑا گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد اس کا دل پسیج گیا۔

وہ آہستہ سے بولا
“لفافہ کھول لو۔”

وہ روتے ہوئے اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی۔

“اس میں بس یہی لکھا ہے کہ تم سدا کی بیوقوف اور پاگل عورت ہو۔”
وہ کچھ سمجھ نہ سکی۔

وہ مسکرایا۔
“اگر میں تجھے طلاق دے دوں تو کوئی ایک لمحہ بھی تجھے برداشت نہیں کرے گا یہ میرا خاصہ ہے۔۔۔۔۔۔ اب یقین ہو گیا؟”

وہ خاموش رہی کہ یہ سب خواب تھا۔

وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا
“چل، اب کھانا لا۔”

وہ جیسے ریزہ ریزہ ہوکر بکھرنے لگی۔ اسے لگا کہ جوان اولاد کا لاشہ اٹھ کر ماں کو یقین دلا رہا ہے کہ یہ سب خواب تھا۔
اگلے ہی لمحے وہ اٹھ کر اس سے چمٹ گئی۔
اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ وہ اسے بے طرح چوم رہی تھی۔
ایسے جیسے برسوں بعد اپنی گم شدہ اولاد اچانک ماں کو واپس مل گئی ہو۔

تحریر عارف خٹک

اپنا تبصرہ لکھیں