نصاب میں ہماری دنیا کہاں ہے؟-زبان، ثقافت اور تخیل کی نوآبادیات/ سائرہ رباب

آئن اسٹائن کا خیال تھا کہ بچوں کو ذہین بنانا ہے تو انہیں کہانیاں اور فیئری ٹیلز (fairy tales) پڑھائیں۔ وہ تخیل (imagination) کو علم سے بھی بلند سمجھتا تھا، کیونکہ علم ہمیں معلوم چیزوں تک پہنچاتا ہے، جبکہ تخیل ان سے آگے سوچنے اور ایک ممکن دنیا کا تصور کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ شاید اسی لیے تعلیم کا مقصد صرف معلومات منتقل کرنا نہیں، بلکہ بچے میں یہ صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے کہ وہ سوچ سکے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ دنیا اس سے مختلف کیسے ہو سکتی ہے؟

اسی تناظر میں اگر ساتویں، آٹھویں لیول کی آکسفورڈ پروگریسو انگلش (Oxford Progressive English) کو اسی سطح کی اردو کی کتاب کے ساتھ رکھ کر دیکھیں، کیونکہ یہ کتب ایک ہی عمر کے بچوں کو ایک ساتھ پڑھائی جاتی ہیں، تو فرق معنی خیز ہے۔ آکسفورڈ میں ٹالسٹائی کی How Much Land Does a Man Need?، ڈکنز کے David Copperfield اور شیکسپیئر کے اقتباسات کے ساتھ تاریخی اور تخیلاتی کہانیاں، سسپنس، مہم جوئی، مختلف معاشروں کے کردار اور شاعری ملتی ہے۔ یعنی بچہ صرف انگریزی نہیں سیکھ رہا۔۔۔۔ وہ مختلف زمانوں، معاشروں، انسانی رویوں اور دنیا کو دیکھنے، محسوس کرنے اور اظھار کے مختلف طریقوں سے بھی واقف ہو رہا ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم پوسٹ کالونیل سوال پیدا ہوتا ہے۔ ادب صرف کہانی نہیں ہوتا۔۔۔ اس میں ایک ثقافت، اس کی تاریخ، اقدار، رشتے، کامیابی کے تصورات اور دنیا کو دیکھنے کا مخصوص زاویہ (worldview) بھی شامل ہوتا ہے۔ چنانچہ مغربی ادب کے ذریعے بچہ مغربی تجربات کے ساتھ فرد پرستی (hyper individuality)، انفرادی کامیابی، سرمایہ کاری طرز زندگی و اقدار اور بعض یوروسینٹرک تصورات کا بھی لاشعوری طور پر انجذاب (absorb)کرتا ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اسے یہ دنیا کیوں دکھائی جا رہی ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ان سب کے درمیان اس کی اپنی دنیا کہاں ہے؟

جہاں ریاست اور مقتدر طبقات اپنے مسلط کردہ نظام اور طاقتی رشتوں کو قدرتی اور اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہیں مختلف کہانیاں بچے کو مختلف انسانی دنیاؤں اور ممکنات کا تصور کرنے کی مشق دیتی ہیں۔ لیکن اگر اپنی زبان، ثقافت، رشتوں، مسائل اور روزمرہ زندگی کو ادب میں مناسب جگہ نہ ملے تو بچہ دوسروں کی دنیا تصور کرنا تو سیکھ لیتا ہے، اپنی دنیا کو مختلف انداز میں تصور کرنے ، اسکو سمجھنے سے محروم رہ جاتا ہے۔ اپنی دنیا کو لے کر اسکے اندر ایک بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔۔

یہی ہمارے اردو نصاب کا مسئلہ ہے۔ اس میں معلوماتی، قومی اور اسلامی نوعیت کا مواد نمایاں ہے۔۔۔جبکہ فکشن، شاعری، لوک ادب اور مقامی زندگی کے پیچیدہ انسانی تجربات کے لیے بہت کم جگہ رہ جاتی ہے۔ نتیجتاً بچے کو اپنی تہذیبی اور معاشرتی جڑوں سے وہ ادبی تسلسل نہیں ملتا جو اسے اپنی دنیا کو سمجھنے اور اس کے نئے امکانات تصور کرنے میں مدد دے۔ دوسرا نصاب سازی کرتے ہوئے بچے کی عمر اور دلچسپی کو نظر انداز کر کے مواد کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جسکی وجہ سے بچے کی اردو میں دلچسپی ہی پیدا نہیں ہوتی۔ وہ میکانکی انداز سے سبق پڑھتا اور امتحانی مشقیں تیار کرتا ہے۔

انگریزی کی کتاب میں ماضی، تاریخ، کہانی، کردار، معاشرہ اور اقدار ایک تہذیبی تسلسل میں جڑے نظر آتے ہیں۔ ایک ثقافت محض الگ الگ چیزوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ ایک پورا پیکج ہوتی ہے۔ اگر بچہ اپنی زبان میں اپنی ثقافتی دنیا کو اس تسلسل کے ساتھ نہ پڑھے تو اپنے ماضی، اپنے لوگوں، خاندان اور رشتوں کی پیچیدگی، محبت و جدائی، غم و خوشی، مزاحمت اور روزمرہ زندگی کو ایک مسلسل تہذیبی کہانی کے طور پر نہیں دیکھ پاتا۔ یوں ایک ثقافتی خلا پیدا ہوتا ہے جسے اکثر محدود اور مصنوعی قومی یا مذہبی تصورات سے پُر کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی اپنی زمین، زبان اور روزمرہ زندگی کا تہذیبی تسلسل پیچھے رہ جاتا ہے۔

زبان اور ثقافت کا تعلق بچے کی ذہنی نشوونما سے بھی ہے۔ اگر بچہ اپنی ہی زبان کے محاورے، پنجابی جگت، چٹکلے، مقامی لفظ، طنز، پَن (pun) یا کسی لوک کہانی کے اشارے کو سمجھنے کے لیے ضروری ثقافتی پس منظر سے محروم ہو تو وہ صرف چند الفاظ یا لطیفے نہیں کھو رہا۔۔۔معنی کی ایک پوری تہذیبی دنیا کھو رہا ہے۔ رشتوں کے مخصوص الفاظ، روزمرہ بول چال اور مقامی تجربات اسے اپنی دنیا کی باریکیوں کو پہچاننے، اظہار، معنی سازی، تعلقات کو سمجھنے، طنز و مزاح کو محسوس کرنے اور پیچیدہ سماجی تجربات پر سوچنے کے مواقع دیتے ہیں۔ زبان صرف الفاظ نہیں ہوتی۔۔۔ اپنے تجربے کو محسوس کرنے، نام دینے اور معنی دینے کا ذریعہ بھی ہے۔

یہ مسئلہ اس وقت مزید گہرا ہوتا ہے جب تعلیم اوپر سے نیچے آنے والے ایک مرکزی، یکساں اور standardized طریقۂ کار میں بچے کو صرف مقررہ جواب یاد کرنے پر لگا دے۔ ایسی تعلیم میں اسے اپنی معاشرت کی حرکیات (dynamics)، رشتوں کی پیچیدگی، مقامی مزاح، شاعری، لوک دانش اور روزمرہ زندگی پر سوال کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ پھر وہ کسی دوسری ثقافت کے تیار شدہ معیار کو ’’عالمی‘‘، ’’ترقی‘‘، ’’ جدت ‘‘ یا ’’برتری‘‘ سمجھ کر اپنی مقامی دنیا کو کم تر دیکھنے لگ جاتا ہے۔

میرا موقف مغربی ادب کو نصاب سے نکالنے کا نہیں۔ ہمیں بچے کو دنیا سے کاٹنا نہیں، دنیا سے جوڑنا ہے۔۔۔۔ مگر اس طرح کہ وہ دنیا کو صرف دوسروں کی آنکھ سے نہ دیکھے، اپنی آنکھ سے بھی دیکھ سکے۔ دوسری زبانیں اور ثقافتیں اس کی دنیا وسیع کریں، مگر اسے اپنی زبان، ثقافت اور زمین سے بیگانہ نہ کریں۔ اس کے پاس کم از کم ایک اپنا حوالہ، ایک اپنا کلچرل لینز ضرور ہو جس کے مقابلے میں وہ دوسری دنیاوں کو دیکھ اور سمجھ سکے۔ ورنہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اسے اپنی کہانیاں معلوم نہیں۔۔وہ اپنی دنیا کو قابلِ مطالعہ، قابلِ تخیل اور قابلِ قدر سمجھنا بھی کم کر دیتا ہے۔

اسی لیے نصاب میں اپنی کہانیوں، شاعری، لوک دانش اور روزمرہ دنیا کو جگہ دینا محض ثقافتی نمائندگی کا سوال نہیں۔۔۔یہ اس سوال کا حصہ ہے کہ ہم بچے کو اپنی دنیا کو سمجھنے، محسوس کرنے اور نئے سرے سے تصور کرنے کی صلاحیت دے رہے ہیں یا نہیں۔ زبان کا نصاب صرف زبان نہیں سکھاتا، وہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ بچہ کن دنیاؤں کو دیکھے گا، کن انسانوں کو سمجھے گا، کن تجربات کو اہم سمجھے گا اور کن ممکنات کا تصور کر سکے گا۔

ایک بہتر اردو نصاب میں ساتویں، آٹھویں کی سطح پر پریم چند، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی اور اے حمید جیسے لکھنے والوں کے بچوں کے لیے موزوں افسانے شامل کیے جا سکتے تھے۔ نظیر اکبرآبادی، اقبال، فیض، حفیظ جالندھری اور مجید امجد کی آسان نظمیں بھی شامل کی جا سکتی تھیں ۔ چوں کہ اردو کی اہمیت ایک لنگوا فرینکا یعنی جوڑنے والی زبان کے طور پر ہے تو اس مناسبت سے پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، پشتون خطہ، کشمیر ، گلگت جیسے مختلف علاقوں کی لوک کہانیوں اور شاعری کو بھی جگہ ملتی۔ ان ادبی کاموں سے بچوں کی عمر کے مطابق بہت سا مواد اخذ کیا جا سکتا تھا۔

یوں بچے کے لیے خوب صورتی کا تصور صرف ڈافوڈلز اور لوٹس کے پھولوں تک محدود نہیں ہو گا، اس میں گلاب، موتیا، سرسوں کے کھیت اور بارش کے بعد مٹی کی سوندھی خوشبو بھی شامل ہوں گے۔ وہ لندن برج کا تصور کرے تو اسے اپنے گاؤں کی حویلی، چوپال، پنچایت، کھیتوں، دریاؤں اور وہاں بسنے والے لوگوں کی زندگی کا علم بھی ہو۔ وہ مغربی ادب کے کرداروں کے مسائل سمجھے تو اپنے معاشرے کے طبقاتی فرق، رشتوں کی پیچیدگیوں، غربت، ناانصافی اور مقامی مزاحمت کو بھی پہچان سکے۔ مقصد لندن برج کی جگہ گاؤں کی چوپال رکھنا نہیں، بلکہ بچے کی دنیا کو اتنا وسیع کرنا ہے کہ اس میں دونوں کے لیے جگہ ہو۔ وہ دوسروں کی دنیا کو دیکھ کر حیران ہونا بھی سیکھے، اور اپنی دنیا کو دیکھ کر اسے معمولی یا کم تر سمجھنے کے بجائے اس کی خوب صورتی، پیچیدگی اور امکانات دریافت کرنا بھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں