خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد صوبائی امور کی نگرانی اور انتظامی معاملات چلانے کے لیے تین الگ الگ کونسلیں تشکیل دینے کے بعد فیصل کنڈی کا کردار و اختیار کتنا باقی رہ جائے گا؟؟؟؟
پہلی 11 رکنی مشاورتی کونسل گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے قائم کی گئی، جس کے ارکان 11 اکتوبر 2026 کو متعارف کرائے گئے۔
دوسری ایگزیکٹو کونسل خیبر پختونخوا کے آٹھ ضم شدہ اضلاع کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں سمیت مجموعی طور پر 12 اضلاع کے امور دیکھے گی، جسے براہِ راست وزیر داخلہ ریگولیٹ کریں گے۔
تیسری وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تشکیل دی گئی 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی ہے، جو گورنر راج کے تحت صوبے کے انتظامی، امن و امان اور روزمرہ امور کی نگرانی کرے گی۔ اس کمیٹی کے کنوینر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ہیں جبکہ دیگر ارکان میں رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، امیر مقام، طارق فضل چوہدری، خالد مقبول صدیقی، پیپلز پارٹی کا ایک نمائندہ، بلوچستان عوامی پارٹی کا ایک نمائندہ اور استحکام پاکستان پارٹی کا ایک نمائندہ شامل ہیں۔مانیٹرنگ کونسل میں بھی خیبر پختون خوا سے امیر مقام کے سوا کوئی رکن شامل نہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ جب 12 اضلاع کے معاملات براہ راست وزیر داخلہ ریگولیٹ کریں گے اور ان میں گورنر یا ان کی مشاورتی کونسل کا کوئی عملی کردار نہیں ہوگا جبکہ گورنر اور ان کی 11 رکنی کونسل وزیراعظم کی 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی کو جوابدہ ہوگی، تو پھر گورنر راج کے اصل چہرے فیصل کریم کنڈی کا حقیقی کردار کیا رہ جاتا ہے؟ جب صوبے کے انتظامی اختیارات اور نگرانی کا بیشتر نظام مرکز کے ہاتھ میں ہوگا اور خود گورنر و ان کی کونسل بھی وزیراعظم کی مقرر کردہ کمیٹی کے ماتحت کام کریں گے تو کیا یہ گورنر راج ہوگا یا عملاً مرکز کی براہ راست حکمرانی؟


