برصغیر پھر داخلی سیاسی تنازعات کے بھںور میں پھنس رہا ہے؟؟- اسلم اعوان

پی ٹی آئی کی مزاحمتی تحریک کو مغربی میڈیا میں ملنے والی غیر معمولی پذیرائی کو محض پاکستانی سیاست کی معمول کی کوریج سمجھنا شاید کافی نہ ہو۔ ایک قابل غور جغرافیائی و سیاسی تعبیر یہ بھی ہے کہ مغربی طاقتیں جنوبی ایشیا، خاص کر پاکستان میں ” ہارڈ سٹیٹ یا اتھاریٹیرین رجیم جیسے ریاستی رجحانات کے خلاف عوامی مزاحمت کو تقویت دینا چاہتی ہوں گی، جو بتریج زیادہ مرکزی اور آمرانہ طرزحکمرانی کی طرف کرلنگ کرتی دیکھائی دیتی ہیں۔

جیسے بھارت میں ہندوتوا پر مبنی مذہبی قومیتی ریاست کے تصور کے خلاف اچانک اور بڑے پیمانے پر بھڑک اٹھنے والی عوامی تحریکوں کا وسیع تر رجحان اہم مثال ہے۔ شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج اور کسان تحریک سمیت متعدد کاکروچ اور جنتر منتر جیسی عوامی مزاحمتوں نے مودی کی اکثریتی آمریت کو شدید سیاسی دباؤ میں ڈال دیا۔ اسی تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا مغربی سیاسی و ابلاغی حلقے جنوبی ایشیا میں عوامی مزاحمت کو ایسے ریاستی ماڈلز کے مقابل مزاحمتی فورس کے طور پر دیکھتے ہیں جنہیں وہ جمہوری آزادیوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں یا پھر اپنے عالمی مفادات کے تحفظ کی خاطر لیوریج کے طور پر استعمال کرنے کی طرف مائل ہیں ۔

پاکستان کے معاملے میں اس بحث کا ایک اور حساس پہلو علاقائی جنگوں سے متعلق ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں پاکستان دو بڑی افغان جنگوں کے طویل المدت اثرات بھگت رہا ہے، اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا اب ایک بار پھر مغربی طاقتیں ضیاء الحق کی طرح موجودہ حرارکی کو بھی کسی نئے علاقائی تنازع، خصوصاً سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جنگ، میں زیادہ فعال فوجی کردار کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔ 2015 میں بھی سعودی عرب نے پاکستان سے طیاروں، بحری جہازوں اور زمینی فوج کی درخواست کی تھی مگر پارلیمان نے یمن جنگ میں غیر جانب داری برقرار رکھنے کی قرارداد منظور کی۔

اسی پس منظر میں ایک مفروضہ یہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی داخلی سیاسی کشمکش، بالخصوص پی ٹی آئی کی تحریک، کہیں مستقبل میں کسی خارجی دباؤ کے لیے بالواسطہ leverage کے طور پر استعمال ہونے یا ملک کو مارشل لاء کی جانب دھکیلنے کا وسیلہ تو نہیں بن جائے گی۔ یعنی داخلی سیاسی دباؤ کو اس انداز میں بڑھایا جائے کہ اسلام آباد کے پاس سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کے مطالبات قبول کرنے پر مجبور ہو جائے۔ تاہم یہ فی الحال ایک سیاسی مفروضہ ہے، ثابت شدہ مغربی حکمت عملی نہیں ہے۔

یہ خدشہ موجودہ حالات میں اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اب نئے معاہداتی تناظر میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ حوثی تنازع دوبارہ علاقائی سلامتی کا بڑا مسئلہ بن رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنی داخلی سیاسی خودمختاری اور علاقائی شراکت داری کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے خود کو ایک اور طویل اور غیر یقینی جنگ میں الجھنے سے کیسے محفوظ رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں