علی احمد خان/ شہنازاحد

یہ صدیوں پرانی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی تین دہائی پہلے کی بات ہے، جب صحافت ذریعۂ معاش ہونے کے ساتھ ساتھ جوش، جذبے، جنون، نظریے، کمٹمنٹ اور دیوانگی کا نام ہوتی تھی۔ اس مرض میں مبتلا کیسے کیسے لوگ جنون اور جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتے تھے، آج کا صحافی سوچ بھی نہیں سکتا۔

اس شہر کے مضافات اور کالونیوں میں رہنے، بسوں میں سفر کرنے والے وہ صحافی کردار و گفتار کے مجاہد اور اس ملک کے درباروں اور شاہ خانوں میں انمول تھے۔ ایک ایسے ہی کردار اور گفتار کے غازی کا نام علی احمد خان ہے۔ وہ ایک بہت ہی تجربہ کار صحافی اور براڈکاسٹر رہے ہیں۔

مشرقی یوپی کے ضلع غازی پور کے قصبے زمانیہ میں پیدا ہونے والے علی احمد نے اپنی زندگی کی کہانی کو قلم تھماتے ہوئے لکھا ہے کہ زمانیہ پٹھانوں کی ایک بستی تھی، جسے مغل بادشاہ اکبر کے زمانۂ شاہی میں زمانیہ کا نام دیا گیا۔ اس کی وجۂ تسمیہ یہ بتائی ہے کہ اکبر کے ایک جنرل، علی قلی خان المعروف خانِ زمان، نے اس شہر کو بسایا تھا۔ یہاں محلے بھی پٹھان قبیلوں کے نام پر آباد ہیں، جیسے لودھی محلہ، طوخی محلہ، خٹک ٹولی وغیرہ۔ اس سے قبل یہ جگہ ’’مدن بنارس‘‘ کے نام سے مشہور تھی، یعنی چھوٹا بنارس۔ انھوں نے اس نام کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ شاید اس کی وجہ مدن بنارس کا اصل بنارس کی طرح گنگا کنارے آباد ہونا ہو۔

علی احمد خان نے اپنی جیون کہانی میں یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے بچپن اور لڑکپن کا زیادہ وقت کلکتہ، مدراس، دیناج پور، پشاور، نوشہرہ اور کچھ دوسرے شہروں میں گزرا ہے۔ خان صاحب نے تعلیم کے سلسلے میں بھی چٹاگانگ، ڈھاکہ، کراچی سمیت کئی شہروں کی فضاؤں میں سانسیں لی ہیں۔ ان کی عملی زندگی کا آغاز بھی کم عمری ہی میں ہو گیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ہر متوسط گھر کے لڑکے کی زندگی کچھ ایسی ہی تھی۔ گھروں کو سہارا دینے کے لیے نوکری کرنا اور خود کو سہارا دینے کے لیے شبینہ کالجوں میں پڑھنا اس وقت کا عام چلن تھا۔ وہ بھی صحافت کا آغاز ڈھاکہ سے شائع ہونے والے اخبارات میں کر چکے تھے۔

علی احمد خان ان گواہان میں سے ہیں جنھوں نے 1970 کے تاریخی انتخابات ہوتے، عوامی لیگ کو جیتتے، اس جیت کی آگ کو روشن ہوتے، بھڑکتے اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کی راہ پر روانہ ہوتے دیکھا ہے۔ وہ 1971 کے فوجی آپریشن، خانہ جنگی اور اس آپریشن کے ایک ایک واقعے کے چشم دید گواہوں میں سے بھی ہیں۔ انھوں نے بنگلہ دیش بننے کا منظر آنکھوں سے دیکھا اور دل و روح پر جھیلا ہے۔

آزادی کسی کی بھی ہو اور کہیں بھی ہو، اس کا آغاز اور انجام ہمیشہ خونی پگڈنڈیوں پر چل کر ہی ملتا ہے۔ پتا نہیں اس کی راہ میں پھول پھلواریاں، چاند تارے، خوشبو کے جھونکے، بادلوں کے جھمگھٹے اور پیار و محبت کی رم جھم کیوں نہیں ہوتی۔

ان کی یادداشتوں پر مشتمل ’’جیون کہانی‘‘ پاکستان کی تاریخ کے ابتدائی 25 سالہ دور کو بڑی خوبی سے سامنے لاتی ہے، جس سے پاکستان کی جیون کہانی کے المیے کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کیسے بن گیا؟ ٹوٹ پھوٹ کے اس عمل میں کیا کچھ اور کتنا کچھ ٹوٹا پھوٹا، انفرادی زندگیوں کو کن پلِ صراطوں سے گزرنا پڑا، یہ سب اور بہت کچھ ’’جیون کہانی‘‘ کی سطروں میں سانس لے رہا ہے۔

علی احمد خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے بات کچھ دور نکل گئی، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کے ایک سینئر نظریاتی صحافی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی زندگی کے اس روزن کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہے۔ صحافت خان صاحب کا عشق بھی ہے اور پیشہ بھی۔ ایک خون کا دریا پار کرکے جب وہ اس پار اترے تو روح اور ذہن کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اردو اور انگریزی کے مختلف اخبارات میں روٹی کمانے لگے، لیکن ان کے اندر کی خو نہ گئی اور وہ اس دور کی تمام صحافتی سرگرمیوں کے روحِ رواں بھی بن گئے۔

ضیائی دور میں صحافت، اخبارات اور اخباری اداروں کے ساتھ ہونے والی ظالمانہ حرکات و سکنات کے خلاف ہونے والے ہر اقدام میں خان صاحب نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ سلاخوں کے پیچھے بھی گئے۔ ان کا شمار بھی 1978 کی آزادیٔ صحافت کی جنگ کے غازیوں اور مجاہدوں میں ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں اور بیمار بیوی کو دیواروں اور کھلے آسمان تلے چھوڑ کر وہ جیل جانے والی ٹرین پر سوار ہو گئے تھے۔ قید کاٹی، بے روزگاری سہی اور بے روزگاری سے جڑے ہر دکھ کو برداشت کیا تاکہ صحافت کی آبرو پر آنچ نہ آئے۔

اس دور میں ہر باشعور صحافی کی جدوجہد کا مقصد اپنی اور ساتھیوں کی آزادیٔ صحافت کے قافلے کو آگے بڑھانا اور مستحکم کرنا تھا۔ وہ نہ تو مال و منال کے دام میں گرفتار ہوتے، نہ ہی نام اور شہرت کی تمنا کو اپنے سر پر سوار کرتے۔ ہاتھ خالی اور آبلہ پا ہوتے، لیکن ان کے دل اپنے ساتھیوں کے دکھوں کی لے پر دھڑکتے تھے۔

وہ وقت یقیناً بہت اچھا تھا۔ صحافی صرف صحافی تھا، جس کا کام خبر کو سونگھنا اور اس کا پیچھا کرتے رہنا تھا۔ جس دن سے صحافیوں نے خبر کو سونگھنا اور اس کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا ہے، اسی دن سے اطلاعاتی ادارے، جن کا کام خبر کو ڈھونڈنا، تصدیق کرنا اور اسے عزت و آبرو کے ساتھ آگے بڑھانا ہوتا تھا، اب کوٹھے سے لگتے ہیں، جہاں کا کاروبار ’’پیسے پھینک، تماشا دیکھ‘‘ پر چلتا ہے۔

معذرت، بات پھر کسی اور رخ پر نکل گئی۔ خان صاحب شان سے جیل میں رہے۔ واپس آئے تو بے روزگاری نے استقبال کیا۔ گھر کے چولہے کو جلتا رکھنے کے لیے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارتے رہے۔ بچے بڑے ہو رہے تھے، اسی طرح ان کی ضروریات بھی بڑی ہو رہی تھیں۔ ان کی تکمیل کے اسباب نظر نہ آتے تھے۔

ستر کی دہائی کے آخری سال اس وقت کی صحافی برادری پر کافی بھاری تھے۔ بہت سے لوگ غمِ روزگار میں ادھر ادھر ہوئے۔ ان میں سے ایک علی احمد خان بھی ہیں۔ آپ کو بی بی سی پر اپنا ہنر آزمانے کا موقع ملا۔ اس موقع کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ بمع اہل و عیال لندن چلے گئے۔ اس لندن یاترا کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت بہت اچھی ہو گئی۔ وہ جو زندگی میں ہر وقت ایک سراسیمگی سی رہتی تھی، اس کو قرار آ گیا۔ یوں وہ خود اور ان کے اہلِ خانہ 80 کی دہائی کے بعد کے سالوں کے تمام عذابوں سے محفوظ رہے۔

انھوں نے دو دہائیوں سے زیادہ کا وقت لندن میں گزارا اور جب رختِ سفر باندھا تو کراچی ان کے پہلو اور دل سے نکل چکا تھا۔ وہ عزیز داریوں کے سبب ایبٹ آباد میں آباد ہو گئے۔

دبلے پتلے، بالوں سے بھرے سر اور کھنکتی آواز والے علی احمد خان کے بالوں کو وقت کی ہوا اڑا لے گئی، بدن بھاری ہو گیا ہے اور آواز دھیمی۔ اس دھیمی آواز میں وہ جب کبھی اپنی ’’جیون کہانی‘‘ کے کسی قصے کو بیان کرنے لگتے ہیں تو آواز میں برسات کی نمی کا سا احساس ہونے لگتا ہے۔

گو کہ وہ اب عملی صحافت سے کوسوں دور ہیں، لیکن ان کی شخصیت میں ایک نظریاتی اور روشن خیال انسان زندہ ہے۔ اب ایبٹ آباد ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں