جاگن والیاں رَج کے لٹیا اے/ علی عباس کاظمی

دبئی میں قیام کے دوران ہمارے کیمپ کا کچن میرے لیے صرف کھانا پکانے کی جگہ نہیں تھا بلکہ انسانی رویوں کو سمجھنے کی ایک عجیب سی درس گاہ بھی تھا۔ شام کے وقت جب کام سے واپس آتے تو وہاںدس بارہ چولہے ایک ساتھ جل اٹھتے۔ کسی پر پاکستانی سالن تیار ہو رہا ہوتا، کسی پر ہندوستانی کھانا، کسی پر بنگالی یا نیپالی ذائقے پکتے۔ دن بھر کی تھکن سے چور لوگ اپنے اپنے چولہے سنبھالتے، ایک دوسرے سے باتیں کرتے، دن بھر کا حال سناتے اور ہنسی مذاق میں اپنی تھکن بھلا دیتے۔ وہاں پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی اور نیپالی سب ایک ہی قطار میں کھڑے ہوتے تھے۔۔۔ سب پردیسی تھے، سب محنت کش تھے اور سب کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی۔ مجھے اس وقت شاید اندازہ نہیں تھا کہ یہ معمولی سا کچن ایک دن پاک بھارت تعلقات اور ہماری اجتماعی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ایک بڑی مثال بن جائے گا۔اسی کچن میں میری دوستی کلکتہ کے جگدیش سے ہوئی۔ وہ خوش مزاج، خوش گلو اور اچھا باورچی تھا۔ کھانا بناتے ہوئے گاتا تو پورا ماحول بدل جاتا۔ وہ ہنستے ہوئے کہا کرتا تھا کہ اصلی بنگالی وہی ہے جس کے گلے میں سُر اور ہاتھ میں ذائقہ ہو۔ جب وہ کھانا پکاتے ہوئے گاتا تو واقعی یوں لگتا جیسے کشور کمار کی آواز قریب ہی سے آ رہی ہو۔ اس کے ہاتھ کے کھانے کی خوشبو پورے کچن میں پھیل جاتی۔ لیکن جگدیش کی سب سے یاد رہ جانے والی بات اس کا گانا یا کھانا نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں اس کا ایک اعتراف تھا۔

وہ کہتا تھا کہ دبئی آنے سے پہلے پاکستان کے بارے میں اس کے ذہن میں اچھے خیالات نہیں تھے۔ اس کی وجہ کسی پاکستانی سے ذاتی تلخی نہیں تھی بلکہ لاعلمی تھی۔ اس نے پاکستانیوں کو جانا ہی نہیں تھا۔ پاکستان اس کے ذہن میں زیادہ تر ٹی وی، فلموں، خبروں اور سنی سنائی باتوں سے بنا ہوا ایک تصور تھا۔ پھر جب وہ دبئی میں پاکستانیوں کے ساتھ رہنے لگا، ان کے ساتھ کام کیا، ان کے ساتھ کھانا کھایا اور ضرورت کے وقت انہی لوگوں سے مدد ملی تو اس تصور میں تبدیلی آنے لگی۔ جن لوگوں کو وہ ایک دور کے ملک کی شناخت سمجھتا تھا، وہ اب اس کے روزمرہ کے ساتھی بن چکے تھے۔جگدیش کی ایک خوبی یہ تھی کہ جب ہم چکوالی لہجے میں بات کرتے تو وہ بھی اسی انداز کو اپنا لیتا۔ ملک محمد فاضل کا ڈائیلاگ ’’او بھِرا جی!‘‘ اسے ایسا بھایا کہ اس نے اسے اپنا تکیۂ کلام بنا لیا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ ہمارے کمرے میں موجود”چکوالیوں” کو محبت سے “بھِرا جی” کہہ کر پکارتا تھا۔ ہمارے کمرے میں جب بھی کوئی “گِرائیں” آتا تو جگدیش فوراً کہتا، ’’اوبھِرا جی، کی حال نے؟‘‘ اور وہ بیچارہ ایک لمحے کو چونک جاتا کہ آخر یہ کب سے چکوالیہ ہو گیا!

سیاسی نقشے پر دو ملکوں کے درمیان جو فاصلہ موجود تھا، انسانی تعلق نے اسے چند قدموں میں عبور کر لیا تھا۔یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ غلط فہمیاں اکثر معلومات کی کمی سے نہیں بلکہ انسانی رابطے کی کمی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہم کسی قوم کے بارے میں ہزاروں خبریں پڑھ سکتے ہیں، سیکڑوں تقریریں سن سکتے ہیں اور اس کے بارے میں درجنوں تجزیے دیکھ سکتے ہیں، مگر ایک عام انسان سے چند ماہ کی رفاقت کبھی کبھی ان سب پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ کیونکہ خبروں میں ملک ہوتا ہے، ملاقات میں انسان۔سامنے بیٹھا شخص اپنی زندگی کی کہانی لے کر موجود ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنے بچوں کے لیے پریشان ہوتا ہے، گھر کو یاد کرتا ہے، روزگار کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور دن بھر کی محنت کے بعد سکون چاہتا ہے۔

ہماری طرف بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں تھی۔ ہندوستانی، نیپالی، بنگالی اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کے بارے میں ہمارے ذہن میں بھی کئی تصورات موجود تھے۔ مگر جب انہی لوگوں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا تو بہت سی خیالی تصویریں خود بخود دھندلا گئیں۔ معلوم ہوا کہ انسان کو دور سے دیکھنا اور قریب سے جاننا دو مختلف تجربے ہیں۔جب آپ کسی شخص کی خوشی، بیماری، پریشانی اور ضرورت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو اس کی قومی شناخت سے پہلے اس کا انسانی چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔پاک بھارت تعلقات کی سب سے بڑی پیچیدگی بھی شاید یہی ہے۔ دونوں ملکوں کے عام لوگ ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے عام انسان سے ان کا حقیقی رابطہ بہت محدود ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کو زیادہ تر جنگوں، تنازعات، سرحدی واقعات، سیاسی بیانات اور میڈیا کی خبروں کے ذریعےدیکھا ہے۔۔۔ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے اپنے پڑوسی ملک کے شہری کو اس کی اپنی زندگی کے ساتھ دیکھنے کے بجائے ایک بڑے سیاسی کردار کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔بچپن میں بویا گیا دشمنی کا تصور عمر کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ جڑ پکڑ لیتا ہے، پھر انسان نئی حقیقت کو بھی اسی پرانے تصور کے پیمانے سے پرکھنے لگتا ہے۔ اسے دوسرے ملک کا اچھا انسان بھی اسی شناخت کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ یہ کیفیت صرف ایک طرف نہیں ہوتی۔ دونوں معاشرے اپنے اپنے خوف اور تاریخی تجربات کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ یوں ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس میں ہر نسل پچھلی نسل کی بدگمانی کو تھوڑا سا آگے منتقل کر دیتی ہے۔

یہاں سیاست اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ بیرونی خطرہ ریاست کے لیے حقیقی مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن بیرونی خطرے کا مسلسل استعمال داخلی سیاست کا آسان ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ جب عوام کی توجہ سرحد پر مرکوز رہے تو ملک کے اندر موجود سوالوں کو کچھ دیر کے لیے پس پشت ڈالا جا سکتا ہے۔ تعلیم کیوں کمزور ہے، نوجوانوں کے لیے مواقع کیوں محدود ہیں، صحت کی سہولتیں کیوں ناکافی ہیں، روزگار کیوں نہیں بڑھ رہا، مہنگائی نے گھر کا بجٹ کیوں بگاڑ رکھا ہے، ادارے کیوں بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہے، ان سوالات کے جواب مشکل ہیں۔ دشمن کا نام لینا نسبتاً آسان ہے۔اسی طرح میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اس ذہنی ماحول کو طاقت دیتے ہیں۔ اشتعال انگیز بات سنجیدہ تجزیے سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ پیچیدہ حقیقت کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، مگر ایک جذباتی جملہ چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر وہی جملہ بار بار دکھائی دے تو لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ اس عمل میں عام شہری صرف متاثر نہیں ہوتا بلکہ شریک بھی بن جاتا ہے۔ ہم جس خبر کو بغیر تحقیق آگے بڑھاتے ہیں، جس نفرت انگیز تبصرے پر تالیاں بجاتے ہیں اور جس عام انسان کی تکلیف کو صرف اس لیے معمولی سمجھتے ہیں کہ وہ دوسری طرف کا شہری ہے، اس کے ذریعے ہم اسی دیوار کو مضبوط کرتے ہیں جس کی شکایت کرتے ہیں۔

دشمنی کی اس فضا میں عام آدمی سب سے کم طاقتور اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فریق ہوتا ہے۔ سرحد پر کھڑا سپاہی بھی کسی گھر کا بیٹا ہے اور دوسری طرف کھڑا سپاہی بھی۔ کشیدگی صرف فوجی اخراجات تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات تجارت، سفر، تعلیم، کھیل، ثقافت اور انسانی رابطوں تک پہنچتے ہیں۔ جب رابطے کم ہوتے ہیں تو غلط فہمیاں بڑھتی ہیں اور جب غلط فہمیاں بڑھتی ہیں تو رابطے مزید کم کرنے کی دلیل مل جاتی ہے۔ یوں ایک ایسا چکر پیدا ہو جاتا ہے جس میں دونوں طرف کے عام لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں اور پھر اسی دوری کو دشمنی کا ثبوت سمجھنے لگتے ہیں۔امن کا مطلب تاریخ کو بھلا دینا نہیں اور نہ ہی قومی مفادات سے دست بردار ہونا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ رہ سکتے ہیں۔ ریاستیں اپنے مفادات کا تحفظ بھی کر سکتی ہیں اور سفارتی راستے بھی کھلے رکھ سکتی ہیں۔ اصل پختگی یہ ہے کہ ریاستی اختلاف کو عام انسان کی دشمنی نہ بنایا جائے۔ ایک مضبوط معاشرہ وہ نہیں جو ہر اختلاف کو غصے میں بدل دے، بلکہ وہ ہے جو اپنے مفاد اور اپنے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے مکالمے کی گنجائش پیدا کرے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہی فرق سمجھانے کی ضرورت ہے۔ تاریخ پڑھائی جائے، مگر نفرت ورثے میں نہ دی جائے۔ جنگوں کا ذکر ہو، مگر امن کی قیمت بھی سمجھائی جائے۔ قومی شناخت پر فخر ہو، مگر دوسرے انسان کی تذلیل کو اس فخر کا لازمی حصہ نہ بنایا جائے۔ وطن سے محبت اگر انسان کو بہتر شہری بناتی ہے تو وہ صحت مند جذبہ ہے، لیکن اگر یہی محبت دوسرے انسان کے لیے نفرت پیدا کرنے لگے تو پھر ہمیں اپنی سوچ کے اس حصے کا جائزہ لینا چاہیے۔

دبئی کیمپ کا وہ کچن آج بھی میرے ذہن میں ایک مکمل تصویر کی طرح موجود ہے۔دس بارہ چولہے الگ الگ جل رہے ہیں، کھانے الگ الگ پک رہے ہیں، زبانیں الگ ہیں، ملک الگ ہیں، مگر دھواں ایک ہی فضا میں گھل رہا ہے۔ جگدیش اپنے چولہے کے سامنے کھڑا گانا گا رہا ہے، کسی پاکستانی کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہے اور محبت سے اسے” بھِرا جی کی حال نے” کہہ رہا ہے۔ اس منظر میں کوئی سفارتی معاہدہ نہیں تھا، کوئی سیاسی نعرہ نہیں تھا، کوئی دانشورانہ بحث نہیں تھی۔ صرف چند عام انسان تھے جنہوں نے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھا اور اجنبی رہنے سے انکار کر دیا۔ پاک بھارت تعلقات کے بڑے مسئلے کا پورا حل اس ایک کچن میں موجود نہ ہو، مگر ایک اہم سبق ضرور موجود تھا۔ انسان کو انسان سے دور رکھ کر اس کے بارے میں رائے بنائی جا سکتی ہے۔۔۔ محبت نہیں۔ محبت، احترام اور اعتماد کے لیے ملاقات ضروری ہے۔ سرحدیں شاید آسانی سے نہ بدلیں، ریاستی مفادات بھی اپنی جگہ رہیں، مگر ذہنوں کی وہ دیواریں ضرور کم کی جا سکتی ہیں جو ہمیں دوسرے انسان کا چہرہ دیکھنے سے روکتی ہیں۔ مجھے آج بھی جگدیش کا “بھرا جی” کہنا یاد آتا ہے اور سوچتا ہوں کہ اگر ایک اجنبی ملک میں ایک ہندوستانی پاکستانیوں کو بھائی کہہ سکتا ہے تو شاید مسئلہ انسانوں میں اتنا نہیں جتنا ان فاصلے پیدا کرنے والی کہانیوں میں ہے۔ آخر ہم نے ایسی کون سی دنیا بنا لی ہے جہاں بھائی چارے کے لیے وطن سے باہر نکلنا پڑتا ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں