وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اجلاس میں خیبر پختون خوا کے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو مبینہ طور پر یہ ہدایت دینا کہ تحریکِ انصاف کی منتخب حکومت کے احکامات تسلیم نہ کیے جائیں اور یہ یقین دہانی کرانا کہ ’’آپ آزاد ہیں، اپنا کام کریں, میں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر مشتمل وفاقی حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے‘‘ آئینی و انتظامی اختیارات کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اگر یہ ہدایات درست طور پر منسوب کی گئی ہیں تو یہ محض انتظامی معاملات میں مداخلت کا معاملہ نہیں بلکہ آئینی حدود، وفاقی و صوبائی اختیارات اور ریاستی اداروں کی غیر جانب داری سے متعلق ایک اہم آئینی سوال ہے۔ کسی بھی حکومت کی جانب سے اعلی افسران کو آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز یا ماورائے آئین اقدامات کی حوصلہ افزائی نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کے آئینی تشخص اور قانونی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔
آئین سے انحراف کی روش اختیار کرکے سیاسی مفادات کو آئینی تقاضوں پر فوقیت دینا ایسی خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے جس کے اثرات پورے نظم اجتماعی پر مرتب ہوں گے۔ وفاقی حکومت کی آئینی حیثیت اور قانونی جواز کا تقاضا ہے کہ وہ خود آئین کی پابندی کرے نہ کہ ایسے اقدامات کی پشت پناہی کرے جو آئینی نظم و نسق کو متنازع بنا دیں۔ بالآخر، کسی بھی حکومت کی اتھارٹی کا اصل سرچشمہ آئین اور قانون کی بالادستی ہے، اگر حکمران خود ان اصولوں سے انحراف کریں تو ان کے طرزِ عمل کی آئینی و قانونی حیثیت ناگزیر طور پر سوالات کی زد میں آ جاتی ہے.
ایک جائز اور منتخب صوبائی حکومت کے وزیراعلی کے قانونی احکامات کی حکم عدولی پر پولیس اور بیوروکریسی کی آمادگی بجائے خود طرز حکمرانی میں انحطاط اور آئینی اقدار سے انحراف کی بدترین مثالوں میں شمار ہوگی۔ ریاستی افسران کی وفاداری کسی سیاسی جماعت یا طاقتور شخصیت کے بجائے آئین، قانون اور اپنے فرائض کی قانونی طریقوں سے بجاآوری کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جب انتظامی مشینری کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کرکے قانونی احکامات کی خلاف ورزی پر کمر کس لی جائے تو محض حکومتی نظم و نسق ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ ریاست کے آئینی ڈھانچے کی بنیادیں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں۔ مگر افسوس کے جن افسران کے گرد ہم نے مقبولیت کا ہالہ کھینچا انکی ممتاز ترین صفت بزدلی اور کم ہمتی کے طور پر سامنے آئی۔خاص کر پی ایس پی اور ڈی ایم جی افسران جو کبریائی صلاحیتیں لیکر آتے ہیں اور معاشرے کی اجتماعی حیات کو کوئی معنی دیئے بغیر ریٹائرمنٹ پر اجڑے ہوئے دیوتا کی مانند سر جھکائے واپس لوٹ جاتے ہیں۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ غیر آئینی روایات وقتی سیاسی مفادات کی تسکین تو کر سکتی ہیں مگر ان کے نتائج نسلوں تک اداروں، ریاست اور معاشرے کو تڑپاتے رہتے ہیں۔ آج جو افسران اپنے قانونی فرائض پر طاقتوروں سے وفاداری کو ترجیح دے کر ایسی روایت کو تقویت دیں گے، کل یہی روایت ان کے اپنے منصب، قانونی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ ساکھ کے لیے سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔ قانون سے انحراف کی قیمت محض وقتی انتظامی کامیابی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اعتماد کے انہدام اور آئینی نظم کے زوال کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ” جب ریاست بدنظمی کا شکار ہو تو موزوں کام اس کی اصلاح کرنے کی بجائے اپنی زندگیوں کو فرض کی باقاعدہ ادائیگی والا بنا لیجئے ”
ماورائے آئین کاروائیاں قومی سلامتی، آئینی استحکام، ادارہ جاتی غیر جانب داری اور عوام کے ریاستی نظام پر اعتماد کے لیے دور رس اور تباہ کن مضمرات رکھتی ہے۔ قومی سلامتی کا حقیقی تقاضا یہ نہیں کہ سرکاری افسران اور پولیس کو سیاسی قوتوں کے باہمی تصادم کا آلہ بنایا جائے بلکہ یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے قانون کی پاسداری کرے کیونکہ جب قانون کی حکمرانی کی جگہ شخصی وفاداری لے لیتی ہے تو ریاست کا نظم اصولوں کے بجائے طاقت کے تابع ہو جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں آئینی بحران محض سیاسی تنازع نہیں رہتا بلکہ ریاستی نظام کے لیے بنیادی چیلنج بن جاتا ہے۔
ہمارے مسائل اتنے گہرے اور پیچیدہ نہیں ہیں جتنا ہم نے ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے، ذرا سی کسر نفسی اور تھوڑی سی ذہنی دیانت ہمیں اس بات کا یقین دلانے کے لئے کافی ہے کہ زندگی اور کائنات کا تنوع اور بوقلمونی ہمارے محدود اذہان کے احاطہ سے باہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا اٹل اصول یہی ہے کہ جو چیز ابھرتی ہے وہ گرتی ضرور ہے۔ یہ ہمہ دان دیوتا ہمارے جمہوری نظریات کا تمسخر اڑا سکتے ہیں لیکن ہمارے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ رہبرانہ کردار کا احساس ہمیں زمہ داری اور اپنی شخصیت کی بے ثباتی سے آگاہی بخشتا ہے اور ہمارے فکر کو اجتماعی زندگی سے مربوط کرتا ۔
آزادی کوئی سیاسی چیز نہیں بلکہ یہ ایسی ذہنی کفیت ہے جس پابا جولاں نہیں رکھا جا سکتا ۔ اس لئے ہمیں سیاسی خرابیوں اور جمہوری بدظنی سے اس قدر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ گھبرا کر پورے نظم اجتماعی کو اپنے ہاتھوں سے اجاڑ کے رکھ دیں۔
بہرحال اس جبریت پہ ہمارے لیڈروں خاصکر نواز شریف ، مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو کی خاموشی محل نظر ہے، عیسی علیہ سلام نے فرمایا تھا ” اگر تم چپ رہے پتھر پکار اٹھیں گے”
تاریخ کی رفتار اور معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ بدتسلسل اور باتواتر تشدد اور من مانی کاروائیوں کا دائرہ تنگ تر کیا جائے اور صلح و امن کے خط میں توسیع ہوتی رہے۔


